Sunday, 24 March, 2019
فرقہ وارانہ ہم آہنگی ۔۔۔ اقدامات و امکانات

فرقہ وارانہ ہم آہنگی ۔۔۔ اقدامات و امکانات
فائل فوٹو
تحریر: ثاقب اکبر

 

فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی بات جب ہم پاکستان میں کرتے ہیں تو فوری طورپر ذہن میں شیعہ سنی تناظر ابھرتا ہے لیکن یہی بات جب بھارت میں کی جاتی ہے تو عموماً ہندو مسلم مسئلے کی طرف ذہن مبذول ہو جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی سوسائٹی کو جو مسئلہ درپیش ہوتا ہے وہی لفظوں اور اصطلاحوں کا مصداق قرار پاتا ہے۔ ایک دین کے ماننے والوں کے اندر بھی اختلافی مسائل سے معاشروں کو خطرات لاحق ہو جاتے ہیں اور گاہے مختلف ادیان کے ماننے والوں کے مابین کسی معاشرے میں تفرقہ شدت اختیار کر جاتا ہے۔ خود پاکستان میں کبھی مختلف ادیان کے ماننے والوں میں بھی تناؤ دیکھنے میں آتا ہے اور کبھی کسی ایک مسلک کی مختلف شاخوں کے مابین شدت پسندی ظہور کر جاتی ہے۔ جب اختلافی مسائل اس حد تک پہنچ جائیں کہ معاشرے میں پرامن زندگی خطرے سے دوچار ہو جائے تو پھر درد مند افراد متحرک ہوتے ہیں اور صلح و سلامتی کے راستے تلاش کرتے ہیں تاکہ معاشرہ معمول کی شاہراہ پر آسانی سے رواں دواں رہ سکے۔

پاکستان ہی میں نہیں پوری دنیا میں کچھ عرصہ پہلے شیعہ سنی تنازع شدت اختیار کرنے لگا۔ بعض خطوں میں اس کی آتش اب بھی بستیوں، گھروں، بازاروں اور مذہبی مراکز کو جلا رہی ہے تاہم اس بات کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ پاکستان میں اس کی حدت میں خاصی کمی واقع ہو چکی ہے۔ اگرچہ خاکستر میں ابھی ایسی چنگاریاں موجود ہیں جنھیں بجھایا نہ گیا تو کسی بھی وقت سلگتے سلگتے الاؤبھڑک اٹھنے کا اندیشہ ہو سکتا ہے۔ اس سلسلے میں یہ بات بھی اہم ہے کہ پاکستان میں اگرچہ فرقہ وارانہ کشیدگی کے بہت سے الم ناک مناظر رونما ہوئے لیکن کشیدگی ہماری بستیوں، گلیوں، محلوں، بازاروں اور دفتروں میں نہیں پہنچی۔ عوام ایک دوسرے کے خلاف نہیں نکلے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ حکومت اور میڈیا کے علاوہ بیشتر علماء اور دانشوروں نے اسے ختم کرنے کے لیے مجموعی طور پر مثبت کردار ادا کیا ہے۔

حکومت کی سطح پر فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے اگرچہ کئی ایک سنجیدہ اور نیم دلی سے اقدامات کیے گئے ہیں تاہم ’’پیغام پاکستان‘‘ کے عنوان سے سامنے آنے والی دستاویز کو ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے۔ افسوس اس کی تشہیر پر مناسب توجہ نہیں دی گئی۔ اٹھارہ سو سے زیادہ علماء، مفتیوں اور دانشوروں کے دستخطوں سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے عزم اور تکفیریت کے خلاف موقف پر مشتمل یہ دستاویز عالمی سطح پر بھی سراہے جانے کے قابل ہے۔ اسے پاکستان کے تمام مسالک کے اہم اداروں کے سربراہوں کی تائید و توثیق حاصل ہے۔ اس دستاویز کوتشکیل پاکستان کے کچھ ہی عرصے بعد سامنے آنے والے 31علماء کے 22نکات کی طرح ہمیشہ ایک مثبت کاوش کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔

غیر سرکاری سطح پر سب سے زیادہ موثر اقدام شاید ملی یکجہتی کونسل کی تشکیل اور اس کے تحت کی جانے والی ایجاد ہم آہنگی کی کامیاب کوششوں کو قرار دیا جائے۔ قرن گذشتہ میں نوّے کی دہائی میں جب تکفیریت اور قتل و خون ریزی کا سلسلہ اپنے عروج پر تھا توپاکستان کے تمام مذہبی مسالک پر مشتمل اہم ترین جماعتوں نے ملی یکجہتی کونسل کے نام سے ایک اتحاد قائم کیا۔ اس کی قیادت میں مختلف مسالک کے معتبر ترین علماء شامل تھے۔ انھوں نے انتہا پسند گروہوں کو اپنے سامنے بٹھایا اور لگاتار کوششوں کے بعد آخر کار ان سب کو ایک ضابطہ اخلاق پر متفق کر لیا۔ 17نکات پر مشتمل یہ ضابطہ اخلاق آج بھی ملی یکجہتی کونسل کی اساس ہے۔ اس پر مذہبی جماعتوں کے ذمہ دار قائدین کے علاوہ انتہا پسند گروہوں کے قائدین کے بھی دستخط موجود ہیں۔ ان کوششوں کے نتیجے میں یقینی طور پر آویزش اور تناؤ میں کچھ کمی آئی۔ شاید اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ تمام مکاتب فکر کے عوام تک یہ پیغام گیا کہ ہماری مذہبی قیادت آپس میں ایک پلیٹ فارم پر موجود ہے اور وہ اختلافات بھڑکانے والوں کی تائید نہیں کرتی۔ عوام کا ایک بڑا طبقہ ان کاوشوں کی وجہ سے انتہا پسند تکفیریوں کے ہتھے نہ چڑھ سکا۔

پاکستان میں چند ایسے غیر سرکاری ادارے بھی ہیں جنھوں نے مختلف مکاتب فکر کے مابین ہم آہنگی اور قربت پیدا کرنے کے لیے مسلسل اور نتیجہ خیز کوششیں کیں۔ ان کی کوششوں نے بڑے پیمانے پر مذہبی حلقوں کو متاثر کیا۔ انھوں نے مختلف مسالک کے افراد، طلبہ اور علماء کو ایک دوسرے کے ساتھ بٹھایا، تبادلہ خیال کا موقع فراہم کیا، غلط فہمیوں کے ازالے میں مدد دی اوراختلاف رائے کو برداشت کرنے کی راہ ہموار کی۔ ان این جی اوز نے متبادل بیانیے کی بنیاد رکھی۔ ان کی کاوشوں سے مذہبی اور عصری تعلیم کے طلبہ بھی آپس میں ملے جلے۔ انھوں نے نیا لٹریچر تیار کیا۔ امن و سلامتی کے لیے اسلامی تعلیم پر مبنی کتب تیار کیں جن کی مذہبی قیادت نے بھی تائید کی۔ اس کے لیے متنوع اور پیہم جدوجہد کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ ایک حلقہ این جی اوز کے بارے میں منفی ذہنیت رکھتا ہے۔ بعض این جی اوز پر اس کے اشکالات صحیح بھی ہو سکتے ہیں لیکن ہم متعدد ایسی غیر سرکاری تنظیموں اور اداروں کے شاہد ہیں جنھوں نے مسلکی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے پاکستانی معاشرے میں وہ کردار ادا کیا ہے جسے پورے شعور سے خراج تحسین پیش کرنا چاہیے۔

بعض شخصیات اور اداروں نے اتحاد و وحدت پیدا کرنے کے لیے اور مسلکی ہم آہنگی کے لیے مفید علمی خدمات انجام دی ہیں۔ اس سلسلے میں قرآن و سنت کی تعلیمات پر مبنی اور علماء کرام کے افکار پر مشتمل متعدد کتب شائع ہوئی ہیں۔ ان خدمات کی بھی اپنی تاثیر ہے۔ اس طرح کے کاموں کی تاثیر ہمیشہ دیرپا ہوتی ہے۔
فرقہ وارانہ ہم آہنگی پر مشتمل بعض سیاسی کوششیں بھی قابل قدر ہیں، مختلف مسالک کے مدارس کے اتحاد پر مشتمل ’’اتحاد تنظیمات مدارس‘‘ کا پلیٹ فارم بھی اس ضمن میں ایک مثبت پیغام کا حامل ہے۔ مختلف مسالک کے علماء اور طلبہ کے مابین اس کے ذریعے جو تعامل معرض وجود میں آیا ہے اور جو مسلسل جاری ہے، اس کے بھی اپنے مفید اثرات ہیں۔

یہ ان اقدامات کا ذکر تھا جو منفی فکر کو روکنے یا مختلف مسالک کے مابین تعامل کو فروغ دینے کے لیے اٹھائے گئے۔ ان میں تسلسل کی ضرورت ہے اور ان کے اثرات سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم ان سے بڑھ کر ایسے مثبت اقدامات ہیں جو ہمارے معاشرے کے لیے ضروری ہیں اور جن کی وجہ سے کہے بغیر فرقہ واریت کمزور پڑ جائے گی۔ آئیے کچھ ان کا بھی ذکر کیے لیتے ہیں۔ 

پاکستان میں ایک عرصے سے فنون لطیفہ کے حوالے سے فعالیتیں خاصی کمزور ہو چکی ہیں۔ یہ وہ مثبت فعالیتیں ہیں جو انسان کو داخلی طور پر اعلیٰ اور خوبصورت زندگی کی طرف راغب کرتی ہیں۔ شاعری، مصوری، موسیقی، خطاطی، فلم اور سٹیج ڈرامہ جیسے فنون جمالیات کی طرف معاشرے کی رغبت کا سبب بنتے ہیں۔ ہمارے دیہات سے لے کر شہروں بلکہ محلوں تک ایسی محفلیں منعقد ہوتی تھیں جن میں ہر عمر کے لوگ دلچسپی سے شریک ہوتے تھے۔ ان محفلوں میں صوفیاء کا کلام پڑھا جاتا تھا۔ مشاعرے بھی رات رات بھر جاری رہتے تھے اور لوگ وفور شوق سے شعراء کا کلام سنتے اور سر دھنتے تھے۔ ہر شعبے اور ہر فن کے اظہار میں منفی اور مثبت چیزیں تو آ ہی جاتی ہیں البتہ ہماری نظر مثبت پہلوؤں پر ہے اور ہم یہی چاہتے ہیں کہ ان فنون کے مثبت پہلوؤں کو پھر سے معاشرے میں رائج کیا جائے۔ فنون لطیفہ کے ذریعے لطیف جذبات فروغ پاتے ہیں اور محبتیں گہری ہوتی ہیں۔ 

سیاسی عمل بھی بذات خود بہت مفید اور معاشرے کے لیے ناگزیر ہے۔ مثبت سیاسی عمل مثبت افکار اور مثبت فعالیتوں کا باعث بنتا ہے۔ عوام میں حقیقی سیاسی شعور جتنا گہرا ہوگا اتنا ہی وہ سیاست کے میدان میں اچھے افراد کا چناؤ کریں گے۔ کرپشن اور نااہلی کے خلاف اس وقت پاکستانی معاشرہ جس قدر بیدار ہو چکا ہے اس کے نتیجے میں امید کی جانا چاہیے کہ رفتہ رفتہ پاکستان کو اچھی حکمرانی نصیب ہوگی۔ اس کے نتیجے میں اعلیٰ تعلیم کو فروغ حاصل ہوگا۔ معاشرہ تعمیر و ترقی کی طرف رخ کرے گا۔ غربت اور پسماندگی کم ہوگی تو گمراہ کرنے والے عناصر اپنی تاثیر کھو بیٹھیں گے۔ 

پاکستان میں کچھ عرصے سے ایک تعلیمی نظام کی باتیں کی جارہی ہیں جو عصر حاضر میں کچھ زیادہ بلند بانگ ہو چکی ہیں۔ اگر یہ سلسلہ عملی شکل اختیار کر گیا تو یقینی طور پر فرقہ وارانہ مدارس کی طرف رجحان بھی کم ہو گا اور فارغ التحصیل افراد کے لیے مفید اور تعمیری پیشوں میں جانے کا امکان بھی زیادہ ہو جائے گا۔ اس سے بھی فرقہ واریت کمزور پڑے گی۔ 

دین کا حقیقی عالمی آفاقی چہرہ نمایاں کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ انبیاء کی انسان دوست سیرت کی طرف انسانیت کو متوجہ کرنا چاہیے۔ اس کے نتیجے میں چھوٹی چھوٹی اور فروعی باتوں کی بنیاد پر پیدا ہونے والے اختلافات کمزور پڑ جائیں گے۔

آخر میں ایک اور اہم پہلو کی طرف توجہ دلا کر ہم اس مضمون کو مکمل کرتے ہیں اور وہ یہ کہ ماضی کے خطرناک اور تنگ نظری پر مبنی فتووں سے گلو خلاصی نہایت ضروری ہے۔ اس کے لیے سرکاری اور غیر سرکاری دونوں سطح پر کوششوں کی ضرورت ہے۔ انفرادی فتووں کے منفی پہلوؤں کی حوصلہ شکنی بھی ضروری ہے۔ بشکریہ تجزیات

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  86833
کوڈ
 
   
مزید خبریں
دنیا بھر میں بولی اور سمجھی جانی والی زبانوں میں سے اردو ہندی دنیا کی دوسری بڑی زبان بن چکی ہے، جبکہ اول نمبر پر آنے والی زبان چینی ہے اور انگریزی کا نمبر تیسرا ہے۔ روزنامہ ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے یونیورسٹی آف ڈیسلڈرف الرچ کی 15 برس کی مطالعاتی رپورٹ
ہمارے نیم حکیموں کو کون سمجھائے کہ بلکتے، سسکتےعوام کو جمہوریت سے بدہضمی ہونے کا خوف دلانا چھوڑ دیجئے حضور! 144 معالجین کے مطابق انسانی معدے کی خرابی تمام بیماریوں کی ماں ہوتی ہے اور معدے کی خرابی سے ہی بدہضمی، ہچکی، متلی، قے، ہاتھوں میں جلن کا احساس، بھوک کا نہ لگنا، پژمردگی اور چہرے پر افسردگی کے اثرات چھائے
یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ پارلیمنٹ لاجز میں ہونے والی غیر اخلاقی حرکتوں کے متعلق جمشید دستی کو کس نے ویڈیو ثبوت اور ”ناقابل تردید“ ثبوت فراہم کیے ہیں؟ یہ سوال بھی اہم ہے کہ آخر جمشید دستی نے یہ ا یشو کیوں چھیڑا ؟ اس کے نتیجے میں جو صورتحال پیش آسکتی ہے اس کے دور رس نتائج نکل سکتے ہیں۔
دہشت گردوں کی طرف سے جنگ بندی کے اعلان کے صرف 48 گھنٹے بعد ہی دارالحکومت اسلام آباد کودہشت گردی کا نشانہ بنادیا گیا۔

مقبول ترین
یوم پاکستان کی مرکزی تقریب میں صدر، وزیراعظم، آرمی چیف، ملائیشین وزیراعظم مہاتیر محمد سمیت دیگر ممالک کی معزز شخصیات نے بھرپور شرکت کی۔ سپیکر قومی اسمبلی، چیئرمین سینیٹ، وفاقی وزراء، وزرائے اعلی، شوبز ستارے
نیوزی لینڈ کی تاریخ کی بدترین دہشت گردی کے ایک ہفتے بعد نہ صرف سرکاری طور پر اذان نشر کی گئی بلکہ مسجد النور کے سامنے ہیگلے پارک میں نمازِ جمعہ کے اجتماع میں وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن کے علاوہ ہزاروں غیر مسلم افراد نے بھی شرکت کی۔
ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد کا سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب میں کہنا تھا کہ آزادی کے وقت ملائیشیا غریب ملک تھا۔ آزادی کے وقت طے کیا تھا کہ ملائیشیا ترقی کے مراحل طے کرے گا۔ ہم نے کوریا اور جاپانی لوگوں سے سبق لیا اور کام کیا۔
کراچی کی نیپا چورنگی پر ممتاز عالم دین مفتی تقی عثمانی قاتلانہ حملے میں محفوظ رہے جب کہ ان کے دو گارڈ جاں بحق ہو گئے۔ ابتدائی طور پر اطلاعات تھیں کہ مختلف مقامات پر فائرنگ کے دو واقعات پیش آئے ہیں لیکن ایس ایس پی گلشن اقبال طاہر

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں