Friday, 18 January, 2019
حرمت شراب: پاکستان میں شراب پر پابندی

حرمت شراب: پاکستان میں شراب پر پابندی
تحریر: مفتی گلزار احمد نعیمی ۔۔۔۔ اسلام آباد

 

کل پارلیمنٹ میں پاکستان کی پارلیمانی تاریخ کا نہایت شرم ناک واقعہ پیش آیا جب حکومتی بنچوں سے ایک غیرمسلم ممبر پارلیمنٹ نے شراب پر پائبندی کا بل پیش کیا جسے پوری پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر مسترد کردیا.صرف ایم ایم اے ممبرز نے رامیش کمار کے بل کی حمایت کی.رامیش کمار کا نقطئہ نظر یہ تھا کہ شراب تمام مذاہب میں حرام ہے.اس لیے غیر مسلموں کے لیے بھی یہ حرام ہے.

چناچہ پاکستان میں اس پر مکمل پابندی ہونی چاہیے.اس بات سے آپ بخوبی اندازہ کر سکتے ہیں کہ ہمارے ممبران اسمبلی جو اپنے آپکو مسلمان کہتے ہیں وہ اسلام اور اسلامی تعلیمات کے ساتھ کتنے مخلص ہیں.مجھے تو یہ بات بالکل واضح معلوم ہوتی ہے کہ یہی ممبران اسمبلی پاکستان میں نفاذ اسلام میں بڑی رکاوٹ ہیں.وہ اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو بالکل حرام نہیں سمجھتے,وہ اسلام کی ہر لاگو کی گئی پابندی سے اپنے آپ کو آزاد رکھنا چاہتے ہیں.

شراب کے نقصانات بالکل واضح ہیں,اس کے مفاسد اظہر من الشمس ہیں.اس کے صحت کے لیے مضر اثرات سے پوری دنیا آگاہ ہے.یہ انسان کو اس کے مقام سے نکال کر اس پر حیوانی جذبات مسلط کر دیتا ہے.انسان کے سفلی جذبات ابھر کربہترین انسانی اخلاقیات کے مقدس حدود کو توڑ دیتے ہیں.ایک شرابی کے لیے حلال وحرام کی تمیز ختم ہوجاتی ہے.

ایک شرابی یہ چاہتا ہے کہ اس کے سامنے سے تمام تقدس مآب پردے ہٹ جائیں اور وہ اپنی حیوانی خواہشات کو جب چاہے جہاں چاہے پورا کرے.اس کے سامنے ماں بہن اور بیٹی کی تمیز ختم ہوجاتی ہے.وہ جب نشے میں ہوتا ہے تو اس کے سامنے ان مقدس رشتوں اور بازار میں بیٹھی ایک داشتہ کی تفریق مٹ جاتی ہے.اس کا دست گستاخ ماں بہن کی تمیر سے عاری ہوکے چلتا ہے.شرابی کا ہاتھ کس کے دامن عصمت کو تار تار کررہا ہے ایک شرابی اس سے بالکل بے پرواہ ہوتا ہے.

ایک شرابی کو اسکی کوئی فکر نہیں ہوتی کہ وہ کسی کی بیٹی کو استعمال کر رہا ہے یا اسکی بیٹی کو کوئی استعمال کر رہا ہے.وہ مسجد اور قبحہ خانے کو برابر سمجھتا ہے.وہ چاہتا ہے کہ اخلاق کی تمام حدود ختم ہوجائیں اور مذہب اس کے راستے کا روڑا نہ بنے. وہ جولان گاہ حیات میں ننگا پھرتا رہے اسکو کوئی پوچھنے والا نہ ہو.کل ہمارے ممبران پارلیمنٹ نے اس قسم کے ماحول کو ترجیح دی ہے کہ وہ شراب پر پابندی پسند نہیں.کرتے.

میں نے جو تاریخ کا مطالعہ کیا اس سے مجھے تو یہی کچھ حاصل ہوا ہے کہ قوموں کا زوال بدکاروں شرابیوں اور حدود اللہ کو توڑنے والوں کی وجہ ہوا ہے.یہی وہ لوگ ہیں جو سہل پسند ہوتے ہیں.اور قوم کا رجحان سہل پسندی کی طرف موڑدیتے ہیں.اور تاریخی حقیقت بالکل واضح ہے کہ مغلوب ہمیشہ سھل پسند قومیں ہی ہوتی ہیں.جفاکش لوگ کبھی مغلوب نہیں ہوتے.یہ شراب نوشی کا نتیجہ ہے کہ امریکی فوج افغانستان میں دنیا کا جدید ترین اسلحہ استعمال کرنے کے باوجود طالبان کو شکست نہیں دے سکی کیونکہ انہیں شراب نے بزدل اور سھل پسند کر دیا ہے اور ان کے مدمقابل اس سے پاک ہیں.

ہمارے فوجی جوان آج دنیا کی بہترین آرمی ہیں کیونکہ وہ اس لعنت سے محفوظ ہیں.سرفروشی کے عظیم جذبات جفاکش لوگوں میں ہوتے ہیں سھل پسندوں میں نہیں.

مغربی دنیا کی تہذیب و ثقافت کا شراب نوشی جزو لاینفک ہے مگر میرے قرآن نے تو اسے شیطانی فعل قرار دیا ہے .میرے رسول نے تو اسے میرے لیے حرام قرار دیا ہے.مجھے تو اس کے قریب بھی جانے سے منع کیا گیا ہے.میں اگر مسلمان ہوں تو اسکی کیسے حوصلہ افزائی کر سکتا ہوں.میں اگرمسلمان ہوں تو اس پر پابندی لگانےکا مطالبہ کرنے والے کی مخالفت کیسے کر سکتا ہوں۔

میرے نبی صلعم نے تو اس سے تعلق رکھنے والے دس افراد پر لعنت بھیجی ہے۔ جو شراب کشید کرے اس پر لعنت، جو برتن میں ڈالے اس پر لعنت، جو خریدے اس پر لعنت، جو بیچے اس پر لعنت، جو جام میں ڈالے اس پر لعنت اورجو پلائے اس پر لعنت وغیرہ وغیرہ۔

اللہ تعالیٰ ہمارے ممبران پارلیمنٹ کو ھدایت دے ۔ آمین

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  93154
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
25 دسمبر گزرگیا، یہ نئے پاکستان کا پہلا 25 دسمبرتھا۔ پاکستانیوں کیلئے 25 دسمبرکرسمس کے ساتھ ساتھ قائداعظم ڈے کے حوالے سے بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ بانئ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح 25 دسمبر 1876 کو پیدا ہوئے تھے، اس لحاظ ملک بھر
امریکی کانگریس نے قرارداد منظور کی ہے کہ امریکہ یمن سعودی جنگ میں سعودی عرب کی حمایت سے دستبردار ہو جائے.امریکہ کی وزارت خارجہ کے وزیر پومپیو نے کہا کہ ہم امریکی کانگریس کی منظور کی گئی قرارداد کا احترام کریں گے.
پاکستان کے زیر انتظام مسلہ کشمیر سے منسلک ریاست جموں کشمیر کی سب بڑی اور وسیع اکائی سرزمین گلگت بلتستان کی تاریخ پر بہت کچھ لکھا جا چُکا ہے۔ آج ہمارا بحث یہ نہیں ہے کہ یہ خطہ ماضی بعید میں کئی ریاستوں پر مشمل ایک عظم ملک ہوا کرتے تھے۔
ہم ایک اسلامی جمہوری ملک ریاست کے باشندے ہیں جو کہ ایک اسلامی و جمہوری اصولوں پر قائم کیا گیا. جس کے مروجہ قانون کے مطابق ریاست کو چلانے کیلئے جمہوری طریقوں سے عوام میں سے حکمران اور منظم نظام چلانے کیلئے ریاستی اداروں کو قائم کیا گیا

مزید خبریں
دنیا بھر میں بولی اور سمجھی جانی والی زبانوں میں سے اردو ہندی دنیا کی دوسری بڑی زبان بن چکی ہے، جبکہ اول نمبر پر آنے والی زبان چینی ہے اور انگریزی کا نمبر تیسرا ہے۔ روزنامہ ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے یونیورسٹی آف ڈیسلڈرف الرچ کی 15 برس کی مطالعاتی رپورٹ
ہمارے نیم حکیموں کو کون سمجھائے کہ بلکتے، سسکتےعوام کو جمہوریت سے بدہضمی ہونے کا خوف دلانا چھوڑ دیجئے حضور! 144 معالجین کے مطابق انسانی معدے کی خرابی تمام بیماریوں کی ماں ہوتی ہے اور معدے کی خرابی سے ہی بدہضمی، ہچکی، متلی، قے، ہاتھوں میں جلن کا احساس، بھوک کا نہ لگنا، پژمردگی اور چہرے پر افسردگی کے اثرات چھائے
یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ پارلیمنٹ لاجز میں ہونے والی غیر اخلاقی حرکتوں کے متعلق جمشید دستی کو کس نے ویڈیو ثبوت اور ”ناقابل تردید“ ثبوت فراہم کیے ہیں؟ یہ سوال بھی اہم ہے کہ آخر جمشید دستی نے یہ ا یشو کیوں چھیڑا ؟ اس کے نتیجے میں جو صورتحال پیش آسکتی ہے اس کے دور رس نتائج نکل سکتے ہیں۔
دہشت گردوں کی طرف سے جنگ بندی کے اعلان کے صرف 48 گھنٹے بعد ہی دارالحکومت اسلام آباد کودہشت گردی کا نشانہ بنادیا گیا۔

مقبول ترین
حکومت نے پیپلز پارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کی منظوری دے دی۔ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں بلاول
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق آرمی چیف سے زلمے خلیل زاد اور افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر کی ہونے والی ملاقات میں علاقائی سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
لیون میں یونی ورسٹی کی چھت پر دھماکے کے نتیجے میں 3 افراد زخمی ہوگئے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانس کے شہر لیون میں یونی ورسٹی کی چھت پر دھماکے کے بعد آگ لگ گئی جس نے دیکھتے دیکھتے شدت اختیار کرلی۔
چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنے اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جج کی زندگی میں ڈرکی کوئی گنجائش نہیں۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار آج ریٹائر ہورہے ہیں، ان کے اعزاز میں سپریم کورٹ میں ریفرنس

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں