Wednesday, 29 January, 2020
’’وزیر خارجہ پاکستان اور اسرائیل سے یارانہ‘‘

’’وزیر خارجہ پاکستان اور اسرائیل سے یارانہ‘‘
تحریر: صابر ابو مریم

 

سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان 
پی ایچ ڈی اسکالر،شعبہ سیاسیات جامعہ کراچی 

گذشتہ روز پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا ایک بیان نجی ٹی وی چینل پر دکھایا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ پاکستان اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ یہ بیان شاہ محمود قریشی نے ایسے وقت میں دیا ہے کہ جب ایک طرف کشمیر میں آگ بھڑک رہی ہے اور کشمیر کے مظلوم عوام پاکستان کی طرف امید کی نگاہیں لگائے دیکھ رہے ہیں لیکن نتیجہ میں وزارت خارجہ کی کرسی پر براجمان شاہ محمود قریشی کشمیر کامقدمہ بھی اپنے ذاتی مفادات کی آڑ میں عالمی برادری کے سامنے رکھنے میں ناکام رہے ہیں اور ان کی ناکامی کی ایک سب سے بڑی دلیل خود ان کا گیارہ ستمبر ک جنیوامیں دیا گیا وہ بیان ہے کہ جس میں انہوں نے شکست خوردہ لہجہ میں اعتراف کیا کہ یورپی ممالک ان کی حمایت نہیں کر رہے۔اس بیان کے فوری بعد پاکستانی ذرائع ابلاغ پر وزیر خارجہ کی طرف سے اسرائیل کی جعلی ریاست کی حمایت میں بیان نشر کیا گیا ہے جو یقینا شاہ محمود قریشی نے امریکی آقاؤں کی خوشنودی کے لئے دیا ہے لیکن وہ نہیں جانتے کہ اس بیان کی آڑ میں انہوں نے نہ صرف قائد اعظم محمدعلی جناح کے افکار اور امنگوں اور پاکستان سے وابستہ امیدوں کا قتل کیا ہے بلکہ ساتھ ساتھ کشمیری عوام کی پاکستان سے لگی امیدوں کو بھی تہس نہس کرتے ہوئے اپنے ذاتی مفادات کو قومی اور ملکی مفادات سے بالا تر رکھا ہے۔

وزیر خارجہ کی طرف سے اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے کا بیان در اصل شاہ صاحب کی امریکی و برطانوی وفاداری کا ایک ثبوت ہونے کے ساتھ ساتھ عرب دنیا کے چند ایک حکمرانوں کو بھی خوش کرنے کی کوشش ہے کیونکہ شاہ محمود قریشی صاحب سمجھتے ہیں کہ اگر امریکہ و برطانیہ سمیت عرب دنیا کے بادشاہوں کو انہوں نے خوش کر دیا تو پھر یقینا وزارت عظمیٰ کی کرسی کے لئے وہی بہترین امید وار قرار پائیں گے۔
 پاکستان چونکہ اس وقت مشکل ترین اور نازک دور سے گزر رہا ہے جہاں پاکستان کو بھارت اور اسرائیل جیسے بیرونی دشمنوں کا خطر ہ ہے وہاں ان تمام خطرات سے بڑا خطرہ ایسے عناصر ہیں جو پاکستان میں بھارت اور اسرائیل کے مشترکہ مفادات کے لئے ان کے پے رو ل پر کام کر رہے ہیں۔ان عناصر میں ہروہ شخص سیاست دان اور سابق فوجی جرنیل اور نام نہاد علماء شامل ہیں کہ جن کی زندگیوں کا ہدف و مقصد صرف اور صرف ذاتی مفادات کا حصول ہے۔

پاکستان کے طالب علم افواج پاکستان کے سابق جنرل امجد شعیب سے سوال کرتے ہیں کہ کیا اسرائیل کے مفادات کی بات کرنا بھارت کے مفادات کی بات کرنے مترادف نہیں ہے؟ کیا بھارت اور اسرائیل کے پاکستان دشمن عزائم ایک جیسے نہیں ہیں؟کیا ایک سابق فوجی جرنیل کو یہ بات زیب دیتی ہے کہ وہ ملک دشمن قوتوں کے حق میں بیانات دے؟ایسے بیانات کی حمایت کرے کہ جس سے مملکت خداداد پاکستان کی نظریاتی اساسوں کو خطرات لاحق ہوں؟پاکستان کے طالب علم نوجوان سیاست دانوں سے زیادہ افواج پاکستان کی وفاداریوں اور فدا کاریوں پر یقین رکھتے ہیں لیکن جب ان اداروں کے اندر سے نکل کر اعلی افسران پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف ہوں اور ذرائع ابلاغ کی زینت بنے رہیں تو پھر ہمارا سوال سپہ سالارسے یہ بھی ہے کہ پاکستان کے نوجوان ہنر مندان کس دروازے پر جائیں؟آج پاکستان کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں ہر نوجوان سوالیہ نگاہوں سے صدر پاکستان، وزیر اعظم پاکستان اور آرمی چیف سمیت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس صاحب کی طرف سوالیہ نگاہوں سے دیکھ رہا ہے۔

ایسے حالات میں ہم ایک طرف کشمیرکی حمایت کا نعرہ لگا رہے ہیں تو دوسری طرف حکومت کی صفوں میں موجود کالی بھیڑیں اور وزیر اعظم صاحب کی آستین میں چھپے سانپ کشمیرسمیت فلسطین پر سودے بازی کر رہے ہیں۔اگر آج شاہ محمود قریشی کے بقول پاکستان اسرائیل سے تعلقات میں دلچسپی رکھتا ہے تو پھر بھارت کے ساتھ اپنے تمام تر تعلقات کو کس بنیاد پر ختم کیا ہے؟ پھر کس منہ سے پاکستان کشمیر کاز کی حمایت کرے گا؟ اگر فلسطین کا سودا کر دیا جائے تو پھر کشمیر پر حکومت کس طرف کھڑی ہو گی؟

وزیر اعظم پاکستان کو شاہ محمود کے ان بیانات کا نوٹس لیناچاہئیے اور قوم کو وضاحت پیش کرناچاہئے کیونکہ شاہ محمود کے اسرائیل حمایت بیان نے نہ صرف پاکستان کے عوام میں بے چینی کو جنم دیا ہے بلکہ کشمیر کی جد وجہدآزادی کو بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔حیرت کی بات ہے کہ حکومت کی صفوں میں موجود عناصر اور دیگر گماشتے کھلم کھلا ملک دشمن قوتوں کے حق میں بیان بازی کر رہے ہیں۔ایسے حالا ت میں لازم ہے کہ قانون حرکت میں آئے اور سپریم کورٹ آف پاکستان ایسے تمام عناصر کو آرٹیکل چھ کے دائرہ میں لا کر کاروائی کرے۔وزیر خارجہ کا اسرائیل سے تعلقات پر دلچسپی کا بیان پاکستان کی نظریاتی بنیادوں اورآئین پاکستان سے سنگین غداری کے مترادف ہے تاہم آرٹیکل 62 اور 63 کا اطلاق کیا جائے اور کسی بھی عوامی عہدے پر فائز نہ کیا جائے۔

خلاصہ یہ ہے کہ موجودہ حالات میں اسرائیل انتہائی کمزور اور شکست خوردہ ہو چکا ہے،فلسطینی مزاحمت نے غزہ اور مقبوضہ فلسطین میں اسرائیل پر کاری ضربیں لگا رکھی ہیں،شاہ محمود قریشی نے اسرائیل کی حمایت میں بیان ایسے وقت میں دیا ہے کہ جب فلسطینی مزاحمت نے غزہ میں اسرائیلی ڈرون طیارے کو اتار لیا اور صہیونیوں کے خلاف جوابی کاروائی میں ایسے میزائل فائر کئے ہیں جو اسرائیل کے جدید ترین راڈار سسٹم آئرن ڈوم پربھی نظر نہیں آئے۔اسی طرح فلسطینی مزاحمت نے جنوبی لبنان میں نہ صرف اسرائیل کا ایک ڈرون مار گرایا ہے بلکہ مقبوضہ فلسطین کے اندر سات کلو میٹر تک داخل ہو صہیونی فوجی گاڑی کو نشانہ بنایا اور متعدد صہیونیوں کو ہلاک کیا۔یہ ہے وہ اسرائیل کے جس کی ٹیکنالوجی اور ترقی کی مثالیں پاکستان میں جنرل (ر) امجد شعیب، طاہر اشرفی اور شاہ محمود قریشی جیسے لوگ پیش کرتے ہیں اور پاکستان کے با شعور افراد کو بے وقوف بنانے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔خود اسرائیل جو فلسطینی مزاحمت کاروں کے چھوٹے چھوٹے اسلحوں کا مقابلہ نہیں کر سکتا اس سے تعلقات قائم کر کے پاکستان کی ترقی کے خواب دکھا رہے ہیں۔

در اصل یہی عناصر پاکستان کے دشمن ہیں۔ان عناصر کے آباؤ اجداد کا اگر ماضی کا جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہو گا کہ کس کس طر ح ان کے خاندانوں نے برطانوی استعمار سے مراعات حاصل کی ہیں اور آج تک امریکی و برطانوی سامراج کی غلامی کا طوق اپنی گردن سے نکالنے کو تیار نہیں ہیں اور بد قسمتی یہ ہے کہ آج نئے پاکستان میں کشمیر و فلسطین جیسے مسائل خارجہ امور کی ذمہ داری بھی ایسے ہی افراد کے ہاتھوں میں سونپ دی گئی ہے جن کا مطمع نظر ذاتی مفادات ہیں نہ کہ کشمیر و فلسطین کی جد وجہد آزادی۔وزیر اعظم پاکستان کا نیا پاکستان اگر کشمیر و فلسطین کا سودا کرنے کے لئے بنایا گیا ہے تو پھر ایسے نئے پاکستان کو سختی سے مسترد کیا جاتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  58462
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
وفا اور جفا کی عجب کشمکش میں ہچکولے کھاتا دانش بالآخر اپنی محبت کا لاشہ اٹھائے جہان فانی سے کوچ کر گیا،
کی سڑک کے کنارے ایک ہوٹل میں چائے پینے کے لیے رکا تو ایک مقامی صحافی دوست سے ملاقات ہوگئی جنہیں سب شاہ جی کہتے ہیں سلام دعا کے بعد شاہ جی سے پوچھا کہ ٹیکنالوجی کی وجہ سے پاکستان کتنا تبدیل ہوچکا ہے تو کہنے لگے کہ سوشل میڈیا کی وجہ سےعدم برداشت میں بہت اضافہ ہوا ہے۔
صبح سویرے اسکول جاتے وقت ہم عجیب مسابقت میں پڑے رہتے تھے پہلا مقابلہ یہ ہوتا تھا کہ کون سب سے تیز چلے گا دوسرا شوق سلام میں پہل کرنا۔ خصوصاً ساگری سے آنیوالے اساتذہ کو سلام کرنا ہم اپنے لیے ایک اعزاز تصور کرتے تھے۔
برطانیہ کے عام انتخابات میں 15 پاکستانی نژاد امیدوار اپنی نشستوں پر کامیاب ہو گئے ہیں، جن میں سے زیادہ تعداد ہارنے والی جماعت لیبر پارٹی سے ہے۔ میڈیا کے مطابق برطانیہ میں پانچ سال کے عرصے میں

مزید خبریں
کی سڑک کے کنارے ایک ہوٹل میں چائے پینے کے لیے رکا تو ایک مقامی صحافی دوست سے ملاقات ہوگئی جنہیں سب شاہ جی کہتے ہیں سلام دعا کے بعد شاہ جی سے پوچھا کہ ٹیکنالوجی کی وجہ سے پاکستان کتنا تبدیل ہوچکا ہے تو کہنے لگے کہ سوشل میڈیا کی وجہ سےعدم برداشت میں بہت اضافہ ہوا ہے۔
میرے پڑھنے والو،میں ایک عام سی،نا سمجھ ایک الہڑ سی لڑکی ہوا کرتی تھی، بات بات پہ رو دینا تو جیسے میری فطرت کا حصہ تھا، اور پھربات بے بات ہنسنا میری کمزوری، یہ لڑکی دنیا کے سامنے وہی کہتی اور وہی کرتی تھی جو یہاں کے لوگ سن اور سمجھ کر خوش ہوتے تھے
صبح سویرے اسکول جاتے وقت ہم عجیب مسابقت میں پڑے رہتے تھے پہلا مقابلہ یہ ہوتا تھا کہ کون سب سے تیز چلے گا دوسرا شوق سلام میں پہل کرنا۔ خصوصاً ساگری سے آنیوالے اساتذہ کو سلام کرنا ہم اپنے لیے ایک اعزاز تصور کرتے تھے۔
عزیزان۔۔۔! بہت آسان ہے ہر رات ٹی وی ڈرامہ کا انتخاب کرنا یا کسی فلم کو دیکھنے کے لیے دیر تک جاگنا۔۔ بہت مشکل ہے ٹھنڈی اور تاریک رات میں اپنے بچوں اور والدین سے دور برفباری جیسے موسم کے اندر اپنا فرض نبھانا۔۔

مقبول ترین
عرب میڈیا کے مطابق سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے امریکی صدر کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تنازع کے خاتمے کے لیے امن منصوبہ ’ ڈیل آف سینچری‘ پیش کرنے اور فریقین کے درمیان امریکی سرپرستی میں
فلسطین کے صدر محمود عباس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے امن منصوبے کو ’’صدی کا تھپڑ‘‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر کے اعلان کے بعد سے غزہ
دفتر خارجہ نے ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی کے حالیہ متشدد بیانات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس کا نوٹس لے۔ دفتر خارجہ کی جانب سے جاری اہم بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارتی انتہا پسند بیانیہ
مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ جسے امن منصوبے کا نام دے رہے ہیں وہ دراصل” امن کے خلاف جنگ“ (War Against Peace )ہے ۔اسے عالمی قوانین کی

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں