Wednesday, 14 November, 2018
’’چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے‘‘

’’چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے‘‘
فائل فوٹو
تحریر: ضیاء چترالی

 

سعودی عرب کے نامور عالم دین اور مشہور مبلغ شیخ سلمان عودہ کو حراست میں لئے آج ایک سال مکمل ہوگیا۔ شیخ عودہ کے بعد گرفتاریوں کا یہ سلسلہ تسلسل سے جاری ہے۔ گزشتہ ماہ امام حرم شیخ صالح کو حق گوئی کی پاداش میں پسِ زندان دھکیلا گیا۔ شیخ عودہ کا شمار عالم اسلام کی بڑی علمی شخصیات میں ہوتا ہے، جنہوں نے 62 کتابیں تصنیف کی ہیں۔ انٹرنیشنل یونین آف مسلم اسکالرز دوحہ قطرکے نائب صدر اور یورپی افتاء کونسل کے مؤقر رکن ہیں، اس لئے پوری دنیا میں انہیں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ 

شیخ سلمان عودہ کے بعد ان کے بھائی خالد عودہ کو بھی گرفتار کیا جا چکا ہے۔ قبل ازیں شیخ عوض القرنی (16 کتابوں کے مصنف) کو ایک ٹوئیٹ پر ایک لاکھ ریال کا جرمانے کی سزا ہوئی تھی، پھر انہیں بھی لاپتہ کر دیا گیا۔ مکہ مکرمہ کی جامعہ امام محمد بن سعود الاسلامیہ کے استاذ اور ممتاز و بزرگ عالم دین شیخ ناصر العمر بھی گرفتار ہیں۔ شیخ8   بڑی کتب کے علاوہ درجنوں رسالوں کے مصنف ہیں۔ محض ایک ٹوئٹ کی وجہ سے گزشتہ برس اکتوبر میں ان پر سفر کی پابندی عائد کی گئی تھی۔ 

الجزیرہ کے مطابق مذکورہ ٹوئٹ میں کسی قسم کی کوئی متنازعہ یا سیاسی بات نہیں تھی۔ گرفتار شدگان میں عالم اسلام کے معروف قاری شیخ ادریس ابکر بھی شامل ہیں۔ وہ دنیا کی بڑی مساجد میں شمار ہونے والی ابوظہبی کی جامع شیخ زاید کے امام ہیں اور اپنی رقت آمیز تلاوت سے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ علاوہ ازیں شیخ سفر الحوالی، شیخ احمد العماری (سابق استاذ مدینہ یونیورسٹی) سمیت ساڑھے تین سو علما کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ جن میں 16 صرف جامعہ امام محمد کے اساتذہ ہیں۔ 

حراست میں لیے جانے والے افراد میں علما، صحافی، مفکر، ڈاکٹر، پروفیسر، اسکالر، ادیب اور شاعر بھی شامل ہیں۔ جن میں ڈاکٹر خالد العجمی، پروفیسر عبد اللطیف، ڈاکٹر عمر علی، ڈاکٹر عادل بانعمہ، محمد الهبدان، ڈاکٹر عبد المحسن، غرم البيشي، محمد عبد العزيز الخضيري، وإبراہيم الحارثي، وحسن إبراہيم المالكي قابل ذکر ہیں۔ جبکہ مشہور بزنس مین عصام الزامل بھی گرفتار ہیں۔ ان تمام افراد کو قطر کے حوالے سے سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے موقف کی حمایت نہ کرنے پر گرفتار کیا گیا ہے۔

اب چند روز سے خبر گرم ہے کہ شیخ سلمان عودہ کو سزائے موت دیئے جانے کا امکان ہے۔ انہیں خفیہ ٹرائل کیا جا رہا ہے۔ سعودی عدالت میں حکومت کے وکیل نے انہیں تعزیراً سزائے موت دینے کی سفارش کی ہے۔ ان پر 37 مختلف سنگین الزامات لگائے گئے ہیں۔ ان کے صاحبزادہ عبد اللہ العودة کے بقول شیخ پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دفاع کیلئے کویت میں ’’النصرة‘‘ نامی تنظیم کی بنیاد رکھی تھی۔شیخ عودہ کے بعد کل ڈاکٹر عوض القرني اور ڈاکٹر علي العمری کو بھی تعزیراً قتل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ جس کا فیصلہ آئندہ کچھ روز میں عدالت کرے گی۔ جبکہ 2016 سے گرفتار مشہور عالم شیخ عبد العزیز الطریفی کی جیل میں حالت انتہائی تشویش ناک ہونے کے باعث وہ اسپتال میں ایڈمٹ ہیں۔ 

اسی طرح امریکی فوج کی سعودیہ میں موجودگی کے خلاف فتویٰ دینے والے مشہور بزرگ عالم دین شیخ سفر الحوالی کو بھی جیل سے اسپتال منتقل کیا جا چکا ہے۔ دونوں علما کو علاج سے محروم رکھ کر دار البقا منتقل کرنے کی اطلاعات ہیں۔ لگتا ہے کہ دوران حراست سمجھانے بجھانے کا ان حضرات پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ ظاہر ہے ایسے آشفتہ سروں کا ایک ہی علاج باقی ہے۔ 

غالب کے بقول:
زنداں میں بھی شورش نہ گئی اپنی جُنوں کی 
 اب سنگ مداوا ہے اس آشفتہ سری کا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  14510
کوڈ
 
   
مزید خبریں
دنیا بھر میں بولی اور سمجھی جانی والی زبانوں میں سے اردو ہندی دنیا کی دوسری بڑی زبان بن چکی ہے، جبکہ اول نمبر پر آنے والی زبان چینی ہے اور انگریزی کا نمبر تیسرا ہے۔ روزنامہ ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے یونیورسٹی آف ڈیسلڈرف الرچ کی 15 برس کی مطالعاتی رپورٹ
ہمارے نیم حکیموں کو کون سمجھائے کہ بلکتے، سسکتےعوام کو جمہوریت سے بدہضمی ہونے کا خوف دلانا چھوڑ دیجئے حضور! 144 معالجین کے مطابق انسانی معدے کی خرابی تمام بیماریوں کی ماں ہوتی ہے اور معدے کی خرابی سے ہی بدہضمی، ہچکی، متلی، قے، ہاتھوں میں جلن کا احساس، بھوک کا نہ لگنا، پژمردگی اور چہرے پر افسردگی کے اثرات چھائے
یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ پارلیمنٹ لاجز میں ہونے والی غیر اخلاقی حرکتوں کے متعلق جمشید دستی کو کس نے ویڈیو ثبوت اور ”ناقابل تردید“ ثبوت فراہم کیے ہیں؟ یہ سوال بھی اہم ہے کہ آخر جمشید دستی نے یہ ا یشو کیوں چھیڑا ؟ اس کے نتیجے میں جو صورتحال پیش آسکتی ہے اس کے دور رس نتائج نکل سکتے ہیں۔
دہشت گردوں کی طرف سے جنگ بندی کے اعلان کے صرف 48 گھنٹے بعد ہی دارالحکومت اسلام آباد کودہشت گردی کا نشانہ بنادیا گیا۔

مقبول ترین
خیبر پختون خوا پولیس کے اعلیٰ افسر ایس پی طاہر داوڑ کا جسد خاکی افغانستان نے پاکستان کے حوالے کردیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شہید ایس پی طاہر داوڑ کا جسد خاکی جلال آباد میں پاکستان قونصل خانے کے اعلیٰ عہداروں کے حوالے کر دیا گیا ہے
سابق وزیراعظم نواز شریف نے العزیزیہ ریفرنس میں صفائی کا بیان قلمبند کرانا شروع کر دیا۔ پہلے روز 50 عدالتی سوالات میں سے 45 کے جواب ریکارڈ کرا دیئے۔ باقی سوالات پر وکیل خواجہ حارث سے مشاورت کے لیے وقت مانگ لیا۔
فلسطین میں قابض اسرائیلی فوج کے معاملے پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا بند کمرا اجلاس بے نتیجہ ختم ہوگیا۔ میڈیا کے مطابق غزہ میں قابض اسرائیلی فوج نے ظلم وبربریت کی انتہا کررکھی ہے، آئے دن نہتے فلسطینیوں کو فائرنگ کرکے موت کے گھاٹ
چند روز قبل اسلام آباد سے اغوا ہونے والے خیبر پختونخوا پولیس کے ایس پی طاہر خان داوڑ کو مبینہ طور پر افغانستان میں قتل کر دیا گیا۔ خیبر پختونخوا پولیس کے ایس پی طاہر خان داوڑ 27 اکتوبر کو اسلام آباد سے لاپتہ ہوئے تھے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں