Sunday, 16 June, 2019
حمایت فلسطین کانفرنس کا پس منظر

حمایت فلسطین کانفرنس کا پس منظر
تحریر: ثاقب اکبر

 

ملی یکجہتی کونسل جو پاکستان کی دینی و مذہبی جماعتوں کا ایک اتحاد ہے اور جسے ملک کے اندر اور باہر مسلم عوام میں بہت زیادہ احترام حاصل ہے، کی طرف سے 13دسمبر 2018کو اسلام آباد میں حمایت فلسطین کانفرنس کے انعقاد کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ کونسل کے قائدین کے ایک مشاورتی اجلاس میں کیا گیا۔ اس کا پس منظر بہت اہمیت رکھتا ہے۔ ایک تو اس وقت عالمی سطح پر امریکا اور اس کے حواریوں کی طرف سے فلسطین کی ریاست کو مکمل طور پر ختم کرنے اور فلسطین کی سرزمین پر یک ریاستی حل جو ان کی نظر میں فقط اسرائیل کی بقا پر مشتمل ہے، مسلط کرنے کی کوششیں تیز تر کر دی گئی ہیں۔ فلسطینیوں کے خلاف دن بدن جارحیت میں اضافہ کیا جارہا ہے اور انھیں ہر طرح کی بیرونی امداد جس میں غذا اور دواﺅں کی امداد بھی شامل ہے، سے محروم کرنے کے لیے ناکہ بندی کا طویل سلسلہ جاری ہے۔ اسرائیل جب چاہتا ہے غزہ پر وحشیانہ بمباری شروع کر دیتا ہے اور دنیا میں صورت حال یہ ہے کہ جیسے موت کی بے ہوشی طاری ہو۔ 

 

پاکستان عالم اسلام کی امیدوں کا مرکز ہے اور اسلام کے نام پر قائم ہوا ہے، ہمیشہ سے فلسطینیوں کے جائز حقوق کا حامی رہا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان کے اندر بھی کچھ حلقے اس وقت زیادہ فعال ہو گئے ہیں تاکہ پاکستان کو مجبور کیا جاسکے کہ وہ غاصب اسرائیل کو ایک جائز ریاست کے طور پر قبول کرلے۔ پاکستان میں اسے انہونی ہی کہا جا سکتا ہے کہ برسراقتدار پارٹی کی ایک ایم این اے نے اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہو کر صہیونی ریاست کی حمایت کی۔ پھر ان ہی دنوں میں ایک اسرائیلی طیارے کی اسلام آباد میں آمد کی خبریں بھی گرم ہوئیں۔ اگرچہ سرکاری سطح پر اس کی تردید کی گئی ہے لیکن بعض ذرائع اب بھی اس امر پر زور دیتے ہیں کہ ایک اسرائیلی طیارہ اسلام آباد کے ہوائی اڈے پر اترا اور وہ پاکستان سے کچھ خاندانوں کو اپنے ساتھ لے کر پرواز کر گیا۔ 

 

حکومتی ترجمانوں کی بات اس سلسلے میں مان بھی لی جائے تو اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ قومی اسمبلی میں اسرائیل کی حمایت میں تقریر کرنے والی رکن کے خلاف کوئی کارروائی ابھی تک عمل میں نہیں آئی۔ جب کہ دوسری طرف سوشل میڈیا پر ہی نہیں بلکہ عام میڈیا پر بھی اسرائیل کی حمایت میں طریقے طریقے سے مہم چلائی جارہی ہے۔ یہ امر نہایت افسوسناک ہے کہ ایک ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے کا افسر جسے ہمارا میڈیا دفاعی تجزیہ کار یا ایک دفاعی دانشور کے طور پر پیش کرتا ہے، اس نے بھی اسرائیل کی وکالت میں بیان داغ دیا ہے۔کیا بہادری ہے:

 

چہ دلاور است دزدی کہ بکف چراغ دارد 

 

ان ساری باتوں کو سامنے رکھا جائے تو یوں معلوم ہوتا ہے جیسے پاکستان میں اسرائیل کی حمایت میں ایک فضا بنانے کی کوشش کی جارہی ہے جب کہ ہم اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ اسرائیل کے بھارت کے ساتھ تزویراتی تعلقات کس درجے تک پہنچ چکے ہیں اور وہ آزادی ¿ کشمیر کی تحریک کو دبانے کے لیے کس حد تک تعاون کررہا ہے۔ یہ بھی باخبر لوگوں سے مخفی نہیں ہے کہ پاکستان کی شمال مغربی سرحد کے اس پار افغانستان میں داعش کا آنا اور پاکستان اور افغانستان میں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہونا، خطرے کی گھنٹی کی حیثیت رکھتا ہے جب کہ اس داعش کی تشکیل و تربیت میں امریکا اور اسرائیل کا کردار بھی کسی سے پردہ ¿ اخفا میں نہیں ہے۔ شام میں جنگ آزما وحشی داعشیوں کو جس طرح سے اسرائیل مدد فراہم کرتا رہا ہے اور زخمی داعشیوں کا علاج اسرائیل میں ہوتا رہا ہے وہ خطے پر نظر رکھنے والے مبصرین سے پوشیدہ نہیں ہے۔ 

 

قبل ازیں جب مئی میں امریکا نے تل ابیب سے اپنا سفارتخانہ بیت المقدس میں منتقل کیا تھا تو امریکی ارادے اس وقت بھی واضح طور پر دنیا کے سامنے آ گئے تھے کہ وہ مستقبل میں فلسطین کی سرزمین پر فقط اسرائیل کو ایک جائز ریاست کے طور پر تسلیم کرے گا اور فلسطینیوں کو اس سرزمین سے محروم کرنے کے لیے اپنے پروگرام کو آگے بڑھاتا رہے گا۔ اس وقت بھی جہاں دنیا بھر سے امریکا کے اس اقدام کے خلاف ردعمل سامنے آیا تھا وہاں پاکستان کی بھی سیاسی و مذہبی جماعتوں نے اس کی مذمت کی تھی۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی امریکا کے اس اقدام کو ناجائز قرار دیاتھا۔

 

اس موقع پر ملی یکجہتی کونسل کے قائدین نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا تھا کہ مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنا ٹرمپ کا احمقانہ فیصلہ ہے جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ اعلان انسانی حقوق کی علمبرداری کے دعوے کی خلاف ورزی کے ساتھ ساتھ فلسطینیوں کی آزادی اور مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل کرنے کی ایک کوشش ہے۔ ٹرمپ کے اس اعلان سے ثابت ہوچکا ہے کہ امریکا مظلوموں کا نہیں بلکہ ظالموں کا حامی اور سرپرست ہے، اس کے اقدام سے ثابت ہوگیا کہ امریکا کے انسانی حقوق کے لیے جدوجہد کے دعوے جھوٹے اور فریب پر مبنی ہیں۔ مسلمان کبھی بھی فلسطینیوں کی آزادی کے حق سے دستبردار نہیں ہو سکتے اور نہ ہی بیت المقدس کی حیثیت پر خاموشی اختیار کر سکتے ہیں۔ بیت المقدس کی آزادی ہمارا دینی فریضہ ہے۔ قائدین نے کہا کہ یہ کوئی وقتی مسئلہ نہیں ہے، اس کے لیے عرب دنیا نے اسرائیل کے ساتھ تین جنگیں کی ہیں اور ستر سال سے زیادہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود یہ مسئلہ جوں کا توں ہے۔ ٹرمپ کے اس اعلان نے دنیا کو خطرات سے دوچار کردیا ہے اور فلسطین میں بھڑکائی جانے والی یہ آگ اس علاقے تک محدود نہیں رہے گی۔ اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے، فلسطین فلسطینیوں کا ہے اور فلسطین کے اندر اسرائیل کے دارالحکومت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

 

نئے حالات میں بھی ملی یکجہتی کونسل کے قائدین نے ضروری سمجھا کہ فلسطین کی حمایت میں اس تاریخی موقع پر آواز بلند کی جائے۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے جس کانفرنس کا فیصلہ کیا ہے اس میں پاکستان کی دیگر سیاسی و مذہبی جماعتوں کو بھی دعوت دی گئی ہے تاکہ ایک واضح قومی موقف سامنے آ سکے۔ اس کانفرنس میں اسلام آباد میں موجود مسلمان ممالک کے چند سفیروں کو بھی دعوت شرکت دی گئی ہے تاکہ پاکستان کے علاوہ عالم اسلام کا مشترکہ نقطہ ¿ نظر ایک مرتبہ پھر دنیا کے سامنے واشگاف ہو سکے۔ 

تاریخی اعتبار سے یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ برصغیر ہندوپاک کے مسلم قائدین شروع سے ہی عرب فلسطین کی حمایت میں سرگرم عمل رہے ہیں۔ اس سلسلے میں جب برطانیہ نے یہ سازشیں شروع کیں کہ پوری دنیا سے یہودیوں کو اکٹھا کر کے فلسطین میں ایک ریاست تشکیل دی جائے تو مسلم اکابرین نے اس کی سازشوں کو بھانپ کر اس کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی، اس سلسلے میں علامہ اقبال نے 1937 میں برطانیہ کی نیشنل لیگ کی مس فارقوہارسن کے نام اپنے ایک مکتوب میں واضح کیا کہ صہیونی ریاست کے قیام کی کوششوں کا مقصد یہودیوں کو ایک قومی وطن مہیا کرنا نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد بحیرہ روم کے ساحل پر برطانوی سامراج کو ایک اڈا مہیا کرنا ہے۔

 

علامہ اقبال نے ایک اور مکتوب میں کہا کہ میں فلسطین کو ایک خالصتاً ایک مسلم مسئلہ سمجھتا ہوں۔ قائداعظم کے نام 7اکتوبر1937 میں لکھے گئے اپنے ایک مکتوب میں علامہ اقبال نے لکھا :

 

”فلسطین کا مسئلہ مسلمانوں میں بہت زیادہ ہیجان پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے۔۔۔ مجھے اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ مسلم لیگ اس سوال پر ایک مضبوط قرارداد پاس کرے گی اور اس کے علاوہ لیگی راہنماﺅں کی ایک باہمی کانفرنس کا انعقاد بھی کرے گی جس میں کسی ایسی مثبت کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا جس میں عوام بڑی تعداد میں شامل ہو سکیں گے۔ اس فیصلے سے لیگ کی مقبولیت میں اضافہ ہوگا اور فلسطین کے عربوں کی مدد بھی ہوسکے گی۔ ذاتی طور پر مجھے ایسے مسئلے کے لیے جیل جانے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں جس سے اسلام اورہندوستان متاثر ہوتے ہوں۔ مشرق کے دہانے پر ایک مغربی اڈے کی تشکیل دونوں کے لیے ایک خطرہ ہے۔“

 

بانی ¿ پاکستان بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح بھی فلسطین کے بارے میں علامہ اقبال جیسے ہی جذبات وافکار رکھتے تھے جس کا اظہار انھوں نے مختلف مواقع پر کیا۔ یہاں تک کہ انھوں نے اسرائیلی وزیراعظم کی طرف سے سفارتی تعلقات کے قیام کی خواہش پر مبنی ایک ٹیلی گرام کے جواب میں لکھا:

 

”دنیا کا ہر مسلمان مرد و زن بیت المقدس پر یہودی تسلط کو قبول کرنے کے بجائے جان دے دےگا۔مجھے توقع ہے کہ یہودی ایسے شرمناک منصوبوں میں کامیاب نہیں ہوں گے۔ میری خواہش ہے کہ برطانیہ اور امریکا اپنے ہاتھ اٹھا لیں اور پھر میں دیکھوں کہ یہودی بیت المقدس پر کیسے قبضہ کرتے ہیں۔ عوام کی آرزوﺅںکے خلاف پہلے ہی 5لاکھ یہودیوں کو بیت المقدس میں بسایا جا چکا ہے۔ میں جاننا چاہوں گا کہ کیا کسی اور ملک نے انھیں اپنے ہاں بسایا ہے؟ اگر تسلط قائم کرنے اور استحصال کا سلسلہ جاری رہا تو پھر نہ امن قائم ہوگا اور نہ جنگیں ختم ہوں گی۔“

 

بانیان پاکستان کے ان افکار کی روشنی میں ضروری ہے کہ پاکستان اپنے تاریخی موقف پر قائم رہے اور اسرائیل کی ناجائز ریاست کو تسلیم کرنے کی تمام سازشوں کو ناکام بنا دے۔ پاکستان کسی سامراجی طاقت کا دم چھلا نہیں ہے بلکہ وہ عربوں کے رجعت پسند اور استعمار نواز حکمرانوں کا بھی مقلد نہیں ہے، وہ ایک آزاد خود مختار ریاست ہے جو 20کروڑ سے زیادہ غیرت مند مسلمانوں پر مشتمل ہے اور عالم اسلام کی واحد جوہری طاقت ہے۔ 

 

مظلوم فلسطینی پاکستان کی طرف امید بھری نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔ ہمیں ان کی امیدوں پر پورا اترنا ہے اور یہ یقین رکھنا ہے کہ ایک دن جعلی اور مسلط کی گئی صہیونی ریاست ختم ہو جائے گی اور فلسطینی واپس اپنے گھروں میں آباد ہو جائیں گے۔ فلسطینیوں کے اسی ارمان کو پاکستانی اپنا ارمان سمجھتے ہیں اور ملی یکجہتی کونسل کا اس حساس موقع پر حمایت فلسطین کانفرنس کا انعقاد اسی ارمان کا ایک بھرپور اظہار ہے۔ بہ شکریہ اسلام ٹائمز

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  56140
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
روایت عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی نقل کرنا، آگے بھیجنا، کسی کے بیان یا قول کو آگے پہنچانے کے ہیں اور اسی تناظر میں روایت کا لفظ پیغمبر اکرمؐ کے محفوظ و مامون ارشادات اور صحاح میں موجود آپ کے اقوال پر بھی بولا جاتا ہے۔
دنیا میں سینکڑوں مختلف مذاہب ہیں جن میں مزید سینکڑوں مختلف فرقے ہیں اور ہر فرقے کے عقائد کے ساتھ لاکھوں کروڑوں پیروکار ہیں۔ دنیا بھر میں عورت کی کوکھ سے پیدا ہونے والا بچہ ایک انسانی اساس پر جنم لیتا ہے
خواتین کے کندھوں پر بہت بڑی ذمہ داری ہے انھوں نے ہی اولاد کی تربیت کرنی ہے جو کہ آگے بڑھ کر ایک مفید معاشرے کی بنیاد بنتی ہے ۔ان خیالات کا اظہار پی ٹی آئی کی راہنما عابدہ راجہ نے علمی وتحقیقی ادارے البصیرہ کے شعبہ خواتین کے زیر اہتمام منعقدہ جناب زینب سلام اللہ علیہا افتخار اسلام مذاکرہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا
امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کو بعض ایسے شرف حاصل ہیں جو کسی اور کو نصیب نہیں ہوئے ۔ آپ ابھی بچے تھے کہ نبی کریمؐ نے اپنے چچا حضرت ابوطالب سے آپ کو گود لے لیا۔اس کے بعد آپ کی پرورش

مقبول ترین
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ جتنے کیس بنانے ہیں بنا لیں، میرے پورے خاندان کو جیل بھیج دیں، 1973 کے آئین، عوامی حقوق، لاپتاافراد ، سول کورٹس اور 18ویں ترمیم پر موقف نہیں بدلیں گے۔
قومی احتساب بیورو (نیب) نے میگا منی لانڈرنگ کیس میں سابق صدر آصف علی زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور کو گرفتار کر لیا ہے۔ نیب نے فریال تالپور کے طبی معائنہ کیلئے ڈاکٹرز کی ٹیم کو طلب کر لیا ہے، انھیں کل احتساب عدالت میں پیش
سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ عمران خان کا وقت پورا ہوچکا ہے اور وہ جلد انجام کو پہنچنے والے ہیں۔ کوٹ لکھپت جیل میں مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے سابق وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کی، اس موقع پر رہنماؤں سے
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں اننت ناگ سے گزرنے والے بھارتی سیکیورٹی فورس (سینٹرل ریزرو پولیس فورس) کے قافلے پر 2 مسلح افراد نے فائرنگ کردی، ملزمان فائرنگ کے بعد فورسز کی گاڑی پر دستی بم بھی پھینک گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں