Sunday, 16 June, 2019
’’گلگت بلتستان کے منقسم رشتوں کا نوحہ‘‘

’’گلگت بلتستان کے منقسم رشتوں کا نوحہ‘‘
تحریر: شیر علی انجم

 

جنگ کسی بھی معاشرے کیلئے نہ صرف بربادی کا سامان فراہم کرتی ہے بلکہ جنگ زدہ علاقے معاشی طور پر بھی ترقی اور تعمیر کے عمل میں پیچھے رہ جاتا ہے۔ جنگوں کی وجہ سے تقسیم ہونے والے خاندانوں کے دل کی کیفیت اور کرب تو وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جنکے ماں ،باپ بہن ، بھائی جنگ کیوجہ میں ایک دوسرے سے جُدا ہوگئے اور عمر بھر ایک دوسرے سے ملنے کی تمنا دلوں میں بسائے دنیا سے رخصت ہوگئے۔ جنگ کی وجہ سے ملکوں کے درمیان منقسم خاندانوں کا درد اور دکھ تو وہی لوگ سمجھ اور محسوس کرسکتا ہے جن کے دل میں انسانیت کیلئے جذبہ اورسوچ اور فکر کیلئےضمیر زندہ ہو۔

پاکستان اور ہندوستان کے درمیان بہت ساری جنگیں لڑی جاُچکی ہے لیکن آج موضوع جنگ کی جیت اور ہار سے بالائے طاق جنگ کی وجہ سے تقسیم ہونے والے گلگت بلتستان کے ہزاروں منقسم خاندانوں کے درد کو بیان کرنا ہے۔ تقسیم برصغیر کے بعد ریاست جموں کشمیر کا شرازہ بکھیرنے کے مراحل اور مہاراجہ کشمیر کا الحاق بھارت اور گلگت بلتستان میں اس الحاق کے خلاف بغاوت اور گلگت بلتستان کو بھارت کی جولی میں جانے سے روکنے کی تاریخ ساز معرکے سے لیکر 1948 کی جنگ بندی تک کے مراحل میں صدیوں سے زبان، تہذب تمدن ،ثقافت اور مذہب کے رشتے کے بندھن میں موجود لداخ بلتستان سے الگ ہوکر ایک جسم کے دو ٹکرے ہوگئے ۔ مگر لاچار عوام نے آہوں اور سسیکوں کی آہٹ میں درد کو سہہ لیا اور زندگی کو جاری رکھنے کی کوشش کی لیکن اکہتر کا جنگ پہلے سے منقسم گلگت بلتستان کے عوام پر قیامت بن کر ٹوٹ پڑی اور ایک ہی رات میں کئی علاقے بھارت کے زیر قبضہ چلا گیا اور کئی سو گھرانے ایک دوسرے سے جُدا ہو گئے۔

اُس دن سے لیکرآج تک یہاں کے منقسم خاندان کبھی دریا کنارے کبھی پہاڑ کی بلندی پر چڑھ کر سرحد کے اُ س پار اپنے آبائی علاقوں وادیوں کا نظارہ کرکے غم کی گیت گاتے مرثیہ پڑھتے نظر آتا ہے، اس حوالے سے بہت سے ویڈیوز سوشل میڈیا پر بھی موجود ہیں۔گزشتہ ہفتے منقسم خاندانوں کے رہنما حافظ بلال زبیری نے کسی نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے اپنا درد کچھ یوں سُناتے ہوئے بیان کیا کہ وہ اُس وقت فیصل آباد کے میں زیر تعلیم تھے اور سات ماہ تک اُنہیں معلوم ہی نہیں ہوا کہ اُن کا علاقہ بھارت کے قبضےمیں چلا گیا ۔ اُنکا کہنا تھا کہ اکہتر کی جنگ میں بلتستان میں شامل علاقہ ٹیقشی،تورتک اور چھلونکھا جو 300 مربع میل پر محیط تھے ،پر ایک ہی رات میں انڈیا نے قبضہ کرلیا۔ روتے ہوئے اُنکا کہنا تھا کہ یہ درناک واقعہ صرف میرے ساتھ نہیں بلکہ ہزاروں افراد کے ساتھ پیش آیا کیونکہ اُس وقت کوئی روزگار اور کوئی تعلیم کے سلسلے میں پاکستان اور گلگت بلتستان کے مختلف شہروں میں مقیم تھے جو دردبدر ہوگئے اور 1984 تک کوئی رابطے تک کے کوئی انتظام نہیں تھے لیکن 1984 کے بعد خط اور کتابت کا سلسلہ شروع ہوئے ۔ اُنکا کہنا تھا کہ اُنہوں نے منقسم خاندانوں کو ملانے کیلئے پورے پاکستان میں تحریک چلایا بلتستان میں مسلسل احتجاج آج تک کرتے آرہے ہیں لیکن کسی بھی حکمران نے اُن کی ایک نہ سُنی۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ یہاں کے عوام گزشتہ 71سالوں سے اپنے رشتہ داروںسے جدائی کا غم برداشت کررہا ہے ۔ انسانی تاریخ کا ایک بڑا المناک المیہ ہے کہ گلگت بلتستان کے منقسم خاندان گزشتہ دہائیوں سے دیکھ رہے ہیں کہ یہ سڑک ویسے تو صرف چند کلو میٹر کی دوری پر ہے لیکن خونی لیکروں نے آج تک بھائی کو بھائی سے، بہن کو بھائی، ماں بیٹے سے اور میاں بیوی سے الگ کیا ہوا ہے لیکن انسانی بنیادوں پر ان منقسم خاندانوں کو ملانے کیلئے کوئی انتظام نہیں کیا گیا۔ منقسم خاندانوں کے رہنما حافظ بلال زبیری کا کہنا تھا کہ ہم نے حکومتوں سے یہاں تک گزارش کی تھی کہ ان منقسم خاندانوں کو ملانے کیلئے کم از کم سرحدوں کے زیرو پوائنٹ آرمی پوسٹوں پر ایک کیمپ لگا کر اپنے عزیزوں سے ملنے کا موقع فراہم کریں لیکن ہماری کسی نے نہ سُنی۔

پاکستان اور ہندوستان کے درمیان جنگوں کے باوجود بھی سرحدی رابطہ ہمیشہ سے رہا ہے ایسا کبھی نہیں ہوا کہ دونوں ملکوں کے درمیان کبھی سیاسی بیان بازی اور معاملات کشیدہ ہونے پر واہگہ بارڈر مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہو۔ بلکہ ہمیشہ سفارتی چینل کھلا رکھا جا تا ہے۔ یہاں تک کہ مظفر آباد اور سری نگر کے درمیان سرحدی کشیدگی کے باوجود ان علاقوں کے عوام کو آپس میں ملوانے کی غرض سے مظفر آبا د سری نگر سٹرک کھول دی گئی ہے۔ پونچھ اور رالاکوٹ کو رابطہ بھی کسی حد تک بحال کیا گیا۔

اس سے بڑا المیہ کیا ہوسکتا ہے کہ کرگل میں آباد کھرمنگ جسکا کرگل کی طرف راستہ 30کلومیٹر سے بھی شائد کم ہے لیکن اپنے رشتہ داروں اور اہلخانہ سے ملنے واہگہ کےذریعہ ہزاروں کلومیٹر سفر طے کرکے آنے پر مجبور ہیں اور اُس حوالے سے بھی کئی قسم کے مسائل درپیش ہیں۔ قارئین حکومت پاکستان نے ایک بہتر اور مثبت کام یہ کیا ہوا ہے کہ کرگل کے منقسم خاندانوں کو یہاں سے فون کرنے کی اجازت دی ہے لیکن ہندوستان کی ظالم اور جابر حکومت نے منقسم خاندانوں کیلئے فون کی سہولت پر بھی پابندی عائد کی ہوئی ہے۔

تحریک انصاف حکومت کی جانب سے کرتارپور سرحد کھولنے کے بعد ایک مرتبہ پھر گلگت بلتستان میں سرحدیں کھولنے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔ 

افواج پاکستان کا گلگت بلتستان کی ترقی اور تعمیر میں بہت اہم کرداررہا ہے، جو کسی سے ڈھکا چُھپا نہیں۔ مختلف قدرتی آفات کے مواقع پر حکومت کی ناکامی پر افواج پاکستان کا عوام کی خدمت اور سہولت کیلئے لاتعداد ناقابل فراموش خدمات ہیں۔ آج کل بھی گلگت بلتستان میں ایک ایسا درویش صفت انسان کو فورس کمانڈر گلگت بلتستان کی ذمہ داری ملی ہوئی ہے۔

لہذا حکومت وقت کو چاہئے کہ جس طرح سکھوں کے ساتھ انسانی اور مذہبی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کارتارپور سرحد کھولا گیا ہے باالکل اسی طرح انسانی ہمدردی کرتے ہوئے سکردو کرگل سمیت دیگر بند سڑکوں کو بھی کھولنے کیلئے اقدامات کئے جائیں تاکہ گلگت بلتستان کے 900 خاندانوں پر مشتمل 22 ہزار منقسم خاندان کو بھی آرپار اپنے عزیزوں سے ملنےکا موقع مل سکے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  29535
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
گلگت بلتستان کا ریاست جموں کشمیر سے دو سوسالہ سیاسی اور قانونی رشتے کی داستان اندوہناک بھی ہے اور عجیب غریب بھی۔ 1840 سے 1947 تک کی تاریخ میں کہیں نظر نہیں آتا کہ گلگت بلتستان اور لداخ کے لوگ مہاراجہ کی حکومت سے خوش رہا ہو
پاکستان کے زیر انتظام مسلہ کشمیر سے منسلک ریاست جموں کشمیر کی سب بڑی اور وسیع اکائی سرزمین گلگت بلتستان کی تاریخ پر بہت کچھ لکھا جا چُکا ہے۔ آج ہمارا بحث یہ نہیں ہے کہ یہ خطہ ماضی بعید میں کئی ریاستوں پر مشمل ایک عظم ملک ہوا کرتے تھے۔
گلگت بلتستان کے کل 9 اضلاع ہیں۔ کل آبادی تقریباً 15 سے 16لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ تقریباً 90فیصد آبادی خواندہ ہے۔ گلگت بلتستان میں شیعہ، سنی، اسماعیلی اور نور بخشی کے لوگ آباد ہیں۔ ٹوٹل آبادی کا تقریباً 60فیصد حصہ شیعہ آبادی پر مشتمل ہیں۔ 20فیصد تک
خطہ گلگت بلتستا ن محل وقوع کے اعتبار سے تاریخی حیثیت کا حامل ہے ، یہ خطہ پاکستان کے مستقبل ، سی پیک اورملکی ترقی کادارومدار میں اہم کردار ادا کرنے جارہاہے۔ اس خطہ کے پُرامن ،دلیر اور پاکستان سے محبت کر نیوالی قوم ایک طویل مدت

مقبول ترین
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ جتنے کیس بنانے ہیں بنا لیں، میرے پورے خاندان کو جیل بھیج دیں، 1973 کے آئین، عوامی حقوق، لاپتاافراد ، سول کورٹس اور 18ویں ترمیم پر موقف نہیں بدلیں گے۔
قومی احتساب بیورو (نیب) نے میگا منی لانڈرنگ کیس میں سابق صدر آصف علی زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور کو گرفتار کر لیا ہے۔ نیب نے فریال تالپور کے طبی معائنہ کیلئے ڈاکٹرز کی ٹیم کو طلب کر لیا ہے، انھیں کل احتساب عدالت میں پیش
سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ عمران خان کا وقت پورا ہوچکا ہے اور وہ جلد انجام کو پہنچنے والے ہیں۔ کوٹ لکھپت جیل میں مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے سابق وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کی، اس موقع پر رہنماؤں سے
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں اننت ناگ سے گزرنے والے بھارتی سیکیورٹی فورس (سینٹرل ریزرو پولیس فورس) کے قافلے پر 2 مسلح افراد نے فائرنگ کردی، ملزمان فائرنگ کے بعد فورسز کی گاڑی پر دستی بم بھی پھینک گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں