Tuesday, 22 September, 2020
شمالی کوریا کے میزائل تجربات پر برہم امریکہ کی دوہری پالیسی

شمالی کوریا کے میزائل تجربات پر برہم امریکہ کی دوہری پالیسی
تحریر: مفتی امجد عباس

 

شمالی کوریا نے ایک عرصہ سے میزائیل تجربات کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ حالیہ دنوں میں امریکی صدر ٹرمپ نے میزائیل تجربوں سے باز نہ آنے پر شمالی کوریا کو براہ رست حملے کی دھمکیاں بھی دی ہیں۔ شمالی کوریا کے میزائیل تجربات قابلِ تشویش ہیں تاہم امریکہ کی منافقانہ پالیسی کا یہیں سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اُس کی چھتری تلے اسرائیل دن بہ دن ایٹمی ہتھیار اور میزائیل بنانے کے ساتھ وقتاً فوقتاً فلسطین کے علاوہ شام کو بھی نشانہ بناتا رہتا ہے، اُسے کسی قسم کی رکاوٹ نھیں۔ اسرائیل کے پاس دُنیا کے خطرناک ترین میزائیل ہیں، وہ نہ صرف خود میزائیل بناتا ہے بلکہ دنیا کے دیگر ممالک کو، جن کا انسانی حقوق کے حوالے سے ریکارڈ اچھا نھیں، اُنھیں بھی فروخت کرتا ہے۔

اسرائیل کے میزائیل سسٹم کے متعلق ایک اردو اخبار میں کچھ اِس طرح کی تفصیلات شائع ہوئیں " اس وقت اسرائیل کے پاس دنیا کا جدید ترین میزائل پروگرام موجود ہے جس میں دشمن کے مقابلے کی تباہ کن صلاحیت موجود ہے۔ اسرائیل میں میزائل پروگرام کو ''جو ریشو 1'' کا نام دیا گیا اور 1960ء میں فرانس کی ایک کمپنی ''ڈیزالٹ ایوی ایشن'' کے ساتھ مذاکرات کا آغاز ہوا اور تل ابیب میں 1963ء میں ایک معاہدے پر دستخط کیے گئے جس کے مطابق اس کمپنی نے (امن پسند) اسرائیل کو 235 سے 500 کلو میٹر تک مار کرنے والے بلاسٹک میزائل فراہم کرنے تھے جو 450 سے 650 کلو گرام تک تباہ کن مواد لے جاسکتے تھے۔ 

یہ خبر سب سے پہلے نیو یارک ٹائمز نے 1971ء میں ''جو ریشو میزائل اول'' کے نام شائع کی۔ ابتداً ان میزائلوں کی آزمائش فرانس کے ہوائی اڈوں پر ہی ہوتی رہی لیکن 1978ء تک کے مختصر عرصے میں اسرائیل نے یہ بلاسٹک میزائل اپنی سرزمین پر بنانا شروع کردیے تھے اور خاص 1978ء میں ہی اس نام کے پچاس میزائل اسرائیل کی ریاست بنانے میں کامیاب بھی ہو چکی تھی اور بعد کے تجاوزات میں اس ''جوریشو 1'' میزائل کے اندر ایٹمی اسلحہ لے جانے کی صلاحیت بھی داخل کردی گئی۔"

اخبار نے مزید تفصیلات کچھ یُوں دیں " 1980ء اور 1990ء کے دوران اسرائیل کے اندر ''جوریشو 2'' پر تجربات ہوتے رہے اور یہ پہلے میزائل سے کہیں بہتر ٹیکنالوجی کا حامل میزائل تھا جو 1500 سے 3500 کلو میٹر تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور 750 سے 1000 کلو گرام تک تباہ کن مواد اٹھا سکتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق 1989ء میں یہ ثانی الزکر میزائل تیار ہو کر دشمن پر وار کرنے کے قابل ہو چکا تھا اور ظاہر ہے اس میں ایٹمی اسلحہ لے جانے کی گنجائش بھی پہلے والے میزائل سے کہیں بہتر اور زیادہ تھی۔ 

اسرائیل کی فضائیہ کے تین اسکوارڈنز کو یہ میزائل فراہم کیے گئے ہیں ایک اسکوارڈن کا بیس تل ابیب کے جنوب میں 45 کلو میٹر دور واقع ہے، دوسرا ''سیڈوت میکا'' نامی بیس زکریا نامی قصبے کے پڑوس میں واقع ہے جبکہ تیسرا ''سورک'' دریا کے کنارے پر دو قصبوں کے درمیان واقع ہے۔ خلیج کی جنگ کے دوران اگرچہ اسرائیل نے ان میزائلوں کے چلانے سے انکار کیا ہے لیکن خلائی سیاروں سے حاصل کی گئی تصاویر اور دیگر شہادتوں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اسرائیل نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ان میزائلوں کو عرب آبادیوں پر بے دردی سے چلایا ہے۔ اسرائیلی فضائیہ نے ان میزائلوں کو خندقوں، غاروں اور چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں کے درمیان چھپا کر اور حملے کے لیے ہردم تیار باش کر کے رکھا ہے۔"

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اسرائیل میں بلاسٹک میزائل سے بچنے کا نظام تیار حالت میں موجود ہے، اکتوبر 2002ء میں امریکا اور اسرائیل نے باہمی تعاون سے یہ نظام اسرائیل میں نصب کیا اور اس کے اخراجات کا 80 فیصد امریکا بہادر نے برداشت کیا۔

اسرائیل خطے میں انتشار پھیلانے کے لیے مختلف ممالک کو میزائیل سسٹم بھی سرعام بیچ رہا ہے، اِس پر بھی امریکہ اور اُس کے ساتھ ممالک چُپ ہیں۔ رواں سال کے آغاز میں اخبارات نے اِس خبر کو نمایاں جگہ دی کہ ہندوستان اسرائیل سے اڑھائی ارب ڈالر کے دفاعی ہتھیار اور میزائل سسٹم خریدے گا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اسرائیل سے ہتھیاروں کے سودے کی منظوری دیدی۔ بھارت اسرائیل کی مدد سے 5 دفاعی میزائل سسٹم تیار کرے گا۔ میزائل سسٹم میں 40 فائرنگ یونٹس اور 200 سے زائد میزائل ہوں گے۔ میزائل سسٹم فضا میں 50 سے 70 کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنا سکتاہے۔

ملحوظ رہے انسانی حقوق کی پامالی اور کشمیر و فلسطین کے عوام کے حقِ خود ارادیت کو دبانے میں اسرائیل اور ہندوستانی گٹھ جوڑ ڈھکا چُھپا نھیں ہے۔ امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن جہاں یہ کہتے ہیں کہ روس اور چین کو شمالی کوریا کے میزائل تجربوں پر خاموش نہیں رہنا چاہیے وہیں اُنھیں اسرائیل کی بھی خبر لینا چاہیے ورنہ امریکی پالیسی کو منافقانہ اور دوہری ہی سمجھا جائے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مفتی امجد عباس صاحب مبصر ڈاٹ کام کے سٹاف ممبر ہیں۔ مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  87939
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
امریکہ کی انتہائی خطرناک صورتحال پر مولانا سخاوت سندرالوی کا خصوصی مضمون: نرسنگ ہومز میں جگہ نہیں ہے۔ گھروں میں رکھیں توشودر سا سلوک ہو رہا ہے۔ آج پیارے نہ زندہ کو دیکھ سکتے ہیں نہ مردہ کو ۔لاشوں کیلئے فیونرل ہومز میں فریزرز نہیں ہیں۔ قبرستانوں میں دفنانے کی جگہ نہیں مل رہی۔ مل بھی جائے چار سے پانچ دن کا ویٹنگ پیریڈ ہے ۔مریض کو شفا خانہ نہیں مل رہا ۔ بیمار کو دوا خانہ نہیں مل رہا۔
مبصر ڈاٹ کام نے ہمسایہ و برادر اسلامی ملک ایران میں صدارتی انتخابات کی موجودہ صورتحال پر پاکستان کے مختلف صحافیوں اور تجزیہ کاروں سے خصوصی گفتگو کی ہے جو قارئین کی خدمت میں پیش کی جارہی ہے۔

مزید خبریں
کورونا وائرس پاکستان ہی نہیں ہی دنیا بھر میں اپنی پوری بدصورتی کے ساتھ متحرک ہے ، تشویشناک یہ ہےاس عالمی وباء کے نتیجے میں ہمارے ہاں اموات کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا،
کی سڑک کے کنارے ایک ہوٹل میں چائے پینے کے لیے رکا تو ایک مقامی صحافی دوست سے ملاقات ہوگئی جنہیں سب شاہ جی کہتے ہیں سلام دعا کے بعد شاہ جی سے پوچھا کہ ٹیکنالوجی کی وجہ سے پاکستان کتنا تبدیل ہوچکا ہے تو کہنے لگے کہ سوشل میڈیا کی وجہ سےعدم برداشت میں بہت اضافہ ہوا ہے۔
میرے پڑھنے والو،میں ایک عام سی،نا سمجھ ایک الہڑ سی لڑکی ہوا کرتی تھی، بات بات پہ رو دینا تو جیسے میری فطرت کا حصہ تھا، اور پھربات بے بات ہنسنا میری کمزوری، یہ لڑکی دنیا کے سامنے وہی کہتی اور وہی کرتی تھی جو یہاں کے لوگ سن اور سمجھ کر خوش ہوتے تھے
صبح سویرے اسکول جاتے وقت ہم عجیب مسابقت میں پڑے رہتے تھے پہلا مقابلہ یہ ہوتا تھا کہ کون سب سے تیز چلے گا دوسرا شوق سلام میں پہل کرنا۔ خصوصاً ساگری سے آنیوالے اساتذہ کو سلام کرنا ہم اپنے لیے ایک اعزاز تصور کرتے تھے۔

مقبول ترین
انسداد دہشت گردی عدالت نے سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس کے مجرموں رحمان بھولا اور زبیر چریا کو 264 ، 264 بار سزائے موت سنادی ہے۔ انسداد دہشت گردی عدالت میں سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس کی سماعت ہوئی جس میں رحمان بولا، زبیر چریا اور رؤف صدیقی
ایران نے کہا ہے کہ امریکا نے روایتی غنڈہ گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یک طرفہ طور پر اقوام متحدہ کی پابندیاں بحال کیں جس پر اُسے فیصلہ کن جواب دینے کا وعدہ کرتے ہیں۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر حسن روحانی نے ایران پر اقوام متحدہ کی پابندیوں
وزیراعظم نے کہا ہے کہ اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) ریاستی اداروں کو بدنام کرنے کی کوشش تھی، عدالتوں اور فوج کو بدنام نہیں ہونے دیں گے۔ پاکستان کی مسلح افواج قومی سلامتی کی ضامن ہیں۔ ن لیگ نے ایک بار پھر بھارتی ایجنڈے کو فروغ دیا۔
عسکری قیادت نے واضح کیا ہے کہ پاک فوج کا ملک میں کسی بھی سیاسی عمل سے براہ راست یا بالواسطہ تعلق نہیں ہے۔ میڈیا کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی پارلیمانی رہنماؤں سے

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں