Friday, 14 August, 2020
بابائے اردو مولوی عبدالحق

بابائے اردو مولوی عبدالحق
تحریر: ببرک کارمل جمالی

 

مولوی عبدالحق  1870ء میں ضلع میرٹھ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گھر پر ہی حاصل کی ۔ 1894ء میں علی گڑھ سے بی۔ اے کیا۔ علی گڑھ میں سرسید کی صحبت میسر رہی۔ ان کی آزاد خیالی اور روشن دماغی کا مولانا کے مزاج پر گہرا اثر پڑا ۔ 1895ء میں حیدرآباد میں ایک اسکول میں ملازمت شروع کی۔ اس کے بعد صدر مہتمم تعلیمات ہوکر اورنگ آباد منتقل ہوگئے۔ آپ  نے ملازمت ترک کرکے اورنگ آباد کالج کے پرنسپل ہوگئے اور اسی عہدہ پر آخر تک فائز رہے یہاں تک کہ پنشن لی ۔ عبدالحق نے اردو کی ترویج و اشاعت کے سلسلے میں بڑا کام کیا جس میں ایک جامعہ عثمانیہ کا قیام بھی ہے۔ انجمن ترقی اردو کا دفتر دہلی منتقل کراکے مولوی صاحب خود بھی دہلی آگئے مگر کچھ عرصے بعد کراچی آ گئے اور یہاں اردو کی ترویج و اشاعت کاکام شروع کر دیا۔ اور کالج کی بنیاد رکھی۔ 

مولوی عبدالحق ابتدا ہی سے یہ سمجھتے تھے کہ اردو زبان مسلمانوں اور ہندوؤں کی زبان ہے اور یہ ہماری تہذیب و ثقافت کا عکس ہے، اسی تہذیب و ثقافت کے باعث ہم لوگوں میں کوئی اختلاف نہیں پیدا ہوگا، مگر بابائے اردو کو اس وقت شدید دکھ اور تکلیف کا سامنا کرنا پڑا جب انھوں نے گاندھی کے یہ الفاظ اکھیل بھاتیہ پریشد موکل ہند ادبی کانفرنس کے ناگپور کے اجلاس میں کہا’’اردو مسلمانوں کی زبان ہے، یہ قرآن کے حروف میں لکھی جاتی ہے، اسے مسلمان بادشاہوں نے پھیلایا ہے اور مسلمان چاہیں تو اسے زندہ رکھیں گے۔

  
بابائے اردو نے 1947 قیام پاکستان کے وقت محسوس کرلیا تھا کہ انجمن ترقی اردو کا مرکز پاکستان میں ہونا چاہیے اور پھر انھوں نے قیام پاکستان کے بعد انجمن کے دفتر کو کراچی منتقل کردیا۔ہم سمجھتے ہیں کہ اردو کی بقا اسی میں ہے کہ ہم بابائے اردو کے اقوال پر غور کریں اور صدق دل سے ان پر عمل کریں تاکہ اردو زبان حقیقت میں اپنی مکمل روح کے ساتھ پاکستان کی قومی زبان کے طور پر پاکستان کے طول و عرض میں رائج ہوجائے کیونکہ یہی ہماری ثقافت، معاشرت، تہذیب اور تمدن کی بقا بھی ہے۔

پاکستان میں اُردو یونیورسٹی قائم کرنا بھی بابائے اُردو کا خواب تھاجو بالآخر تعبیر کا روپ دھار چکا۔ کراچی اور اسلام آباد میں اُردو یونیورسٹی کو آج برسر عمل دیکھتے  تو بابائے اُردو مولوی ڈاکٹر عبدالحق یقیناًبہت خوش ہوتے یا اُن کی روح بہرحال شاداں ہو گی کہ وہ جس اُردو یونیورسٹی کے لئے پائی پائی پس انداز کرنے کے خوگر تھے وہ بالآخر بن گئی۔

مولوی صاحب کے ساتھ ساتھ، اردو کی بہترین تمنائیں اور فروغ اردو کے بہترین عزائم دفن ہوکر رہ گئے‘‘۔ بابائے اردو جن کی ہمیشہ سے یہ سوچ رہی کہ اردو بنانے اور سنوارنے میں برصغیر کے تمام افراد نے ساتھ دیا ہے مگر جب گاندھی کے یہ الفاظ بابائے اردو نے سنے تو فوراً فیصلہ کیا کہ اردو کا مرکزی دفتر جو دکن کے ایک گوشہ اورنگ آباد میں واقع ہے اسے فوراً کسی مرکزی شہر میں منتقل کردیا جائے، چنانچہ 1932 میں بابائے اردو نے اردو کے چاہنے والوں کی ایک کانفرنس علی گڑھ میں بلائی اور اس فیصلے کی توثیق کی۔


اگر کبھی کوئی بھی شخص   بابائے اُردو کو دعوتِ طعام دیتا تو وہ اُس سے پوچھتے کہ  میرے علاوہ بھی آپ کے گھر کے افراد سمیت جو چند لوگ دعوت نوشِ جاں فرمائیں گے اُن پر کل کتنا خرچہ آئے گا ؟ مدعو کرنے والا تخمینہ بتاتا تو کہتے اُتنی ہی رقم اُردو یونیورسٹی کے قیام کے لئے چندے میں دے دو اور سمجھ لو کہ مَیں نے تمہاری دعوت قبول کر لی ہے۔ یوں دعوت دینے والا عموماً دعوت بھی دیتا اور جی بھر کے مولوی صاحب کو چندہ بھی پیش کرتا۔چندہ لیتے وقت وہ واضح کر دیتے کہ یہ اُردو یونیورسٹی کے قیام کے لئے ہے یوں انہوں نے اُردو کالج تو1949ء ہی میں قائم کر لیا تھااور  اُردو یونیورسٹی کا خواب اُن کی وفات کے بعد شرمندۂ تعبیر ہو سکا۔

مولوی عبدالحق اپنی ذات میں خود انجمن اردو ہیں، ان کی ساری عمر اردو کی خدمت میں گزری ہے کہ بابائے اردو کا خطاب مولوی عبدالحق کے قامت پر راست آتا ہے‘‘۔مولوی عبدالحق نے اردو کیلئے علمی اور ادبی منصوبے مرتب کیے اور ان پر بڑی دل جمعی سے کام کیا بابائے اردو کی ذات اپنی تمام تر فکر کے حوالے سے اردو زمرے میں آتی ہے۔ بابائے اردو نے اردو کو اوڑھنا بچھونا بنانے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔ آج اگر اردو اپنے مختلف حوالوں سے زندہ ہے وہ چاہے اردو یونی ورسٹی ہو، انجمن ترقی اردو ہو، اکادمی ادبیات پاکستان کی صورت میں ہو یا پھر اردو ڈکشنری بورڈ کے حوالے سے، ہر حوالہ بابائے اردو پر جاکر ختم ہوتا ہے۔بابائے اردو ایک ادارہ کے طور پر کام کرتے تھے اور وہ ہر منزل پر اپنے گزشتہ کام کو جانچتے رہتے تھے تاکہ اگلے کام کے سلسلے میں کسی بھی ابہام کا سامنا نہ ہو اور راستے میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ ہو۔

ایک جگہ جوش ملیح آبادی فرماتے تھے مولوی صاحب کو اردو سے بہت محبت تھی۔ محبت نہیں، ان کو اردو سے عشق اور دیوانہ وار عشق تھا، جس کو والہیت کہا جاسکتا ہے۔ مولوی صاحب نے اردو پر اپنا تن من دھن سب کچھ قربان کردیا تھا بابائے اُردو مولوی عبدالحق،عثمانیہ یونیورسٹی کے صدر مقرر ہو گئے اور وہاں ایک معیاری دارالترجمہ قائم کرایا،جہاں تمام تر جدید علوم و فنون اور سائنسی موضوعات پر مبنی کتابیں اُردو میں ترجمہ کرائی جاتی تھیں۔ایسی ہی سینکڑوں کتابوں کے مختصر و طویل دیباچے اور تعارفی سطور بابائے اُردو مولوی عبدالحق نے خود لکھے تھے۔بابائے اُردو ڈاکٹر مولوی عبدالحق نے یاد گار مستقل نوعیت کی تصانیف زیادہ تعداد میں نہیں چھوڑیں کہ وہ لُغت نویسی کو زیادہ وقت دیتے رہےاُردو،انگلش ڈکشنری بھی اُن کا کارنامہ ہے جس کے لئے ڈاکٹر اختر حسین رائے پوری کی بھرپور معاونت اُنھیں حاصل رہی۔

آپ  نےاُردو کالج قائم کِیا اور اُردو یونیورسٹی کے قیام کے لئے تَن مَن دَھن کی بازی لگا دی۔ اُردو کالج اب اُردو یونیورسٹی کے قالب میں ڈھل چکا ہے،مگر بابائے اُردو اپنی زندگی میں اسے یونیورسٹی کی شکل میں نہ دیکھ سکے۔ مولانہ عبدالحق نے اردو کی خدمت کے لیے تمام زندگی وقف کر دی تھی۔ بابائے اُردو پیرانہ سالی میں بھی عزم جواں رکھتے تھے اور کام سے تھکتے نہیں تھے۔بیوی،بچوں کا ٹنٹا اُنہوں نے نہیں پالا تھا کہ اُن کے لئے اُردو کی کتابیں اور اُردو ہی سب کچھ تھی۔۔۔اپنے جواں عزم،جواں حوصلہ ہونے کے حوالے سے ان کا کہنا تھاکہ ’’بڑھاپا سفید بالوں اور جُھکی ہوئی کمر سے نہیں آتا،بلکہ جوان وہ ہے جس کا دِل جوان ہے اور جس کا عزم جوان ہے،حوصلہ بلند ہے اور وہ کام اور کام کے لئے ہمیشہ کمر بستہ رہے۔ 16اگست 1961ءکوکراچی میں وفات پائی۔بے شمار کتابوں کی تدوین کرنے والے بابائے اردو کی آخری آرام گاہ موجودہ اردو یونیورسٹی و کالج  ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  76996
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
آپ تبلیغی جماعت کے نصاب اور مولانا طارق جمیل کی ہر دور میں اپنائی گئی حکمت عملی سے اختلاف کریں- صرف موجودہ دور میں مولانا کے حالیہ حکمرانوں سے مراسم پر انگلی اٹھانا درست نہ ہوگا- اسی طرح مولانا سید جواد نقوی کے حالیہ بیان پر شور کرنے سے پہلے، مجالس کو علمی بنائیں کہ ان میں صرف اہل بیت اطہار کا ذکر ہو اور ان میں خطاب کرنے والے ذاکر و خطباء، فیس کے چکر سے ماوراء ہو کر، خلوص کے ساتھ شریک ہوں؛ تب مولانا کی بات غلط قرار پائے گی-
روشن مستقبل کی اُمیدانسانوں کے لیے اپنی بقاء و ارتقاءکا ایسا روح افزاء تصور ہے جس کے لیے انسان اپنے اوپر آنے والی کئی مشکلات کو ہنسی خوشی برداشت کرجاتا ہے۔ اگر انسانیت کا مستقبل روشن ہی نہ ہو اور انسان کی اس سلسلے
سلاخوں سے لپٹی دھان پا ن سے جسم کی حامل لڑکی نے جسم کو مس کرنا چاہا مگر وہ ایسا نہ کر سکی ،ایک طرف وہ والد جس نے اس ملک کو پہلا متفقہ آئین دیا ،نوے ہزار قیدیوں کو باعزت واپس لایا ،گھاس کھا لیں گے مگر ایٹم بم بنائیں گے
برطانیہ کے عام انتخابات میں 15 پاکستانی نژاد امیدوار اپنی نشستوں پر کامیاب ہو گئے ہیں، جن میں سے زیادہ تعداد ہارنے والی جماعت لیبر پارٹی سے ہے۔ میڈیا کے مطابق برطانیہ میں پانچ سال کے عرصے میں

مزید خبریں
کورونا وائرس پاکستان ہی نہیں ہی دنیا بھر میں اپنی پوری بدصورتی کے ساتھ متحرک ہے ، تشویشناک یہ ہےاس عالمی وباء کے نتیجے میں ہمارے ہاں اموات کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا،
کی سڑک کے کنارے ایک ہوٹل میں چائے پینے کے لیے رکا تو ایک مقامی صحافی دوست سے ملاقات ہوگئی جنہیں سب شاہ جی کہتے ہیں سلام دعا کے بعد شاہ جی سے پوچھا کہ ٹیکنالوجی کی وجہ سے پاکستان کتنا تبدیل ہوچکا ہے تو کہنے لگے کہ سوشل میڈیا کی وجہ سےعدم برداشت میں بہت اضافہ ہوا ہے۔
میرے پڑھنے والو،میں ایک عام سی،نا سمجھ ایک الہڑ سی لڑکی ہوا کرتی تھی، بات بات پہ رو دینا تو جیسے میری فطرت کا حصہ تھا، اور پھربات بے بات ہنسنا میری کمزوری، یہ لڑکی دنیا کے سامنے وہی کہتی اور وہی کرتی تھی جو یہاں کے لوگ سن اور سمجھ کر خوش ہوتے تھے
صبح سویرے اسکول جاتے وقت ہم عجیب مسابقت میں پڑے رہتے تھے پہلا مقابلہ یہ ہوتا تھا کہ کون سب سے تیز چلے گا دوسرا شوق سلام میں پہل کرنا۔ خصوصاً ساگری سے آنیوالے اساتذہ کو سلام کرنا ہم اپنے لیے ایک اعزاز تصور کرتے تھے۔

مقبول ترین
لاک ڈاؤن نے جہاں ہماری زندگی میں معیشت کا پہیہ جام کیا وہیں بہت سارے سبق بھی دے گیا۔ لاک ڈاؤن نہ ہوتا تو ہم شاید اپنی مصروف زندگی میں اتنے مصروف ہو جاتے کہ رشتوں، ناطوں کی اہمیت اور فیملی سسٹم کی خوبصورتی اور چاشنی سے مزید دور ہوتے چلے جاتے۔ وہ جو اک زندگی ہے نا کہ جس میں بیٹا دفتر جا رہا ہے، بیٹی یونیورسٹی جا رہی ہے، سب گھر والے ادھرادھر بکھرے پڑے ہیں۔
قومی اسمبلی سے انسداد دہشتگردی ترمیمی بل 2020 کو کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا، شرکت داری محدود ذمہ داری سمیت پانچ بلز منظور کرلئے گئے۔ تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی میں انسداد دہشتگردی ترمیمی بل 2020 کو کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا جس میں کمپنیز ترمیمی بل اور نشہ آور اشیا کی روک تھام کا بل بھی شامل ہے۔
وفاقی وزیر برائے مذہبی امور پیر نورالحق قادری نے کہا ہے کہ اسرائیل میں موساد کی ایک خاتون جعلی اکاؤنٹ سے فرقہ وارانہ مواد پھیلا رہی ہے۔ یہ خاتون فرقہ وارانہ موادسوشل میڈیا پربھیج دیتی ہے اورپھر آگے شیعہ اور سنی خود سے اسے پھیلاتے ہیں۔
سعودی عرب کے سابق انٹیلجنس افسر کی شکایت پر واشنگٹن کی ایک امریکی عدالت نے سعودی بن سلمان ولی عہد کو طلب کرلیا ہے۔ سابق سعودی انٹیلی جنس ایجنٹ کو مبینہ طور پر ناکام قاتلانہ حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں