Sunday, 05 April, 2020
خواتین کے معاشرتی مسائل

خواتین کے معاشرتی مسائل
مہرین اشرف (اسلام آباد)

 

ویسے تودنیا کے ہر چھوٹے بڑے ملکوں میں رہنے والی خواتین کو بہت سے معاشرتی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن ترقی یافتہ ممالک کے برعکس ترقی پذیر ممالک کی خواتین کو بہت سے معاشرتی مسائل سے نبردآزما ہونا پڑتا ہے ۔ ہمارے ملک پاکستان میں بھی خواتین کو بے شمار معاشرتی مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔خواتین ہماری ملکی آباد کا 51فیصد ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں ہونے کے باوجود ان کے مسائل آج تک حل طلب ہیں جس کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے ، ہمارے ملک میں خواتین کو درپیش مسائل میں سب سے بڑا مسئلہ (اوران کے تمام مسائل کے خاتمے کا واحد حل) ان کو تعلیم کی اجازت نہ ملنا ہے، ہمارے شہری علاقوں کے برعکس دیہی علاقوں میں عموماً لڑکیوں کی تعلیم کے بارے میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ لڑکیوں کی تعیم وقت پیسے کا ضیاع ہے اگر تعلیم کے سلسلے میں خرچہ کرنا ہی ہے تو لڑکے کی تعلیم پر خرچہ کرو تاکہ مستقبل میں وہ کما کر لاسکے ۔لڑکیوں کا کیا ہے انہیں ایک دن رخصت ہو کر گھر سے چلے جانا ہے لیکن اگر دیکھا جائے تو لڑکیوں کی تعلیم لڑکوں کی تعلیم سے زیادہ ضروری ہے کیونکہ انہی کو آنیوالی نسل کے ساتھ ساتھ معاشرے کی بہتر تربیت کا فریضہ سرانجام دینا پڑتا ہے۔

لڑکیوں کو تعلیم کی اجازت ایک ترقی یافتہ ، مہذب معاشرے کی تعمیر کے لئے دینی چاہیے۔ بعض والدین نہ چاہتے ہوئے بھی اپنی بچیوں کی تعلیم کی اجازت دے دیتے ہیں لیکن وہ مخلوط تعلیمی نظام کے خلاف ہونے کی وجہ سے ان کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے پاتے ۔ اس کی بنیادی وجہ ہماری زیادہ تر یونیورسٹیوں کا مخلوط تعلیمی نظام کے تحت اپنی تعلیمی سرگرمیوں کو جاری رکھنا ہے جس کے باعث بہت ساری لڑکیاں اعلی تعلیم سے محروم رہ جاتی ہیں ۔ہمارے معاشرے میں خواتین کو وراثت میں ان کا جائز حق نہیں مل پاتا ۔ 80 فیصد خواتین کو ان کا جائز حق جو اسلام نے وراثت کے قوانین کے تحت دیا ہے نہیں دیا جاتا ۔جائیداد میں خواتین کوان کا جائز حق اس لئے بھی نہیں مل پاتاکہ عموماً یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ اسی صورت میں جائیداد کسی دوسرے خاندان کو منتقل ہو جائے گی ۔

ملکی سطح پر خواتین کووراثت میں ان کا جائز حق دینے کے سلسلے میں قانون سازی موجود ہے لیکن ہمارے معاشرے کی زیادہ تر خواتین فیملی دباﺅ کی وجہ سے وراثت میں اپنے جائز حق کے لئے کیس فائل نہیں کرپاتی۔ایک اور بڑا مسئلہ جو عموماً خواتین کو درپیش ہوتا ہے وہ گھریلو تشدد کا ہے ، گھریلو تشدد بہت سے طریقوں سے ہوسکتا ہے ۔مثلاً گالم گلوچ ، مار پیٹ اور ذہنی اذیت وغیرہ عموماً ہمارے معاشرے میں زیادہ تر عورتوںکو بات بات پر تنقید و برا بھلا کہا جاتا ہے اور بعض اوقات تو ان کو بدترین تشدد کا نشانہ بننا پڑتا ہے ۔ان سب سے زیادہ تکلیف دہ امر اس ذہنی اذیت کا ہے ، جس کا شکار ہمارے معاشرے میں سے ہر پانچ میں سے دو یا تین عورتیں بنتی ہیں ۔ذہنی اذیت خواتین کو زیادہ تر جہیز نہ لانا کم لانے کی صورت میں اٹھانا پڑتی ہے اس کے علاوہ ہمارے معاشرے میں رائج بہت سے غلط رسم و رواج کا شکار بھی خواتین ہی بنتی ہیں جیسے کہ وٹہ سٹہ اور ونی وغیرہ جیسی غلط رسم و رواج۔

لیکن اگر دیکھا جائے تو اسلام اس طرح کے غلط رسم و رواج کے خاتمے کے لئے آیا جس کے ہم نام لیوا ہیں ، ایک اور بڑا مسئلہ کم عمری کی شادی اور زبردستی شادی ہے جس کا شکار بھی ہمارے معاشرے کی زیادہ تر خواتین بنتی ہیں ، کم عمری کی شادی کے نقصانات میں ایک تو اس لڑکی کی صحت پر برے اثرات کا پڑنا ہے تو دوسری طرف ایسی خواتین اپنے بچوں کی تربیت بہتر طریقے سے نہیں کرپاتی ہیں کیونکہ ان کی اپنی صحت ہی خراب ہو گئی تو وہ کیا اپنے بچوں کی بہتر تعلیم و تربیتی کر پائے گی ۔ہمارے معاشرے میں شادی کے موقع پر عموماً حق مہر کے سلسلے میں بھاری بھرکم رقم رکھ دی جاتی ہے لیکن جب اس رقم کی ادائیگی کا مرحلہ آتا ہے تو عموماً اسے اناءکا مسئلہ بنا دیا جاتا ہے اگر کوئی عورت اپنے جائز حق مہر کا مطالبہ کرلے تو زیادہ تر ان کو طلاق کی دھمکی دے کر چپ کرایا جاتا ہے اور بعض اوقات بلکہ ہمارے معاشرے میں زیادہ تر طلاقیں حق مہر کے تنازعے کے نتیجے میں ہوتی ہیں، ہمارے مذہب اسلام نے بھی حق مہر کی رقم کی فوری ادائیگی کا حکم دیا ہے۔اسلام کے مطابق حق مہر کی رقم اتنی ہی رکھی جائے جتنی آسانی سے ادا کی جاسکے۔

ہمارے معاشرے میں رہنے والی آدھی سے زیادہ خواتین کو جس مسئلے کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ جنسی ہراسانی ہے ، جنسی ہراسانی کا شکارصرف ملازمت پیشہ خواتین ہی نہیں بلکہ غیر ملازمت پیشہ خواتین بھی بنتی ہیں ، ملازمت پیشہ خواتین کو زیادہ تر اپنے کام کرنے کی جگہ میں جگہ جبکہ دوسری خواتین کو بازار ، پارک اور بعض اوقات تو اپنے قریبی رشتہ داروں کی طرف سے بھی جنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔خواتین زیادہ تر اپنے ساتھ ہونے والے کسی بھی ایسے واقعہ کا ذکر اپنے گھروالوں سے نہیں کرتیں جس کا ذمہ دار ہمارے معاشرے کا منفی طرز عمل ہے جو ایسے ہر واقعے کا ذمہ دار عورتوں کوٹھہراتا ہے یا زیادہ تر انہیں ہی غلط سمجھا جاتا ہے ۔

ہمارے معاشرے میں بہت سی لڑکیوں کو خاص طورپر دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں کو غیرت کے نام پر قتل کردیا جاتا ہے ۔غیرت کے نام پر قتل کے واقعات میں زیادہ تر واقعات میں کوئی گواہ یا عینی شاہد نہیں مل پاتا لیکن اس کے باوجود لڑکی کو موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے ۔ غیرت کے نام پر قتل کا ذمہ دار بھی ہمارے معاشرے کا منفی طرز عمل ہے کیونکہ ایسے کسی بھی واقعے کے سلسلے میں واقعے سے متاثرہ خاندان کے افراد کو اس حد تک معاشرہ دباﺅ میں لے آتا ہے کہ ان میں سے کوئی شخص نہ چاہتے ہوئے بھی صرف معاشرے کی زبان بند کرنے کے لئے غیرت کے نام پر قتل کرجاتا ہے۔خواتین کے حقوق کے لئے حکومتی سطح پر سنجیدہ کوشش کی جانی چاہیے ۔خواتین مارچ کا حصہ بننے والی خواتین اگر مارچ کے ذریعے ان تمام حقوق کو حاصل کرنے کی توقع رکھتی ہیں تو بالکل غلط سوچتی ہیں کیونکہ اس طریقے سے وہ صرف خواتین کے لئے معاشرے میں مزید مشکلات پیدا کریں گی اور کچھ نہیں ، اگر خواتین کے مسائل کو حقیقی طورپر کوئی حل کرسکتا ہے تو وہ ہماری اسمبلیوں میں بیٹھی موجودہ خواتین اراکین اسمبلی ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

 

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  84810
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
کبھی کبھی ہم اتنا کچھ کہنا چاہتے ہیں کہ من ہی من بہت کچھ کہ جاتے ہیں اور وہ سب کہنے کے لئے لب تو ساتھ دے رہے ہوتے ہیں لیکن زبان اخلاقیات اور اقدار و روایات کے تالوں میں ایسی جکڑی ہوتی ہے کہ جیسے قید و بند کی صعوبتیں کاٹ رہی ہو۔ہمبالآخر تھک ہار کر بیٹھ جاتے ہیں۔ ایک ہی بات سننے میں آتی ہیکہ کائنات کی رنگینی ہم سے ہے۔یعنی وجود زن سے،تو ہم ہیں کون؟
عورت اردو کے چار حروف پر مبنی ان لفظوں کا بھی کیا خوب امتزاج ہے، کہ ع،عزت دیتا ہے،تو و،وفا کی علامت بن کر نکھرتا ہے،ر،راحت کا سبب بنتا ہے تورونق بھی بخشتا ہے، ت،تعمیل بجا لا کرتعریف میں پھولے نہیں سماتا، ایسی ہے عورت جو عزت کی مورت ہو تو باوفا کہلاتی ہے اور جب وفا داری کی چمک رونق بخشتی ہے تو خوب تعریف سمیٹتی ہے۔
وقت ایک قیمتی چیز ہے اور اس کی اہمیت کا اندازہ اس کے گذر جانے کے بعد ہوتا ہے۔ اس مادی زندگی میں ہم پیسے کے لئےجیتے ہیں اور پیسے کے لیئے پڑھے ، کام کیا اور بس اسی بھاگ دوڑ میں زندگی تمام ہو جاتی۔
16 دسمبر 1971ء پاکستان کی تاریخ کا سب سے المناک، عبرتناک اور ہولناک دن تھا۔ جب پاکستانی فوج کے ایک بزدل اور بے غیرت جرنیل نے ڈھاکا کے ریس کورس گرائونڈ میں اپنے بھارتی ہم منصب کے آگے سرنڈر کرتے ہوئے

مزید خبریں
کورونا وائرس پاکستان ہی نہیں ہی دنیا بھر میں اپنی پوری بدصورتی کے ساتھ متحرک ہے ، تشویشناک یہ ہےاس عالمی وباء کے نتیجے میں ہمارے ہاں اموات کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا،
کی سڑک کے کنارے ایک ہوٹل میں چائے پینے کے لیے رکا تو ایک مقامی صحافی دوست سے ملاقات ہوگئی جنہیں سب شاہ جی کہتے ہیں سلام دعا کے بعد شاہ جی سے پوچھا کہ ٹیکنالوجی کی وجہ سے پاکستان کتنا تبدیل ہوچکا ہے تو کہنے لگے کہ سوشل میڈیا کی وجہ سےعدم برداشت میں بہت اضافہ ہوا ہے۔
میرے پڑھنے والو،میں ایک عام سی،نا سمجھ ایک الہڑ سی لڑکی ہوا کرتی تھی، بات بات پہ رو دینا تو جیسے میری فطرت کا حصہ تھا، اور پھربات بے بات ہنسنا میری کمزوری، یہ لڑکی دنیا کے سامنے وہی کہتی اور وہی کرتی تھی جو یہاں کے لوگ سن اور سمجھ کر خوش ہوتے تھے
صبح سویرے اسکول جاتے وقت ہم عجیب مسابقت میں پڑے رہتے تھے پہلا مقابلہ یہ ہوتا تھا کہ کون سب سے تیز چلے گا دوسرا شوق سلام میں پہل کرنا۔ خصوصاً ساگری سے آنیوالے اساتذہ کو سلام کرنا ہم اپنے لیے ایک اعزاز تصور کرتے تھے۔

مقبول ترین
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ہر قیمت پر اپنے عوام اور ان کے مفادات کا تحفظ کریں گے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کی مناسبت سے جاری بیان میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ
وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ 25 اپریل تک کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد 50 ہزار تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔ حکومت نے کورونا وائرس سے بچاؤ کے قومی ایکشن پلان کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی۔ حکومت کی جانب سے عدالت میں جمع کرائی
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے ریاستی دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 4 کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق قابض بھارتی فوج نے جنت نظیر وادی کے ضلع کلگام کے خارجی اور داخلی راستوں کو بند
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق افغان حکومت کی جانب سے سرحد کھولنے کی درخواست کی گئی تھی۔ پاکستان افغانستان کے عوام کے ساتھ یکجہتی کرتا ہے، افغان حکومت کی خصوصی درخواست اور انسانی ہمدردی پر اس بات کا فیصلہ کیا گیا ہے

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں