Saturday, 11 July, 2020
گلگت بلتستان صوبے کی تجویز، کشمیری راہنماؤں کا اظہارِ تشویش

گلگت بلتستان صوبے کی تجویز، کشمیری راہنماؤں کا اظہارِ تشویش
رپورٹ: روشن مغل

 

پیپلز پارٹی کے راہنما کے الفاظ میں، ’’گلگت بلتستان کو ریاست سے الگ کرنے کا مقصد کشمیریوں کے مقدمے کو کمزور کرنا ہے۔ اگر، خدانخواستہ، گلگت بلتستان کو صوبہ بنا دیا گیا تو کل پاکستانی کشمیر کو صوبہ بنائے جانے سے کوئی نہیں روک سکے گا‘‘

مظفر آباد ۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی سیاسی جماعتوں نے گلگت بلتستان کو پاکیستان کا صوبہ بنانے کی تجویز پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے، اسے تقسیم کشمیر کی مبینہ سازش قرار دیا ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حزب مخالف پاکستان پیپلز پارٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ ’’مسلم لیگ ن کی حکومت تقسیم کشمیر کے منصوبے پر عمل پیرا ہے‘‘۔

مطفرآباد میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے، پیپلز پارٹی پاکستانی کشمیر کے سینئر راہنما چوہدری لطیف اکبر نے کہا ہے کہ ’’گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کا اقدام تقسم کشمیر کے مترادف ہے، جس کے خلاف ہر سطح پر احتجاج کیا جائے گا‘‘۔

بقول اُن کے، ’’گلگت بلتستان ریاست جموں و کشمیر کا حصہ ہے جسے مسلم لیگ ن کی قیادت ریاست سے الگ کرکے پاکستان کا پانچواں صوبہ بنانے کی سازش کر رہی ہے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ ’’ریاست جموں و کشمیر کی 14 اگست، 1947ء کی جغرافیائی حدود میں آزاد کشمیر ‘گلگت بلتستان‘ مقبوضہ کشمیر، لداخ اور اکسائی چن شامل ہیں۔ یہ متنازعہ ریاست کی حیثیت سے اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود ہے؛ جس کی آئینی اور جغرافیائی حدود میں کسی قسم کا رد و بدل نہیں کیا جا سکتا‘‘۔

پیپلز پارٹی کے رہنما نے مزید کہا کہ ’’پی پی پی نے گلگت بلتستان کے عوام کو آئینی حقوق دئے اور گلگت بلتستان کونسل و قانونساز اسمبلی کا قیام عمل میں لایا گیا۔ لیکن، موجودہ حکومت نے تقسیم کشمیر کی راہ ہموار کرتے ہوئے اسے پاکستان میں ضم کرکے صوبہ بنانے کی سازش کرکے ریاست کی جغرافیائی وحدت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ ہم اس اقدام کی کسی صورت حمایت نہیں کرین گے‘‘۔

بقول اُن کے، ’’گلگت بلتستان کو ریاست سے الگ کرنے کا مقصد کشمیریوں کے مقدمے کو کمزور کرنا ہے۔ اگر، خدانخواستہ، گلگت بلتستان کو صوبہ بنا دیا گیا تو کل پاکستانی کشمیر کو صوبہ بنائے جانے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔ اس اقدام کے کشمیر کی صورت حال پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں گے‘‘۔

چوہدری لطیف اکبر نے کہا کہ سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری نے اس حوالے سے لاہو ر میں آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان کیا ہے جس میں تمام معاملات کو زیر غور لایا جائیگا۔

تحریک انصاف پاکستانی کشمیر کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم برسٹر سلطان محمود نے ’وائس آف امریکہ‘ سے گفتگو میں کہا ہے کہ ہم گلگت بلتستان کے لوگوں کے حقوق کی حمایت کرتے ہیں۔ لیکن، کشمیر ایک وحدت ہے جسے تقسیم نہیں کیا جا سکتا‘‘۔

انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے لوگوں کو حقوق دینے کے لئے وہاں پاکستانی کشمیر کی طرز پر حکومت قائم کی جائے یا انہیں پاکستانی کشمیر میں نمائندگی دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ’’اس اقدام کی ہر سطح پر مخالفت کی جائے گی‘‘۔

’جموں کشمیر پیپلز پارٹی‘ کے سربراہ اور قانوں ساز اسمبلی کے رکن سردار خالد ابراھیم نے کہا کہ وفاقی حکومت کی طرف سے گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کی کوشش کشمیر کے تنازعہ کو دو ملکوں کا باہمی تنازعہ بنانے کے مترادف ہے۔

بقول ان کے، ’’جو غلط اقدام ستر سال پہلے بھارت نے اپنے زیر انتظام کشمیر کو صوبہ قرار دے کر کیا تھا، پاکستان اسے آج کرنا چاہ رہا ہے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے گلگت بلتستان میں وزیر اعلیٰ اور گورنر مقرر کرکے اسے صوبے کا درجہ دینے کی راہ ہموار کی تھی، آج مسلم لیگ ن کی حکومت اسے باقاعدہ صوبہ بنانے کے درپے ہے‘‘۔

حزب مخالف کی ایک اور جماعت، مسلم کانفرس کا کہنا ہے کہ اس طرح کی تجاویز سے تنازعہ کشمیر کی بین الاقومی حثیت کو نا قابلِ تلافی نقصان پہنچے گا۔

جماعت کے سنئیر راہنما اور قانون ساز اسمبلی کے رکن سردار صغیر چغتائی نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ ’’کشمیر متنازعہ علاقہ ہے۔ پاکستان بھارت کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کے لئے کشمیر کی تقسیم پر کارفرما ہے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ ’’گلگت بلتستان ریاست جموں و کشمیر کا حصہ ہے جسے مسلم لیگ ن کی قیادت ریاست سے الگ کرکے پاکستان کا پانچواں صوبہ بنانے کی سازش کر رہی ہے‘‘۔

کشمیر کی خودمختاری کی حامی جموں کشمیر لبرشن فرنٹ پاکستانی کشمیر کے صدر توقیر گیلانی کے خیال میں اگر گلگت بلتستان کو صوبہ بنایا گیا تو کشمیریوں اور پاکستان کے درمیان ایک مستقل لکیر کھچ جائے گی‘‘، کیونکہ کشمیری، بقول ان کے ’’ڈیڑھ لاکھ جانوں کی قربانی دے چکے ہیں‘‘۔

پاکیستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکمران جماعت، مسلم لیگ ن کی طرف سے ماضی میں گلگت بلتستان کو پاکستان کا صوبہ بنانے کی مخالفت کی جاتی رہی ہے ۔ لیکن، وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان کی طرف سے میڈیا میں آنے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’اگر گلگت بلتستان کے لوگ پاکستان کے ساتھ ملنا چائیں تو انہیں نہیں روکا جا سکتا‘‘۔

تاہم، پیر کے روز پاکستانی کشمیر کی حکومت کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’وزیر اعظم فاروق حیدر اور گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والی ایک ملاقات میں گلگت بلتستان کے حوالے سے مجوزہ آئینی ترامیم کے حوالے سے تبادلہٴ خیال کیا گیا، جس میں دونوں راہنماوں نے اس بات پر اتفاق کا اظہار کیا کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں اور پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ میں اختیار کردہ تاریخی و مبنی بر انصاف موقف کی روشنی میں ہی زیر تجویز کو زیر غور لایا جارہا ہے‘‘۔

ملاقات میں اس بات پر اتفاق کا اظہار کیا گیا کہ’’ مسئلہ کشمیر کی مسلمہ، تاریخی اور آئینی اور حقیقی روح کو متاثر کیے بغیر، گلگت بلتستان کے آئینی و انتظامی معاملات اور حکومت پاکستان سے مالی وسائل کی فراہمی کے حوالے سے مناسب اقدام کو یقینی بنایا جائیگا۔ ملاقات میں اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا گیا کہ گلگت و بلتستان کے حوالے سے کوئی ایسا اقدام زیر تجویز نہ آئے جس سے مسئلہ کشمیر کے متاثر ہونے کا امکان یا خدشہ ہو‘‘۔

خیال رہے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے سیاسی راہنماؤں کی طرف سے گلگت اور بلتستان کو پاکستان کا صوبہ بنانے پر تشویش کا اظہار ایک ایسے وقت کیا جا رہا ہے کی جب بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے علیحدگی پسند راہنماوں نے اس علاقے کو صوبہ بنانے کے خلاف پاکستان کو خبردار کیا ہے۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بشکریہ "وائس اف امریکہ اردو"
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  54255
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
اسوقت جہاں دنیا ایک طرف کرونا سے جنگ لڑ رہا ہے وہیں دوسری طرف کرونا کی وجہ سے جس طرح سے عالمی حالات میں تبدیلی آرہی ہے اور دنیا کے طاقتور ممالک شدید معاشی بحران کا شکار ہوگیا ہے ۔اس تناطر میں عالمی میڈیا پر کچھ اسطرح کی خبریں گردش
عزیزان! یہ خود آشنائی کا سفر جو آپ کو رب آشنائی تک لے جائے اس کا راز خلوت ہے جو رات کی تیرگی میں پنہاں ہے جو اسے درک کر لے اُس کی رسائی رب تک ممکن ہو جاتی ہے۔ دعا ہے اللہ تعالٰی ہم سب کو تمسک بالدین و نماز شب عطا فرمائے۔ (آمین)
امریکہ کی انتہائی خطرناک صورتحال پر مولانا سخاوت سندرالوی کا خصوصی مضمون: نرسنگ ہومز میں جگہ نہیں ہے۔ گھروں میں رکھیں توشودر سا سلوک ہو رہا ہے۔ آج پیارے نہ زندہ کو دیکھ سکتے ہیں نہ مردہ کو ۔لاشوں کیلئے فیونرل ہومز میں فریزرز نہیں ہیں۔ قبرستانوں میں دفنانے کی جگہ نہیں مل رہی۔ مل بھی جائے چار سے پانچ دن کا ویٹنگ پیریڈ ہے ۔مریض کو شفا خانہ نہیں مل رہا ۔ بیمار کو دوا خانہ نہیں مل رہا۔
حال ہی میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو کے ساتھ ملاقات میں میڈیا کے سامنے ایک امن منصوبہ کا اعلان کیا ہے جس کو مغربی ذرائع ابلاغ پر مغربی ایشیاء کے لئے امن پلان کا نام دے کر تشہیرکی گئی۔

مزید خبریں
کورونا وائرس پاکستان ہی نہیں ہی دنیا بھر میں اپنی پوری بدصورتی کے ساتھ متحرک ہے ، تشویشناک یہ ہےاس عالمی وباء کے نتیجے میں ہمارے ہاں اموات کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا،
کی سڑک کے کنارے ایک ہوٹل میں چائے پینے کے لیے رکا تو ایک مقامی صحافی دوست سے ملاقات ہوگئی جنہیں سب شاہ جی کہتے ہیں سلام دعا کے بعد شاہ جی سے پوچھا کہ ٹیکنالوجی کی وجہ سے پاکستان کتنا تبدیل ہوچکا ہے تو کہنے لگے کہ سوشل میڈیا کی وجہ سےعدم برداشت میں بہت اضافہ ہوا ہے۔
میرے پڑھنے والو،میں ایک عام سی،نا سمجھ ایک الہڑ سی لڑکی ہوا کرتی تھی، بات بات پہ رو دینا تو جیسے میری فطرت کا حصہ تھا، اور پھربات بے بات ہنسنا میری کمزوری، یہ لڑکی دنیا کے سامنے وہی کہتی اور وہی کرتی تھی جو یہاں کے لوگ سن اور سمجھ کر خوش ہوتے تھے
صبح سویرے اسکول جاتے وقت ہم عجیب مسابقت میں پڑے رہتے تھے پہلا مقابلہ یہ ہوتا تھا کہ کون سب سے تیز چلے گا دوسرا شوق سلام میں پہل کرنا۔ خصوصاً ساگری سے آنیوالے اساتذہ کو سلام کرنا ہم اپنے لیے ایک اعزاز تصور کرتے تھے۔

مقبول ترین
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت مافیاز جبکہ مافیاز حکومت کی مدد سے چل رہی ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ ن کی سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹر پر اپنے ایک بیان میں قومی
وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کراچی میں کل سے غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کےخاتمے کا اعلان کردیا۔ گورنر ہاؤس عمران اسماعیل کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر اسد عمر کا کہنا تھا کہ کےالیکٹرک کیلئے فرنس آئل اور گیس کی سپلائی
قومی ایئر لائنز (پی آئی اے) میں پائلٹس کے جعلی لائسنس اور ڈگریوں کے معاملے پر سول ایوی ایشن اتھارٹی نے رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروا دی ہے۔ یاد رہے کہ 25 جون کو سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے پائلٹس
وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کے اکٹھ کا مقصد محض پریشر ڈالنا ہے، انہیں ملک کی نہیں، اپنے مال کی فکر ہے، انہیں ڈر ہے حکومت کامیاب ہو گئی تو یہ سب جیل میں ہونگے، وزیراعظم عمران خان کسی دباؤ میں نہیں آئیں گے

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں