Sunday, 24 March, 2019
جمشیددستی کے الزامات میں کتنی سچائی ؟

جمشیددستی کے الزامات میں کتنی سچائی ؟

سید شہزاد عالم
سرائیکی علاقے سے تعلق رکھنے والے معزز رکن اسمبلی جمشید دستی نے متعدد اراکین پارلیمنٹ پر غیر اخلاقی حرکتوں میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کرکے ایک طوفان برپا کردیا ہے ۔ان کے الزامات میں چرس کا استعمال، شراب نوشی، مجرے اور دیگر غیر اخلاقی سرگرمیوں کا ذکر ہے۔ دستی کے مطابق پارلیمنٹ لاجز میں ماہوار4 سے 5 کروڑ روپے کی شراب پی جاتی ہے۔ ہر وقت چرس کی بو پھیلی رہتی ہے ،گذشتہ دنوں پارلیمنٹ لاجز میں مجرا ہوا ، لڑکیاں عیاشی کیلئے منگوائی جاتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مجرے کی ویڈیواسپیکرقومی اسمبلی کو فراہم کر دی گئی ہے۔انہوں نے تمام ارکان قومی اسمبلی کا میڈیکل ٹیسٹ کرانے کا بھی مطالبہ کر دیا جس پراسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ پارلیمنٹ لاجز میں سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے کوئی غلط سرگرمیاں ہوتی ہیں تو شواہد دیے جائیں مقدمات قائم ہونگے اور ضروری کارروائی ہوگی۔ا سپیکر نے کہا کہ جمشید دستی ثبوت دیں اگر ان کے الزامات درست نکلے تو چاہے ان کی اپنی ہی جماعت کے ارکان کیوں نہ ملوث ہوں کارروائی ضرور کی جائیگی اور اگر یہ الزامات جھوٹے نکلے تو جمشید دستی کی سزا کا فیصلہ ایوان کریگا۔ جمشید دستی کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ان الزامات کو ثابت کرنے کے لئے ٹھوس ثبوت موجود ہیں اور وہ یہ ثبوت اسپیکر قومی اسمبلی کو پیش کر دیں گے۔جمشید دستی کے الزامات سے اراکین اسمبلی کی ایک اچھی خاصی تعداد خصوصا حکمراں جماعت بوکھلاہٹ کا شکار ہے اورحکمران جماعت سے تعلق رکھنے والے ارکان نے اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے سر جوڑ لیے ہیں۔وزیر برائے داخلہ امور نے تو بغیر ثبوت دیکھے ان الزامات کو مسترد کر کے اراکین کو کلین چٹ دے دی۔ کیا جمشید دستی کے الزامات اور شواہد میں جان ہے؟ اراکین کی کتنی تعداد اس کی زد میں آتی ہے؟ کیا اسپیکر ان الزامات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کریں گے؟ طاقتور ٹولہ بمقابلہ جمشید دستی ، میں کس کی جیت ہو گی؟ کیا سچائی کی جیت ہو سکتی ہے؟
یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ پارلیمنٹ لاجز میں ہونے والی غیر اخلاقی حرکتوں کے متعلق جمشید دستی کو کس نے ویڈیو ثبوت اور ”ناقابل تردید“ ثبوت فراہم کیے ہیں؟ یہ سوال بھی اہم ہے کہ آخر جمشید دستی نے یہ ا یشو کیوں چھیڑا ؟ اس کے نتیجے میں جو صورتحال پیش آسکتی ہے اس کے دور رس نتائج نکل سکتے ہیں۔ اس معاملے کو چھیڑے جانے کا وقت انتہائی اہم ہے کیونکہ پاکستان کی داخلی اور خارجی صورتحال کو دیکھتے ہوئے اس کی قیمت موجودہ جمہوری حکومت کو بھی ادا کرنی پڑ سکتی ہے۔۔۔!

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  41798
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
کل پارلیمنٹ میں پاکستان کی پارلیمانی تاریخ کا نہایت شرم ناک واقعہ پیش آیا جب حکومتی بنچوں سے ایک غیرمسلم ممبر پارلیمنٹ نے شراب پر پائبندی کا بل پیش کیا جسے پوری پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر مسترد کردیا.صرف ایم ایم اے ممبرز نے رامیش
’’اختلاف‘‘ کا لفظ اتنا منفی مفہوم اختیار کر گیا ہے کہ بہت سے لوگ ہر قسم کا اختلاف ختم کرنے کے درپے ہوگئے ہیں حالانکہ اختلاف کے بعض خوبصورت اور اچھے پہلو بھی ہیں۔ تاہم بعض اختلافات ایسے ہوتے ہیں کہ جنھیں ختم کرنا چاہیے یا پھر جنھیں برداشت کرنا چاہیے۔
سوشل میڈیا پر 27 جولائی سے جس شخصیت کو سب سے زیادہ ٹارگٹ کیا جا رہا ہے یقینا وہ جناب مولانا فضل الرحمان ہی ہیں۔ ہر دوسرا تبدیلی کا دعوے دار، مخالف مسلک کا پیروکار، مولانا کا سیاسی مخالف، بس مولانا پر ہی لعن طعن کر کے ملک کے تمام مسائل حل اور نئی
پروردگار کا احسان عظیم ہے کہ ہمارے پیارے وطن پاکستان کو قیام میں آئے 71برس ہو رہے ہیں۔ اس مملکت خداداد کی اساس ان گنت قربانیوں پر استوار ہے جو ہمارے آباؤ اجداد نے اپنے لہو سے بنائی ہے اور ان قربانیوں کے ضمن میں مرد و خواتین دونوں نے

مزید خبریں
دنیا بھر میں بولی اور سمجھی جانی والی زبانوں میں سے اردو ہندی دنیا کی دوسری بڑی زبان بن چکی ہے، جبکہ اول نمبر پر آنے والی زبان چینی ہے اور انگریزی کا نمبر تیسرا ہے۔ روزنامہ ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے یونیورسٹی آف ڈیسلڈرف الرچ کی 15 برس کی مطالعاتی رپورٹ
ہمارے نیم حکیموں کو کون سمجھائے کہ بلکتے، سسکتےعوام کو جمہوریت سے بدہضمی ہونے کا خوف دلانا چھوڑ دیجئے حضور! 144 معالجین کے مطابق انسانی معدے کی خرابی تمام بیماریوں کی ماں ہوتی ہے اور معدے کی خرابی سے ہی بدہضمی، ہچکی، متلی، قے، ہاتھوں میں جلن کا احساس، بھوک کا نہ لگنا، پژمردگی اور چہرے پر افسردگی کے اثرات چھائے
دہشت گردوں کی طرف سے جنگ بندی کے اعلان کے صرف 48 گھنٹے بعد ہی دارالحکومت اسلام آباد کودہشت گردی کا نشانہ بنادیا گیا۔
تھر کے بچوں کو بھوک اور افلاس نگل رہی اور الزامات کی سیاست عروج پر ہے۔ انسانوں کو کھا نا میسر ہے نا ہی مویشوں کو چارہ۔ تھر میں اب تک ایک سو اکیتس سے

مقبول ترین
یوم پاکستان کی مرکزی تقریب میں صدر، وزیراعظم، آرمی چیف، ملائیشین وزیراعظم مہاتیر محمد سمیت دیگر ممالک کی معزز شخصیات نے بھرپور شرکت کی۔ سپیکر قومی اسمبلی، چیئرمین سینیٹ، وفاقی وزراء، وزرائے اعلی، شوبز ستارے
نیوزی لینڈ کی تاریخ کی بدترین دہشت گردی کے ایک ہفتے بعد نہ صرف سرکاری طور پر اذان نشر کی گئی بلکہ مسجد النور کے سامنے ہیگلے پارک میں نمازِ جمعہ کے اجتماع میں وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن کے علاوہ ہزاروں غیر مسلم افراد نے بھی شرکت کی۔
ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد کا سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب میں کہنا تھا کہ آزادی کے وقت ملائیشیا غریب ملک تھا۔ آزادی کے وقت طے کیا تھا کہ ملائیشیا ترقی کے مراحل طے کرے گا۔ ہم نے کوریا اور جاپانی لوگوں سے سبق لیا اور کام کیا۔
کراچی کی نیپا چورنگی پر ممتاز عالم دین مفتی تقی عثمانی قاتلانہ حملے میں محفوظ رہے جب کہ ان کے دو گارڈ جاں بحق ہو گئے۔ ابتدائی طور پر اطلاعات تھیں کہ مختلف مقامات پر فائرنگ کے دو واقعات پیش آئے ہیں لیکن ایس ایس پی گلشن اقبال طاہر

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں