Wednesday, 29 January, 2020
سچ کیا ہے؟

سچ کیا ہے؟
فائل فوٹو
تحریر: زکریا ایوبی

راحت اندوری نے رائج الوقت سچ کی سادہ الفاظ میں تعریف کچھ یوں کی ہے:

جو میری زبان سے نکلے وہی صداقت ہے.

ذیل میں سچائی کی اسی تعریف کو سامنے رکھ کر عہد حاضر میں بولے جانے والے سچ اور اصل سچ کا موازنہ کیا گیا ہے۔ آغاز سیاست سے کرتے ہیں۔

نواز شریف کا سچ یہ ہے کہ ان پر پانامہ کا مقدمہ بنا اور اقامہ پر نااہل کر دیا گیا جبکہ اصل سچ یہ ہے کہ،

تو اِدھر اُ دھر کی نہ بات کر یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا

مجھے رہزنوں سے گلہ نہیں تیری رہبری کا سوال ہے

عمران خان کا سچ یہ ہے کہ پاکستان کو بحرانوں سے نکالنے کے لئے قبل از وقت انتخابات ناگزیر ہیں. اصل سچ یہ ہے کہ ان کو مارچ کے مہینے سے خوف آتا ہے. اس لئے مارچ سے پہلے اسمبلیاں توڑنے کے درپے ہیں۔

پیپلر پارٹی کا سچ یہ ہے کہ وہ ایک عوامی پارٹی ہے اور اصل سچ یہ ہے کہ وہ عوام صرف اندرون سندھ میں پائی جاتی ہے۔

ایم کیو ایم کا سچ یہ ہے کہ وہ مہاجروں کی نمائندہ جماعت ہے اور اصل سچ یہ ہے کہ یہ ’مہاجر‘ نامی مخلوق صرف کراچی اور حیدرآباد میں رہتی ہے، باقی پاکستان میں بسنے والے مہاجر عرصہ ہوا پاکستانی بن چکے ہیں۔

مذہبی جماعتوں کا سچ یہ ہے کہ وہ پاکستان میں اسلامی نظام کے قیام کیلئے متحدہ ہو گئے ہیں، اور اصل سچ یہ ہے کہ اسی متحدہ مجلس عمل کے اکثر رہنماء ایک دوسرے کی نظروں میں مشکوک مسلمان ہیں۔

فوج کا سچ یہ ہے کہ وہ سیاسی کردار ادا نہیں کر رہی اور جمہوری عمل کے تسلسل کی حامی ہے جبکہ اصل سچ یہ ہے کہ سیاستدانوں کو جمہوریت سکھانے کی ذمہ داری بھی فوج نے اپنے کندھوں پر اٹھا رکھی ہے۔

میڈیا کا سچ یہ ہے کہ وہ عوامی مسائل کو حکمرانوں کے سامنے اجاگر کرتا ہے جبکہ دراصل دکھاتا وہی ہے جس میں زیادہ سے زیادہ کمائی کا امکان ہو۔

عوام کا سچ یہ ہے کہ اکثر صاحبان اقتدار آرٹیکلز باسٹھ تریسٹھ پر پورے نہیں اترتے اور اصل سچ یہ ہے کہ ہمارا پورا معاشرہ ہی ان دونوں آرٹیکلز پر پورا نہیں اترتا۔

اب آئیے ذرا ملک سے باہر کی سیر کر کے آتے ہیں۔

امریکہ کا سچ یہ ہے کہ وہ دنیا میں امن کے قیام کے لئے کام کر رہا ہے اور اصل سچ یہ ہے کہ دنیا میں جہاں کہیں بھی جنگ و جدل ہے، اس میں امریکہ کسی نہ کسی صورت ملوث ہے۔

افغانستان کا سچ یہ ہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے ہیں جبکہ خود افغانستان کے چالیس فیصد حصے پر حکومت کی عملداری صفر ہے اور تین صوبے داعش کے قبضے میں ہیں۔

بھارت کا سچ یہ ہے کہ پاکستان کشمیر میں مداخلت کر رہا ہے جبکہ امر واقعی یہ ہے کہ خود مودی سرکار بلوچستان کی آزادی کا تمغہ سینے پر سجانے کے لئے بے قرار بیٹھی ہے۔

سعودی عرب کا سچ یہ ہے کہ وہاں کرپشن کے خلاف مہم جاری ہے جبکہ حقیقت میں محمد بن سلمان اپنے مخالفین کو کھڈے لائن لگا رہے ہیں۔

ایران کا سچ یہ ہے کہ امریکہ اور سعودی عرب مشرق وسطیٰ کے امن کو خراب کر رہے ہیں جبکہ خطے میں جہاں کہیں بھی امن خراب ہے اس کے تانے بانے ایران، امریکہ اور سعودی عرب سے ہی جا کر ملتے ہیں۔

چین کا سچ یہ ہے کہ وہ دنیا کو قریب لانے کے منصوبے پر کام کر رہا ہے جبکہ حقیقت میں وہ دنیا کو قابو کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔

روس کا سچ یہ ہے کہ وہاں کا نظام حکومت ایک جمہوری سسٹم ہے جبکہ اصل میں وہاں پیوٹن کی صورت میں ایک زار ہی حکمران ہے۔

برطانیہ کا سچ یہ ہے کہ وہ یورپی یونین سے الگ ہونا چاہتا ہے لیکن اندر خانے برطانیہ کسی ایسے بہانے کی تلاش میں ہے جو اس کو یورپ کے ساتھ ہی رہنے کا جواز مہیا کرے۔

میرا سچ یہ ہے کہ میں نے ایک اچھا مضمون لکھ دیا ہے اور اصل سچ یہ ہے کہ مجھے خود نہیں پتہ کہ میں نے کیا لکھا ہے!

قارئین چاہیں تو اپنا سچ بھی منظر عام پر لا سکتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بشکریہ ’’روزنامہ دنیا‘‘
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  23902
کوڈ
 
   
مزید خبریں
کی سڑک کے کنارے ایک ہوٹل میں چائے پینے کے لیے رکا تو ایک مقامی صحافی دوست سے ملاقات ہوگئی جنہیں سب شاہ جی کہتے ہیں سلام دعا کے بعد شاہ جی سے پوچھا کہ ٹیکنالوجی کی وجہ سے پاکستان کتنا تبدیل ہوچکا ہے تو کہنے لگے کہ سوشل میڈیا کی وجہ سےعدم برداشت میں بہت اضافہ ہوا ہے۔
میرے پڑھنے والو،میں ایک عام سی،نا سمجھ ایک الہڑ سی لڑکی ہوا کرتی تھی، بات بات پہ رو دینا تو جیسے میری فطرت کا حصہ تھا، اور پھربات بے بات ہنسنا میری کمزوری، یہ لڑکی دنیا کے سامنے وہی کہتی اور وہی کرتی تھی جو یہاں کے لوگ سن اور سمجھ کر خوش ہوتے تھے
صبح سویرے اسکول جاتے وقت ہم عجیب مسابقت میں پڑے رہتے تھے پہلا مقابلہ یہ ہوتا تھا کہ کون سب سے تیز چلے گا دوسرا شوق سلام میں پہل کرنا۔ خصوصاً ساگری سے آنیوالے اساتذہ کو سلام کرنا ہم اپنے لیے ایک اعزاز تصور کرتے تھے۔
عزیزان۔۔۔! بہت آسان ہے ہر رات ٹی وی ڈرامہ کا انتخاب کرنا یا کسی فلم کو دیکھنے کے لیے دیر تک جاگنا۔۔ بہت مشکل ہے ٹھنڈی اور تاریک رات میں اپنے بچوں اور والدین سے دور برفباری جیسے موسم کے اندر اپنا فرض نبھانا۔۔

مقبول ترین
عرب میڈیا کے مطابق سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے امریکی صدر کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تنازع کے خاتمے کے لیے امن منصوبہ ’ ڈیل آف سینچری‘ پیش کرنے اور فریقین کے درمیان امریکی سرپرستی میں
فلسطین کے صدر محمود عباس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے امن منصوبے کو ’’صدی کا تھپڑ‘‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر کے اعلان کے بعد سے غزہ
دفتر خارجہ نے ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی کے حالیہ متشدد بیانات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس کا نوٹس لے۔ دفتر خارجہ کی جانب سے جاری اہم بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارتی انتہا پسند بیانیہ
مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ جسے امن منصوبے کا نام دے رہے ہیں وہ دراصل” امن کے خلاف جنگ“ (War Against Peace )ہے ۔اسے عالمی قوانین کی

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں