Monday, 18 November, 2019
جوتے میڈیا کا مقدر ہیں

جوتے میڈیا کا مقدر ہیں
تحریر: احمد اعوان

 

چند روز قبل ( ن) لیگ کی ریلی جس وقت اسلام آباد سے راولپنڈی کا سفر طے کررہی تھی اس دوران چند ٹی وی چینلوں کے رپورٹروں اور کیمرہ مینوں کوریلی میں شریک لوگوں نے تشدد کا نشانہ بنایا، عام فہم زبان میں یوں کہہ لیں کہ چند میڈیا کے غازیوں کو جوتے پڑے۔ یہ جوتے پڑتے ہی تمام میڈیا کے نمائندوں کے دل میں شدید تکلیف اٹھی۔ اورہر کسی نے اپنے اپنے درد کی شدت کا اظہار کیا، جوتے کھانے والے چینلوں کے دشمن چینل کے صحافی حضرات بھی اس نازک موقع پر اپنے تمام اختلافات بھلا کران متاثرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے میدان میں کود پڑے جوکل تک متعلقہ چینلوں کے سب سے بڑے ناقدین میں شمار کیئے جاتے تھے۔

اس یکجہتی کی وجہ کوئی نیک مقصد ہرگز نہیں ہے بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ ان چینلوں کے صحافیوں کو معلوم ہے کہ جوتے ہمارا بھی مقدرہیں لہذا اگر ہم آج متاثرہ ٹی وی والوں کے ساتھ کھڑے نہ ہوئے توکل جب عوام ہماری خبر لے گی تب ہمارے ساتھ بھی کوئی کھڑا نہیں ہوگا۔ اس لیے یہ بات سمجھ لیں کہ اس یکجہتی کی اصل وجہ وہ حرکتیں ہیں جوتمام میڈیاوالوں کی تقریبا ایک جیسی ہیں ،اب ذرا احتجاج کرتے صحافیوں کے الفاظ پڑھیں ۔ کسی کو کوئی حق نہیں پہنچتا ہے کہ وہ کسی میڈیا کے نمائندے پرتشدد کرے۔ یہ آزادی صحافت پرحملہ ہے۔ میڈیا نے بہت قربانیاں دی ہیں ،میڈیا کا احترام سب پرفرض ہے۔ آپ کوخبر نہیں پسند توچینل بدل لیں۔ سیاسی جماعتوں کے قائدین کافرض ہے کہ وہ اپنے لوگوں کو منع کریں ہم قربانیاں دیتے رہینگے وغیرہ وغیرہ، بندہ پوچھے بھائی قربانیاں دیتے رہوگے توروتے کیوں ہو؟ دو نا قربانیاں ہر خبر کی ایک قیمت ہوتی ہے اگر تم میڈیا میں رہنے کو خبر سمجھتے ہو تو دو قربانی چلّاتے چیختے بلبلاتے اورروتے کیوں ہو؟ کہ ظلم ہوگیاظلم ہوگیا؟اوریہ کس نے کہاکہ میڈیاکااحترام سب پرفرض ہے ؟کیامیڈیاخودسب کااحترام کرتاہے ؟

ARYوالے جس طرح عمران خان کاذکرکرتے ہیں اسی طرح نوازشریف کابھی کرتے ہیں ؟اورجیووالے جس طرح نوازشریف کاذکرکرتے ہیں اسی طرح عمران کی خبرکی تشہیرکرتے ہیں ؟بول چینل والے جس طرح حکومتی جماعت کی تذلیل کرتے ہیں کیااسی طرح حزب اختلاف کی کسی جماعت کی خبرکاپوسٹ مارٹم کرتے ہیں ؟توجب میڈیاپرسب کی عزت کرنافرض نہیں ہے تومیڈیاکی عزت کرناسب پرکیسے فرض ہو گیا ؟

اورمیڈیا میں کس کی عزت محفوظ ہے ؟کون ہستی ہے جس کی میڈیانے عزت چھوڑی ہے ؟محمدعلی جناح تک کاکارٹون اس میڈیانے اس پاکستان میں بنادیاہے اورروزنشرکرتے ہیں توکس کی عزت محفوظ ہے ؟اب آتے ہیں میڈیاکی قربانیوں کی طرف، کیاقربانی دی ہے میڈیانے ؟2001ء سے ابھی کل تک کراچی میں الطاف کی بدمعاشی کاسکہ چلتاتھاکسی میڈیاکی جرات تھی کہ وہ الطاف کی بدمعاشی پربات تک کرتا؟حتی کہ متحدہ مرکز90 پر کئی چینلوں کے رپورٹروں کوذلیل کیاگیاان کودھکے مارے گئے مگر کسی کی آواز بھی نہیں نکلتی تھی کیوں ؟ کیونکہ پتہ تھاالطاف بوری میں ڈال دیتاہے ۔توکیا وہ ظلم نہیں تھامیڈیاکے ساتھ ؟ مگرمجال ہے جوکسی چینل نے بے باک اوردلیرانہ صحافت کی اپنی روایت کوبرقراررکھاہو؟کہاں گئی تھی اس وقت بے باکی اوردلیری ؟جمہوری جماعتوں کے جلسے میں دوہاتھ اوردودھکے پڑے تواتنے نازک ہوگئے کہ صحافی فورارونے لگے ؟ یہ دردمتحدہ مرکز 90 کے وقت میں توکبھی یادنہ آیا؟وہ توبھلاں ہواالطاف کاکہ اس نے خوداپنی تباہی کاسامان جمع کرلیا اور اس نے ان کی بے عزتی کی جن کی اصل میں ملک میں عزت ہے لہذافوراالطاف کے برے دن آگئے ۔لیکن اب بھی الطاف کسی کاموضوع کیوں نہیں ہوتاالطاف کے ظلم کم تھے ؟کوئی چینل تفصیل سے روشنی کیوں نہیں ڈالتا؟

سانحہ بلدیہ میں جل کرمرنے والوں کے گھروں کاپتہ کسی چینل کے پاس نہیں ہے ؟کسی چینل کونہیں معلوم کہ سانحہ بلدیہ کے پیچھے کس کاہاتھ تھا؟توان مظلوموں کے ساتھ اظہاریکجہتی کیوں نہیں ؟بات توپھرآفاق احمدصحیح کہتے ہیں کہ احمدپورشرقیہ میں جل کرمرنے والوں کی تعزیت آرمی چیف اوروزیراعظم بھی کرتے ہیں جوکہ اچھی بات ہے مگرسانحہ بلدیہ کی جے آئی ٹی بھی سامنے نہیں لائی جاتی کیونکہ یہ جلائے جانے والے کراچی والے تھے ؟اختلاف اپنی جگہ مگرآج بھی کراچی میں الطاف کاجوووٹ بینک قائم ہے کیااس کے پیچھے اس میڈیاکاکوئی ہاتھ نہیں ؟ 90 کی پریس کانفرنسوں میں جانے والے صحافیوں سے پوچھ لیں کہ کیاان کی جرات تھی کہ وہ اپنی مرضی سے سوال کرسکیں ؟توکہاں تھااس وقت آزاد اوربے باک میڈیا؟ آج 2 جوتے کیا پڑے رونے لگے اورکس بات کی حیرانی ہے مارکھانے والے چینلوں کے صحافیوں کو؟

ARYاوربول کے صحافی یہ کیوں سوچتے ہیں کہ وہ ن لیگ کے جلوسوں میں جائیں گے توان کودودھ میں میں جلیبی دی جائے گی ؟ان صحافیوں کومعلوم نہیں کہ وہ ایک عرصہ سے کیارپورٹنگ کرتے آئے ہیں ؟حکمران جماعت کواس کے انجام کی نویدسنانے والے اپنے انجام سے بے خبرکیوں تھے ؟اورPTI کے جلسوں میں اگرGEO کے صحافی جائینگے توان کے ساتھ اس کے علاوہ کیاہوناچاہیے تھاجوہواتھا؟بھائی جوبورہے ہووہ ہی کاٹوگے نا؟

اگرمبشرلقمان اورعامرلیاقت ن لیگ کی ریلی میں کھڑے ہوکرسچ بتاناشروع کریں توکیاوہ زندہ واپس آئیں گے؟

تواس میں حیرانی اوردکھ کی کیابات ہے ؟حضور لوگوں کے جذباتی ہوتے ہیں اسلام بار بار نرم زمان استعمال کرنے کی ہدایت کرتاہے کہ وہ بات نہ کروجس سے کسی دوسرے مسلمان بھائی کی دل آزاری ہو۔ میڈیاسوائے دل آزاری کے اور کیاکرتاہے ؟اوراس کونام دیتاہے سچ کا ۔ جب آپ پارٹی بنیں گے توپارٹی توہوگی نا؟یہی حال PTI کے جلسے میں سلیم سافی اورشاہزیب کابھی ہواس میں حیرت کی کیابات ہے ؟اورمیڈیاوالے ایک عجیب بات کرتے ہیں ؟کہ ہم سچ بتاتے ہیں دنیاکو؟میرے نزدیک اس سے زیادہ فضول بات کوئی نہیں ہوگی کہ میڈیاسچ بتاتا ہے ۔ اول یہ کہ سچ کواپنی گوہی اورتشہیرکے لیے کسی سہارے کی ضرورت ہوتی ہے کیا؟جب سورج نکلتا ہے توکیاروشنی اس کی گواہی دیتی ہے یا GEOبتاتاہے کہ ناظرین سورج ایک بارپھرطلوع ہوگیااوریہ خبرہم نے سب سے پہلے آپ تک پہنچائی ؟اورتم میڈیانہ بتائوتوکیااثرپڑے گا؟بعض لوگوں کوگمان ہوچلاہے کہ میڈیاکی وجہ سے ملک میں مارشل لاء نہیں لگ سکتاجولوگ یہ دلیل دیتے تھے کہ وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں کہ اسی میڈیامیں ایسے لوگ موجود ہیں جوواسطے دے رہے ہیں کہ مارشل لاء لگ جائے ۔ہاں میڈیاکے آنے سے اتنافائدہ ہواہے کہ اب مارشل لاء کے نفاذ کی خبرپہلے سے جلدی ناظرین تک پہنچ جائے گی۔پوری دنیامیں ہرتہذیب میں سچ بولنے پرلوگوں نے بے عزتیاں برداشت کیں لوگ قتل ہوئے سولی لٹکائے گئے ،مگرواحد میڈیا سے جہاں سچ بولنے کے پیسے ملتے ہیں ۔کل عامرلیاقت GEO میں سچ بولتاتھاپھربول نے زیادہ پیسے دیئے اب وہاں سچ بولتاہے ۔ واہ واہ کیا۔

میڈیاکے آنے سے انقلاب آنے کے امکانات تقریباختم ہوچکے ہیں ۔میڈیانے جتنی دہشت گردی بربریت ظلم ناانصافی اور سفاکی لوگوں کودکھائی ہے اتنی اگرلوگ صرف سنتے توکب کے کچھ نہ کچھ کرلیتے ۔مگردیکھ دیکھ کرلوگ عادی ہوگئے ۔کسی معاشرے میں میڈیاکے آنے سے انقلاب کے آنے کے امکانات کم یاختم ہوتے ہیں بڑھتے نہیں ہیں مگرلوگ سمجھتے یہ ہیں کہ میڈیاانقلاب کے لیے مدد فراہم کرتاہے ۔ میڈیاکے نزدیک صرف اشتہارکی عزت ہے اگراشتہار کاوقت آجائے توطارق جمیل کی تقریربھی کاٹ دی جاتی ہے اورلیموں پانی کاٹائم چیک چلایاجاتاہے کیامیڈیااشتہارکے بغیرچل سکتا ہے ؟رہی بات میڈیاکے جو تے کھانے کی توبھائی جب آپ کسی کے محبوب قائد کوبے عزت کروگے اورپھران کے درمیان بھی جائوگے توجوتے ہی پڑیں گے اوریہ علاج ہے ۔ سیانے کہتے ہیں احتیاط علاج سے بہترہے ۔اگراپنی زبان کااستعمال سوچ سمجھ کرکریں توحالات ایسے نہ ہوتے جیسے آج ہیں باقی اگرکوئی اس مشورے پرعمل نہیں کرے گاتویادرکھیں پھرجوتے ہی میڈیا کا مقدر ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بشکریہ ’’روزنامہ جرات‘‘
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  76718
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
پاکستانی میڈیا خبرساز ہے، اِس کا عام آدمی کے حقیقی مسائل سے کوئی تعلق نہیں۔ یہاں معاوضہ وصول کر خبر بنائی جاتی ہے۔ اِس سلسلے میں بطور خاص الیکٹرانک میڈیا کا کردار انتہائی شرمناک ہے۔
ہرسال 3 مئی کو آزادی صحافت کا عالمی دن منایا جاتا ہے اس دن کو منانے کا مقصد جہاں آزادی صحافت کی اہمیت افادیت صحافتی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالنا ہے وہاں معاشرے میں حق اور سچ کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ عوام م
سوشل میڈیا پر ایک عرصے سے جاری گستاخانہ مہم کی سرکوبی کے لیے اسلام آبار ہائی کورٹ کی کوششوں سے قانون واقعتاً متحرک ہوا ہے. پاکستان میں الحاد پھیلانے اور مسلمانوں کی برین واشنگ کرنے والوں کے مبینہ سرغنہ ایاز نظامی کی گرفتاری اس سلسلے کی اہم کڑی ہے۔
بلی تھیلے سے باہر آنے کے بعد بٹ بٹ دیکھ رہی ہے اور اپنے آقاؤں کو ڈھونڈ رہی ہے کیونکہ سابق وزیراعظم گیلانی کی بااختیار اور رعب دارپرنسپل سیکریٹری نرگس سیٹھی کے دستخط سے جاری کیا گیا خط منظر عام پر اگیا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ

مقبول ترین
وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ عدلیہ طاقتور اور کمزور کےلیے الگ قانون کا تاثر ختم کرے۔ ہزارہ موٹروے فیز 2 منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پچھلے دنوں کنٹینر
لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالتے کا حکم دیتے ہوئے انہیں 4 ہفتے کیلئے بیرون ملک جانے کی اجازت دیدی جبکہ عدالت کی طرف سے کوئی گارنٹی نہیں مانگی گئی۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباداور کراچی سمیت ملک کے مختلف شہروں میں جمعیت علماء اسلام (ف) کے کارکنوں نے دھرنے دے کر سڑکیں بلاک کردیں۔ مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کے ’پلان بی‘ کے تحت ملک بھر میں دھرنوں کا سلسلہ
وفاقی حکومت اور نیب کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا تھا کہ لاہور ہائیکورٹ کو درخواست پر سماعت کا اختیار نہیں جبکہ نواز شریف کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ عدالت کے پاس کیس سننے کا پورا اختیار ہے۔ عدالت نے درخواست کو قابل سماعت قرار

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں