Monday, 16 December, 2019
شمالی کوریا کے میزائل تجربات پر برہم امریکہ کی دوہری پالیسی

شمالی کوریا کے میزائل تجربات پر برہم امریکہ کی دوہری پالیسی
تحریر: مفتی امجد عباس

 

شمالی کوریا نے ایک عرصہ سے میزائیل تجربات کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ حالیہ دنوں میں امریکی صدر ٹرمپ نے میزائیل تجربوں سے باز نہ آنے پر شمالی کوریا کو براہ رست حملے کی دھمکیاں بھی دی ہیں۔ شمالی کوریا کے میزائیل تجربات قابلِ تشویش ہیں تاہم امریکہ کی منافقانہ پالیسی کا یہیں سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اُس کی چھتری تلے اسرائیل دن بہ دن ایٹمی ہتھیار اور میزائیل بنانے کے ساتھ وقتاً فوقتاً فلسطین کے علاوہ شام کو بھی نشانہ بناتا رہتا ہے، اُسے کسی قسم کی رکاوٹ نھیں۔ اسرائیل کے پاس دُنیا کے خطرناک ترین میزائیل ہیں، وہ نہ صرف خود میزائیل بناتا ہے بلکہ دنیا کے دیگر ممالک کو، جن کا انسانی حقوق کے حوالے سے ریکارڈ اچھا نھیں، اُنھیں بھی فروخت کرتا ہے۔

اسرائیل کے میزائیل سسٹم کے متعلق ایک اردو اخبار میں کچھ اِس طرح کی تفصیلات شائع ہوئیں " اس وقت اسرائیل کے پاس دنیا کا جدید ترین میزائل پروگرام موجود ہے جس میں دشمن کے مقابلے کی تباہ کن صلاحیت موجود ہے۔ اسرائیل میں میزائل پروگرام کو ''جو ریشو 1'' کا نام دیا گیا اور 1960ء میں فرانس کی ایک کمپنی ''ڈیزالٹ ایوی ایشن'' کے ساتھ مذاکرات کا آغاز ہوا اور تل ابیب میں 1963ء میں ایک معاہدے پر دستخط کیے گئے جس کے مطابق اس کمپنی نے (امن پسند) اسرائیل کو 235 سے 500 کلو میٹر تک مار کرنے والے بلاسٹک میزائل فراہم کرنے تھے جو 450 سے 650 کلو گرام تک تباہ کن مواد لے جاسکتے تھے۔ 

یہ خبر سب سے پہلے نیو یارک ٹائمز نے 1971ء میں ''جو ریشو میزائل اول'' کے نام شائع کی۔ ابتداً ان میزائلوں کی آزمائش فرانس کے ہوائی اڈوں پر ہی ہوتی رہی لیکن 1978ء تک کے مختصر عرصے میں اسرائیل نے یہ بلاسٹک میزائل اپنی سرزمین پر بنانا شروع کردیے تھے اور خاص 1978ء میں ہی اس نام کے پچاس میزائل اسرائیل کی ریاست بنانے میں کامیاب بھی ہو چکی تھی اور بعد کے تجاوزات میں اس ''جوریشو 1'' میزائل کے اندر ایٹمی اسلحہ لے جانے کی صلاحیت بھی داخل کردی گئی۔"

اخبار نے مزید تفصیلات کچھ یُوں دیں " 1980ء اور 1990ء کے دوران اسرائیل کے اندر ''جوریشو 2'' پر تجربات ہوتے رہے اور یہ پہلے میزائل سے کہیں بہتر ٹیکنالوجی کا حامل میزائل تھا جو 1500 سے 3500 کلو میٹر تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور 750 سے 1000 کلو گرام تک تباہ کن مواد اٹھا سکتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق 1989ء میں یہ ثانی الزکر میزائل تیار ہو کر دشمن پر وار کرنے کے قابل ہو چکا تھا اور ظاہر ہے اس میں ایٹمی اسلحہ لے جانے کی گنجائش بھی پہلے والے میزائل سے کہیں بہتر اور زیادہ تھی۔ 

اسرائیل کی فضائیہ کے تین اسکوارڈنز کو یہ میزائل فراہم کیے گئے ہیں ایک اسکوارڈن کا بیس تل ابیب کے جنوب میں 45 کلو میٹر دور واقع ہے، دوسرا ''سیڈوت میکا'' نامی بیس زکریا نامی قصبے کے پڑوس میں واقع ہے جبکہ تیسرا ''سورک'' دریا کے کنارے پر دو قصبوں کے درمیان واقع ہے۔ خلیج کی جنگ کے دوران اگرچہ اسرائیل نے ان میزائلوں کے چلانے سے انکار کیا ہے لیکن خلائی سیاروں سے حاصل کی گئی تصاویر اور دیگر شہادتوں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اسرائیل نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ان میزائلوں کو عرب آبادیوں پر بے دردی سے چلایا ہے۔ اسرائیلی فضائیہ نے ان میزائلوں کو خندقوں، غاروں اور چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں کے درمیان چھپا کر اور حملے کے لیے ہردم تیار باش کر کے رکھا ہے۔"

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اسرائیل میں بلاسٹک میزائل سے بچنے کا نظام تیار حالت میں موجود ہے، اکتوبر 2002ء میں امریکا اور اسرائیل نے باہمی تعاون سے یہ نظام اسرائیل میں نصب کیا اور اس کے اخراجات کا 80 فیصد امریکا بہادر نے برداشت کیا۔

اسرائیل خطے میں انتشار پھیلانے کے لیے مختلف ممالک کو میزائیل سسٹم بھی سرعام بیچ رہا ہے، اِس پر بھی امریکہ اور اُس کے ساتھ ممالک چُپ ہیں۔ رواں سال کے آغاز میں اخبارات نے اِس خبر کو نمایاں جگہ دی کہ ہندوستان اسرائیل سے اڑھائی ارب ڈالر کے دفاعی ہتھیار اور میزائل سسٹم خریدے گا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اسرائیل سے ہتھیاروں کے سودے کی منظوری دیدی۔ بھارت اسرائیل کی مدد سے 5 دفاعی میزائل سسٹم تیار کرے گا۔ میزائل سسٹم میں 40 فائرنگ یونٹس اور 200 سے زائد میزائل ہوں گے۔ میزائل سسٹم فضا میں 50 سے 70 کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنا سکتاہے۔

ملحوظ رہے انسانی حقوق کی پامالی اور کشمیر و فلسطین کے عوام کے حقِ خود ارادیت کو دبانے میں اسرائیل اور ہندوستانی گٹھ جوڑ ڈھکا چُھپا نھیں ہے۔ امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن جہاں یہ کہتے ہیں کہ روس اور چین کو شمالی کوریا کے میزائل تجربوں پر خاموش نہیں رہنا چاہیے وہیں اُنھیں اسرائیل کی بھی خبر لینا چاہیے ورنہ امریکی پالیسی کو منافقانہ اور دوہری ہی سمجھا جائے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مفتی امجد عباس صاحب مبصر ڈاٹ کام کے سٹاف ممبر ہیں۔ مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  82899
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
مبصر ڈاٹ کام نے ہمسایہ و برادر اسلامی ملک ایران میں صدارتی انتخابات کی موجودہ صورتحال پر پاکستان کے مختلف صحافیوں اور تجزیہ کاروں سے خصوصی گفتگو کی ہے جو قارئین کی خدمت میں پیش کی جارہی ہے۔

مقبول ترین
16 دسمبر سال 2014ء کا روز، تاریخ میں سیاہ ترین دن کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ جب سفاک دہشت گردوں نے پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں وحشت اور بربریت کی انتہا کر دی اور 149 گھروں میں صف ماتم بچھا دی گئی۔
معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ اگر لاڑکانہ میں بھٹو زندہ ہے تو غریب مر چکے ہیں۔ بلاول نے کرپشن سے اپنا رشتہ ابھی تک نہیں توڑا۔ پیپلز پارٹی نے بھٹو کے نظریے کو ختم کر دیا ہے۔
نریندر مودی کی اگلی جیت ہندوستانی شہریت کا ترمیمی ایکٹ ہے، جس نے آسام اور پورے ہندوستان کے مسلمانوں کے اندر بے چینی کو جنم دے دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مودی جی اور کون کون سی غلطیوں کی اصلاح کرتے ہیں۔ ناگالینڈ، ٹیپورہ، خالصتان بھی مودی کا منہ تک رہے ہیں۔ امید ہے فاتح ہندوستان جلد یا بدیر ان غلطیوں کی اصلاح کی بھی کوشش کرینگے۔ آئینی جنگ تو وہ شاید جیت جائیں، تاہم انکے ان اقدامات کے سبب وہ وقت دور نہیں کہ جب ہندوستان کی ساجھے کی ہانڈی بھرے چوراہے میں پھوٹے گی اور تاریخ ایک مرتبہ پھر ہندوستان کی تقسیم کا منظر اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کریگی۔
بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) مینگل کے سربراہ سردار اختر مینگل کا کہنا ہے کہ ہم چاہتے ہیں جنوبی پنجاب بھی برابرکا ترقی یافتہ ہو، سی پیک سے لاہور میٹروٹرین چلائی گئی لیکن بلوچستان میں کیکڑا بس بھی نہیں دی گئی۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں