Sunday, 20 September, 2020
کورونا عذاب نہیں تنبیہ ہے

کورونا عذاب نہیں تنبیہ ہے
تحریر: ظہیرالدین بابر

کورونا وائرس پاکستان ہی نہیں ہی دنیا بھر میں اپنی پوری بدصورتی کے ساتھ متحرک ہے ، تشویشناک یہ ہےاس عالمی وباء کے نتیجے میں ہمارے ہاں اموات کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا،چنانچہ نہیں کہا جاسکتا کہ کورونا وائرس کے نتیجے میں کب اور کہاں ہمیں کتنا جانی نقصان بردارشت کرنا پڑے گا۔ مثلا  کہا جارہا ہے کہ  تفتان کے علاقے میں  خاطر خواہ انتظامات نہ ہونے کے باعث کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد تیزی سے بڑھی ہے  ۔ مختلف ملکوں میں کرونا وائرس کی  موجودگی کے ساتھ  ہی ملک کے باخبر حلقوں کی جانب سے یہ  سوال بھی پوچھا جارہا کہ پاکستان اس خوفناک وبا پر قابو پانے کے لیے  کس حد تک تیار ہے، ایک خیال یہ بھی ہے کہ  کورونا وائرس  سے ہونے والے نقصان کو کم کرنے کیلے ہنگامی بنیادوں پرشہریوں میں شعور بیدا کیا جائے، انھیں آگاہ کیا جائے کہ  وہ کب اور کیسے اس موذی مرض سے بچ سکتے ہیں۔  کچھ حلقے  معترض ہیں کہ  ایران میں زیارات کے بعد واپس آنے والوں کو  ملک  میں داخل ہونے کی اجازت کیونکر دی گی جبکہ دوسری جانب چین میں سینکڑوں پاکستانی بدستور موجود ہیں۔ عالمی سطح پرکورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورت حال کو مدنظر رکھ کر یہ  قیاس آرائی مشکل نہیں کہ  مملکت خداداد کو بڑا چیلنج درپیش ہے،  ہر گزرتے دن کے ساتھ ملک  کے مختلف علاقوں میں کرونا کے مریضوں کی تعداد بڑھ رہی، سندھ میں عملا لاک ڈاون کی صورت حال ہے جبکہ  وزیر اعلی مراد علی شاہ کو یہاں تک کہنا پڑا کہ  بروقت اقدامات نہ اٹھائے گے تو  ہسپتالوں میں جگہ کم پڑ سکتی ہے،“ 

کئی اہم مسائل کی طرح کورونا وائرس کے معاملہ پر بھی  ہمارے ہاں خوفناک حد تک تقسیم سامنے آچکی، ملک کے طول وعرض میں ایسے مرد وخواتین کی کمی نہیں جو احتیاطی  تدابیر کو خاطر میں نہیں لارہے، مذہبی حلقوں میں بھی وہ افراد باآسانی تلاش کیے جاسکتے ہیں کہ جو مخصوص وظائف پر تکیہ کرنا ہی اس عالمی وباء  سے نمٹنے  کا موثر اور آسان حل قرار دے رہے ہیں، ایک پہلو جو کلیدی توجہ کا طالب ہے وہ یہ کہ کیا  ارباب اختیار درپیش صورت حال کی سنگینی کا مکمل ادارک رکھتے ہیں یا نہیں،اس ضمن میں یہ تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں کہ  دعووں سے کہیں بڑھ کر عمل کی اہمیت مسلمہ ہے، اگر خلوص و قابلیت موجود ہوں تو کامیابی سے وبا پرقابو پاکرسرخرو ہونا ناممکن نہیں مگر محض زبانی جمع خرچ سےوائرس  کو شکست دینا مشکل ہوگا۔ افسوس کہ ماضی کی طرح ایک بار پھر درپیش قومی چیلنج  سے نمٹنے کے لیے دسیتاب سہولیات ناپید ہیں، مثلا  یہ کوئی راز نہیں کہ وطن عزیز کے  مختلف علاقوں میں ماسک اور سینی ٹائیزرز کی دستیابی آسان نہیں رہی۔ کورونا وائرس  سے خوف زدہ شہری جیبوں میں پیسے لیے گھوم رہے ہیں مگرماسک اورسینی ٹائیزرز کی دستیابی  سستے داموں میسر نہیں ۔ بادی النظر میں سرکاری ذمہ داروں بارے بدگمان ہونے کی وجہ یہ بھی ہے کہ گزرے ماہ وسال میں  انتظامی مشنیری کے کرتا دھرتا افراد  کے بلند وبانگ دعووں اور زمینی حقائق میں مماثلت تلاش کرنا مشکل رہا، مگراب بھی وقت ہے کہ کورونا وائرس سے بچاو کے لیے باتوں سے زیادہ عمل پر توجہ دی جائے۔ مذہبی نقطہ نظر سے سنجیدہ مذہبی سکالرز کا یہ کہنا درست ہے کہ کورونا وائرس کو  دنیائے انسانیت کے لیے  خالق کائنات کی جانب  سے عذاب نہیں محض تنبیہ کے طور پر لیا جانا چاہے۔ خالق کائنات  ارشاد فرماتا ہے کہ  ہم کسی قوم کو کبھی بھی سزا نہیں دیتے جب تک ان میں ایک رسول ﷺ نہ بھیج دیں تاکہ وہ سزا سے پہلے ان پر حجت پوری کردے“ 

سیاسی محاز پر حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے  کوشاں ہیں، عام آدمی یہ پوچھنے میں حق بجانب ہے کہ اہل سیاست کب اور کیسے  اہم  معاملات میں سنجیدگی  ثابت کریں گے، ہم جانتے ہیں کہ اکثر وبیشترتاثر حقیقت سے کہیں زیادہ اہمیت کا حامل ہوا کرتا ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ  حزب اقتدار اور حزب اختلاف اپنے طرزعمل پر غور کریں، گزرے ماہ وسال کی تاریخ گواہ ہے کہ معاملہ  محض کورونا وائرس تک ہی محدود نہیں بلکہ  مہنگائی،بے روزگاری، صحت اور تعلیم کی دستیاب سہولیات کا ناکافی ہونا خاطر خواہ توجہ حاصل نہیں کرپایا،ایسے میں جمہوریت سے عام آدمی کی وابستگی کا متاثر ہونا قدرتی عمل ہے،  بلاشبہ قیادت اور عوام میں فاصلوں کا نقصان رائج نظام کو ہوا کرتا ہے،

پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں لوگوں کی مشکلات میں فوری کمی نہ بھی ہو تو بھی جلد یا بدیراجتماعی سطح پر آسانیوں کی امید رکھنی چاہے، تاریخ گواہ ہے کہ اہل پاکستان ہر آزمائش میں سخت جان ثابت ہوئے، تقسیم ہند سے لے کر اب تک پاکستانی قوم ہرمحاذ پر سرخرو ہوئی، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم نے  ستر ہزار سے زائد  جانوں کی قربانی دی، اس دوران انتہاپسندی کے خاتمہ کی خواہش میں عام ہی نہیں نمایاں شخصیات بھی جان کی بازی ہار گئیں، بلاشبہ قومی تاریخ میں سانحہ مشرقی پاکستان جیسے واقعات بھی ہوئے،سیاسی اور معاشی محاذ پر بھی  ناکامیاں حصہ میں آئیں، مگرآج کا پاکستان ماضی کے مقابلے میں کئی میدانوں میں  بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کررہا، اس میں دوآراء نہیں کہ آج کورونا وائرس کی  صورت میں دنیا کے درجنوں ملکوں کی طرح پاکستان میں بھی مشکل صورت حال سے دوچار ہے مگر قوی امکان ہے کہ وطن عزیزاس مشکل سے جلد عہدہ برآ ہو گا۔ 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  21153
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
علامہ محمداقبال رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا ہے کہ”ثبات ایک تغیرکو ہے زمانے میں“،گویا اس آسمان کی چھت کی نیچے کسی چیز کو قرارواستحکام نہیں۔تاریخ گواہ ہے کہ اس زمین کا جغرافیہ ایک ایک صدی میں کئی کئی مرتبہ کروٹیں بدلتارہا ہے۔سائنس کی بڑھتی ہوئی رفتار کے ساتھ جغرافیے کی تبدیلی کا عمل بھی تیزتر ہوتاجارہاہے،چنانچہ گزشتہ ایک صدی نے تین بڑی بڑی سپر طاقتوں کے ڈوبنے کا مشاہدہ کیا،
سعودی عرب کے ایک ایم بی سی چینل پر رمضان کے شروع میں ایک ڈرامہ "ام ہارون" کے نام سے نشر کیا جا رہا ہے، جس میں یہودیت کو مظلوم بنا کر پیش کیا گیا ہے۔
عالمی یوم آزادیِ صحافت کے حوالے سے خصوصی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ تیس برس میں انیس صحافی فرائض کی ادائیگی کے دوران جاں بحق ہوچکے ہیں۔ بھارتی فورسز کے مظالم اجاگر کرنے پر صحافیوں کو گرفتار کیاجاتا ہے اور تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
یکم مئی' یومِ مزدور' وہ دن جسے مزدور کے علاوہ سب مناتے ہیں' اس بار شائد وہ رنگ نہ جما سکے کہ کورونا کے دربار میں سبھی ایک ہوئے ہیں مگر متاثر صرف مزدور۔ مزدور کہ جسے دو وقت کی روٹی کے لالے پڑے ہوتے تھے اب وقت کی بے رحم موجوں کے سہارے زندگی اور موت کی جنگ سے نبرد آزما ہے۔ خیر یہ قصہ پھر سہی ابھی فی الحال ایک طائرانہ نظر اس دن کی مناسبت سے۔

مزید خبریں
کی سڑک کے کنارے ایک ہوٹل میں چائے پینے کے لیے رکا تو ایک مقامی صحافی دوست سے ملاقات ہوگئی جنہیں سب شاہ جی کہتے ہیں سلام دعا کے بعد شاہ جی سے پوچھا کہ ٹیکنالوجی کی وجہ سے پاکستان کتنا تبدیل ہوچکا ہے تو کہنے لگے کہ سوشل میڈیا کی وجہ سےعدم برداشت میں بہت اضافہ ہوا ہے۔
میرے پڑھنے والو،میں ایک عام سی،نا سمجھ ایک الہڑ سی لڑکی ہوا کرتی تھی، بات بات پہ رو دینا تو جیسے میری فطرت کا حصہ تھا، اور پھربات بے بات ہنسنا میری کمزوری، یہ لڑکی دنیا کے سامنے وہی کہتی اور وہی کرتی تھی جو یہاں کے لوگ سن اور سمجھ کر خوش ہوتے تھے
صبح سویرے اسکول جاتے وقت ہم عجیب مسابقت میں پڑے رہتے تھے پہلا مقابلہ یہ ہوتا تھا کہ کون سب سے تیز چلے گا دوسرا شوق سلام میں پہل کرنا۔ خصوصاً ساگری سے آنیوالے اساتذہ کو سلام کرنا ہم اپنے لیے ایک اعزاز تصور کرتے تھے۔
عزیزان۔۔۔! بہت آسان ہے ہر رات ٹی وی ڈرامہ کا انتخاب کرنا یا کسی فلم کو دیکھنے کے لیے دیر تک جاگنا۔۔ بہت مشکل ہے ٹھنڈی اور تاریک رات میں اپنے بچوں اور والدین سے دور برفباری جیسے موسم کے اندر اپنا فرض نبھانا۔۔

مقبول ترین
ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے کہا کہ امریکی رپورٹ میں پاکستان کے دہشت گردی کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات کو متنازع بنایا گیا ہے۔ القاعدہ کی خطے میں ناکامی کو تو تسلیم کیا گیا لیکن اس کے خلاف پاکستان کی کاوشوں کو نظر انداز کیا گیا۔ پاکستان میں
رینٹل پاور کیس میں سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف سمیت 10 ملزمان نے بریت کی درخواست دائر کر رکھی تھی اور نیب ترمیمی آرڈیننس کے تحت تمام درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔ جس پر احتساب عدالت اسلام آباد نےفیصلہ محفوظ کر رکھا تھا تاہم آج احتساب
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہم سے جواب مانگا جارہا ہے جواب ان سے مانگا جائے جو ملک کو اس حال میں چھوڑ کرگئے۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد
سپریم کورٹ میں کورونا از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوان چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ وزیراعظم کہتےہیں ایک صوبے کا وزیراعلیٰ آمر ہے، اس کی وضاحت کیا ہوگی؟ چیف جسٹس نے کہا کہ وزیراعظم اور وفاقی

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں