Thursday, 24 May, 2018
اسرائیلی جھوٹی فوجی برتری کی عمارت زمین بوس

اسرائیلی جھوٹی فوجی برتری کی عمارت زمین بوس
تحریر : مزمل حسین سید

 


شام کی سات سالہ جنگ میں اس وقت ایک اہم ترین پیش رفت سامنے آئی ،جس نے پوری دنیا کو انگشت بدنداں کر دیا ہے ۔ شامی فوج نے اپنی سرحدی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے صہیونی ایف16طیارے کو تباہ اور ایک ایف15 طیارے کو زخمی حالت میں دم دبا کر بھاگنے پر مجبور کردیا۔ جو دنیا کی نظروں میں قائم کی گئی اسرائیل کی اس جھوٹی فوجی برتری اور اس کے ناقابل تسخیر ہونے کے دعویٰ کی عمارت کوزمین بوس کرنے کا باعث بن گیا ہے۔

 صہیونی طیاروں پر شامی فوج کے حملہ اور اسرائیلی ایف16کی اس طرح ناقابل یقین تباہی نے صہیونیوں کوانتہائی سیخ پا اور حواس باختہ کردیا ہے اور ان کی نیندوں کو حرام کردیا ہے ۔ واقعہ کے بعد غاصب صیہونی حکومت نے اپنی فوج اور خاص طور سے فضائیہ کو پوری طرح چوکس کردیا ہے اور مقبوضہ فلسطین کے سرحدی علاقوں میں رہنے والوں سے کہا ہے کہ وہ تا اطلاع ثانی پناہ گاہوں سے باہر نہ آئیں۔ اسرائیلی فوج علاقے میں مزید نئی پناہ گاہیں تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور شام کی سرحد کے ساتھ ملنے والے علاقوں میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے ۔حیفا کی بلدیہ نے بھی شمالی سرحدی علاقوں میں جاری سیکورٹی بحران کے نتیجے میں پیدا ہونے والے کسی بھی صورتحال پر قابو پانے کے لے نئی پناہ گاہیں تعمیر کرنے کا حکم جاری کردیا ہے۔
 
 دفاعی تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ بات طے شدہ ہے کہ اسرائیلی طیارے کو مارگرائے جانے کا فیصلہ یکطرفہ طور پر شامی حکومت کا نہیں تھا ۔ کیونکہ سات سالہ جنگ کے دوران کئی بار اسرائیلی طیارے آتے اور بمباری کر کے صحیح سالم واپس چلے جاتے تھے ۔ پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ شام جو ابھی تک خانہ جنگی کے اثرات سے مکمل طور پر نہیں نکلا تو وہ علاقے کی اہم طاقت سے از خود ٹکر  لینے کا اتنا بڑا خوفناک فیصلہ کر سکے ۔ شامی ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ صرف شامی حکومت کا نہیں بلکہ شام میں دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے قائم مشترکہ آپریشنل روم میں لیا گیا جس میں شامی حکومت کے ساتھ ساتھ روس، ایران اور حزب اللہ کے نمائندے موجود تھے  اور جنہوں نے کہا کہ اب بہت ہو چکا ہے اب اس بے لگام گھوڑے کو لگام ڈالنے کی فوری ضرورت ہے ۔ اس کے بعد یہ واقعہ رونما ہوا جس نے خود اسرائیل اور اس کے سرپرستوں اور حواریوں کو حواس باختہ کردیا ہے۔ 

شام کی جانب سے اسرائیلی طیارے کے مار گرائے جانے پر بے حد فرط و مسرت کا اظہار کیا گیا اور دیگر اسلامی مزاحمتی تنظیموں حزب اللہ اور یمنی انصا راللہ  نے بھی ا س اقدام کو بروقت مستحسن اور حق بجانب قرار دیتے ہوئے شامی صدر کو مبارکبادی پیغام بھیجوائے ہیں۔ فلسطینی تحریک جہاد اسلامی کے پریس سیکریٹری  کے مطابق نہ صرف اسرائیل کے منہ پر زور در طمانچہ ہے بلکہ خطے میں امریکہ اور اسرائیل کی تسلطہ پسندی پر بھی کاری ضرب ہے۔فلسطینی تحریک جہاد اسلامی کے مطابق شامی فوج کے ہاتھوں اسرائیل کا جنگی طیارہ مار گرائے جانے سے فلسطینیوں اور ان کی تحریک مقاومت کے حوصلے بلند ہوئے ہیں اور آج ہم اسرائیل کے مقابلے کے لئے پہلے کے مقابل کہیں زیادہ خود کو طاقتور محسوس کر رہے ہیں۔

بعض مبصرین کے مطابق اسرائیلی طیارے کی سرنگونی اسرائیل کے لئے ایک بہت بڑا جھٹکا اور شامی حکومت اور اس کے اسلامی مزاحمتی اتحاد کی زبردست کامیابی قرار دی جا رہی ہے ۔ امریکہ کے ایک ممتاز سیاسی تجزیہ نگار ولیم مورس نے شامی فوج کے آئر ڈیفنس سسٹم کی طرف سے  صیہونی حکومت کا  ایک ایف 16 جنگی طیارہ مارگرائے جانے کے واقعے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعہ شامی حکومت کیلئے ایک بڑی کامیابی ہے  اوریقینی طورپر صیہونی حکومت دمشق کے تئیں اپنے جارحانہ موقف کو  ترک کرنے پر مجبور ہوگی ۔انہوں نے کہاکہ اس واقعے سے صیہونیوں کی نیندیں خراب ہوگئی ہے او ر تل ابیب حکومت نے اس واقعے پر حد سے زیادہ ردعمل دکھایا ہے۔ اسرائیل کے حملوں کا جواب دینا شامی حکومت کا جائز اور قانونی حق ہے اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ خطے کے ممالک اسرائیلی جارحیت کا  بھرپورجواب دینے کی توانائی رکھتے ہیں۔

امریکی ممتاز سیاسی تجزیہ کار میمی اللحم نے کہا ہے کہ شامی فوج کے ذریعے صیہونی  ایف 16 جنگی طیارے کو مار گرایا جانا  غاصب صیہونی رژیم اورامریکہ کیلئے یہ واضح پیغام ہے کہ شام کی خود مختاری وارضی سالمیت کی خلاف ورزی کرنے والے والوں کو دندان شکن جواب دیا جائیگا۔انہوں نے کہاکہ حالیہ واقعہ شام کی سات سالہ جنگ میں ایک سب سے بڑی پیشرفت ہے۔انہوں نے کہاکہ غاصب صیہونی رژیم مقبوجہ جولان علاقے میں  سرگرم تکفیری دہشتگردوں کو تحفظ بخشنے کی غرض سے شام کی ارضی سالمیت کی خلاف ورزی کرنے کیساتھ ساتھ شامی فوج کے ٹھکانوں پر بمباری کرتی آرہی ہے۔انہوں نے کہاکہ تاہم شام کی سات سالہ جنگ میں یہ پہلی مرتبہ ہے کہ صیہونی فوج نے شامی فوج کے ذریعے جنگی طیارے کو گرائے جانے کے واقعے کو تسلیم کرنا پڑا ہے۔

 ان کے مطابق یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس کے باعث شائد صیہونی حکومت شام پر مستقبل میں مزید حملہ کرنے کی جرات نہیں کریگی اور یہ نہ صرف صیہونی حکومت بلکہ امریکہ کیلئے دمشق کی طرف سے یہ پیغام ہے کہ وہ کسی بھی قیمت پر ملک کی خودمختاری و ارضی سالمیت کی خلاف ورزی کو اب برداشت نہیں کریگی ۔دریں اثنا دمشق میں پریس ٹی وی کے نامہ نگار محمد علی نے  صیہونی جنگی طیارے کو مار گرائے جانے کو ایک اہم  واقعہ قرارد یتے ہوئے کہاہے کہ شامی فوج نے یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ تل ابیب کی کسی بھی جارحیت کا مقابلہ کرنے کی اہل  ہے ۔انہوں نے کہاکہ شامی فوج میں صیہونی  ہوائی حملوں کو ناکام بنانے کی پوری صلاحیت ہے۔  

یہ تو چند وہ تبصرے یا تجزیئے تھے جو کسی حد تک غیر جانبداری کو سامنے رکھتے ہوئے کئے گئے لیکن غاصب صہیو نی ریاست کے میڈیا کو دیکھ کر لگتا ہے کہ ایران کے ساتھ اسرائیل کے ٹکراو کے لمحات شائد چند گھڑیوں کے فاصلہ پر ہے ۔ اور کسی وقت  ہی اسرائیل ایران پر چڑھ دوڑے گا ۔

 عالمی تجزیہ نگار کے نزدیک اسرائیلی میڈیا کی موجودہ روش دراصل اس خفت کو کم کرنا ہے جو انہیں شامی حملے کے بعد اٹھانا پڑ رہی ہے اور وہ اپنی فوج اور عوام کو جھوٹی تسلیاں دے کر ان کا مورال بلند کرنے کی ایک بار پھر ناکام کوششوں میں مصروف ہے حالانکہ حالات و واقعات بالکل ا س کے برعکس دکھائی دے رہے ہیں ۔در اصل بات یہ ہے کہ غاصب اسرائیلوں کو شام میں اب ایران کی مضبوط موجودگی کھائے جارہی ہے اور کسی بھی طور پر شام میں ایران یا ایرانی ممکنہ اڈوں کی موجودگی کو اپنی بقا  کے لئے نا قابل برداشت سمجھتے ہیں ۔اسرائیلی تعمیرات اور ہاوسنگ کے وزیر یوو گیلنٹنٹ کھلے لفظوں کہہ چکا ہے کہ ایران شام اور حزب اللہ کے ا تحاد کو ختم کرنا اسرائیلی بقا کے لئے ضروری ہے۔ صہیونی وزراء اور دفاعی حکام کے نزدیک اسرائیل سر پر موت کے سائے کی مانندمنڈلاتے ہوئے اس مزاحمتی بلاک کے اتحاد کو توڑا جانا ضروری ہے ، لیکن کیا یہاسرائیلی خواب شرمندہ تعبیر ہو پائے گا اور کیا اس سے پیدا ہونیو الے نتایج  کا بوجھ اسرائیل کیلئے برداشت کرنا ممکن ہو پائے گا ۔ صرف طوالت کے خوف سے اس پر مزید تبصرہ اگلے کالم پر اٹھا رکھتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  9258
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
روس کے ساتھ تعلقات دوستانہ، خوشگوار اور پائیدار بنانے کے سلسلے میں عوامی اور سیاسی سطح پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔ یہی وہ بنیادی نکتہ ہے کہ عالمی سیاسی حلقوں اور تزویراتی موضوع پر قائم تھنک ٹینکس
ایک محفل میں ایک حضرت نے میری ایک بات پر سوال کیا کہ "آپ کا مسلک کیا ہے؟" میں نے جواب دیا "کچھ نہیں"۔ کہنے لگے "پھر بھی"

مزید خبریں
دنیا بھر میں بولی اور سمجھی جانی والی زبانوں میں سے اردو ہندی دنیا کی دوسری بڑی زبان بن چکی ہے، جبکہ اول نمبر پر آنے والی زبان چینی ہے اور انگریزی کا نمبر تیسرا ہے۔ روزنامہ ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے یونیورسٹی آف ڈیسلڈرف الرچ کی 15 برس کی مطالعاتی رپورٹ
ہمارے نیم حکیموں کو کون سمجھائے کہ بلکتے، سسکتےعوام کو جمہوریت سے بدہضمی ہونے کا خوف دلانا چھوڑ دیجئے حضور! 144 معالجین کے مطابق انسانی معدے کی خرابی تمام بیماریوں کی ماں ہوتی ہے اور معدے کی خرابی سے ہی بدہضمی، ہچکی، متلی، قے، ہاتھوں میں جلن کا احساس، بھوک کا نہ لگنا، پژمردگی اور چہرے پر افسردگی کے اثرات چھائے
یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ پارلیمنٹ لاجز میں ہونے والی غیر اخلاقی حرکتوں کے متعلق جمشید دستی کو کس نے ویڈیو ثبوت اور ”ناقابل تردید“ ثبوت فراہم کیے ہیں؟ یہ سوال بھی اہم ہے کہ آخر جمشید دستی نے یہ ا یشو کیوں چھیڑا ؟ اس کے نتیجے میں جو صورتحال پیش آسکتی ہے اس کے دور رس نتائج نکل سکتے ہیں۔
دہشت گردوں کی طرف سے جنگ بندی کے اعلان کے صرف 48 گھنٹے بعد ہی دارالحکومت اسلام آباد کودہشت گردی کا نشانہ بنادیا گیا۔

مقبول ترین
پاکستان تحریک انصاف کی رہنما فوزیہ قصوری نے پارٹی سے استعفٰی دے دیا۔ فوزیہ قصوری نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں لکھا کہ اپنا استعفیٰ پارٹی چیئرمین عمران خان اور دیگر پارٹی قائدین کو بھیج دیا ہے۔ فوزیہ قصوری نے سوشل میڈیا پر اپنے استعفے
گوگل کمپنی نے مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا استعمال کرتے ہوئے 'گوگل نیوز ایپ' کو اَپ ڈیٹ کر دیا ہے جس سے صارفین کو خبروں کے حصول میں مزید آسانی ہوگی۔
ملک پر قرضوں کے بوجھ میں خطرناک حد تک اضافہ ہوگیا اور غیر ملکی قرضوں کا حجم تاریخ کی بلند ترین سطح پر جا پہنچا، رواں مالی سال کے پہلے 9ماہ میں 5 ارب ڈالر غیر ملکی قرضوں کی مد میں ادا کیے گئے ہیں جبکہ مجموعی طورپر رواں مالی سال
دنیا بھر کے اسلامی ممالک میں جہاں رمضان المبارک کا استقبال مختلف طریقوں سے کیا جاتا ہے وہیں بعض ممالک میں اس ماہ مقدس کو لے کر کچھ روایتیں بھی عام ہیں جس کے تحت سعودی عرب میں برتنوں کو دھونی دینے کی ایک خاص روایت ہے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں