Friday, 23 August, 2019
روس کی نشر کردہ تصاویر پر ڈونلڈ ٹرمپ چراغ پا کیوں؟

روس کی نشر کردہ تصاویر پر ڈونلڈ ٹرمپ چراغ پا کیوں؟

 

واشنگٹن ۔ امریکی انتظامیہ کو اُس وقت ایک مرتبہ پھر شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا جب ماسکو کی جانب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف کے درمیان بند کمرے کی ملاقات کی تصاویر جاری کر دی گئیں۔

تصاویر میں ٹرمپ مسکراتے ہوئے لاؤروف کے ساتھ مصافحہ کر رہے ہیں۔ وہائٹ ہاؤس کے دفتر میں ہونے والی اس ملاقات کے دوران واشنگٹن میں روسی سفیر سرگئی کیسلک بھی دونوں شخصیات کے ساتھ نظر آ رہے ہیں۔

اس ملاقات کو کرملن کے لیے سفارتی لحاظ سے بہت فائدہ مند خیال کیا جا رہا ہے۔ واشنگٹن میں لاؤروف کا استقبال سُرخ قالین پر کیا گیا جب کہ چند ہی ماہ قبل 2016 کے امریکی صدارتی انتخابات میں روس کی مبینہ مداخلت کے سبب امریکا نے اس پر پابندیاں عائد کی تھیں۔

سفارت کاروں کی جانب سے یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ وہ کون سی وجوہات ہیں جنہوں نے امریکی صدر کو روس کے اہل کاروں کا استقبال کرنے پر مجبور کر دیا۔ یہ اعزاز عام طور پر ریاستوں کے سربراہانِ کے حصّے میں آتا ہے۔ بالخصوص جب کہ روس امریکہ میں ایک بڑے سیاسی اسکینڈل کا مرکزی کردار بن چکا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ کو ان الزامات کا سامنا ہے کہ ٹرمپ کے قریبی افراد اور روسی ذمے داران کے درمیان ساز باز ہوئی جن میں روسی سفیر سرگئی کیسلک شامل ہیں۔ اس گٹھ جوڑ کا مقصد ڈیموکریٹک حریف ہیلری کلنٹن کے خلاف ٹرمپ کی جیت کو یقینی بنانا تھا۔ اس معاملے کے حوالے سے امریکا اس وقت تین تحقیقات کر رہا ہے۔

ٹرمپ کی لاؤروف کے ساتھ مذکورہ تصاویر کا نشر ہونا اس بات کا غماز ہے کہ روس نے سفارتی فتح کو یقینی بنایا ہے۔ ماسکو میں امریکا کے سابق سفیر مائیکل میکفول کا کہنا ہے کہ "ان تصاویر کے حاصل کرنے پر میرے ساتھیوں کو مبارک باد ! یہ ایک کاری وار ہے"۔

روسی وزارت خارجہ کی جانب سے انٹرنیٹ پر ان تصاویر کو جاری کرنے کے بعد وزارت کی ترجمان ماریا زاخاروفا نے اپنے فیس بک صفحے پر واضح کیا کہ " امریکی انتظامیہ نے ان تصاویر کو جاری نہ کرنے کی کوئی درخواست نہیں کی"۔

دوسری جانب وہائٹ ہاؤس اس بات کا اشارہ دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ یہ معمول کے مطابق ایک امر ہے۔ وہائٹ ہاؤس ترجمان سارہ سینڈرز کا کہنا ہے کہ "یقینا یہ ایک معمول کی نوعیت کا حامل امر ہے کہ ٹرمپ نے روسی وزیر خارجہ سے ملاقات کی"۔

تاہم وہائٹ ہاؤس کے ذمے داران اُن حلقوں پر غصے کا اظہار کر رہے ہیں جو اس ملاقات کو "اعتماد کو ٹھیس" پہنچانے کے مترادف گردان رہے ہیں۔ ان ذمے داران نے واضح کیا کہ روسی صدر ولادیمر پوتن نے اپنے وزیر اور ٹرمپ کے درمیان اس ملاقات کی درخواست کی تھی۔ یہ اقدام اس ملاقات کے مماثل تھا جو پوتن اور امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن کے درمیان ہوئی۔

وہائٹ ہاؤس کے مطابق اُسے آگاہ کر دیا گیا تھا کہ ملاقات کے موقع پر ایک روسی کیمرہ مین موجود ہوگا.. البتہ یہ تصاویر آرکائیو کے لیے تھیں اور فوری طور پر نشر کرنے کے لیے مخصوص نہیں تھیں۔
تاہم جب یہ تصاویر روسی ذرائع ابلاغ کے ذریعے ساری دنیا میں نشر ہو گئیں تو وہائٹ ہاؤس اسے دھوکا خیال کرتے ہوئے چراغ پا ہو گیا۔

ٹرمپ اور روسی اہل کاروں کے درمیان یہ ملاقات امریکی صدر کے اُس حیران کن فیصلے کے چند گھنٹے بعد ہوئی جس کے تحت انہوں نے "ایف بی آئی" کے ڈائریکٹر جیمز کومی کو برطرف کر دیا تھا۔ یاد رہے کہ کومی کے ادارے نے ہی ٹرمپ کی انتخابی مہم اور روس کے درمیان گٹھ جوڑ کے امکان کی تحقیقات کی تھیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بشکریہ ’’العربیہ‘‘
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

روس کی نشر کردہ تصاویر پر ڈونلڈ ٹرمپ چراغ پا کیوں؟
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  53680
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
شہید بینظیربھٹو ہیومن رائٹس سینٹر فار وومن سے گزشتہ 10 سال کے دوران 43سوسے زائد خواتین نے رابطہ کیا اور 3707 خواتین کو گھریلو تشدد،جسمانی ہراساں کرنے، پراپرٹی میں حصہ نہ دینے کی شکایات پرریلیف
روس کے ساتھ تعلقات دوستانہ، خوشگوار اور پائیدار بنانے کے سلسلے میں عوامی اور سیاسی سطح پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔ یہی وہ بنیادی نکتہ ہے کہ عالمی سیاسی حلقوں اور تزویراتی موضوع پر قائم تھنک ٹینکس
پیپلز پارٹی کے راہنما کے الفاظ میں، ’’گلگت بلتستان کو ریاست سے الگ کرنے کا مقصد کشمیریوں کے مقدمے کو کمزور کرنا ہے۔ اگر، خدانخواستہ، گلگت بلتستان کو صوبہ بنا دیا گیا تو کل پاکستانی کشمیر کو صوبہ بنائے جانے سے کوئی نہیں روک سکے گا‘‘
سمجھوتہ ٹرین میںآتشزدگی منظم دہشت گردی تھی

مقبول ترین
سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ بھارتی میڈیا دعوے کررہا ہے کہ افغانستان سے کچھ دہشت گرد مقبوضہ وادی میں داخل ہوئے ہیں، بھارتی دعویٰ ہے کہ دہشت گرد جنوبی علاقوں میں بھی داخل ہوئے ہیں
وزیراعظم عمران خان نے خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب وہ بھارت سے مزید بات چیت کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے کیونکہ اس کا اب کوئی فائدہ نہیں ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے امریکی جریدے نیویارک ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے مقبوضہ کشمیر
ترجمان چینی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ پاکستان آرمی کے زبردست سپہ سالار ہیں۔ گزشتہ دنوں وزیراعظم عمران خان نے جنرل قمر جاوید باجوہ کو مزید 3 سال کیلئے آرمی چیف مقرر کیا تھا۔ اس حوالے سے پاکستان کے دیرینہ دوست
وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ سفاک مودی سرکار تمام انسانی و بین الاقوامی قوانین و ضوابط روند رہی ہے اور کشمیریوں کو نشانہ ستم بنانے کی تیاریوں میں ہے۔ میڈیا کے مطابق تحریک انصاف نے مقبوضہ کشمیر پر بھارتی قبضے اور اہل کشمیر

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں