Thursday, 22 August, 2019
سعودی عرب اور حالات کا تقاضا

سعودی عرب اور حالات کا تقاضا
تحریر: عاصم اعجاز

 

سعودی عرب اس وقت کئی مسائل کا شکار ہے۔ عرب وعجم جنگ، علاقائی بالادستی ، ہمسایہ ملکوں سے خراب تعلقات ہوں یا تیل کی کم ہوتی عالمی قیمتیں, ان سب مسائل نے سعودی عرب کے مفادات کو بری طرح سے متاثر کیا ہے۔

سعودی عرب تیل پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے یہ اوسطا 11.75 ملین بیرل تیل روزانہ پیداکرتاہے جودنیا بھر میں پیدا ہونے والے تیل کا تقریبا 13.24 فی صد بنتا ہے۔ پچھلے کچھ عرصے میں عالمی سطح پر کم ہوتی قیمتوں نے سعودی معیشت کو جھنجوڑ ڈالا ہے۔ جدہ جو سعودیہ کی معاشی سرگرمیوں کا محور تھا اور جہاں پہلے ہر طرف چہل پہل نظر آتی تھی، اب معاشی بدحالی کا منظر پیش کر رہا ہے۔ بہت سے بڑے بڑے بزنس ہاوسز اپنے روزانہ کے اخراجات مشکل سے پورے کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ سونے پہ سہاگہ یہ اپنی آمدن کو بڑھانے کے لئے سعودی حکومت نے ان بزنس ہاوسز میں کام کرنے والے غیر ملکی شہریوں پر سو ریال  فی کس مہینہ کے حساب سے ایک نیا ٹیکس لگا دیا ہے۔ خیال رہے کہ اس وقت سعودی عرب میں غیر ملکیوں کی تعداد تقریبا 11.7ملین ہے۔ جن میں سے تقریبا 7.4 ملین ورکرز ہیں ،باقی ان کے خاندان کے افراد ہیں۔ بظاہر یہ ٹیکس بزنس ہاوسز پر لگایا گیا ہے لیکن ان بزنس ہاوسز نے کسی نہ کسی شکل میں یہ ٹیکس اپنے ملازمین پر منتقل کر دیا ہے ،جس کی وجہ سے بہت سے غیر ملکی سعودی عرب چھوڑ چکے ہیں۔ مہارت یافتہ افراد کی کمی کی وجہ سے ان بزنس ہاوسز کو اپنا کاروبار چلانے کے لئے کافی مشکلات کا سامنا ہے۔ معاشی تنگ دستی نے درمیانے اور چھوٹے کاروباروں کو بے حد نقصان پہنچایا ہے جس کی وجہ سے لوگوں کی قوت خرید بے حد متاثر ہوئی ہے ۔ ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت سعودی شہریوں کی قوت خرید تاریخ کی کم ترین سطح پر ہے۔
کچھ عرصے پہلے حکومت نے نئی سرکاری بھرتیوں پر پابندی عائد کر دی تھی۔ اب افواہیں سرگرم ہیں کہ خرچ میں بچت  کے نام پر حکومت ہزاروں لوگوں کو سرکاری ملازمت سے برطرف کرنے کے بارے میں سوچ رہی ہے ۔ حکومت کا یہ قدم نفسیاتی اور مالی تنگی کا شکار لوگوں میں مزید بے روزگاری کا باعث بنے گا۔ امریکی صدر ٹرمپ کے حالیہ دورہ سعودی عرب ،جس میں دونوں ملکوں نے350 ملین ڈالرز کے معاہدوں پر دستخط کئے اور جس طرح سعودی حکومت نے صدر ٹرمپ کی آو بگھت کی، سعودی عوام کی اکژیت نے اسے اپنے ملک کی بے عزتی تصور کیا۔ لوگوں کی ناپسندیدگی کے باوجود سعودی حکومت نے امریکی حکومت کو اسی طرح کے مزیدپرکشش معاہدات کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔سعودی شہریوں کا اپنی حکومت پر اعتماد بھی کافی حد تک متزلزل ہو ا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ انکی حکومت ان کی فلاح وبہبود کی بجائے ان کا گلا کاٹنے پر تلی ہوئی ہے۔لوگوں کا مطالبہ ہے کہ فضول منصوبوں پر رقم خرچ کرنے کی بجائے حکومت کو عوام کی صحت، ہاوسنگ اور روزگار کے لئے زیادہ خرچ کرنا چاہئے۔

عوام کی بے چینی کے باوجود سعودی حکمرانوں کا رویہ اپنے شہریوں کے ساتھ فاتحین اور رعایا والا ہے۔ حکمران بڑے فخر سے اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ انہوں نے اس علاقے کو تلوار کے زور پر فتح کیا ہے۔                      حکومتی دباؤ کی وجہ سے لوگ کسی بھی معاملے پر سرکاری موقف سے ہٹ کر اپنا نقطہ نظر بیان نہیں کر سکتے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شہری قطر کے معاملے پر قطر سے ہمدردی کرتا پایا جاتا ہے تو اس کو 15 سال کی قید اور 5 لاکھ ڈالرز جرمانے کی سزا دی جاسکتی ہے۔ دنیا کے کسی اور ملک میں شاید ہی ایسا ہو کہ آپ کو سرکاری موقف  سے ہٹ کراپنا موقف بیان کرنے پر اتنی سخت سزا سنائی جائے۔ اگرچہ ان قوانین کا سوشل میڈیا پر کافی مذاق اڑایا جا رہا ہے لیکن سعودی حکومت کو اس کی کوئی پرواہ نہیں۔ان سختیوں کے علاوہ حکومت پچھلے کئی برسوں سے اس بات کی کوشش کر رہی ہے کہ لوگوں کو ان کی مقامی ثقافت سے الگ کیا جائے۔  اس بات کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے کہ لوگ حکمرانوں کے پسندیدہ علاقے "نجد” کی ثقافت کو اپنائیں۔ لوگوں کو مجبور کیا جارہا ہے کہ وہ اپنا علاقائی لباس چھوڑ کر "نجد ” کا لباس پہنیں۔ 

اگر کوئی شہری "نجد” کے لباس کے علاوہ کسی اور لبا س میں تصویر بنواتا ہے تو اس کو شناختی کارڈ اور پاسپورٹ جاری نہیں کیا جاتا۔کچھ مبصرین کا یہ ماننا ہے کہ صرف معاشی جبر واحد وجہ نہیں جو لوگوں کو حکومت کے خلاٖف صف آرا ءکر دے ،افریقہ اور لاطینی امریکہ کے کئی ممالک کی اقتصادی حالت سعودی عرب سے کہیں زیادہ خراب ہے لیکن ان ملکوں کے عوام اپنی حکومتوں کے خلاف اٹھ کھڑے نہیں ہوئے۔ اس کی وجہ ان ممالک میں ان کے عوام کی شخصی آزادی ہے جس کا سعودی عرب میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ مسئلہ معاشی سے زیادہ  سیاسی ہے اور اس کی وجہ عوام کی حکومت پر بد اعتمادی ہے لوگ حکومت پر بھروسہ کرنے کو تیا ر نہیں۔

ان حالات میں ضروری ہوگیا ہے کہ سعودی حکومت اپنا دل بڑا کرے  اور اپنی مملکت کو بین الاقوامی ریاستوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے لوگوں جمہوری آزادیاں دے۔ لوگوں کو اپنے ووٹ کے ذریعے اپنے نمائندے چننے کا اختیار دے، لوگوں کو آزادانہ طور پرسوچنے اور اختلاف رائے رکھنے کا حق دے تاکہ ان میں یقین پیدا ہو کہ حکومت ان کی رائے کا احترام کرتی ہے اور فیصلہ سازی میں ان کی رائے کو اہمیت دیتی ہے۔اگر حکومت لوگوں کی رائے کو ملحوظ خاطر نہیں رکھتی تو کیا حکومت اور عوام کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کوئی بھی خطرناک روپ اختیار کرسکتی ہے۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بشکریہ ’’ تجزیات آن لائن‘‘
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  61436
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
گذشتہ دو سالوں میں یورپ میں رہنے والے تین سعودی شہزادے لاپتہ ہو چکے ہیں۔ یہ تینوں شہزادے ماضی میں سعودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں اور ان کی گمشدگی کے بارے میں ایسے شواہد ہیں جن
عراق میں صدر پارٹی کے رہنما سید مقتدی صدر نے اپنے دورہ سعودی عرب کے دوران نئے ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں طرفین نے دونوں ملکوں کے درمیان موجود مسائل پر بات چیت کی ۔
یمن پر جارحیت آل سعود سخت حواس باختہ ہونے کی دلیل ہے یمن، سعودی عرب، مصر، بحرین اور متحدہ عرب امارات نے قطر پر دہشت گردی کی حمایت کے الزامات عائد کرتے ہوئے سفارتی تعلقات ختم کرنے کا جو اعلان کیا ہے
امریکی حکومت کے مطابق امریکہ نے شام میں مشتبہ کیمیائی حملے کے جواب میں شامی حکومت کے فوجی اڈے پر کروز میزائلوں سے حملے کیے ہیں۔ امریکی محکمہ دفاع کا کہنا ہے کہ مشرقی بحیرۂ روم میں بحری بیڑے سے 59 ٹام ہاک کروز

مقبول ترین
ترجمان چینی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ پاکستان آرمی کے زبردست سپہ سالار ہیں۔ گزشتہ دنوں وزیراعظم عمران خان نے جنرل قمر جاوید باجوہ کو مزید 3 سال کیلئے آرمی چیف مقرر کیا تھا۔ اس حوالے سے پاکستان کے دیرینہ دوست
وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ سفاک مودی سرکار تمام انسانی و بین الاقوامی قوانین و ضوابط روند رہی ہے اور کشمیریوں کو نشانہ ستم بنانے کی تیاریوں میں ہے۔ میڈیا کے مطابق تحریک انصاف نے مقبوضہ کشمیر پر بھارتی قبضے اور اہل کشمیر
پاک فوج نے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ اور سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزیوں کا منہ توڑ جواب دیا جس کے نتیجے میں ایک افسر سمیت 6 بھارتی فوجی ہلاک اور 2 بنکرز تباہ ہوگئے۔
پاکستان نے مسئلہ کشمیر کو عالمی عدالت انصاف میں لے جانے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔ میڈیا کے مطابق آئندہ ماہ جنیوا میں انسانی حقوق کمیشن اجلاس بلانے کیلئے وزارت خارجہ نے تیاری شروع کر دی ہے اور اس سلسلے میں سابق سیکرٹری

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں