Wednesday, 03 June, 2020
عرب ممالک کی اسرائیل دوستی "ام ہارون"

عرب ممالک کی اسرائیل دوستی
تحریر: ہما مرتضٰی


 سعودی عرب کے ایک ایم بی سی چینل پر رمضان کے شروع میں ایک ڈرامہ "ام ہارون" کے نام سے نشر کیا جا رہا ہے، جس میں یہودیت کو مظلوم بنا کر پیش کیا گیا ہے۔

 عرب ممالک کی اسرائیل دوستی کی ایک اور مثال پیش خدمت ہے جس میں کوشیش کی گئی ہے اسرائیل اور عرب ممالک کی دوستی کو پیش کیا جائے۔دوستی کے ساتھ ساتھ فلسطین  کی ریاست اور فلسطین کی تار یخ کے حوالے سے  من گھڑت جھوٹ بھی اس میں  دیکھائے جا ریے ہیں ۔۔

یہ ڈرامہ سعودی ٹی وی کی پروڈیکشن 7 سے نشر کیا جا رہا ہے اس ٹی وی کا سارا کا سارا مواد بھی عرب اسرائیل دوستی پر مبنی ہے ۔ عرب ممالک کی عوام نے اس ڈرامہ سیریل کو پہلی قسط کے نشر ہونے کے ساتھ ہی مسترد کر دیا تھا البتہ اس ڈرامہ سیریل کے بنائے جانے اور نشر کئے جانے سے دنیا بھر میں امریکہ اور اسرائیل سمیت عرب اتحاد کی قلعی ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی ہے اور دنیا پر واضح ہو چکا ہے کہ عرب حکمران فلسطین کا سودا کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔

فلسطین کی سب سے بڑی سیاسی و عسکری جماعت حماس نے سعودی عرب کے ایم بی سی نیٹ ورک پر نشر ہونے والے اسرائیل عرب دوستی ڈرامہ سیریل کے بارے میں واضح موقف اپناتے ہوئے اس ڈرامہ سیریل کو شیطانی چال قرار دے دیا ہے۔

صدی کی  ڈیل کی ناکامی کے بعد اپنے مذموم ارادوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے ان سب کی  یہ ایک اور سازش کا عکس ہے یہ عرب مفاد پرست ہیں اور رہیں گے ان کو بس اپنی حکمرانی عزیز ہے نجانے کب تک یہ غلام رہیں گے اور دوسروں کو بنا کر رکھیں گے اگر یہ عرب ممالک فلسطین کے مسئلے ہے ایک ہو جاتے جیسے شام کے مسئلے پر ہوئے تھے تو آج فلسطین آزاد ہوتا مگر ایسا کرنے سے ان کا مائی باپ امریکہ اسرائیل ناراض ہو جاتا ہے، لہٰذا یہ کبھی مظلوم کا ساتھ نہیں دیں گے۔ مظلوم یمنیوں پر تو یہ بمباری کر سکتے ان کا محاصرہ کر کے ان کو ہر چیز سے محروم کر سکتے مگر فلسطین کے معاملے میں ان کی مجرمانہ خاموشی ثبوت ہے کہ یہ اسرائیل کو تسلیم کر چکے ہیں مگر یوم القدس کا دن ان کے ناپاک ارادوں کا ملیہ میٹ کرنے کا دن ہے اسی لیے جب تک فلسطین آزاد نہیں ہو جاتا ساری دنیا سے مسلمان ان مظلوم فلسطیینوں کے حق میں نکلتے رہیں گے اور آخر کار مکڑی کے جالے سے بھی زیادہ کمزور اس اسرائیل کو ختم ہونا ہی ہے حق کو باطل پر غالب آنا ہی ہے وہ وقت دور نہیں جب امریکہ کی ناجائز اولاد کا وجود تک باقی نہیں رہے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  6205
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
آج کل پاک چین دوستی کے 65 سال مکمل ہونے کی تقریبات پورے ملک میں منائی جا رہی ہیں اور ہماری حکومت اس سلسلے میں بڑی مستعد ہے۔ کہیں پاکستان اور چین کے جھنڈے باہم آویزاں ہیں

مزید خبریں
کورونا وائرس پاکستان ہی نہیں ہی دنیا بھر میں اپنی پوری بدصورتی کے ساتھ متحرک ہے ، تشویشناک یہ ہےاس عالمی وباء کے نتیجے میں ہمارے ہاں اموات کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا،
کی سڑک کے کنارے ایک ہوٹل میں چائے پینے کے لیے رکا تو ایک مقامی صحافی دوست سے ملاقات ہوگئی جنہیں سب شاہ جی کہتے ہیں سلام دعا کے بعد شاہ جی سے پوچھا کہ ٹیکنالوجی کی وجہ سے پاکستان کتنا تبدیل ہوچکا ہے تو کہنے لگے کہ سوشل میڈیا کی وجہ سےعدم برداشت میں بہت اضافہ ہوا ہے۔
میرے پڑھنے والو،میں ایک عام سی،نا سمجھ ایک الہڑ سی لڑکی ہوا کرتی تھی، بات بات پہ رو دینا تو جیسے میری فطرت کا حصہ تھا، اور پھربات بے بات ہنسنا میری کمزوری، یہ لڑکی دنیا کے سامنے وہی کہتی اور وہی کرتی تھی جو یہاں کے لوگ سن اور سمجھ کر خوش ہوتے تھے
صبح سویرے اسکول جاتے وقت ہم عجیب مسابقت میں پڑے رہتے تھے پہلا مقابلہ یہ ہوتا تھا کہ کون سب سے تیز چلے گا دوسرا شوق سلام میں پہل کرنا۔ خصوصاً ساگری سے آنیوالے اساتذہ کو سلام کرنا ہم اپنے لیے ایک اعزاز تصور کرتے تھے۔

مقبول ترین
آج یہ کہتے ہوئے دل کر رہا ہے کہ مسلسل ہنستی رہوں کہ سپر پاورامریکہ۔۔۔ جی ہاں! وہی امریکہ جس نے افغانستان کو کھنڈرات میں بدل دیا وہی امریکہ جس نے عراق پر ایک عرصہ جنگ مسلط کیے رکھی، کبھی بمباری کر کے تو کبھی داعش کی شکل میں کیڑے مکوڑوں کی فوج بنا کے، عراق پر اپنا تسلط برقرار رکھنا چاہا۔
علامہ محمداقبال رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا ہے کہ”ثبات ایک تغیرکو ہے زمانے میں“،گویا اس آسمان کی چھت کی نیچے کسی چیز کو قرارواستحکام نہیں۔تاریخ گواہ ہے کہ اس زمین کا جغرافیہ ایک ایک صدی میں کئی کئی مرتبہ کروٹیں بدلتارہا ہے۔سائنس کی بڑھتی ہوئی رفتار کے ساتھ جغرافیے کی تبدیلی کا عمل بھی تیزتر ہوتاجارہاہے،چنانچہ گزشتہ ایک صدی نے تین بڑی بڑی سپر طاقتوں کے ڈوبنے کا مشاہدہ کیا،
صوبائی وزیر مرتضیٰ بلوچ کورونا وائرس کے باعث کئی روز سے ہسپتال میں زیر علاج تھے۔ ان کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے تھا۔ میڈیا کے مطابق صوبائی وزیر کچی آبادی غلام مرتضیٰ بلوچ کورونا وائرس کے باعث انتقال کر گئے ہیں۔ مرحوم کچھ روز
نظریہ مہدویت ایسا موضوع ہے، جو صدیوں سے انسانوں کے درمیان زیر بحث رہا ہے۔ اس اعتقاد کے ساتھ انسان کا مستقبل روشن ہے، یہ عقیدہ کسی ایک قوم، کسی فرقے یا کسی مذہب کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ مہدویت ایک ایسی عالمگیر حکومت کا نام ہے کہ جس کی بنیاد تمام انسانوں کے مابین عدل و انصاف اور اخلاق و محبت پر ہوگی۔ مہدویت ایسی آواز ہے، جو کہ ہر روشن خیال انسان کے اندر فطری طور پر موجود ہے۔ ایسی امید ہے، جو زندگی کو تروتازہ اور غم و اندیشہ سے دور کرکے نور الٰہی کی طرف لے جاتی ہے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں