Saturday, 04 July, 2020
ماں باپ کی آغوش میں کھلتے ہیں گلاب۔۔۔۔۔

ماں باپ کی آغوش میں کھلتے ہیں گلاب۔۔۔۔۔
تحریر: صبا کمال

میرے پڑھنے والو،میں ایک عام سی،نا سمجھ ایک الہڑ سی لڑکی ہوا کرتی تھی،  بات بات پہ رو دینا تو جیسے میری فطرت کا حصہ تھا، اور پھربات بے بات ہنسنا میری کمزوری، یہ لڑکی دنیا کے سامنے وہی کہتی اور وہی کرتی تھی جو یہاں کے لوگ سن اور سمجھ کر خوش ہوتے تھے، نجانے اس عجب سراب کے پرکشش مکینوں کو خوش کرتے کرتے کب میں اس عمر کو پہنچی کہ جہاں مجھے احساس ہوا،کہ نہیں اس دنیا میں کچھ ایسا بھی ہے جو میرے اند بہت ر مختلف ہے، جسے یہ دنیا چاہ کر بھی بدل نہیں پائی۔۔۔جبکہ دنیا میں اس کی فلاسفی الگ ہے، کوئی کہتا تھا للی، تو کوئی بیوقوف جھلی،،،میں نے الگ الگ نظریوں  پر سوچنا شروع کیا، تب جا کر سمجھ آیا کہ۔۔۔۔ہاں مجھ میں انسانوں کااحسا س زندہ ہے، یہ دنیا میں نہیں ہے، اب جو دنیا میں نہیں تھا اسے تلاش کرنا اس سے بھی بڑی  بیوقوفی کی بات تھی،پتہ ہے میں اس تلاش میں نکل پڑی،نجانے کیسے کیسے خوش گوار پھولوں میں لپٹے، حسن کی چادر تانے دنیا کے بد ترین اور بے رونق ترین چہروں نے میرا تعاقب کیا، مجھے گلے لگایا، بس زندہ نگل لینے کی دیر تھی کہ یہاں میرے ماں باپ نے مجھے تھام لیا،یہ جو ماں باپ ہوتے ہیں نا،،،بہت مضبوط ہوتے ہیں،یہ سب کے ایک جیسے ہی ہوتے ہیں بس فرق اتنا  ہوتا ہے کہ کچھ ماں باپ اپنے تجربات میں بچوں کو سمجھتے ہیں۔۔اور کوئی بچوں کے تجربات سے بچوں کو سمجھتے ہیں، ہے نا ایک الگ سا ایک ننھا منا سا پیارا سا مخلص رشتہ، ہاں بالکل ویسا ہی جیسے کبھی ہم ہوا کرتے تھے، جب ہم ناتواں تھے،تب یہی تو تھا ایک، پر خلوص جذبات سے بنا  اور بے غرضی کے رشتے میں سینچا  ہوا احساس،جس نے ہمیں ایسا سنبھالا کہ دنیا میں منفرد بنا ڈالا۔۔۔اچھا بات یہاں ایک دور کی بھی ہے،شاید میں 30 سال پہلے والے والدین کی بات کر رہی ہوں،کیوں کہ وہ ٹیکنالوجی سے دور تھے تو اچھے تھے،آج کے والدین ٹیکنالوجی کے قریب ہیں تو اچھے نہیں ہیں،  یہ فرق ہماری سوچ کا ہے درحقیقت  ایسا قطعا نہیں ہے۔۔۔، ماں،آج بھی بچے کے رونے پر رات رات بھر جاگتی ہے، باپ بچے کے دودھ کے لیئے آج بھی دکانوں کے چکر کاٹتا ہے یہاں فرق اتنا ہے کہ پہلے  زمانے میں ماں اپنی نرم گودی میں بچے کوبھرتی اورلوری کی مٹھاس میں  بچہ کب میٹھی نندیا کی سیر کو نکل جاتا خود ماں کو بھی پتہ نہ چلتا۔۔۔، اور آج ٹیکنالوجی کے سہارے بچہ انٹرنیٹ پر لوری سنتا اور پریوں کے دیس میں پہنچ جاتا ہے،بات تو وہی ہوئی نا،فرق سوچ کا ہے،سمجھ کا ہے،کیوں کے ماں باپ آج کے دور میں بھی  اپنے بچوں کی مہنگی پرورش  کے لیے جوتے چٹخانے پر مجبور ہیں،ہاں رویہ بدل گیا ہے۔۔۔ سوچ بدل گئی ہے۔۔ وہ کہتے ہیں نا محبت اندھی ہوتی ہے تو والدین کے لیے ان کے بچوں کی محبت اس قدر اندھی، گونگی،بہری، لولی،لنگڑی ہو جاتی ہے کہ جب یہی معصوم ماں بابا اپنے بچوں کے فیصلے لینے پر آتے ہیں تو بھول جاتے ہیں کہ۔۔۔۔۔یہ وہی بچہ ہے جو زمانہ طفل میں اپنی پسند کی گاڑی لینے کے لیے گھٹنے رگڑ رگڑ کر رویا کرتا تھا، یہ وہی بچہ ہے جو سکول نا جانے کے لیے ماں کے سامنے طرح طرح کے بہانے بنایا کرتا تھا،جو جھوٹی موٹی چوٹوں کی کہانیاں سنا کر کہ آپ کی آنکھیں نم کر دیا کرتا تھا تب آپ بہت پیار اور دلار سے بچے کو گلے لگا کر کہتے،،،،میرا راجا بیٹا،نہیں جانا سکول مت جاؤ،لیکن رو نانہیں بیٹا،ماں باپ،،،،بچوں کے لیے ہمیشہ اچھا اور سب سے اچھا چننا اور کرنا چاہتے ہیں۔۔،لیکن۔۔کبھی کبھی اپنے بچوں کو سمجھنے میں ہی سمجھداری ہوتی ہے۔۔۔۔اوایسا بھی ہوتا ہے کہ کبھی  قسمت بچوں کو ماں باپ کی خوشیوں کے برعکس ا س سے بھی بہت الگ اور منفرد سبقدینا چاہتی ہے،،،،جیسے میری زندگی نے مجھے دیا۔۔۔۔

دیکھیں،میرے ماں باپ نے مجھے بھی باربی ڈول جیسی زندگی دینا چاہی،حقیقتا اس میں میری ماں کامیاب ہو گئیں کیوں کہ بابا تو بہت پہلے ہی ہماری زندگی سے چلے گئے تھے اللہ جی کے پاس،،،،لیکن آفرین ہے میری ماں پر جس نے ہمیں وہ تربیت دی کہ آج میں آپ سے بات کرنے کے لائق ہوں، پتہ ہے میری ماں نے مجھے والدین کی طرح پالا،اپنے تجربات کی روشنی میں مجھے بہت سکھایا، میں نہیں سیکھی تو مجھے میرے تجربات کی دھند میں جانے دیا، کچھ نظر آیا کچھ نہیں آیا،تب بھی میری پیاری ماں نے مجھے اکیلا نہیں چھوڑا،مجھ سے نفرت نہیں کی،مجھ پر غصہ نہیں کیا،بس اتنا کہا، بیٹا اللہ کو وہ بچے پسند ہیں جو ماں باپ کی بات مان لیں،،،،،کتنا آسان ہے نہ یہ جملہ جو ہم آئے دن سنتے ہی رہتے ہیں، لیکن پتہ ہے اس کی سنگینی کا احساس کب ہوتا ہے، جب ماں باپ کا ہاتھ ان کا ساتھ چھوٹ جاتا ہے،اور ہمیں احساس ہوتا ہے کہ دنیا کی نظر میں ہم زہریلے کانٹے تھے لیکن ماں باپ کیلئے ان کے گلشن کا مہکتا ہواگلاب  بنے رہے، اماں بابا کی آغوش میں محبت اور راحت کے ایسے چشمے پھوٹتے ہیں جو ہمیں کبھی سڑنے گلنے نہیں دیتے،،،میری ماں، عظیم ماں نے میرے ہر قدم چاہے وہ غصے میں لیا  یا محبت میں،ناراضگی میں یا راضی رہتے ہوئے،میرا ساتھ دیا مجھے سمجھنے کی کوشش کی،،،،پتہ ہے پھر کیا ہوا،
 میرے ساتھ تو بہت ہی عجیب ہوا، میں دنیا میں صرف اور صرف ایک ہی احساس کو سمجھتی تھی اور وہ تھا ماں بننے کا احساس، اس کے آگے میں نے کبھی سوچا تک نہیں،سب کچھ بھلا دیا،اپنا مستقبل  ایک عروج پر چھوڑا،اپنی جان سے پیاری ماں کو اندیکھا کرتی رہی،  ہر انسان میں کچھ کمیاں کچھ کمزوریاں ہوتی ہیں لیکن میں نے اپنی ایک معمولی کمزوری کوخود پر اتنا حاوی کر لیا کہ،میرے ارد گرد کی خبروں،حالات و واقعات سے بھی میں منہ چراتی رہی،میری ماں نے میری خوشی کے لئے مجھے آرام فراہم کرنے کے لئے مجھے لوگوں کی چبھتی نظروں سے بچائے رکھنے کے لئے خود پر اتنا بوجھ لیا کہ مجھے اندازہ بھی نہیں ہوا کہ وہ کتنا تھک چکی تھیں۔۔۔۔۔۔لیکن پھر کیا ہوا،،،،،میں پریشان تھی نا، کہ پتہ نہیں میں مستقبل میں کبھی ماں بن پاؤں گی یا نہیں،اللہ نے مجھے سکھایا، دیکھو گڑیا، دنیا میں تم سے ضروری بھی بہت کچھ ہے،نکلو اپنی ذات کے محور سے اور دیکھو تمھارا بچہ تمھارا منتظر ہے،،،،،،ہاں۔۔۔۔۔میں نے تب جانا،،،،میں تو ماں بن چکی تھی۔میرا بچہ میری آنکھوں کا تارا میری بٹیا،میرے سامنے تھی، میں گودی لیتی،اپنے بچے کو اینجی فیڈ دیتی،انھیں نرسنگ کیئردیتی،ان کو چاہتی بہت چاہتی، پھر ایک وقت ایسا آیا کہ،  مجھے سمجھ آ گیا، میرے والدین کا چمکتا ہوا چراغ ہوں میں۔۔۔۔۔جو انھوں نے مجھے دیا تھا،،،،آج پوری کائنات مل کر انہیں وہی سب لوٹا رہی ہے، ہاں میری ماں حقدار تھی اس سب کی،وہ میری رانی تھی کیوں۔۔۔۔کیوں کہ انھوں نے مجھے ہمیشہ رانی بنا کر رکھا تھا۔۔۔۔۔میں بولوں تو بہت کچھ ہے لیکن نہ بولوں تو مجھ میں اب قبرستان جیسی خاموشی پنہاں ہے لیکن پتہ ہے پھر اسی قبرستان میں جشن بہاراں کا سماں ہوتا ہے جب میری ماں  باپ کا احسا س  مجھ میں زندہ ہوتا ہے۔۔۔۔پیارے والدین  کے پیارے بچوں۔۔۔۔ہمیشہ اپنے اندر احساس کو زندہ رکھو، یہ یاد رکھو کہ آج اپنے والدین اور بچوں کے ساتھ حسن سلوک ہی ہے جو آپ کے کل کو سنوار سکتا ہے۔۔۔۔۔۔یہی میرا تجربہ ہے۔۔۔۔اور میری خوش قسمتی کہ آج میری ماں ہی میری بٹیا   ہے۔۔۔۔۔جیتے رہو، دنیا کے تمام والدین کو میرا سلام۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  30252
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
علامہ محمداقبال رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا ہے کہ”ثبات ایک تغیرکو ہے زمانے میں“،گویا اس آسمان کی چھت کی نیچے کسی چیز کو قرارواستحکام نہیں۔تاریخ گواہ ہے کہ اس زمین کا جغرافیہ ایک ایک صدی میں کئی کئی مرتبہ کروٹیں بدلتارہا ہے۔سائنس کی بڑھتی ہوئی رفتار کے ساتھ جغرافیے کی تبدیلی کا عمل بھی تیزتر ہوتاجارہاہے،چنانچہ گزشتہ ایک صدی نے تین بڑی بڑی سپر طاقتوں کے ڈوبنے کا مشاہدہ کیا،
سعودی عرب کے ایک ایم بی سی چینل پر رمضان کے شروع میں ایک ڈرامہ "ام ہارون" کے نام سے نشر کیا جا رہا ہے، جس میں یہودیت کو مظلوم بنا کر پیش کیا گیا ہے۔
عالمی یوم آزادیِ صحافت کے حوالے سے خصوصی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ تیس برس میں انیس صحافی فرائض کی ادائیگی کے دوران جاں بحق ہوچکے ہیں۔ بھارتی فورسز کے مظالم اجاگر کرنے پر صحافیوں کو گرفتار کیاجاتا ہے اور تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
یکم مئی' یومِ مزدور' وہ دن جسے مزدور کے علاوہ سب مناتے ہیں' اس بار شائد وہ رنگ نہ جما سکے کہ کورونا کے دربار میں سبھی ایک ہوئے ہیں مگر متاثر صرف مزدور۔ مزدور کہ جسے دو وقت کی روٹی کے لالے پڑے ہوتے تھے اب وقت کی بے رحم موجوں کے سہارے زندگی اور موت کی جنگ سے نبرد آزما ہے۔ خیر یہ قصہ پھر سہی ابھی فی الحال ایک طائرانہ نظر اس دن کی مناسبت سے۔

مزید خبریں
کورونا وائرس پاکستان ہی نہیں ہی دنیا بھر میں اپنی پوری بدصورتی کے ساتھ متحرک ہے ، تشویشناک یہ ہےاس عالمی وباء کے نتیجے میں ہمارے ہاں اموات کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا،
کی سڑک کے کنارے ایک ہوٹل میں چائے پینے کے لیے رکا تو ایک مقامی صحافی دوست سے ملاقات ہوگئی جنہیں سب شاہ جی کہتے ہیں سلام دعا کے بعد شاہ جی سے پوچھا کہ ٹیکنالوجی کی وجہ سے پاکستان کتنا تبدیل ہوچکا ہے تو کہنے لگے کہ سوشل میڈیا کی وجہ سےعدم برداشت میں بہت اضافہ ہوا ہے۔
صبح سویرے اسکول جاتے وقت ہم عجیب مسابقت میں پڑے رہتے تھے پہلا مقابلہ یہ ہوتا تھا کہ کون سب سے تیز چلے گا دوسرا شوق سلام میں پہل کرنا۔ خصوصاً ساگری سے آنیوالے اساتذہ کو سلام کرنا ہم اپنے لیے ایک اعزاز تصور کرتے تھے۔
عزیزان۔۔۔! بہت آسان ہے ہر رات ٹی وی ڈرامہ کا انتخاب کرنا یا کسی فلم کو دیکھنے کے لیے دیر تک جاگنا۔۔ بہت مشکل ہے ٹھنڈی اور تاریک رات میں اپنے بچوں اور والدین سے دور برفباری جیسے موسم کے اندر اپنا فرض نبھانا۔۔

مقبول ترین
پاکستان اور چین کے وزرائے خارجہ نے ایک اہم ٹیلی فونک گفتگو میں بین الاقوامی فورمز پر باہمی تعاون کے فروغ پر اتفاق کیا ہے۔ میڈیا کے مطابق وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے چینی وزیر خارجہ وانگ یی سے ٹیلی فونک رابطہ کرکے خطے
ہائی کورٹ کی انتظامی کمیٹی نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو العزیزیہ اسٹیل مل ریفرنس میں سزا سنانے والے احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک کو برطرف کر دیا ہے۔ ارشد ملک کا اسکینڈل سامنے آنے پر انہیں عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور قومی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ مائنس عمران خان کا مطالبہ غیر جمہوری مطالبہ نہیں۔ حکومت ہٹانے کے لیے کبھی بھی غیر آئینی طریقے کی حمایت نہیں کریں گے۔
تائیوان حکومت کا عجیب و غریب اقدام ،کورونا وائرس میں سفر کے لیے ترسنے والوں کے لیے تائیوان میں ’’جعلی پروازوں‘‘ کا سلسلہ شروع کردیا۔ ابتدائی مرحلے میں اس سفر کے لیے 7 ہزار افراد نے رجوع کیا۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں