Tuesday, 18 September, 2018
بھارت کی عسکری دیوانگی

بھارت کی عسکری دیوانگی
تحریر: ابو علی صدیقی

 

یوں تو مہذب دنیا میں بھارت کے عسکری جنون اور دیوانگی کے حوالے سے بجا طور پر فکرمندی کا اظہار کیا جاتا ہے لیکن اس باب میں اس وقت شدت محسوس کی گئی جب 10 مارچ کو نئی دہلی میں فرانس اور بھارت کے درمیان دفاع اور ایٹمی توانائی سمیت 14 معاہدوں پر دستخط ہوگئے۔ اس کے علاوہ ان دونوں ممالک کے درمیان بحرہند میں تعاون کا معاہدہ بھی طے پا گیا جس کے تحت یہ دونوں ایک دوسرے کے جنگی جہازوں کے لئے اپنے بحری اڈے کھول دیں گے۔ بھارت کو ری یونین جزائر اور جبوتی کے فرنچ فوجی اڈوں تک رسائی ملے گی۔ مشترکہ بحری و فضائی نگرانی اور دہشت گردی کے خلاف تعاون پر بھی اتفاق کیا گیا۔ سپائس جیٹ سپلائی، واٹر سسٹم اور گیس کمپنیوں کے درمیان بھی معاہدے طے پا گئے۔ فرانسیسی کمپنی بھارت میں 3 میٹرو فرموں کو پاور سپلائی کرے گی اس سلسلے میں 92 ملین ڈالر کا معاہدہ ہوگیا۔ فرانسیسی صدر میکرون نے کہا کہ فرانس یورپ کا دروازہ ہے اور ہم یورپ میں بھارت کے بہترین شراکت دار بننا چاہتے ہیں جبکہ بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی نے کہا کہ فرانسیسی صدر میکرون کے دورے سے بھارت اور فرانس کے درمیان دفاعی شراکت داری کو بڑی تقویت ملے گی۔ 

اس حقیقت سے ایک عامی بھی بخوبی آگاہ ہے کہ غیر ملکی سربراہان یا اعلیٰ سطح کے وفود جب بھی کسی ملک کا دورہ کرتے ہیں تو تجارتی و دفاعی معاہدے اور یادداشتیں ایسے دوروں کا حصہ ہوتی ہیں مگر بھارت کی حکومت کی پالیسی بلکہ طریقہ واردات یہی ہے کہ ان کے یہاں کوئی غیر ملکی سربراہ اعلیٰ سطح کا وفد آئے یا بھارت کی سول و عسکری قیادت کسی غیر ملکی دورے پر جائے تو ان کا سارا زور دفاعی معاہدے اور جدید ترین روایتی و غیر روایتی اسلحہ کی خریداری پر ہوتا ہے۔ نئی دہلی نے کئی ممالک سے سول نیوکلیئر توانائی کے معاہدے کئے ہیں ان میں امریکہ، روس، برطانیہ، فرانس، ہالینڈ بھی شامل ہیں۔ ایک عالمی رپورٹ کے مطابق بھارت سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی کو دفاعی مقاصد کے لئے بھی استعمال کر رہا ہے جبکہ پاکستان کے لئے سول نیوکلیئر توانائی کے معاہدے کو شجرممنوعہ قرار دیا گیا ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ مودی سرکار نے یہ من گھڑت اور گمراہ کن پروپیگنڈہ جاری رکھا ہوا ہے کہ بحیرہ چین میں چین کی سرگرمیاں اس خطے میں امن کے لئے خطرے کا باعث بن سکتی ہیں۔زمینی حقائق سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت کا یہ موقف خلاف حقیقت ہے۔ دراصل عیاری اور مکاری پر مبنی ایسی بیان بازی سے بھارت دنیا کی ہمدردیاں اور مزید فوجی طاقت حاصل کرنے میں مصروف ہے جبکہ امریکہ بھارت کو چین کے مقابل لانے کے لئے اس کو تھپکی اور جدید دفاعی ٹیکنالوجی بھی دے رہا ہے۔ بھارت کے ایک سابق آرمی چیف جنرل دیپک کپور نے جنگی جنون اور دفاعی ٹیکنالوجی اور روایتی و غیر روایتی اسلحہ کے انباروں کے زعم میں مبتلا ہو کر چین اور پاکستان کو للکارتے ہوئے کہا تھاکہ بھارتی فوج بیجنگ اور اسلام آباد کو 96 گھنٹے میں زیر کر سکتی ہے۔ موجودہ آرمی چیف جنرل بپن راوت بھی پاکستان اور چین کا مقابلہ کرنے کی بڑھک لگا چکے ہیں حالانکہ چین اور پاکستان کے مشترکہ تو کیا انفرادی طور پر بھی کسی ملک کے خلاف کبھی جارحانہ عزائم نہیں رہے البتہ جارحیت مسلط کرنے میں دونوں ممالک نے اپنے اپنے طور پر سخت جواب ضرور دیا ہے۔ بھارت امریکہ و عالمی طاقتوں کی ہمدردیاں اور امداد حاصل کرنے کے لئے چین کو ہوا بنا کر پیش کرتا ہے۔ اس کا دراصل ٹارگٹ چین سے زیادہ پاکستان ہے۔

بھارت کے ساتھ فرانس کے حالیہ دفاعی معاہدے سے قبل فرانس کے تعاون سے دو ایٹمی آبدوزوں کی تیاری جاری ہے۔ یہ بھی واضح رہے کہ بھارت خود بھی دو ایٹمی آبدوزیں بنا چکا ہے۔ دو ماہ قبل بھارت کی دو ایٹمی آبدوزوں میں سے ایک حادثے کا شکار ہو کر تباہ ہو چکی ہے۔ امریکہ کے تعاون سے انڈو پیسفک میں بحری بیڑے کی تعیناتی بھی روبعمل ہے۔ امریکہ بھارت کو جیٹ انجن بنانے میں بھی تعاون فراہم کر رہا ہے۔ امریکی جریدے فورسز کا کہنا ہے کہ بھارت نے جیٹ انجن بنانے کی صلاحیت حاصل کر لی اور اسے امریکہ سے ڈرون ٹیکنالوجی مل گئی تو اس سے پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کو ضرب لگ سکتی ہے۔ بھارت دراصل امریکہ، فرانس، برطانیہ اور دیگر ممالک سے دفاعی معاہدے پاکستان کو نشانہ بنانے کے لئے ہی کر رہا ہے۔ گذشتہ سال اسٹریٹجک پارٹنر شپ ماڈل کے منصوبے کو حتمی شکل دی گئی جس کے تحت جنگی جنون میں مبتلا بھارت نے 60 ہزار کروڑ روپے کی مزید چھ آبدوزیں تیار 50 ہزار کروڑ روپے کے 57 جنگی طیارے دو ارب ڈالر کے ملٹی بیرل راکٹ لانچر کے چھ رجمنٹس اور دو لاکھ کاربائنز (جنگی بندوقیں) خریدنے کا فیصلہ کرنے کے علاوہ 60 ہزار کروڑ روپے کی لاگت سے مزید چھ آبدوزیں ان فرانسیسی ساختہ آبدوزوں کے علاوہ ہیں جو ممبئی کے ڈاکیارڈ میں تیاری کے مراحل میں ہیں۔

عسکری امور کے ماہرین اور تجزیہ کار یہ نشاندہی بھی کرتے ہیں کہ بھارت روس کے تعلقات میں دفاعی معاملات میں ہمیشہ سے قربت رہی ہے مگر افغانستان میں شکست کے بعد روس کو شکست و ریخت کے عمل سے بھی گزرنا پڑا تو بھارت امریکہ کے قدموں میں جا بیٹھا مگر روس سے مکمل لاتعلقی اختیار نہیں کی۔ بھارت آج بھی روسی ساختہ اسلحہ استعمال کر رہا ہے جس کے سپیئر پارٹس ماضی کی طرح روس سے درآمد ہوتے ہیں۔ دوماہ قبل بھارت نے روس کے ساتھ S-400 دفاعی نظام خریدنے کے لئے مذاکرات کئے اس معاہدے کو آئندہ سال حتمی شکل دینے پر اتفاق کیا گیا۔ اس سسٹم کی خریداری کی مد میں بھارت روس کو ساڑھے پانچ ارب ڈالر ادا کرے گا۔ بھارت کے عسکری جنون اور دیوانگی کے تناظر میں اسٹاک ہوم بین الاقوامی امن تحقیقاتی ادارے نے یہ انکشاف کرکے مہذب دنیا کو حیران و ششدر کر دیا کہ بھارت دنیا میں 2012ء سے 2016ء تک دنیا کا سب سے بڑا اسلحہ کا خریدار رہا ہے۔ بھارت کی یہ درآمدات دنیا کے ہتھیاروں کی تجارت میں 13 فیصد تھیں اور یہ امر بھی حیران کن ہے کہ بھارت نے جہاں امریکہ اور روس سے اسلحہ خریدا وہیں اسرائیل سے بھی ا س کے معاہدے بروئے کار رہے۔ ان حقائق کی روشنی میں خوب باور کیا جاتا ہے کہ بھارت کے جنگی جنون اور اسلحہ جمع کرنے کے خبط نے جنوبی ایشیاء میں طاقت کا توازن بری طرح بگاڑ کر رکھ دیا ہے اور اس پر مستزاد یہ کہ اس کے نتیجے میں اس خطے اور عالمی امن کو شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  22276
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
یورپ سے آئے، ایک پاکستانی سکالر نے ہمیں ایک بار بتایا کہ وہ یورپ میں جہاں بھی گئے ہمارے لوگ یہی پوچھتے ہیں کہ یہاں گوشت کھا سکتے ہیں؟ یورپ میں بسنے والے مُسلمانوں کی نظر میں سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے۔
ذیل میں سچائی کی اسی تعریف کو سامنے رکھ کر عہد حاضر میں بولے جانے والے سچ اور اصل سچ کا موازنہ کیا گیا ہے۔ آغاز سیاست سے کرتے ہیں۔
سعودی عرب کا تجویز کردہ عسکری اتحاد کئی تجزیہ نگاروں، اور بالخصوص پاکستان اور مشرق وسطی کے شیعہ مسلمانوں کے نزدیک سعودی قیادت میں ایک نیا سنی اتحاد نظر آتا ہے جس کا بنیادی مقصد ایران کا خطہ میں شام، عراق اور یمن کے
سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے صاحبزادے شہباز تاثیر کا کہنا ہے کہ اغوا کے تجربے نے انہیں بہت زیادہ مضبوط کردیا،وہ خوش قسمت ہیں کہ انہیں اپنی کہانی خود بیان کرنے کا موقع مل رہا ہے۔

مزید خبریں
دنیا بھر میں بولی اور سمجھی جانی والی زبانوں میں سے اردو ہندی دنیا کی دوسری بڑی زبان بن چکی ہے، جبکہ اول نمبر پر آنے والی زبان چینی ہے اور انگریزی کا نمبر تیسرا ہے۔ روزنامہ ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے یونیورسٹی آف ڈیسلڈرف الرچ کی 15 برس کی مطالعاتی رپورٹ
ہمارے نیم حکیموں کو کون سمجھائے کہ بلکتے، سسکتےعوام کو جمہوریت سے بدہضمی ہونے کا خوف دلانا چھوڑ دیجئے حضور! 144 معالجین کے مطابق انسانی معدے کی خرابی تمام بیماریوں کی ماں ہوتی ہے اور معدے کی خرابی سے ہی بدہضمی، ہچکی، متلی، قے، ہاتھوں میں جلن کا احساس، بھوک کا نہ لگنا، پژمردگی اور چہرے پر افسردگی کے اثرات چھائے
یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ پارلیمنٹ لاجز میں ہونے والی غیر اخلاقی حرکتوں کے متعلق جمشید دستی کو کس نے ویڈیو ثبوت اور ”ناقابل تردید“ ثبوت فراہم کیے ہیں؟ یہ سوال بھی اہم ہے کہ آخر جمشید دستی نے یہ ا یشو کیوں چھیڑا ؟ اس کے نتیجے میں جو صورتحال پیش آسکتی ہے اس کے دور رس نتائج نکل سکتے ہیں۔
دہشت گردوں کی طرف سے جنگ بندی کے اعلان کے صرف 48 گھنٹے بعد ہی دارالحکومت اسلام آباد کودہشت گردی کا نشانہ بنادیا گیا۔

مقبول ترین
سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے سپریم کورٹ میں جاری این آر او کیس میں اثاثوں کی تفصیلات فراہم کرنے کے حکم کے خلاف نظر ثانی اپیل دائر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ میری اہلیہ بے
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق شام میں روسی طیارہ بحيرہ روم کی ساحلی پٹی سے 35 کلوميٹر دور رڈار سے غائب ہو گيا تھا بعد ازاں طیارے کا ملبہ بحیرہ روم کے نزدیک مل گیا، طیارے میں سوار روسی فوج کے 15 اہلکار ہلاک ہوگئے۔
وزیراعظم عمران خان نے زلفی بخاری کو معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانی مقرر کردیا۔ وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے زلفی بخاری کی بطور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانی کی تقرری کا نوٹی فکیشن جاری کردیا گیا ہے۔
میڈیا کے مطابق سپریم کورٹ نے پانی کی کمی اور ڈیمزکی تعمیر سے متعلق کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ہے جبکہ ڈیمزکی تعمیر اورکام کی نگرانی کے لیےعملدرآمد کمیٹی بھی قائم کردی ہے۔ عدالتِ عظمیٰ کے تفصیلی فیصلے کے مطابق عملدرآمد کمیٹی

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں