Friday, 18 January, 2019
’’سقوط ڈھاکہ: ہم کہ ٹھہرے اجنبی۔۔‘‘

’’سقوط ڈھاکہ: ہم کہ ٹھہرے اجنبی۔۔‘‘
تحریر: ابو علی صدیقی

 

تاریخ کی گواہی اور حوالہ یہی ہے کہ آج کا بنگلہ دیش 47 برس قبل وطن عزیز کا حصہ تھا جو مشرقی پاکستان کہلاتا تھا۔ دونوں ممالک کے عوام نے برطانوی سامراج اور ہندو بالادستی سے حصول آزادی کے لئے مل کر جدوجہد کی تھی۔ اسی طرح دونوں ممالک کے لوگوں کے مذہب اور تاریخ و تمدن میں یکسانیت کا عنصر نمایاں رہا ہے۔پاکستان بنانے والی مسلم لیگ کا قیام بھی 1906ء میں ڈھاکہ میں عمل میں آیا۔ حتیٰ کہ 1940ء کے لاہور میں ہونے والے مسلم لیگ کے تاریخی جلسے میں برصغیر کے مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ وطن کے قیام کے لئے مسلم لیگ کی ’’قرارداد پاکستان‘‘ بھی، مشرقی پاکستان سے تعلق رکھنے والے بنگالی لیڈر، ابوالقاسم فضل حق نے پیش کی تھی جن کو آج بھی دونوں ممالک میں قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اسی طرح معروف بنگالی سیاسی رہنما عبدالحمید بھاشانی تحریک پاکستان کے ایک پرجوش کارکن تھے جس کی محبت کا اظہار ان کے لکھے ایک کتابچے ’’پاکستان: لیں گے یا مر جائیں گے‘‘ میں ہوتا ہے۔ پاکستان کے عوام اور حکومت نے ہمیشہ بنگلہ دیش کے عوام کے اس فیصلے کا احترام کیا کہ وہ اپنے لئے ایک الگ اور خود مختار ریاست چاہتے ہیں چنانچہ فروری 1974ء میں اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔ بعدازاں 1976ء میں پاکستان نے ڈھاکہ میں اپنا سفارتی مشن قائم کیا۔ پاکستان بنگلہ دیش سے گہرے دوستانہ تعلقات کا خواہاں ہے۔ 

قیام پاکستان کے وقت یعنی 1947ء میں گنجان آباد علاقہ ہونے کے باوجود مشرقی پاکستان میں کوئی قابل ذکر ادارہ تھا، نہ صنعت و حرفت کے مراکز۔ فی الجملہ کہا جا سکتا ہے کہ مشرقی پاکستان، جغرافیائی لحاظ سے مغربی پاکستان سے الگ تھا۔ ملک کے دونوں بازوؤں کے درمیان ازلی دشمن بھارت کا 1200 میل سے زائد کا فاصلہ حائل تھا۔ بنگال کے مسلمان تحریک پاکستان میں پیش پیش تھے اور انہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ وطن کے حصول کی خاطر بھرپور جدوجہد کی اور ان کو پاکستان کا شہری ہونے پر فخر رہا۔ قائداعظم محمد علی جناح ان کے بھی بابائے قوم تھے، علامہ اقبال ان کے قومی شاعر اور ہمارا قومی ترانہ بھی ایک ہی تھا۔ 2009ء میں بنگلہ دیش کی وزارت عظمیٰ کا قلمدان سنبھالنے والی شیخ حسینہ اپنے والد شیخ مجیب الرحمن کی طرح پاکستانی شہری تھیں جبکہ شیخ مجیب اپنے زمانہ شباب میں پاکستان کے حق میں نعرے لگاتے تھے۔ بعدازاں وہ مشرقی پاکستان کی صوبائی حکومت میں وزیر بھی رہے۔ 1965ء میں جب محترمہ فاطمہ جناح، اس وقت کے صدر مملکت اور فیلڈ مارشل ایوب خان کے مدمقابل صدارتی امیدوار تھیں تو شیخ مجیب الرحمن نے مشرقی پاکستان میں ان کے پولنگ ایجنٹ کے طور پر کام کیا۔ یہی معاملہ دوسرے بنگالیوں کا تھا۔ بنگلہ دیش کی تین مرتبہ منتخب ہونے والی وزیراعظم بیگم خالدہ ضیاء بھی ان لوگوں میں شامل ہیں۔ ان کے شوہر بنگلہ دیش کے سابق صدر جنرل ضیاء الرحمن نے 1965ء کی جنگ میں بھارت کے خلاف پاک فوج کے ایک میجر کی حیثیت سے شجاعت کا مظاہرہ کرکے بہادری کا تمغہ حاصل کیا۔ اس حوالے سے سابق صدر بنگلہ دیش حسین محمد ارشاد بھی قابل ذکر ہیں جنہوں نے پاک فوج کے افسر کی حیثیت سے گرانقدر خدمات انجام دیں اور اعزازات حاصل کئے۔

بدقسمتی سے 1971ء میں مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان کے درمیان سیاسی سطح پر ایسے اختلافات نمایاں ہوئے جن کے نتیجے میں سقوط مشرقی پاکستان کا سانحہ رونما ہوا۔ سچی بات تو یہ ہے کہ اس باب میں دونوں طرف سے ہی ایسی غلطیوں اور کوتاہیوں کا ارتکاب کیا گیا جن کا مداوا نہ کیا جا سکا۔ سقوط مشرقی پاکستان کے ذمہ دار مجرموں کی اکثریت خالق حقیقی کے پاس جا چکی ہے۔یہ بات بھی اب کوئی راز نہیں ہے کہ مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کے درمیان مذکورہ غلط فہمیوں کو پیدا کرنے کے سلسلے میں بھارتی عیاری اور مکاری کا بھی بڑا عمل دخل رہا۔ بنگلہ دیش میں عوامی لیگ کے نظریاتی پنڈت یہ گمراہ کن اور خود ساختہ پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ بنگلہ دیش کی جنگ آزادی میں پاکستانی فوج نے 30 لاکھ بنگالیوں کو قتل کیا اور 2 لاکھ بنگالی عورتوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔ اس حوالے سے حقیقت یہ ہے کہ ایسے دعوؤں کے حق میں کوئی ثبوت فراہم نہیں کئے گئے ۔

بھارت کے سابق سیکرٹری خارجہ جے ان ڈکشٹ نے اپنی کتاب ’’آزادی اور اس کے بعد بھارت، بنگلہ دیش تعلقات‘‘ میں صفحہ 189-190 پر تحریر کیا ہے: ’’پاکستان کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو جولائی 1974ء میں ڈھاکہ پہنچے۔ میں شہر کی گلیوں کے دونوں اطراف کھڑے ہجوم میں گاڑی چلاتا ہوا ایئرپورٹ پہنچا۔ فضا میں ’بنگلہ دیش پاکستان دوستی زندہ باد‘ اور ’ذوالفقار علی بھٹو زندہ باد‘ کے نعرے گونج رہے تھے۔ بھٹو پاک فضائیہ کے ایک خصوصی طیارے میں ڈھاکہ پہنچے۔ایئرپورٹ سے واپس جاتے وقت مجھے بہت پریشان کن تجربہ سے گزرنا پڑا۔ جب ایئرپورٹ سے وزیراعظم پاکستان کی گاڑیوں کا قافلہ روانہ ہوا، تو راستے میں کھڑے بنگالی عوام کا جوش و خروش اپنی انتہا کو پہنچ چکا تھا اور بھٹو اور پاکستان کی حمایت میں زور زور سے نعرے لگائے جا رہے تھے۔ مجھے بعد میں پتہ چلا کہ کچھ لوگوں نے ایوان صدر جاتے ہوئے شیخ مجیب الرحمن کی گاڑی پر جوتے پھینکے تھے۔ اس ہجوم نے میری کار کو بھی نقصان پہنچایا اور اس پر لگے بھارتی جھنڈے کو پھاڑ دیا۔ نیز بھارتی حکومت کے خلاف نازیبا نعرے بھی لگائے۔ 

بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر کرنل (ر) شوکت علی نے 2012ء میں اس حقیقت کا کھلے عام اعتراف کیا کہ 1971ء میں انہوں نے اور شیخ مجیب الرحمن نے مل کر پاکستان کو توڑنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ بنگلہ دیشی رسالے ’’ڈھاکہ کوریئر‘‘(شمارہ 10 فروری 2012ء) میں شائع ہونے والے اپنے ایک تحریری انٹرویو میں شوکت علی نے بتایا: ’’میں نے پاک فوج میں 1958ء میں شمولیت اختیار کی۔ 1960ء میں اس وقت مشرقی پاکستان میں بعض پاک فوج کے بنگالی فوجیوں نے ایک سازش کی جس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ مقررہ تاریخ کو مشرقی پاکستان کی فوجی چھاؤنیوں پر قبضہ کر لیا جائے۔ یہ بھی فیصلہ کیا گیا تھا کہ ہم شیخ مجیب کی قیادت میں مشرقی پاکستان کی آزادی کا اعلان کریں گے۔ ہمارے وفد کے دو اراکین اگرتلہ، بھارت گئے تاکہ بھارتی حکام سے ملاقات کرکے اپنے منصوبوں پر بات چیت کر سکیں اور ان سے دریافت کریں کہ بھارت ہماری مدد کیسے کر سکتا ہے۔ اب بھی یہ سمجھا جاتا ہے کہ اگرتلہ کیس شیخ مجیب سے چھٹکارہ حاصل کرنے کے لئے صدر ایوب خان نے تیار کیا تھا۔ اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ اگرتلہ کیس پختہ اور حقیقی الزامات کی بنیاد پر دائر کیا گیا تھا‘‘۔ 

وطن عزیز کے عالمی شہرت یافتہ دانشور اور ادیب فیض احمد فیض(مرحوم) نے 1974ء میں ڈھاکہ سے واپسی پر ایک ایسی غزل کہی جو سقوط مشرقی پاکستان کے حوالے سے پوری قوم کے دلی جذبات کی ترجمان بن گئی۔ اس غزل کے یہ دو اشعار تو لافانی حیثیت اختیار کر چکے ہیں:

ہم کے ٹھہرے اجنبی اتنی ملاقاتوں کے بعد
پھر بنیں گے آشنا کتنی مداراتوں کے بعد 
کب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی بہار
خون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  21508
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
سقوط ڈھاکہ ہمارے ملک کا ایک سیاہ ترین ،دل دکھانے والا ،اپنوں کے بچھڑ جانے کا ،الگ ہو نے کا ،گھر ،خاندان کے ٹوٹ جانے کا دکھ ہر محبت وطن پاکستانی چاہے اس کا تعلق بنگلہ دیش سے ہو یا پاکستان سے ہو کو ہے۔ کتنے دکھ کی بات ہے

مزید خبریں
دنیا بھر میں بولی اور سمجھی جانی والی زبانوں میں سے اردو ہندی دنیا کی دوسری بڑی زبان بن چکی ہے، جبکہ اول نمبر پر آنے والی زبان چینی ہے اور انگریزی کا نمبر تیسرا ہے۔ روزنامہ ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے یونیورسٹی آف ڈیسلڈرف الرچ کی 15 برس کی مطالعاتی رپورٹ
ہمارے نیم حکیموں کو کون سمجھائے کہ بلکتے، سسکتےعوام کو جمہوریت سے بدہضمی ہونے کا خوف دلانا چھوڑ دیجئے حضور! 144 معالجین کے مطابق انسانی معدے کی خرابی تمام بیماریوں کی ماں ہوتی ہے اور معدے کی خرابی سے ہی بدہضمی، ہچکی، متلی، قے، ہاتھوں میں جلن کا احساس، بھوک کا نہ لگنا، پژمردگی اور چہرے پر افسردگی کے اثرات چھائے
یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ پارلیمنٹ لاجز میں ہونے والی غیر اخلاقی حرکتوں کے متعلق جمشید دستی کو کس نے ویڈیو ثبوت اور ”ناقابل تردید“ ثبوت فراہم کیے ہیں؟ یہ سوال بھی اہم ہے کہ آخر جمشید دستی نے یہ ا یشو کیوں چھیڑا ؟ اس کے نتیجے میں جو صورتحال پیش آسکتی ہے اس کے دور رس نتائج نکل سکتے ہیں۔
دہشت گردوں کی طرف سے جنگ بندی کے اعلان کے صرف 48 گھنٹے بعد ہی دارالحکومت اسلام آباد کودہشت گردی کا نشانہ بنادیا گیا۔

مقبول ترین
حکومت نے پیپلز پارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کی منظوری دے دی۔ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں بلاول
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق آرمی چیف سے زلمے خلیل زاد اور افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر کی ہونے والی ملاقات میں علاقائی سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
لیون میں یونی ورسٹی کی چھت پر دھماکے کے نتیجے میں 3 افراد زخمی ہوگئے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانس کے شہر لیون میں یونی ورسٹی کی چھت پر دھماکے کے بعد آگ لگ گئی جس نے دیکھتے دیکھتے شدت اختیار کرلی۔
چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنے اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جج کی زندگی میں ڈرکی کوئی گنجائش نہیں۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار آج ریٹائر ہورہے ہیں، ان کے اعزاز میں سپریم کورٹ میں ریفرنس

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں