Tuesday, 18 December, 2018
سچ کیا ہے؟

سچ کیا ہے؟
فائل فوٹو
تحریر: زکریا ایوبی

راحت اندوری نے رائج الوقت سچ کی سادہ الفاظ میں تعریف کچھ یوں کی ہے:

جو میری زبان سے نکلے وہی صداقت ہے.

ذیل میں سچائی کی اسی تعریف کو سامنے رکھ کر عہد حاضر میں بولے جانے والے سچ اور اصل سچ کا موازنہ کیا گیا ہے۔ آغاز سیاست سے کرتے ہیں۔

نواز شریف کا سچ یہ ہے کہ ان پر پانامہ کا مقدمہ بنا اور اقامہ پر نااہل کر دیا گیا جبکہ اصل سچ یہ ہے کہ،

تو اِدھر اُ دھر کی نہ بات کر یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا

مجھے رہزنوں سے گلہ نہیں تیری رہبری کا سوال ہے

عمران خان کا سچ یہ ہے کہ پاکستان کو بحرانوں سے نکالنے کے لئے قبل از وقت انتخابات ناگزیر ہیں. اصل سچ یہ ہے کہ ان کو مارچ کے مہینے سے خوف آتا ہے. اس لئے مارچ سے پہلے اسمبلیاں توڑنے کے درپے ہیں۔

پیپلر پارٹی کا سچ یہ ہے کہ وہ ایک عوامی پارٹی ہے اور اصل سچ یہ ہے کہ وہ عوام صرف اندرون سندھ میں پائی جاتی ہے۔

ایم کیو ایم کا سچ یہ ہے کہ وہ مہاجروں کی نمائندہ جماعت ہے اور اصل سچ یہ ہے کہ یہ ’مہاجر‘ نامی مخلوق صرف کراچی اور حیدرآباد میں رہتی ہے، باقی پاکستان میں بسنے والے مہاجر عرصہ ہوا پاکستانی بن چکے ہیں۔

مذہبی جماعتوں کا سچ یہ ہے کہ وہ پاکستان میں اسلامی نظام کے قیام کیلئے متحدہ ہو گئے ہیں، اور اصل سچ یہ ہے کہ اسی متحدہ مجلس عمل کے اکثر رہنماء ایک دوسرے کی نظروں میں مشکوک مسلمان ہیں۔

فوج کا سچ یہ ہے کہ وہ سیاسی کردار ادا نہیں کر رہی اور جمہوری عمل کے تسلسل کی حامی ہے جبکہ اصل سچ یہ ہے کہ سیاستدانوں کو جمہوریت سکھانے کی ذمہ داری بھی فوج نے اپنے کندھوں پر اٹھا رکھی ہے۔

میڈیا کا سچ یہ ہے کہ وہ عوامی مسائل کو حکمرانوں کے سامنے اجاگر کرتا ہے جبکہ دراصل دکھاتا وہی ہے جس میں زیادہ سے زیادہ کمائی کا امکان ہو۔

عوام کا سچ یہ ہے کہ اکثر صاحبان اقتدار آرٹیکلز باسٹھ تریسٹھ پر پورے نہیں اترتے اور اصل سچ یہ ہے کہ ہمارا پورا معاشرہ ہی ان دونوں آرٹیکلز پر پورا نہیں اترتا۔

اب آئیے ذرا ملک سے باہر کی سیر کر کے آتے ہیں۔

امریکہ کا سچ یہ ہے کہ وہ دنیا میں امن کے قیام کے لئے کام کر رہا ہے اور اصل سچ یہ ہے کہ دنیا میں جہاں کہیں بھی جنگ و جدل ہے، اس میں امریکہ کسی نہ کسی صورت ملوث ہے۔

افغانستان کا سچ یہ ہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے ہیں جبکہ خود افغانستان کے چالیس فیصد حصے پر حکومت کی عملداری صفر ہے اور تین صوبے داعش کے قبضے میں ہیں۔

بھارت کا سچ یہ ہے کہ پاکستان کشمیر میں مداخلت کر رہا ہے جبکہ امر واقعی یہ ہے کہ خود مودی سرکار بلوچستان کی آزادی کا تمغہ سینے پر سجانے کے لئے بے قرار بیٹھی ہے۔

سعودی عرب کا سچ یہ ہے کہ وہاں کرپشن کے خلاف مہم جاری ہے جبکہ حقیقت میں محمد بن سلمان اپنے مخالفین کو کھڈے لائن لگا رہے ہیں۔

ایران کا سچ یہ ہے کہ امریکہ اور سعودی عرب مشرق وسطیٰ کے امن کو خراب کر رہے ہیں جبکہ خطے میں جہاں کہیں بھی امن خراب ہے اس کے تانے بانے ایران، امریکہ اور سعودی عرب سے ہی جا کر ملتے ہیں۔

چین کا سچ یہ ہے کہ وہ دنیا کو قریب لانے کے منصوبے پر کام کر رہا ہے جبکہ حقیقت میں وہ دنیا کو قابو کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔

روس کا سچ یہ ہے کہ وہاں کا نظام حکومت ایک جمہوری سسٹم ہے جبکہ اصل میں وہاں پیوٹن کی صورت میں ایک زار ہی حکمران ہے۔

برطانیہ کا سچ یہ ہے کہ وہ یورپی یونین سے الگ ہونا چاہتا ہے لیکن اندر خانے برطانیہ کسی ایسے بہانے کی تلاش میں ہے جو اس کو یورپ کے ساتھ ہی رہنے کا جواز مہیا کرے۔

میرا سچ یہ ہے کہ میں نے ایک اچھا مضمون لکھ دیا ہے اور اصل سچ یہ ہے کہ مجھے خود نہیں پتہ کہ میں نے کیا لکھا ہے!

قارئین چاہیں تو اپنا سچ بھی منظر عام پر لا سکتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بشکریہ ’’روزنامہ دنیا‘‘
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  99978
کوڈ
 
   
مزید خبریں
دنیا بھر میں بولی اور سمجھی جانی والی زبانوں میں سے اردو ہندی دنیا کی دوسری بڑی زبان بن چکی ہے، جبکہ اول نمبر پر آنے والی زبان چینی ہے اور انگریزی کا نمبر تیسرا ہے۔ روزنامہ ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے یونیورسٹی آف ڈیسلڈرف الرچ کی 15 برس کی مطالعاتی رپورٹ
ہمارے نیم حکیموں کو کون سمجھائے کہ بلکتے، سسکتےعوام کو جمہوریت سے بدہضمی ہونے کا خوف دلانا چھوڑ دیجئے حضور! 144 معالجین کے مطابق انسانی معدے کی خرابی تمام بیماریوں کی ماں ہوتی ہے اور معدے کی خرابی سے ہی بدہضمی، ہچکی، متلی، قے، ہاتھوں میں جلن کا احساس، بھوک کا نہ لگنا، پژمردگی اور چہرے پر افسردگی کے اثرات چھائے
یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ پارلیمنٹ لاجز میں ہونے والی غیر اخلاقی حرکتوں کے متعلق جمشید دستی کو کس نے ویڈیو ثبوت اور ”ناقابل تردید“ ثبوت فراہم کیے ہیں؟ یہ سوال بھی اہم ہے کہ آخر جمشید دستی نے یہ ا یشو کیوں چھیڑا ؟ اس کے نتیجے میں جو صورتحال پیش آسکتی ہے اس کے دور رس نتائج نکل سکتے ہیں۔
دہشت گردوں کی طرف سے جنگ بندی کے اعلان کے صرف 48 گھنٹے بعد ہی دارالحکومت اسلام آباد کودہشت گردی کا نشانہ بنادیا گیا۔

مقبول ترین
سابق وزیراعظم نواز شریف کے سیکیورٹی گارڈ نے صحافی کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا جس کے خلاف صحافیوں نے شدید احتجاج کیا۔ مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے جہاں انہوں نے شہباز شریف سے ملاقات کی جس کے بعد ان
ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی ریاستی دہشتگردی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بندوق کی گولیاں آزادی کے غیر مسلح بہادر حریت پسندوں کو کبھی کچل نہیں سکتیں۔
فیصل رضا عابدی نے چیف جسٹس پاکستان کے خلاف ایک ویب چینل کو انٹرویو دیا تھا اور اس معاملے میں ان پر آج فرد جرم عائد کی گئی ہے، تاہم انہوں نے صحت جرم سے انکار کر دیا ہے۔ باس موقع پر عدالت نے آئندہ سماعت پر استغاثہ کے گواہوں کو طلب کرلیا ہے۔
پاکستان کے تعاون سے آج سے شروع ہونے والے امریکا طالبان مذاکرات کا امریکا کی جانب سے خیر مقدم کیا گیا ہے جب کہ طالبان نے بھی امریکی حکام کے ساتھ مذاکرات میں شرکت کی تصدیق کردی۔ ہائی پیس کونسل کے ڈپٹی چیف

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں