Thursday, 17 October, 2019
بابائے اردو مولوی عبدالحق

بابائے اردو مولوی عبدالحق
تحریر: ببرک کارمل جمالی

 

مولوی عبدالحق  1870ء میں ضلع میرٹھ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گھر پر ہی حاصل کی ۔ 1894ء میں علی گڑھ سے بی۔ اے کیا۔ علی گڑھ میں سرسید کی صحبت میسر رہی۔ ان کی آزاد خیالی اور روشن دماغی کا مولانا کے مزاج پر گہرا اثر پڑا ۔ 1895ء میں حیدرآباد میں ایک اسکول میں ملازمت شروع کی۔ اس کے بعد صدر مہتمم تعلیمات ہوکر اورنگ آباد منتقل ہوگئے۔ آپ  نے ملازمت ترک کرکے اورنگ آباد کالج کے پرنسپل ہوگئے اور اسی عہدہ پر آخر تک فائز رہے یہاں تک کہ پنشن لی ۔ عبدالحق نے اردو کی ترویج و اشاعت کے سلسلے میں بڑا کام کیا جس میں ایک جامعہ عثمانیہ کا قیام بھی ہے۔ انجمن ترقی اردو کا دفتر دہلی منتقل کراکے مولوی صاحب خود بھی دہلی آگئے مگر کچھ عرصے بعد کراچی آ گئے اور یہاں اردو کی ترویج و اشاعت کاکام شروع کر دیا۔ اور کالج کی بنیاد رکھی۔ 

مولوی عبدالحق ابتدا ہی سے یہ سمجھتے تھے کہ اردو زبان مسلمانوں اور ہندوؤں کی زبان ہے اور یہ ہماری تہذیب و ثقافت کا عکس ہے، اسی تہذیب و ثقافت کے باعث ہم لوگوں میں کوئی اختلاف نہیں پیدا ہوگا، مگر بابائے اردو کو اس وقت شدید دکھ اور تکلیف کا سامنا کرنا پڑا جب انھوں نے گاندھی کے یہ الفاظ اکھیل بھاتیہ پریشد موکل ہند ادبی کانفرنس کے ناگپور کے اجلاس میں کہا’’اردو مسلمانوں کی زبان ہے، یہ قرآن کے حروف میں لکھی جاتی ہے، اسے مسلمان بادشاہوں نے پھیلایا ہے اور مسلمان چاہیں تو اسے زندہ رکھیں گے۔

  
بابائے اردو نے 1947 قیام پاکستان کے وقت محسوس کرلیا تھا کہ انجمن ترقی اردو کا مرکز پاکستان میں ہونا چاہیے اور پھر انھوں نے قیام پاکستان کے بعد انجمن کے دفتر کو کراچی منتقل کردیا۔ہم سمجھتے ہیں کہ اردو کی بقا اسی میں ہے کہ ہم بابائے اردو کے اقوال پر غور کریں اور صدق دل سے ان پر عمل کریں تاکہ اردو زبان حقیقت میں اپنی مکمل روح کے ساتھ پاکستان کی قومی زبان کے طور پر پاکستان کے طول و عرض میں رائج ہوجائے کیونکہ یہی ہماری ثقافت، معاشرت، تہذیب اور تمدن کی بقا بھی ہے۔

پاکستان میں اُردو یونیورسٹی قائم کرنا بھی بابائے اُردو کا خواب تھاجو بالآخر تعبیر کا روپ دھار چکا۔ کراچی اور اسلام آباد میں اُردو یونیورسٹی کو آج برسر عمل دیکھتے  تو بابائے اُردو مولوی ڈاکٹر عبدالحق یقیناًبہت خوش ہوتے یا اُن کی روح بہرحال شاداں ہو گی کہ وہ جس اُردو یونیورسٹی کے لئے پائی پائی پس انداز کرنے کے خوگر تھے وہ بالآخر بن گئی۔

مولوی صاحب کے ساتھ ساتھ، اردو کی بہترین تمنائیں اور فروغ اردو کے بہترین عزائم دفن ہوکر رہ گئے‘‘۔ بابائے اردو جن کی ہمیشہ سے یہ سوچ رہی کہ اردو بنانے اور سنوارنے میں برصغیر کے تمام افراد نے ساتھ دیا ہے مگر جب گاندھی کے یہ الفاظ بابائے اردو نے سنے تو فوراً فیصلہ کیا کہ اردو کا مرکزی دفتر جو دکن کے ایک گوشہ اورنگ آباد میں واقع ہے اسے فوراً کسی مرکزی شہر میں منتقل کردیا جائے، چنانچہ 1932 میں بابائے اردو نے اردو کے چاہنے والوں کی ایک کانفرنس علی گڑھ میں بلائی اور اس فیصلے کی توثیق کی۔


اگر کبھی کوئی بھی شخص   بابائے اُردو کو دعوتِ طعام دیتا تو وہ اُس سے پوچھتے کہ  میرے علاوہ بھی آپ کے گھر کے افراد سمیت جو چند لوگ دعوت نوشِ جاں فرمائیں گے اُن پر کل کتنا خرچہ آئے گا ؟ مدعو کرنے والا تخمینہ بتاتا تو کہتے اُتنی ہی رقم اُردو یونیورسٹی کے قیام کے لئے چندے میں دے دو اور سمجھ لو کہ مَیں نے تمہاری دعوت قبول کر لی ہے۔ یوں دعوت دینے والا عموماً دعوت بھی دیتا اور جی بھر کے مولوی صاحب کو چندہ بھی پیش کرتا۔چندہ لیتے وقت وہ واضح کر دیتے کہ یہ اُردو یونیورسٹی کے قیام کے لئے ہے یوں انہوں نے اُردو کالج تو1949ء ہی میں قائم کر لیا تھااور  اُردو یونیورسٹی کا خواب اُن کی وفات کے بعد شرمندۂ تعبیر ہو سکا۔

مولوی عبدالحق اپنی ذات میں خود انجمن اردو ہیں، ان کی ساری عمر اردو کی خدمت میں گزری ہے کہ بابائے اردو کا خطاب مولوی عبدالحق کے قامت پر راست آتا ہے‘‘۔مولوی عبدالحق نے اردو کیلئے علمی اور ادبی منصوبے مرتب کیے اور ان پر بڑی دل جمعی سے کام کیا بابائے اردو کی ذات اپنی تمام تر فکر کے حوالے سے اردو زمرے میں آتی ہے۔ بابائے اردو نے اردو کو اوڑھنا بچھونا بنانے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔ آج اگر اردو اپنے مختلف حوالوں سے زندہ ہے وہ چاہے اردو یونی ورسٹی ہو، انجمن ترقی اردو ہو، اکادمی ادبیات پاکستان کی صورت میں ہو یا پھر اردو ڈکشنری بورڈ کے حوالے سے، ہر حوالہ بابائے اردو پر جاکر ختم ہوتا ہے۔بابائے اردو ایک ادارہ کے طور پر کام کرتے تھے اور وہ ہر منزل پر اپنے گزشتہ کام کو جانچتے رہتے تھے تاکہ اگلے کام کے سلسلے میں کسی بھی ابہام کا سامنا نہ ہو اور راستے میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ ہو۔

ایک جگہ جوش ملیح آبادی فرماتے تھے مولوی صاحب کو اردو سے بہت محبت تھی۔ محبت نہیں، ان کو اردو سے عشق اور دیوانہ وار عشق تھا، جس کو والہیت کہا جاسکتا ہے۔ مولوی صاحب نے اردو پر اپنا تن من دھن سب کچھ قربان کردیا تھا بابائے اُردو مولوی عبدالحق،عثمانیہ یونیورسٹی کے صدر مقرر ہو گئے اور وہاں ایک معیاری دارالترجمہ قائم کرایا،جہاں تمام تر جدید علوم و فنون اور سائنسی موضوعات پر مبنی کتابیں اُردو میں ترجمہ کرائی جاتی تھیں۔ایسی ہی سینکڑوں کتابوں کے مختصر و طویل دیباچے اور تعارفی سطور بابائے اُردو مولوی عبدالحق نے خود لکھے تھے۔بابائے اُردو ڈاکٹر مولوی عبدالحق نے یاد گار مستقل نوعیت کی تصانیف زیادہ تعداد میں نہیں چھوڑیں کہ وہ لُغت نویسی کو زیادہ وقت دیتے رہےاُردو،انگلش ڈکشنری بھی اُن کا کارنامہ ہے جس کے لئے ڈاکٹر اختر حسین رائے پوری کی بھرپور معاونت اُنھیں حاصل رہی۔

آپ  نےاُردو کالج قائم کِیا اور اُردو یونیورسٹی کے قیام کے لئے تَن مَن دَھن کی بازی لگا دی۔ اُردو کالج اب اُردو یونیورسٹی کے قالب میں ڈھل چکا ہے،مگر بابائے اُردو اپنی زندگی میں اسے یونیورسٹی کی شکل میں نہ دیکھ سکے۔ مولانہ عبدالحق نے اردو کی خدمت کے لیے تمام زندگی وقف کر دی تھی۔ بابائے اُردو پیرانہ سالی میں بھی عزم جواں رکھتے تھے اور کام سے تھکتے نہیں تھے۔بیوی،بچوں کا ٹنٹا اُنہوں نے نہیں پالا تھا کہ اُن کے لئے اُردو کی کتابیں اور اُردو ہی سب کچھ تھی۔۔۔اپنے جواں عزم،جواں حوصلہ ہونے کے حوالے سے ان کا کہنا تھاکہ ’’بڑھاپا سفید بالوں اور جُھکی ہوئی کمر سے نہیں آتا،بلکہ جوان وہ ہے جس کا دِل جوان ہے اور جس کا عزم جوان ہے،حوصلہ بلند ہے اور وہ کام اور کام کے لئے ہمیشہ کمر بستہ رہے۔ 16اگست 1961ءکوکراچی میں وفات پائی۔بے شمار کتابوں کی تدوین کرنے والے بابائے اردو کی آخری آرام گاہ موجودہ اردو یونیورسٹی و کالج  ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  55393
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
سوشل میڈیا پر ایک عرصے سے جاری گستاخانہ مہم کی سرکوبی کے لیے اسلام آبار ہائی کورٹ کی کوششوں سے قانون واقعتاً متحرک ہوا ہے. پاکستان میں الحاد پھیلانے اور مسلمانوں کی برین واشنگ کرنے والوں کے مبینہ سرغنہ ایاز نظامی کی گرفتاری اس سلسلے کی اہم کڑی ہے۔
احسن اقبال کی طرف سے دیے گئے اعدادوشمار سے اخذ کیا جا سکتا ہے کہ موجودہ حکومت نے اس رقم میں مزید 20 کروڑ ڈالر کا اضافہ کیا ہے مگر تجزیہ کار حسن عسکری رضوی کا کہنا تھا اس سے قبل کسی حکومتی عہدیدار کی طرف سے اس کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔

مقبول ترین
وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت تحریک انصاف کی کورکمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں پنجاب اور خیبر پختونخوا کے وزرائے اعلیٰ اورتین گورنرز نے شرکت کی۔ حکومت نے مولانا فضل الرحمان سے مذاکرات کے لیے کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ نوکریاں حکومت نہیں نجی سیکٹر دیتا ہے یہ نہیں کہ ہر شخص سرکاری نوکر ی ڈھونڈے ، حکومت تو 400 محکمے ختم کررہی ہے مگرلوگوں کا اس بات پر زور ہے کہ حکومت نوکریاں دے۔
وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ ایرانی صدر سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا کہ پاکستان اور
اسلام آباد میں وزیراعظم آفس کے سامنے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کیخلاف انسانی زنجیر بنائی گئی۔ وزیراعظم عمران خان نے بھی اس تقریب میں شرکت کی اور قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر میں

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں