Monday, 18 November, 2019
فلسطینی روہنگیا پر امت خاموش

فلسطینی روہنگیا  پر امت خاموش
تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس بلوچ

 

اسرائیل میں آئے روز نہتے فلسطینیوں پر مظالم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں ۔اسرائیل کا پھیلاؤ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے اور وہ فلسطینی بستیوں کا کھائے جا رہا ہے۔ فلسطین کی آبادی میں  1878ء میں محض ایک سے دو فیصد یہودی  آباد تھے ،1914ء میں یہ آبادی بڑھ کر سات اعشاریہ اٹھاون فیصد ہو گئی،1922ء میں یہ آبادی گیارہ اعشاریہ چودہ ہو گئی ،1941ء میں یہ آبادی انتیس عشاریہ نوے ہو گئی اور انیس چھیالیس میں یہ آبادی بتیس فیصد تک  پہنچا دی گئی۔

بغور ملاحظہ کریں تو صرف ستائیس سال کے عرصہ میں یہودیوں کی آبادی کو غیر فطری انداز میں بڑھا کر  سات فیصد سے بتیس فیصد تک بڑھا دیا گیا۔دنیا میں بہت کم ایسا ہوا کہ اتنے مختصر عرصے میں ایک کمیونٹی نے  کسی ملک کی پوری ڈیموگرافی کو ہی تبدیل کر کے رکھ دیا ہو۔

یہ وہی عرصہ ہے جب یورپ کا مرد بیمار ترکی دوسری جنگ عظیم میں شکست  کھا چکا ہے۔حجاز پر  آل سعود کا قبضہ کرایا جا چکا ہے اور  بڑی تعداد میں سرمایہ درانہ نظام کے پنجے سعودی اور پورے مشرق وسطی کو  اپنی گرفت میں لے چکے ہیں ۔پورے  عالم اسلام میں  بدامنی کا دور دورہ ہے ۔اکثر اسلامی ممالک یورپی کالونیوں میں بدل چکے ہیں ۔برطانوی اور فرانسی استعمار مسلمانوں کو غلام بنائے ہوئے ہے  ۔جب ہر شخص خود اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہا ہے تو بڑی خاموشی سے فلسطین میں دنیا بھر سے صیہونیوں کے جہاز لنگر انداز ہو رہے ہیں اور انہیں بڑے پیمانے پر زمینیں الاٹ ہو رہی ہیں۔مسلم قیادت کی طرف سے سوائے ایک آدھ کانفرنس کے کوئی سنجیدہ کوشش نظر نہیں آتی ۔ترکی کی صورت میں مسلمانوں کی آواز موجود تھی جسے اتاترک کی قیادت میں دے کر وہاں سے اسلام کے آثار کو مٹانے کا کام شروع کیا جا چکے ہے۔ کہیں خاندان اور کہیں فرقہ پرست مسلط کیے جا رہے ہیں اقبال اور قائد اعظم اس دور میں بھی فلسطین کے لیے آواز بلند کرتے نظر آتے ہیں یہاں تک کہ اقبال ایک طویل سفر طے کر کے اس صورتحال سے آگاہی کے لیے بیت المقدس جاتے ہیں۔

اس کے بعد دوسری جنگ عظیم شروع ہو جاتی ہے جس میں یورپ پوری طرح سے مسلط ہو جاتا ہے صیہونی یورپ کے حلیف تھے اس لیے جنگ میں کامیابی کا فروٹ ان کا منتظر تھا ۔اس سے پہلے انہیں اگر کچھ رکاوٹوں کا سامنا تھا تو اب وہ تمام رکاوٹیں بھی ہٹ چکی ہیں پہلے جو جہاز رات کے وقت لنگر انداز ہوتے تھے اب وہ دن کے اجالے میں ہزاروں لوگوں کو لیکر  فلسطین کی سرزمین پر پہنچ رہے ہیں فلسطینیوں اور صہیونیوں کے باہمی جھگڑے بڑھ گئے ہیں۔ایک طرف پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے تربیت یافتہ جدید اسلحہ سے لیس سپاہی ہیں تو دوسری طرف تلواروں اور پرانے اسلحہ سے مسلح  ناتجربہ کار لوگ ہیں۔ نتیجہ صاف ظاہر تھا دنیا بھی ان کی پشت پر تھی وہ ایک بستی کے بعد دوسری بستی کو  نگلتے گئے کبھی رات کے اندھیرے میں اور کبھی دن کے اجالے میں فلسطینیوں کو بے دخل کر دیا جاتا ہے  ۔

اس دوران عربوں نے   1956ء ،1967 اور 1971ء میں  اسرائیل کے ساتھ تین بڑی جنگیں کیں اور ہر جنگ میں پہلے سے زیادہ بری حالت سے شکست کھائی اور ہر جنگ میں پہلے سے زیادہ علاقہ اسرائیل کے قبضے میں دینے پر منتج ہوئی۔

ان جنگوں کے نتیجے میں بھی اسرائیل نے بڑے پیمانے پر فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا  اور آج شام،لبنان،اردن اور مصر میں بڑے پیمانے پر فلسطینی  بڑے بڑے مہاجر کیمپوں میں رہ رہے ہیں اس کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں پناہ کی تلاش میں پھر رہے ہیں فلسطینیوں کی چوتھی نسل کیمپوں میں پیدا ہو چکی ہے وہ ایک موہوم سے امید رکھتے ہیں کہ کبھی اپنے آبائی علاقوں کو جا سکیں گے کیونکہ ان کی بستوں پر اب اسرائیلی شہر آباد ہو چکے ہیں ۔

فلسطین کے روہنگیا مغربی کنارے اور غزہ کے بڑے بڑے کیمپوں میں مقید ہو چکے ہیں جہاں پر یہ اقوام متحدہ کی دی گئی امداد پر اپنا گزر بسر کر رہے ہیں۔ان کو چاروں طرف سے اس طرح گھیرے میں لے لیا گیا ہے جیسے ایک بڑے پنجرے میں جانوروں کو مقید کر دیا گیا ہو۔ ان کو اس بات کی آزادی دی گئی ہو کہ وہ اس پنجرے میں  گھوم پھر سکتے ہیں مگر اس سے باہر نکلنے کو اجازت نہیں ہے  جیسے ہی باہر نکلیں گے ان کے پر کاٹ دیے جائیں گے اور افسوس ناک صورت حال یہ ہے کہ مصر بھی  اہل غزہ کو اس پنجرے میں بند کرنے میں اسرائیل کا ہمنوا ہے۔

یہ کیمپوں میں دن کو رات اور رات کو دن کا انتظار کرتے مظلوم فلسطینی  دہائیوں سے روہنگیا بنے ہوئے ہیں ۔آج دنیا بھی اپنی ذمہ داری بھول چکی ہے کہ ایک قوم دربدر ہے اور اقوام متحدہ کے جھوٹے وعدوں کے سہارے جی رہی ہے ۔مسلمانوں کی سب سے بڑھ کر یہ ذمہ داری ہے کہ ان مظلوم انسانوں کے حق میں آواز بلند کریں دنیا کے  باضمیر انسانوں تک ان  مظلوم فلسطینی مسلمانوں کا مقدمہ پہنچائیں۔

ان روہنگیا کی آواز کو اس 42 رکنی اسلامی فوجی اتحاد کو بھی سننا ہو گا  جن کا دعوی یہ تھا کہ وہ جہاں بھی عالم اسلام میں کہیں مسلمانوں کو کوئی مشکل ہو گی اس کی مدد کے لیے پہنچیں گے  مگر افسوس یہ اتحاد بھی فقط ایک خاندان کے مفادات کا محافظ بن گیا  اور ان مظلوم فلسطینیوں پر دن رات ہوتے مظالم اسے بھی نظر نہیں آتے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: ڈاکٹر ندیم عباس بلوچ صاحب مبصر کے سٹاف ممبر ہیں۔ مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  50235
کوڈ
 
   
مقبول ترین
وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ عدلیہ طاقتور اور کمزور کےلیے الگ قانون کا تاثر ختم کرے۔ ہزارہ موٹروے فیز 2 منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پچھلے دنوں کنٹینر
لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالتے کا حکم دیتے ہوئے انہیں 4 ہفتے کیلئے بیرون ملک جانے کی اجازت دیدی جبکہ عدالت کی طرف سے کوئی گارنٹی نہیں مانگی گئی۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباداور کراچی سمیت ملک کے مختلف شہروں میں جمعیت علماء اسلام (ف) کے کارکنوں نے دھرنے دے کر سڑکیں بلاک کردیں۔ مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کے ’پلان بی‘ کے تحت ملک بھر میں دھرنوں کا سلسلہ
وفاقی حکومت اور نیب کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا تھا کہ لاہور ہائیکورٹ کو درخواست پر سماعت کا اختیار نہیں جبکہ نواز شریف کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ عدالت کے پاس کیس سننے کا پورا اختیار ہے۔ عدالت نے درخواست کو قابل سماعت قرار

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں