Sunday, 06 December, 2020
سعودی عرب اور حالات کا تقاضا

سعودی عرب اور حالات کا تقاضا
تحریر: عاصم اعجاز

 

سعودی عرب اس وقت کئی مسائل کا شکار ہے۔ عرب وعجم جنگ، علاقائی بالادستی ، ہمسایہ ملکوں سے خراب تعلقات ہوں یا تیل کی کم ہوتی عالمی قیمتیں, ان سب مسائل نے سعودی عرب کے مفادات کو بری طرح سے متاثر کیا ہے۔

سعودی عرب تیل پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے یہ اوسطا 11.75 ملین بیرل تیل روزانہ پیداکرتاہے جودنیا بھر میں پیدا ہونے والے تیل کا تقریبا 13.24 فی صد بنتا ہے۔ پچھلے کچھ عرصے میں عالمی سطح پر کم ہوتی قیمتوں نے سعودی معیشت کو جھنجوڑ ڈالا ہے۔ جدہ جو سعودیہ کی معاشی سرگرمیوں کا محور تھا اور جہاں پہلے ہر طرف چہل پہل نظر آتی تھی، اب معاشی بدحالی کا منظر پیش کر رہا ہے۔ بہت سے بڑے بڑے بزنس ہاوسز اپنے روزانہ کے اخراجات مشکل سے پورے کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ سونے پہ سہاگہ یہ اپنی آمدن کو بڑھانے کے لئے سعودی حکومت نے ان بزنس ہاوسز میں کام کرنے والے غیر ملکی شہریوں پر سو ریال  فی کس مہینہ کے حساب سے ایک نیا ٹیکس لگا دیا ہے۔ خیال رہے کہ اس وقت سعودی عرب میں غیر ملکیوں کی تعداد تقریبا 11.7ملین ہے۔ جن میں سے تقریبا 7.4 ملین ورکرز ہیں ،باقی ان کے خاندان کے افراد ہیں۔ بظاہر یہ ٹیکس بزنس ہاوسز پر لگایا گیا ہے لیکن ان بزنس ہاوسز نے کسی نہ کسی شکل میں یہ ٹیکس اپنے ملازمین پر منتقل کر دیا ہے ،جس کی وجہ سے بہت سے غیر ملکی سعودی عرب چھوڑ چکے ہیں۔ مہارت یافتہ افراد کی کمی کی وجہ سے ان بزنس ہاوسز کو اپنا کاروبار چلانے کے لئے کافی مشکلات کا سامنا ہے۔ معاشی تنگ دستی نے درمیانے اور چھوٹے کاروباروں کو بے حد نقصان پہنچایا ہے جس کی وجہ سے لوگوں کی قوت خرید بے حد متاثر ہوئی ہے ۔ ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت سعودی شہریوں کی قوت خرید تاریخ کی کم ترین سطح پر ہے۔
کچھ عرصے پہلے حکومت نے نئی سرکاری بھرتیوں پر پابندی عائد کر دی تھی۔ اب افواہیں سرگرم ہیں کہ خرچ میں بچت  کے نام پر حکومت ہزاروں لوگوں کو سرکاری ملازمت سے برطرف کرنے کے بارے میں سوچ رہی ہے ۔ حکومت کا یہ قدم نفسیاتی اور مالی تنگی کا شکار لوگوں میں مزید بے روزگاری کا باعث بنے گا۔ امریکی صدر ٹرمپ کے حالیہ دورہ سعودی عرب ،جس میں دونوں ملکوں نے350 ملین ڈالرز کے معاہدوں پر دستخط کئے اور جس طرح سعودی حکومت نے صدر ٹرمپ کی آو بگھت کی، سعودی عوام کی اکژیت نے اسے اپنے ملک کی بے عزتی تصور کیا۔ لوگوں کی ناپسندیدگی کے باوجود سعودی حکومت نے امریکی حکومت کو اسی طرح کے مزیدپرکشش معاہدات کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔سعودی شہریوں کا اپنی حکومت پر اعتماد بھی کافی حد تک متزلزل ہو ا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ انکی حکومت ان کی فلاح وبہبود کی بجائے ان کا گلا کاٹنے پر تلی ہوئی ہے۔لوگوں کا مطالبہ ہے کہ فضول منصوبوں پر رقم خرچ کرنے کی بجائے حکومت کو عوام کی صحت، ہاوسنگ اور روزگار کے لئے زیادہ خرچ کرنا چاہئے۔

عوام کی بے چینی کے باوجود سعودی حکمرانوں کا رویہ اپنے شہریوں کے ساتھ فاتحین اور رعایا والا ہے۔ حکمران بڑے فخر سے اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ انہوں نے اس علاقے کو تلوار کے زور پر فتح کیا ہے۔                      حکومتی دباؤ کی وجہ سے لوگ کسی بھی معاملے پر سرکاری موقف سے ہٹ کر اپنا نقطہ نظر بیان نہیں کر سکتے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شہری قطر کے معاملے پر قطر سے ہمدردی کرتا پایا جاتا ہے تو اس کو 15 سال کی قید اور 5 لاکھ ڈالرز جرمانے کی سزا دی جاسکتی ہے۔ دنیا کے کسی اور ملک میں شاید ہی ایسا ہو کہ آپ کو سرکاری موقف  سے ہٹ کراپنا موقف بیان کرنے پر اتنی سخت سزا سنائی جائے۔ اگرچہ ان قوانین کا سوشل میڈیا پر کافی مذاق اڑایا جا رہا ہے لیکن سعودی حکومت کو اس کی کوئی پرواہ نہیں۔ان سختیوں کے علاوہ حکومت پچھلے کئی برسوں سے اس بات کی کوشش کر رہی ہے کہ لوگوں کو ان کی مقامی ثقافت سے الگ کیا جائے۔  اس بات کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے کہ لوگ حکمرانوں کے پسندیدہ علاقے "نجد” کی ثقافت کو اپنائیں۔ لوگوں کو مجبور کیا جارہا ہے کہ وہ اپنا علاقائی لباس چھوڑ کر "نجد ” کا لباس پہنیں۔ 

اگر کوئی شہری "نجد” کے لباس کے علاوہ کسی اور لبا س میں تصویر بنواتا ہے تو اس کو شناختی کارڈ اور پاسپورٹ جاری نہیں کیا جاتا۔کچھ مبصرین کا یہ ماننا ہے کہ صرف معاشی جبر واحد وجہ نہیں جو لوگوں کو حکومت کے خلاٖف صف آرا ءکر دے ،افریقہ اور لاطینی امریکہ کے کئی ممالک کی اقتصادی حالت سعودی عرب سے کہیں زیادہ خراب ہے لیکن ان ملکوں کے عوام اپنی حکومتوں کے خلاف اٹھ کھڑے نہیں ہوئے۔ اس کی وجہ ان ممالک میں ان کے عوام کی شخصی آزادی ہے جس کا سعودی عرب میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ مسئلہ معاشی سے زیادہ  سیاسی ہے اور اس کی وجہ عوام کی حکومت پر بد اعتمادی ہے لوگ حکومت پر بھروسہ کرنے کو تیا ر نہیں۔

ان حالات میں ضروری ہوگیا ہے کہ سعودی حکومت اپنا دل بڑا کرے  اور اپنی مملکت کو بین الاقوامی ریاستوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے لوگوں جمہوری آزادیاں دے۔ لوگوں کو اپنے ووٹ کے ذریعے اپنے نمائندے چننے کا اختیار دے، لوگوں کو آزادانہ طور پرسوچنے اور اختلاف رائے رکھنے کا حق دے تاکہ ان میں یقین پیدا ہو کہ حکومت ان کی رائے کا احترام کرتی ہے اور فیصلہ سازی میں ان کی رائے کو اہمیت دیتی ہے۔اگر حکومت لوگوں کی رائے کو ملحوظ خاطر نہیں رکھتی تو کیا حکومت اور عوام کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کوئی بھی خطرناک روپ اختیار کرسکتی ہے۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بشکریہ ’’ تجزیات آن لائن‘‘
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  37226
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
سعودی عرب کے ایک ایم بی سی چینل پر رمضان کے شروع میں ایک ڈرامہ "ام ہارون" کے نام سے نشر کیا جا رہا ہے، جس میں یہودیت کو مظلوم بنا کر پیش کیا گیا ہے۔
شاہ سلمان کے واحد زندہ بھائی احمد بن عبدالعزیز کا نام بھی سعودی عرب کے آئندہ ممکنہ حکمران کے طور پر سامنے آ رہا تھا۔ ذرائع کے مطابق احمد بن عبدالعزیز کو شاہی خاندان، دیگر اہم شخصیات اور کچھ مغربی طاقتوں کی بھی ممکنہ طور پر حمایت حاصل ہو سکتی تھی۔
گذشتہ دو سالوں میں یورپ میں رہنے والے تین سعودی شہزادے لاپتہ ہو چکے ہیں۔ یہ تینوں شہزادے ماضی میں سعودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں اور ان کی گمشدگی کے بارے میں ایسے شواہد ہیں جن
عراق میں صدر پارٹی کے رہنما سید مقتدی صدر نے اپنے دورہ سعودی عرب کے دوران نئے ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں طرفین نے دونوں ملکوں کے درمیان موجود مسائل پر بات چیت کی ۔

مزید خبریں
کورونا وائرس پاکستان ہی نہیں ہی دنیا بھر میں اپنی پوری بدصورتی کے ساتھ متحرک ہے ، تشویشناک یہ ہےاس عالمی وباء کے نتیجے میں ہمارے ہاں اموات کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا،
کی سڑک کے کنارے ایک ہوٹل میں چائے پینے کے لیے رکا تو ایک مقامی صحافی دوست سے ملاقات ہوگئی جنہیں سب شاہ جی کہتے ہیں سلام دعا کے بعد شاہ جی سے پوچھا کہ ٹیکنالوجی کی وجہ سے پاکستان کتنا تبدیل ہوچکا ہے تو کہنے لگے کہ سوشل میڈیا کی وجہ سےعدم برداشت میں بہت اضافہ ہوا ہے۔
میرے پڑھنے والو،میں ایک عام سی،نا سمجھ ایک الہڑ سی لڑکی ہوا کرتی تھی، بات بات پہ رو دینا تو جیسے میری فطرت کا حصہ تھا، اور پھربات بے بات ہنسنا میری کمزوری، یہ لڑکی دنیا کے سامنے وہی کہتی اور وہی کرتی تھی جو یہاں کے لوگ سن اور سمجھ کر خوش ہوتے تھے
صبح سویرے اسکول جاتے وقت ہم عجیب مسابقت میں پڑے رہتے تھے پہلا مقابلہ یہ ہوتا تھا کہ کون سب سے تیز چلے گا دوسرا شوق سلام میں پہل کرنا۔ خصوصاً ساگری سے آنیوالے اساتذہ کو سلام کرنا ہم اپنے لیے ایک اعزاز تصور کرتے تھے۔

مقبول ترین
سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات جانے کے لیے اسرائیلی پروازوں کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دے دی۔ غیر ملکی خبررساں ادارے (رائٹرز) کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور وائٹ ہاوس کے سینیئر ایڈوائزر جیراڈ کشنر اور سعودی حکام
وفاقی کابینہ نے کورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین کی خریداری کی منظوری دے دی۔ وزیراعظم کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں کورونا وائرس کی ویکسین کی خریداری کی منظوری دے دی گئی اور اس کام کے لیے 15 کروڑ ڈالر مختص
تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ مولانا خادم حسین رضوی قضائے الہیٰ سے انتقال کر گئے ہیں۔ میڈیا کے مطابق وہ چند دنوں‌سے شدید علیل تھے۔ مولانا خادم حسین رضوی صوبہ پنجاب کے ضلع اٹک سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں قران پاک حفظ کیا ہوا تھا۔
پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ نے جلسوں پر پابندی کے حکومتی فیصلے کو مسترد کردیا اور کہا ہے کہ جلسے اپنے شیڈول کے مطابق ہوں گے ہم حکومتی پابندی کو تسلیم نہیں کرتے۔ یہ بات اپوزیشن جماعتوں کے مشترکہ اتحاد پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں