Sunday, 16 June, 2019
سانحہ ساہیوال: محاذ مختلف مگر منزل ایک

سانحہ ساہیوال: محاذ مختلف مگر منزل ایک
تحریر: شہباز علی عباسی

 

پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ پاکستانی معاشرے میں ہر سو کالے دھن اور اندھیر نگری کا راج ہے اور اس مروجہ نظام کے باعث معاشرہ نہ صرف ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکا ہے بلکہافراتفری اور انتشار کی جیتی جاگتی تصویر بھی بن گیا ہے ایسے حالات میں وطن عزیز کے محب وطن اور شب و روز خون چھڑکنے والے نہ صرف نامساعد حالات کے پیش نظر آنکھیں اور گردے بیچنے پر مجبور ہیں تو دوسری طرف بے لگام بھیڑیے جن کے مونہوں کو خون لگ گیا دن دیہاڑے اپنے نشانوں کی دھاک دشمن پر بٹھانے کے بجائے معصوم شہریوں کی زندگیوں کے چراغ گل کرنے میں دکھائی دیتے ہیں ایسے حالات میں ظلم و جور ،فکر و فاقہ اور افلاس و بھوک کی چکی میں پستی عوام کو ایک آواز سنائی دی آواز میں درد تھا اورخاص کر ہمدردی ،عوام دوستی ،حقوق کی ادائیگی ،قانون کی بالادستی اور انصاف کی جلد فراہمی بھی شامل تھی عوام جو سیاست کے نام پر مال وزر میرٹ کے نام پر اقربا پروری کے ستائے ہوئے تھے۔ 

انہوں نے لپک کر لبیک کہا چونکہ لبیک نہ کرتے تو کہاں جاتے انہوں نے سابقہ دور حکومت میں جب خدمت اور خادم اعلی برسر اقتدار تھے تو ۶۱،۷۱ جون وہ قیامت صغری کا منظر دیکھا تھا کہ جس کے بیان سے کلیجہ منہ کو آتا ہے بظاہر عوامی محافظ جرم اور مجرموں کے راستے میں پل باندھنے کا حلف لینے والے اور عوامی ٹیکسز پہ پلنے والوں نے سرعام قوم کی وہ تذلیل کی جس کی مثال تاریخ پاکستان پیش کرنے سے قاصر ہے گڈ گورننس کے دعویداروں نے بد ترین ریاستی دہشت گردی کا مظاہرہ کیا بلکہ اپنی شہنشاہیت کیخلاف اٹھنے والی آوازوں کو بھی نہ صرف ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا بلکہ فریق مخالف کو یہ بانور کرایا گیا کہ ہم اور ہماری نسلیں اس ملک کی مالک ہیں ہر اس شخص کو گاجر مولی کی طرح کاٹ دیا جائے گا جو ہمارے خلاف بولنے کی جسارت کرے گا۔ 

یوں 14 لوگ خادم اعلی کے من پسند اور چہیتوں کی نظر ہو گئے گولیوں کی تڑتڑاہٹ نے صرف لاہور کو ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کیا پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا نے یہ قیامت خیز منظر لائیو ٹیلی کاسٹ کیا جس میں جوان تا بوڑھے اور عورتوں بچوں سمیت سبھی کو خون میں نہلا دیا گیا بلکہ حاملہ خواتین کے جبڑوں میں گولیاں ماری گئی مگر ڈی آئی جی آپریشن تا حال جوانوں کو آگے بڑھنے کا کہتے رہے مارنے والا کوئی گمنام نہیں پنجاب پولیس کے جوان تھے اور احکام سینیئرافسران اور حکام بالا کے اور مرنے والے محب وطن ،وفا شعار اور غیور عوام جو تاحال انصاف کے منتظر ہیں کوئی پرسان حال نہیں سوائے وعدے وعید کیے۔ 

ابھی اس سانحے کو تھوڑا ہی وقت بیتا تھا کہ کراچی پولیس نے ایک اور جعلی مقابلہ کیا جس میں ایک نہتے شہری نقیب اللہ کو بڑی بیدردی سے قتل کیا گیا جس کے قتل کی وجوہات تاحال سامنے نہ آسکیں فقظ اتنا پتہ چلا ہے کہ نقیب کسی دہشتگرد کا مشابے تھا حیرت کی بات اب کی بار بھی مارنے والا گمنام نہیں بلکہ ایس پی سندھ پولیس راؤ انوار مگر دریں اثناء کوئی کاروائی بایں صورت عمل میں نہیں لائی گئی کہ آئندہ اس قسم کی کاروائیوں کی روک تھام کیجاسکے پولیس گردی اور مظالم کسی سے ڈھکے چھپے نہیں بلکہ کہاوت مشہور ہے کہ اگر جرم اور جرائم کی دنیا کو جاننا چاہتے ہو تو پولیس سے مراسم بنا لو پوری دنیا میں پولیس کا نام امن و حفاظت کا استعارہ ہے مشکل حالات میں عوام پولیس اسٹیشن کو محفوظ مقام سمجھتے ہیں مگر پاکستان میں صورتحال اس کے برعکس ہے اور پولیس کی وردی میں ملبوس شخص بھی خود کو عقل کل سمجھتا ہے چونکہ اس کی پشت پناہی حلقے کے بااثر لوگ کر رہے ہوتے ہیں۔ 

پولیس کی غنڈہ گردی روز بروز بڑھتی جا رہی ہے اور ابھی حالیہ سانحہ ساہیوال جس میں ایک ہی خاندان کے تین افراد کو پولیس نے اپنے مظالم کا نشانہ بنایا اور ایک دو نہیں بلکہ ۰۳ گولیا ں انکے سینوں میں اتار دیں وہ بھی معصوم اور کچے ذہنوں کے مالک تین بچوں کے سامنے حالانکہ نہ وجوہات کا سراغ نہ کوئی ٹھوس شواہد فقط وہی پرانی بیان بازی کے ذیشان کی گاڑی دہشت گردوں کے زیر استعمال رہی اطلاعات ملیں تھیں کے اس گاڑی میں بم بارود ہے اور تو اور ایک عقل سے پیدل نے بچوں کو یتیم و بے آسرا کرنے کے بعد پھولوں کا گلدستہ بھی پیش کردیا۔ 

خیر پولیس اور حکومتی اراکین کا مؤقف کچھ بھی ہو عام شہری اور کمزور طبقہ یہ کہنے میں حق بجانب ہے کہ پچھلے دو ادوار کا جو نعرہ تھا کہ غریب کو ختم کرو چاہے اس کے منہ سے نوالہ چھین لو یا اس کے سینے میں گولیاں اتار دو بس غریب ختم ہونا چاہیے اور وہ اس پالیسی میں خاطر خواہ کامیاب بھی رہے جس کی مثالیں ماڈل ٹاؤن اور نقیب قتل کیس کی صورت میں ہمارے سامنے ہیں سو موجودہ حکومت بھی اس کارآمد پالیسی پر کار بند دکھائی دیتی ہے ورنہ ماڈل ٹاؤن سانحہ ان کے لیے محکمہ پولیس میں اصلاحات کے لیے کافی تھا اور پنجاب پولیس کی کارکردگی کے باعث ناگزیر بھی لیکن افسوس محاذ مختلف ہیں مگر منزل ایک بقول شاعر:

جب سب کے لب سل جائیں گے ہاتھوں سے قلم چھن جائیں گے
باظل سے لوہا لینے کا اعلان کریں گی زنجیریں
جو زنجیروں سے باہر ہیں آزاد انہیں بھی مت سمجھو
جب ہاتھ کٹیں گے ظالم کے اسوقت کٹیں گی زنجیریں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  93120
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
یوں تو مہذب دنیا میں بھارت کے عسکری جنون اور دیوانگی کے حوالے سے بجا طور پر فکرمندی کا اظہار کیا جاتا ہے لیکن اس باب میں اس وقت شدت محسوس کی گئی جب 10 مارچ کو نئی دہلی میں فرانس اور بھارت کے درمیان
یورپ سے آئے، ایک پاکستانی سکالر نے ہمیں ایک بار بتایا کہ وہ یورپ میں جہاں بھی گئے ہمارے لوگ یہی پوچھتے ہیں کہ یہاں گوشت کھا سکتے ہیں؟ یورپ میں بسنے والے مُسلمانوں کی نظر میں سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے۔
ذیل میں سچائی کی اسی تعریف کو سامنے رکھ کر عہد حاضر میں بولے جانے والے سچ اور اصل سچ کا موازنہ کیا گیا ہے۔ آغاز سیاست سے کرتے ہیں۔
سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے صاحبزادے شہباز تاثیر کا کہنا ہے کہ اغوا کے تجربے نے انہیں بہت زیادہ مضبوط کردیا،وہ خوش قسمت ہیں کہ انہیں اپنی کہانی خود بیان کرنے کا موقع مل رہا ہے۔

مقبول ترین
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ جتنے کیس بنانے ہیں بنا لیں، میرے پورے خاندان کو جیل بھیج دیں، 1973 کے آئین، عوامی حقوق، لاپتاافراد ، سول کورٹس اور 18ویں ترمیم پر موقف نہیں بدلیں گے۔
قومی احتساب بیورو (نیب) نے میگا منی لانڈرنگ کیس میں سابق صدر آصف علی زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور کو گرفتار کر لیا ہے۔ نیب نے فریال تالپور کے طبی معائنہ کیلئے ڈاکٹرز کی ٹیم کو طلب کر لیا ہے، انھیں کل احتساب عدالت میں پیش
سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ عمران خان کا وقت پورا ہوچکا ہے اور وہ جلد انجام کو پہنچنے والے ہیں۔ کوٹ لکھپت جیل میں مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے سابق وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کی، اس موقع پر رہنماؤں سے
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں اننت ناگ سے گزرنے والے بھارتی سیکیورٹی فورس (سینٹرل ریزرو پولیس فورس) کے قافلے پر 2 مسلح افراد نے فائرنگ کردی، ملزمان فائرنگ کے بعد فورسز کی گاڑی پر دستی بم بھی پھینک گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں