Friday, 06 December, 2019
ایران: صدارتی انتخابات، امیدواروں کے درمیان سخت مقابلے کا امکان

ایران: صدارتی انتخابات، امیدواروں کے درمیان سخت مقابلے کا امکان
انٹرویو: مرتضیٰ عباس

 

مبصر ڈاٹ کام نے ہمسایہ و برادر اسلامی ملک ایران میں صدارتی انتخابات کی موجودہ صورتحال پر پاکستان کے مختلف صحافیوں اور تجزیہ کاروں سے خصوصی گفتگو کی ہے جو قارئین کی خدمت میں پیش کی جارہی ہے۔

مبصر: 19مئی کو ایران میں بارہویں صدارتی انتخابات منعقد ہورہے ہیں، آپ ان انتخابات کو عالمی منظر نامے میں کس طرح دیکھتے ہیں؟
نادر بلوچ: ایران میں بارہویں صدارتی انتخابات جون کے بجائے مئی میں منعقد ہونے جارہے ہیں ، الیکشن اپنے حتمی مرحلے میں داخل ہوچکا ہے، چھ میدواروں میں سابق صدرڈاکٹر حسن روحانی، اسحاق جہانگیری، اصلاح پسند کے مصطفی ہاشمی، اصول پسند جنہیں قدامت پسند بھی کہا جاتا ہے، کے تین رہنما ڈاکٹر سید ابراہیم رئیسی، تہران کے موجودہ مئیر محمد باقر قالیباف، سید مصطفی آقا میر سلیم میدان میں ہیں۔اس الیکشن مہم کی خاص بات یہ ہے کہ آج دن تک تین مباحثے ہوچکے ہیں ،اب تک کی صورتحال کے مطابق مقابلہ ون آن ون یعنی دو امیدواروں میں ہوگا ان میں سے ایک ڈاکٹر حسن روحانی اور دوسرے روضہ امام رضا کے متولی اور مشہد کے مئیر ڈاکٹر سید ابراہیم رئیسی ہیں۔

اس سلسلے میں ایک اہم پیش رفت یہ ہے گزشتہ شام پانچ بجے صدارتی امیدوار تہران کے مئیر محمد باقر قالیباف ڈاکٹر سید ابراہیم رئیسی کے حق میں دستبردار ہوگئے ہیں اور انہوں نے اپنے ووٹرز سے کہا ہے کہ وہ سید ابراہیم رئیسی کے حق میں ووٹ کاسٹ کریں اور ان کے جلسوں میں شرکت کریں لہذا کل اصفہان کے جلسے کو تاریخی جلسہ قرار دیا جارہا ہے جس نے ایران الیکشن پر ہونے والے تجزیوں اور تبصروں کی کایا ہی پلٹ دی ہے۔ ایک ذرائع کے مطابق جلسے میں دو لاکھ اصفہانیوں نے شرکت کی ہے جبکہ اس سے ایک روز قبل ڈاکٹر حسن روحانی کے جلسے کا تقابل کیا جائے تو اس میں تیس اور ستر فیصد کا تناسب قائم کیا جارہا ہے۔ اس صورتحال سے یہ تاثر لیا جارہا ہے ابراہیم رئیسی کا ووٹ بنک بڑھ رہا ہے۔دستبردار ہونے والے محمد باقر قالیباف کا مقبولیت اور ووٹ بنک کا تناسب 26سے 30فیصد بتایا جارہا تھاجو سید ابراہیم رئیسی کے حق میں جارہا ہے۔

عالمی تناظر میں اس الیکشن کی اہمیت بہت ہے گزشتہ الیکشن میں ڈاکٹر حسن روحانی نے وعدہ کیا تھا کہ سو دنوں میں وہ ملک و عوام کے مسائل حل کریں گے جو وہ چار سالوں میں مکمل نہیں کرسکے۔ ڈاکٹر حسن روحانی کا تمام ووٹ بنک پڑھا لکھا طبقہ ہے اور اس دفعہ میرے خیال میں انہیں ووٹ کاسٹ نہیں کرے گا۔اس الیکشن میں ووٹ کاکردگی کی بنیاد پر پڑے گا۔ڈاکٹر حسن روحانی کے دور حکومت کے عالمی اور ایٹمی معاہدوں کے اثرات اور فوائد عوام تک نہیں پہنچے۔مہنگائی اور ڈالر کی قیمتوں پر بھی کنٹرول نہیں کیا جاسکااور بے روز گار طبقے کو بھی روزگار مہیا نہیں ہوسکا۔اس الیکشن میں معیشت کو مدنظر رکھ کر ووٹ کاسٹ کیا جارہا ہے۔

ایک سروے رپورٹ کے مطابق چار فیصد افراد خارجہ پالیسی کی بنیاد پر ووٹ دینا چاہتے ہیں جبکہ 86فیصد افراد معیشت اور اقتصادیات کی بنیاد پر ووٹ دینا چاہتے ہیں، لہٰذا اس صورتحال کے پیش نظر ڈاکٹر حسن روحانی کی گزشتہ چار سال کی کارکردگی نہایت اہم ہے۔

اسی طرح تیسرے امیدوار سید مصطفی آقا میر سلیم نے ٹویٹ کے پیغام میں کہا ہے کہ وہ محمد قالیباف کے ابراہیم رئیسی کے حق میں بیٹھنے کے فیصلے کو سراہتے ہیںیہ بہت بروقت اور اہم فیصلہ ہے،ان کے اس ٹویٹ سے اندازہ لگایا جارہا ہے کہ ہو سکتا ہے آئندہ دو دنوں میں وہ بھی ان کے حق میں بیٹھ جائیں۔پاپولیریٹی کے گراف کے مطابق حسن روحانی 41فیصد پر ہیں اور سید ابراہیم رئیسی کو 29فیصد لوگ پسند کرتے ہیں جبکہ گزشتہ روز کے جلسے سے ان کی مقبولیت میں تین سے چار فیصد کا اضافہ ہوا ہے ۔اسی طرح محمد باقر قالیباف کا مقبولیت کا گراف 26فیصد کے لگ بھگ تھا جو کہ سید ابراہیم رئیسی کے حق میں شفٹ کرگیا ہے۔ تازہ ترین مقبولیت کے گراف کے مطابق سید ابرہیم رئیسی کا گراف 46فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ لہٰذا یہ مقابلہ ون آن ون ڈاکٹر حسن روحانی اور سید ابراہیم رئیسی کے مابین ہوگا اور 19مئی کو ایرانی عوام اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرتے ہوئے جمہوری عمل کو مکمل کریں گے۔

مبصر: آپ ایران میں جمہوریت کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

سید اسد عباس تقوی: اسلامی جمہوریہ ایران دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں عوامی رائے کو بے پناہ اہمیت دی جاتی ہے ، ایران نے شہنشاہیت سے اسلامی انقلاب کا سفر جمہوری طریقے سے طے کیا ۔ امام خمینی نے انقلاب کی کامیابی کے بعد ملک میں ریفرینڈم کروایا اور لوگوں سے سوال کیا گیا کہ وہ کونسا نظام حکومت چاہتے ہیں ۔ ملک کی ۹۸فیصد آبادی نے اسلامی جمہوریت کے حق میں ووٹ دیا ۔ ایران میں بہت سے ادارے براہ راست عوامی رائے دہی سے تشکیل پاتے ہیں جن میں پارلیمنٹ ، مجلس خبرگان ، دیہاتی کونسلز شامل ہیں ۔ اسی طرح ملک کے اہم ترین مناسب پر بھی افراد رائے شماری سے ہی متعین ہوتے ہیں ۔ ایران کا رہبر عوامی ووٹ سے منتخب ہونے والی مجلس خبرگان کا چنیدہ فرد ہوتا ہے اسی طرح ملک کا صدر براہ راست عوامی ووٹوں سے منتخب ہوتا ہے۔ ایران دنیا کے ان چند ممالک میں سے ہے جہاں ووٹنگ ٹرن آوٹ ساٹھ فیصد سے زیادہ ہوتا ہے۔ ایرانی عوام انتخابات میں اپنی قومی و مذہبی ذمہ داری سمجھتے ہوئے ووٹ کا حق استعمال کرتی ہے اور تشکیل پانے والے ادارے اور افراد حقیقی معنوں میں عوامی نمائندے اور عوام کے سامنے جوابدہ ہوتے ہیں ۔

مبصر: اس ساری صورتحال کو عالمی طور پر کیسے دیکھا جا رہا ہے؟
زکی عباس شاہ: دیکھیں ابھی حال ہی میں فرانس میں الیکشن ہوئے ہیں جہاں ایک نوجوان قیادت ماکرون کی صورت میں سامنے آئی ہے اس سے پہلے کنیڈا میں جسٹن ٹروڈو جیسی معتدل شخصیت کا سامنے آنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پوری دنیا کے عوام سرمایہ دارانہ نظام اور اس کی بد انتظامیوں اور حق تلفیوں سے تنگ آ چکی ہے۔ اگرچہ میری اس بات کی رد میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ امریکی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی فتح ایک سرمایہ دار کی جیت ہے جسے قدرے ہچکچاہٹ اور احتجاج کے ساتھ  خود امریکیوں اور باقی دنیا کو قبول کرنا پڑا۔ اب اگر ہم ایران کی بات کریں تو جو چھ امیدوار انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں ان سب کو ہی عالمی سطح پر انفرادی طور پر اگر ایران کی استعمار مخالف پالیسیوں کی وجہ سے پذیرائی نہیں ملی ہے مگر ان پر اب تک انتخابات کے آخری مرحلے میں کوئی انگلی بھی نہیں اٹھا سکا ہے۔ 

مبصر: ایرانی انتخابات کا پاک ایران تعلقات پر کیا اثر پڑیگا؟
نادر بلوچ: پاک ایران تعلقات دو حکومتوں نہیں بلکہ دو ریاستوں کے درمیان ہیں پاکستان کی جغرفیائی اہمیت اور ایران کی اپنی ایک اہمیت ہے جس کی وجہ سے دونوں ملکوں کے مابین مضبوط تعلقات استوار ہیں۔ہمارے ایران کے ساتھ ثقافتی، تاریخی، اسلامی ، بھائی چارہ اور تجارتی تعلقات ہیں اور عوامی سطح پر ہمیشہ یہ مقبول رہے ہیں۔ دونوں ملکوں کے عوام ایک دوسرے کو چاہتے ہیں اور احترام کرتے ہیں۔لہذا تعلقات پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔حالیہ سرحدی تنازعات میں سی آئی اے اور سعودی الائنس پیچھے ہوسکتا ہے جو پاک ایران تعلقات کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔سعودی وزیر دفاع کا بیان اس لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے وہ یہ انتظار نہیں کریں گے کہ جنگ ان کے ملک میں آئے بلکہ وہ ایران کی سرحدوں پر اور ایران کے اندر لے جائیں گے۔جب ایران کے اندر جنگ داخل کرنے کی بات آتی ہے تو اگر دفاعی تجزیہ نگار کے طور پر دیکھا جائے تو سمجھ آتی ہے کہ وہ ایران کی سرحدوں پر حالات خراب کررہے ہیں۔ دونوں ملکوں کی قیادتیں یہ سمجھتی ہیں کہ اس کے پیچھے کون لوگ ہیں؟ پاکستان نہیں چاہتا کہ ایران کے اندر حالات خراب ہوں اور نہ ایران چاہتا ہے کہ پاکستان کے بلوچستان میں حالات خراب ہوں۔دونوں ملک ایک د وسرے کی سرحدوں کا احترام کرتے ہیں اور حالات کا خراب ہونا کسی بھی ملک کے لیے فائدہ مند نہیں ہے۔جیسے پاکستان کے لیے کابل میں امن کا ہونا سازگار ہے اسی طرح ایران کے لیے بلوچستان میں امن کا ہونا سازگار ہے۔

مبصر: ایرانی جمہوری نظام میں چیک اینڈ بیلنس کے حوالے سے آپ کا کیا نقطہ نظر ہے؟
سید اسد عباس تقوی: جمہوری نظام حکومت میں چیک اینڈ بیلنس نہایت اہم ہے ۔دنیا میں قائم ہر جمہوریت میں اس طرح کا نظام موجود ہے ۔ پاکستان میں ایسے قوانین موجود ہیں جو انتخابات میں حصہ لینے والے افراد کی اہلیت کو جانچنے کے لیے بنائے گئے ہیں یہ الگ بات ہے کہ ان قوانین پر عمل درآمد نہیں ہوتا ۔ اسی طرح دنیا کی مختلف جمہوریتوں میں انتخابی عمل پر چیک اینڈ بیلنس رکھا جاتا ہے۔ امریکاجو ایک بڑا جمہوری ملک ہیں وہاں الیکٹورل کالج کی تشکیل سے انتخابی عمل پر چیک اینڈ بیلنس رکھا جاتا ہے ۔ عوام براہ راست صدر کو ووٹ نہیں دیتے بلکہ الیکٹورل کالج کو منتخب کرتے ہیں یہ الیکٹورل کالج امریکی صدر کا انتخاب کرتاہے ۔ اسی طرح ایران میں مجلس خبرگان کی صورت میں ایک ادارے قائم ہے جو صدارتی امیدوار کی اہلیت کی جانچ پرکھ کے بعد اسے انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دیتاہے ۔ لہذا انتخابی عمل پر نظارت کو ئی اچھنبے کی بات نہیں ہے۔

مبصر: پاک ایران تعلقات کے تعلقات پر ان انتخابات کا کیا اثر ہو گا؟
زکی عباس شاہ: میں پاکستان اور ایران کے تعلقات کے بارے میں ماضی بعید کی بات نہیں کروں گا بلکہ ماضی قریب میں جس طرح پاکستان کے وزیراعظم نے یہ بیان دیا کہ ہم ایران سے گیس پایپ لائن منصوبہ پر نظر ثانی کریں گے۔ اس بیان سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں گرم جوشی نہیں رہی۔ یہی سلسلہ اب تک جاری ہے۔ اگرچہ ایران کے سابق صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے پاکستان کا دورہ کر کے تعلقات میں موجود سرد مہری کو ختم کرنے کی کوشش کی مگر بدقسمتی سے حالات بہتر نہیں ہو سکے۔ میری ناقص رائے میں دونوں ممالک کے سربراہان کو چاہیے کہ بات چیت کے ذریعے جو غلط فہمیاں جنم لے چکی ہیں ان کو دور کیا جائے اور تجارتی بنیادوں پر تعلقات کو استوار کریں۔ 

اس سال ایران میں بھی ایک نئی قیادت سامنے آنے کی توقع ہے اور اگلے سال پاکستان میں بھی انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔ ایسے میں دونوں ممالک کی جمہوری طاقتوں کے لیے یہ امتحان ہو گا کہ ان تعلقات کو بہتر صورت میں چلایا جا سکے۔ 

مبصر : چھ امیدوار مد مقابل ہیں ، آپ کے خیال میں جیت کا سہرا کس کے سر سجے گا؟
نادر بلوچ: آپ نے چھ امیدواروں کے حوالے سے بات کی ہے تو ان میں سے ایک امیدوار قالیباف صاحب بیٹھ گئے ہیں اور ایک امیدوار سید میر سلیم ایک دو دن میں ابراہیم رئیسی صاحب کے حق میں بیٹھ جائیں گے ۔ اسحاق جہانگیری اور مصطفی ہاشمی طبا آنے والے دنوں میں یہ فیصلہ کریں گے کہ کون کھڑا رہے اور کون بیٹھ جائے اور اگر جہانگیری صاحب کھڑے رہے تو ووٹ بنک تقسیم ہوگاجس کا فائدہ ابراہیم رئیسی صاحب کو ہوگا ۔ 

اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر آپ پچھلے الیکشن کو بھی اگر دیکھتے ہیں تو ڈاکتر حسن روحانی بہت بڑے مارجن سے نہیں جیتے تھے یعنی وہ ۵۱ فیصد ووٹ بھی نہیں حاصل کر پائے تھے۔ جبکہ انقلابی دھڑے جنہیں اصول گراں کا نام بھی دیا جاتا ہے، کہ پانچ امیدوار تھے۔ اس طرح ووٹ پانچ لوگوں میں تقسیم ہو گئے تھے اور دوسرے نمبر پر قالیباف صاحب کے ووٹ آئے تھے جو کہ رئیسی صاحب کے حق میں بیٹھ گئے ہیں۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے کانٹے دار مقابلہ سابق صدر ڈاکٹر حسن روحانی اور ابراہیم رئیسی صاحب کے مابین ہوگا۔ یہاں میں یہ بات کہنا چاہوں گا کہ سابق صدر کی گزشتہ کارکردگی ابراہیم رئیسی صاحب کے حق میں جاتی ہے۔ 

مبصر: چھ امیدواروں میں کس کا پلڑا بھاری نظر آرہا ہے؟
زکی عباس شاہ: دیکھیں جی، جہاں تک ایران کے صدارتی امیدواروں کا تعلق ہے تو سب کے سب امیدواروں کا ماضی اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ان سب امیدواروں میں لیڈر شپ کوالٹی پائی جاتی ہے اور یہ سب ایرانی عوام کی سربراہی کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں مگر ظاہر ہے صدر کا عہدہ کسی ایک کو ہی سنبھالنا ہوگا۔ اگر زمینی حقائق کا جائزہ لیا جائے تو ابراہیم رئیسی صاحب کو اخلاقی طور پر برتری حاصل ہے کیونکہ وہ حضرت امام رضا (ع) کے حرم کے متولی ہیں۔ 

مبصر: دنیا کے دیگر ممالک اور ایران کے انتخابات میں کیا بنیادی فرق ہے؟
نادر بلوچ : اگر ہم ایران میں انتخابا ت کے حوالے سے بات کریں تو ایران کے آٹھ یا دس سالہ جنگ کے دوران بھی انتخابات ملتوی نہیں ہوئے۔ یعنی ایران میں جمہوری عمل کبھی ڈی ریل نہیں ہوا اور ایران میں عوامی رائے کو اہمیت دی جاتی ہے اور عوامی امنگوں کے مطابق حکومتیں تشکیل پاتی ہیں۔ ایرانی انتخابات کی دوسری اہم بات شفافیت سے متعلق ہے۔ ایران کے رہبر اعلیٰ سید علی خامنہ ای کی سرپرستی میں انتخابات کا انعقاد عمل میں لایا جاتا ہے اور رہبر کسی بھی امیدوار کے حق میں یا مخالفت میں کوئی بیان نہیں دیتے بلکہ غیر جانب دار رہتے ہوئے الیکشنز میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں ۔ اس حوالے سے ان کا کردار بہت واضح ہے جبکہ ہم دوسرے ممالک میں دیکھتے ہیں کہ مملکت کے سربراہان کسی نہ کسی شخص کے بارے میں مثبت یا منفی رائے دے دیتے ہیں جبکہ ایران کے سپریم لیڈر کی جانب سے غیر جانبداری کا یہ عالم ہوتا ہے کہ کبھی بھی کسی نے ان کے اس عمل کے حوالے سے سوال اٹھا سکیں۔ ایران کے انتخابات کی ایک اور اہم بات یہ ہے کہ ہارنے والا اپنی ہار کو تسلیم کرتا ہے نہ کہ انتخابی دھاندلی پر احتجاج کرتے ہوئے نظر آتے ہیں جبکہ جیتنے والا امیدوار شکرانہ کے نوافل ادا کرتا ہے۔ اگر آپ حالہ امریکی انتخابات کو بھی دیکھیں تو ٹرمپ کے جیتنے کے بعد ہیلری کلنٹن نے نتیجہ کو قبول تو کیا مگر ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اس میں روس ملوث ہے ، ویب سائٹس ہیک کی گئیں اور انہیں ہرایا گیا یعنی ان کو اپنے انتخابی عمل پر بھروسہ نہیں تھا ۔ جبکہ ایران میں ریاستی سطح پر تمام امیدواران کے درمیان تین مباحثے کروائے جاتے ہیں جو انتہائی خوش اسلوبی سے ہوئے۔ اسطرح سے امیدواران کا عوام کے سماجی مسائل، اقتصادیات، شماریات اور بین الاقوامی تعلقات عامہ کے حوالے سے وژن پتہ چلتا ہے ۔ ان مباحثوں کی بنیاد پر عوام اپنی پسند کے مطابق امیدوار کا انتخاب کرتے ہیں جبکہ پاکستان میں اسطرح کا تو کوئی سلسلہ ہی نہیں ہے ۔ اگرچہ امریکہ میں صدارتی امیدواروں کے درمیان مباحثہ کروایا جاتا ہے یا ایران میں۔

مبصر: دنیا کے دیگر ممالک اور ایران میں کیا بنیادی فرق ہے؟
زکی عباس شاہ: ایران کے انتخابات میں سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای کا انتہائی اہم کردار ہے کیوں کہ ایران کی اندرونی اور بیرونی سیاست اور پالیسیوں میں ان کا ہی وژن کار فرما ہوتا ہے جبکہ ایران کے صدر کو اسی وژن کی بنیاد پر ملک کا مشن ترتیب دینا ہوتا ہے اور رائے عامہ کو اپنے حق میں رکھتے ہوئے انتخابات میں حصہ لینا ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بات انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ تمام امیدواروں کو رائے عامہ ہموار کرنے کے یکساں مواقع فراہم کیے جاتے ہیں جن میں ایران کے سپریم لیڈر کی جانب سے دخل اندازی نہیں کی جاتی بلکہ انتخابات کی اس انداز میں نگرانی کرتے ہیں کہ کوئی دھاندلی یا ہنگامہ آرائی نہ ہو سکے بلکہ تمام امیدواران اور بین الاقوامی مبصرین انتخابی نتائج کو تسلیم کریں۔

ایران: صدارتی انتخابات، امیدواروں کے درمیان سخت مقابلے کا امکان
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  6977
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
اتحاد امت کمزوری اور قوت دونوں صورتوں میں ضروری ہے،اسے ضرورت کے بجائے عبادت و فریضہ سمجھ کر انجام دیا جائے۔ ایک دوسرے کے مسلک کو کافر کہنا اکابر اور آئین پاکستان کیخلاف ہے
اِس میں کوئی شک نھیں کہ میانمار کے روہنگیا مُسلمان مظلوم ترین کمیونٹی ہیں، وہ شناخت کے ساتھ دیگر بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہیں، اُنھیں میانمار کی حکومت اپنا شہری تسلیم نھیں کرتی۔ اُن پر مدت سے عرصہءِ حیات تنگ کیا جا رہا ہے۔
ہمارے عزیز، مفتی محمد فاروق علوی (برمنگھم) معتدد بار برطانیہ کے اہلِ سنت علماء اور مفتیوں کے وفد کے ساتھ ایران کا دورہ کر چکے ہیں۔ اُن کے ساتھیوں کا ایک وفد ابھی بھی ایران میں موجود ہے۔ حضرت مفتی صاحب نے
علامہ عارف حسین واحدی پاکستان کے مذہبی و سیاسی حلقوں میں کسی تعارف کے محتا ج نہیں۔

مقبول ترین
قبائلی ضلع شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 2 دہشت گرد ہلاک ہوگئے جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں 2 جوانوں نے جام شہادت نوش کیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سیکیورٹی فورسز
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سربراہ پاک فوج جنرل قمر جاوید باجوہ نے بہاولپور کے قریب اسٹرائیک کور کا دورہ کیا، سپہ سالار نے ائیر فورس اور رائل سعودی فورس کی مشترکہ سرمائی تربیتی مشقیں دیکھیں
وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاداکبر نے کہا ہے کہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کے اثاثوں میں 10سال میں 70 گنا اضافہ ہوا۔ شہزاداکبر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے شہباز شریف اور ان کے اہل خانہ پر کرپشن
وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ میری پوری توجہ معیشت مستحکم کرنے پر ہے اور ہماری حکومت نے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے پر قابو پا لیا ہے۔ اسلام آباد میں ڈیجیٹل پاکستان ویژن کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں