Friday, 10 July, 2020
عزت

عزت
ڈاکٹرعاطف افتخار

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عزت کے معیار تبدیل ہوچکے ہیں۔ ساگری تحصیل راولپنڈی کا چھوٹا سا قصبہ ہے جو کہ ہمارے گاوں توپ مانکیالہ سے تین کلومیٹر دور ہے۔ سن انیس سو نوے قریباً تیس برس قبل جب ہم نے اسکول جانا شروع کیا تو اس وقت بھاری بھرکم بستے ہوتے تھے نہ ہی گاڑیوں میں اسکول جانے کا رواج۔ ہمارے گاوں کے اختتام پر ہی ایک سرکاری مڈل اسکول واقع ہے جس کے بعد ساگری کے لیے ایک غیر آباد اور قدرے طویل راستہ شروع ہو جاتا ہے اسی راستے پر ساگری (قصبہ) سے آنیوالے مختلف اساتذہ سے ملاقات ہوتی تھی ملاقات کیا تھی بس آمنا سامنا ہوتا تھا کیونکہ توپ مانکیالہ سرکاری اسکول کی طرف آنے والے اساتذہ ساگری کی طرف سے آ رہے ہوتے جبکہ ہم ساگری کی طرف جا رہے ہوتے تھے۔ پیدل چلنے والوں سے راستے بارونق رہتے تھے گاڑیاں اور موٹر سائیکل اس وقت تک عام نہ تھے۔

صبح سویرے اسکول جاتے وقت ہم عجیب مسابقت میں پڑے رہتے تھے پہلا مقابلہ یہ ہوتا تھا کہ کون سب سے تیز چلے گا دوسرا شوق سلام میں پہل کرنا۔ خصوصاً ساگری سے آنیوالے اساتذہ کو سلام کرنا ہم اپنے لیے ایک اعزاز تصور کرتے تھے۔ مڈل تک پرائیوٹ اسکول میں تعلیم حاصل کرنے بعد میٹرک کے لیے گورنمنٹ بوائز ہائیر سیکنڈری اسکول ساگری میں داخلہ لے لیا۔ جہاں ہمیں سجاد ملک صاحب، شاہ زوار صاحب، سعید صاحب (مرحوم) فرخ صاحب (مرحوم) یعقوب صاحب، ندیم صاحب، قاضی اعجاز صاحب، منور حسین صاحب، حبیب صاحب اور دیگر اساتذہ سے تعلیم حاصل کرنے کا شرف نصیب ہوا۔

اس لمبی کہانی کا مقصد عہد رفتہ کی خوشگوار یادوں کو تازہ کرنے کے ساتھ ساتھ ان عظیم ہستیوں کو خراج عقیدت پیش کرنا بھی ہے جن کو رول ماڈل بناتے ہوئے ہم نے اپنے مستقبل کی راہیں متعین کی تھیں۔ صاف شفاف لباس میں قریبی محلوں اور دیہاتوں سے پیدل روانہ ہونے والے روشن چہرے جب تک سرکاری اسکول کے گیٹ تک پہنچتے تو راستے میں کتنے ہی افراد جھک کر، ماسٹر صاحب، استاد جی کہتے ہوئے انہیں سلام عقیدت گویا خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے نہ تھکتے تھے اساتذہ کی اس وجاہت اور متانت کو دیکھتے تو دل ہی دل میں سوچتے کہ کیا ہم بھی کبھی تعلیم مکمل کرنے کے بعد معلم بن سکیں گے؟ میرے بہت سے ہم جماعتوں نے ساگری اسکول سے میٹرک کرنے کے بعد تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا اور اپنی زندگی میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ آج جب میں اپنے گزرے ہوئے ماضی پر نظر دوڑاتا ہوں تو اپنے لیے قابلیت میں جس بات کو نمایاں تصور کرتا ہوں جو کہ ہماری کامیابی کی ضمانت بنی تو وہ فقط اساتذہ کی عزت ہے۔

اساتذۃ کی عزت کرنا اور ان کو اپنے لیے رول ماڈل تصور کرنے کی ایک بڑی وجہ میرے نانا مرحوم ماسٹر علی احمد صاحب تھے۔ فرمایا کرتے تھے پڑھو اپنے لیے عزت لوگ کرتے ہیں۔ گفتگو کرتے وقت کسی کو تم کہہ کر مخاطب نہ کرتے۔ دھیما مزاج، عقل و دانش کی باتیں، طویل نشستیں، لطیفے اور مزاح اس قدر بھرپور کے نانا مرحوم کی رفاقت میں کزنز رات بھر بیٹھے ان کی باتیں سنتے رہتے گویا کہ سردیوں کی طویل راتیں بھی مختصر معلوم ہوتیں۔ سردیوں اور گرمیوں کی چھٹیوں کا انتظار اس لیے بھی رہتا کہ بہت سے ایام نانا جان کی رفاقت میں گزریں گے۔ بچپن سے ہی میرے ذہن پر یہ بات نقش ہو چکی تھی کہ ایک ٹیچر سے قابل کوئی شخصیت ہو سکتی ہے نہ پیشہ۔ تحت الشعور یا لاشعور میں اس پیشہ کی قدر و منزلت اس حد تک راسخ ہو چکی تھی کہ بالآخر یہی پیشہ میری شناخت بن گیا۔

لیکن آج کے جدید دور میں اوپر بیان کی گئی باتیں محظ ایک افسانہ بن چکی ہیں۔ عزت اور بالخصوص استاد کی عزت کا تصور کہیں دھندلا چکا ہے۔ ہر شے کا معیار مال و دولت اور طاقت بن چکے ہیں۔ وہ دور گیا کہ جب لوگ معلم کی عزت کی کیا کرتے تھے، حتی کہ امام مسجد کا کوئی مقام و مرتبہ ہوا کرتا تھا۔ آج عزت ہے تو فقط مالداروں کی اور یہ شرط نہیں کہ مال کس طریقے سے کمایا گیا۔ حلال و حرام کے تصور کو پامال کرتے ہوئے غریبوں، یتموں رشتہ داروں کی حق تلفی کرتے ہوئے، کرپشن کرتے ہو۔ جب بہت سے افراد دولت کی فراونی سے لبریز ہوتے ہیں تو قدرو منزلت کے مینار تصور کیے جاتے ہیں اسکے علاوہ عزت کے تمام معیار ماند پڑ چکے ہیں۔ پھر وہ مال کو پاک کرنے کے لیے خیرات کردیتے ہیں اور محفل میلاد کا انعقاد بھی ہو جاتا ہے لمبے چوڑے نام رکھ لیے جاتے ہو اور تقوی کی تمام تر مہریں اشتہاروں پر بھی چھپ جاتی ہیں لیکن یہ دھوکہ کس سے یقیناً خود سے۔ وہ کریم ذات تو شہ رگ سے بھی قریب ہے مہلت دیتا ہے لیکن بالآخر رسی کھینچ لیتا ہے اور مٹی کے نیچے مٹی کے اوپر کیے گئے مظالم کا حساب شروع کر دیتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  63518
کوڈ
 
   
مزید خبریں
کورونا وائرس پاکستان ہی نہیں ہی دنیا بھر میں اپنی پوری بدصورتی کے ساتھ متحرک ہے ، تشویشناک یہ ہےاس عالمی وباء کے نتیجے میں ہمارے ہاں اموات کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا،
کی سڑک کے کنارے ایک ہوٹل میں چائے پینے کے لیے رکا تو ایک مقامی صحافی دوست سے ملاقات ہوگئی جنہیں سب شاہ جی کہتے ہیں سلام دعا کے بعد شاہ جی سے پوچھا کہ ٹیکنالوجی کی وجہ سے پاکستان کتنا تبدیل ہوچکا ہے تو کہنے لگے کہ سوشل میڈیا کی وجہ سےعدم برداشت میں بہت اضافہ ہوا ہے۔
میرے پڑھنے والو،میں ایک عام سی،نا سمجھ ایک الہڑ سی لڑکی ہوا کرتی تھی، بات بات پہ رو دینا تو جیسے میری فطرت کا حصہ تھا، اور پھربات بے بات ہنسنا میری کمزوری، یہ لڑکی دنیا کے سامنے وہی کہتی اور وہی کرتی تھی جو یہاں کے لوگ سن اور سمجھ کر خوش ہوتے تھے
عزیزان۔۔۔! بہت آسان ہے ہر رات ٹی وی ڈرامہ کا انتخاب کرنا یا کسی فلم کو دیکھنے کے لیے دیر تک جاگنا۔۔ بہت مشکل ہے ٹھنڈی اور تاریک رات میں اپنے بچوں اور والدین سے دور برفباری جیسے موسم کے اندر اپنا فرض نبھانا۔۔

مقبول ترین
لاہور۔ کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈائون میں بھارت کے مختلف شہروں میں پھنسے80 پاکستانی شہری جبکہ پاکستان میں مقیم 114 بھارتی شہری واپس لوٹ گئے۔
پنجاب حکومت نے لاہور کے شمال میں نیا شہر بسانے کیلئے علیحدہ اتھارٹی کے قیام کا فیصلہ کیا ہے جس کے چیئرمین وزیراعلیٰ عثمان بزدار ہوں گے۔ پنجاب حکومت اتھارٹی کے قیام کیلئے آرڈیننس جاری کرے گی جو نیا شہر بسانے کے لیے کام کرے گی۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے چیئرمین نے کہا ہے کہ نجکاری کے باوجود کے الیکٹرک میں بہتری نہیں آ رہی۔ کے الیکٹرک نے گیارہ مہینے سے گرڈ اسٹیشنز کو اپ گریڈ نہیں کیا، اضافی بجلی اٹھانے کی صلاحیت نہیں۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ قومی ادارے ایک پیج پر نہیں، سیاسی جماعتیں اس وقت ریاست کی بقا کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ مولانا فضل الرحمان کا اے پی سی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اس وقت ملک

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں