Saturday, 19 September, 2020
میعار دوستی

میعار دوستی
ملک فیصل ایچ نتھوکہ

از بزم جہاں خوشتر، از حوروجناں خوشتر

یک ہمدم فرزانہ و زبادہ دو پیمانہ     
در میکدہ ہا دیدم شائستہ حریف نیست
با رستم دستان زن با مخبچہ ہاکم زن 
جس طرح ایک انسان کی عملی زندگی میں ہر شے کے میعار معین ہوتے ہیں بالکل اسی طرح دوستی کے بھی میعار ہونے چاہیں کیونکہ دوستی یا حلقہ احباب انسان کا اصلی تعارف ہوتے اور انسان اپنی کمپنی یا سوسائٹی سے پہجانا جاتا۔ اور یہ سچ بات ہے آپ چالیس روز تک کسی الگ مزاج کے دوستوں میں یا محافل میں بیٹھنا شروع کر دیں آپ کے اندر اس مزاج کی جھلک آنا شروع ہو جائے گی۔ جو کہ نہ چاہتے ہوئے بھی آپ چھپا نہیں سکتے۔ مشہور محاورہ ہے کہ خربوزہ ، خربوزہ کو دیکھ کر رنگ بدلتا ہے۔ نیک اور صالح دوست کی معیت اور صحبت آپ کو نیک بنا دے گی جبکہ بدکار اور برے دوست کی صحبت آپ کو برائی کی طرف لے جائے گی۔  
کوئی بھی انسان بچپن سے ہی اپنے دوست بنانا شروع کر دیتا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اس کے دوست بنانے کا میعار بدلتا رہتا ہے کیونکہ فطرت کا تقاضا ہے کہ انسان کا عمر کے ساتھ ساتھ  انسان کا شعوراور فہم بھی بڑھتا ہے اور یوں اس کو جو دوست برے لگتے یا ناپسندیدہ ہوتے وہ انہیں چھوڑ دیتا یا دوری اختیار کر لیتا ہے یا یوں بھی کہہ سکتے کہ بعض دفعہ آپ کو بھی کچھ دوست چھوڑ جاتے ۔ دوستی کا معیار کیا ہونا چاہیے عزیزان پہلا معیار دوستی کا قرب خداوندی ہونا چاہیے کہ ایسا دوست جس کے پاس جانے سے آپ خود کو اللہ کے نزدیک سمجھیں نہ کہ مال و دولت والا دوست اچھا سمجھا جائے ایسا دوست جس کے پاس گاڑی ہے آیا وہ سب سے اچھا دوست ثابت ہو سکتا  نہیں قطعاً نہیں ۔ ضروری نہیں ہے دوستی کے میعار میں انسان کو انتہائی احتیاط سے کام لینا چاہیے اور ایسا دوست جس کے کردار سے آپ کو اچھائی کی خوشبو آئے جو اپنے عزیز و اقارب کے لئے امن اور اچھائی کا خیال رکھتا ہو۔  کبھی بھی ذلیل لوگوں سے دوستی مت کریں کیونکہ وہ آپ کی ذلالت کا بھی باعث بنے گا۔ ہمیشہ عقلمند اور بہادر لوگوں سے دوستی رکھیں اس طرح آپ کے اندر بھی ایسے خواص پیدا ہو ں گے ایسے میں معاشرہ آپ کو بھی وہ مقام دے گا جو آپ کی محفل کا ہو گا۔  بقول اقبال ؒ کہ دنیا کی محفل اور حور و جنت سے بہتر ہے ایک عقل مند دوست کا ملنا اور اس کے ساتھ بادہ(دارو،شراب) کے دو پیمانے پینا اور اقبالؒ کہتے ہیں کہ  میں نے میکدے میں دیکھا مجھے کوئی شائستہ (زبردست) ساتھی نظر نہیں آیا. تو دستاں  کے بیٹے رستم (بہادرلوگوں) کے ساتھ بیٹھ کے پی یعنی تیرا معیار یہ ہونا چاہیے کہ رستم جیسے لوگوں کے ساتھ بیٹھ ، ذلیل لوگوں کے ساتھ بیٹھ کے نہ پی کیونکہ وہ تیری ذلالت کا باعث بنیں گے۔ کیونکہ ایسے لوگوں سے سوائے ذلالت کے کچھ نہیں ملے گا۔ بظاہر ان سے دوستی نمود و نمائش والی ہو سکتی لیکن اس کا باطن بہت تکلیف دہ ہو سکتاہے۔اور پچھتانا پڑ سکتا جیسے کہ قرآن الحکیم کی سورہ فرقان آیت نمبر ۲۸ میں ارشاد ہوا ہےٍٍ(  کہ اے کاش میں نے فلاں شخص کو دوست نہ بنایا ہوتا) یعنی انسان روز حشر یہ فریاد کرے گا۔قارئین برے دوست کی دوستی شاید اس دنیا میں مالی و معاشرتی حوالے سے سودمند ہو بھی جائے مگر آخرت میں کہیں ہم اس آیت کا مصداق نہ بن جائیں۔  خود کو برے دوستوں سے بچائیں اور خود کو ایک اعلی کردار کی حامل شخصیت بنائیں تاکہ دوسرے لوگ آپ سے استفادہ کر سکیں ۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  24783
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
آج کل پاک چین دوستی کے 65 سال مکمل ہونے کی تقریبات پورے ملک میں منائی جا رہی ہیں اور ہماری حکومت اس سلسلے میں بڑی مستعد ہے۔ کہیں پاکستان اور چین کے جھنڈے باہم آویزاں ہیں

مزید خبریں
کورونا وائرس پاکستان ہی نہیں ہی دنیا بھر میں اپنی پوری بدصورتی کے ساتھ متحرک ہے ، تشویشناک یہ ہےاس عالمی وباء کے نتیجے میں ہمارے ہاں اموات کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا،
کی سڑک کے کنارے ایک ہوٹل میں چائے پینے کے لیے رکا تو ایک مقامی صحافی دوست سے ملاقات ہوگئی جنہیں سب شاہ جی کہتے ہیں سلام دعا کے بعد شاہ جی سے پوچھا کہ ٹیکنالوجی کی وجہ سے پاکستان کتنا تبدیل ہوچکا ہے تو کہنے لگے کہ سوشل میڈیا کی وجہ سےعدم برداشت میں بہت اضافہ ہوا ہے۔
میرے پڑھنے والو،میں ایک عام سی،نا سمجھ ایک الہڑ سی لڑکی ہوا کرتی تھی، بات بات پہ رو دینا تو جیسے میری فطرت کا حصہ تھا، اور پھربات بے بات ہنسنا میری کمزوری، یہ لڑکی دنیا کے سامنے وہی کہتی اور وہی کرتی تھی جو یہاں کے لوگ سن اور سمجھ کر خوش ہوتے تھے
صبح سویرے اسکول جاتے وقت ہم عجیب مسابقت میں پڑے رہتے تھے پہلا مقابلہ یہ ہوتا تھا کہ کون سب سے تیز چلے گا دوسرا شوق سلام میں پہل کرنا۔ خصوصاً ساگری سے آنیوالے اساتذہ کو سلام کرنا ہم اپنے لیے ایک اعزاز تصور کرتے تھے۔

مقبول ترین
ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے کہا کہ امریکی رپورٹ میں پاکستان کے دہشت گردی کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات کو متنازع بنایا گیا ہے۔ القاعدہ کی خطے میں ناکامی کو تو تسلیم کیا گیا لیکن اس کے خلاف پاکستان کی کاوشوں کو نظر انداز کیا گیا۔ پاکستان میں
رینٹل پاور کیس میں سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف سمیت 10 ملزمان نے بریت کی درخواست دائر کر رکھی تھی اور نیب ترمیمی آرڈیننس کے تحت تمام درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔ جس پر احتساب عدالت اسلام آباد نےفیصلہ محفوظ کر رکھا تھا تاہم آج احتساب
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہم سے جواب مانگا جارہا ہے جواب ان سے مانگا جائے جو ملک کو اس حال میں چھوڑ کرگئے۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد
سپریم کورٹ میں کورونا از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوان چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ وزیراعظم کہتےہیں ایک صوبے کا وزیراعلیٰ آمر ہے، اس کی وضاحت کیا ہوگی؟ چیف جسٹس نے کہا کہ وزیراعظم اور وفاقی

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں