Thursday, 14 December, 2017
مفاہمت یا مزاحمت

مفاہمت یا مزاحمت
تحریر: رئیس انصاری

 

نواز شریف کی نااہلی کے بعد ملکی سیاست خاص طور پر ن لیگی سیاست ایک ہیجان کا شکار ہے۔ وزارت عظمی سے بے دخلی کے بعد نواز شریف نے اپنی مزاحمتی تحریک شروع کی اور اسلام آباد سے لاہور جاتے ہوئے پورے راستے ایک ہی سوال دھراتے گئے ’مجھے کیوں نکالا ؟‘۔

ابتدا میں نواز شریف سپریم کورٹ کے فیصلے پر تنقید کرتے رہے تاہم اب انہوں نے براہ راست ججوں کو ہدف تنقید بنانا شروع کردیا اور اب تو حد ہی ہو گئی، وہ کھلم کھلا معزز جج صاحبان کو ’بغض سے بھرا ہوا‘ کہہ رہے ہیں۔

بات یہاں تک ہی نہیں رکی انہوں نے کہنا شروع کردیا ہے کہ ان کے خلاف فیصلہ کیا نہیں جارہا بلکہ ’کروایا‘ جا رہا ہے، انہوں نے فیصلہ ’کروانے‘ والوں پر راہزنی کا الزام بھی لگا دیا جب پوچھا گیا کہ میاں صاحب راہزن کسے کہہ رہے ہیں تو جواب آیا کہ راہزنی کا الزام جن پر لگایا جارہا ہے وہ سب جانتے ہیں کہ یہ الزام کس پر لگایا جارہا ہے۔

ایبٹ آباد کے جلسے میں نواز شریف نے راہزنی کے الفاظ ہی نہیں دہرائے بلکہ یہ بھی کہہ دیا کہ ’پانچ افراد‘ بیس کروڑ عوام کی قسمت کا فیصلہ نہیں کرسکتے یعنی جو فیصلہ میاں صاحب کے خلاف ہو وہ ان کے بقول بیس کروڑ عوام کے خلاف ہو جاتا ہے۔

وہ اس حقیقت سے بھی انکاری ہو جاتے ہیں کہ ملک کی دیگر بڑی سیاسی جماعتیں عدالتی فیصلے کی حمایت کرکے عوام کی ترجمانی کر رہی ہیں۔

نواز شریف کے بارے میں میں کیا کہوں کہ انہوں نے تو اپنے رہبروں کو ہی راہزن کہہ ڈالا، میں میاں صاحب سے معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ ان کو سیاست کی پہلی سیڑھی پر قدم کس نے رکھوایا؟ وزیراعظم کی کرسی تک وہ کس کی مدد اور حمایت سے پہنچے؟ نوازشریف اگر یہ سب بھول گئے ہیں تو ہم یاد دلاتے ہیں۔

میاں صاحب گورنر پنجاب جنرل غلام جیلانی آپ کی انگلی پکڑ کر سیاست میں لائے، انہی کی رہنمائی میں آپ جنرل ضیاء الحق کے کندھے پر سوار ہوئے اگر حالیہ دور کی بات کریں تو میاں نواز شریف شاید بھول گئے کہ عمران خان کے 126 دن کا دھرنا جنرل راحیل شریف کی کوششوں کے بعد ختم ہوا اور انہوں نے آپ کی حکومت کو گرنے سے بچایا اور اس وقت آپ کو بچانے میں موجودہ رہبر کا بھی ایک بڑا کرادار تھا جو جمہوریت کے حامی ہیں۔

نواز شریف صاحب آپ قوم کو مزید دھوکا نہیں دے سکتے ہیں کیوں کہ قوم سب جان چکی ہے کہ رہبر کون ہے اور راہزن کون، اگر آپ کی بات کو ایک لمحے کے لیے درست تصور کر لیا جائے تو کیا صرف جمہوری حکومت کا خاتمہ کرکے آمریت قائم کرنے والا ہی راہزن ہوتا ہے؟ کیا حکومت میں رہتے ہوئے لوٹ مار کا بازار گرم کرنے والا اور اپنی دولت چھپانے والا راہزن نہیں ہوتا۔

میاں صاحب میں نہایت ادب سے عرض کروں کہ آپ اور آپ کے حواری ہمیشہ یہی کہتے رہے ہیں کہ ہم نے حکومت میں رہتے ہوئے کبھی ٹھیکوں یا دیگر سے کوئی کمیشن نہیں لیا، کسی حکومتی پروجیکٹ میں خرد برد کرکے کوئی پیسہ نہیں کمایا۔

آپ سب نے الزام لگایا کہ آصف زرداری نے ملک سے باہر اربوں ڈالر کا ناجائز سرمایہ جمع کر رکھا ہے اور آپ تمام دولت ملک میں واپس لائیں گے لیکن آپ نے یہ الزام صرف دھونس دھمکی کی حد تک رکھا اور اس کے لیے کبھی کوئی کوشش نہیں کی کیوں کہ آپ جانتے ہیں کہ جب لندن کے قیمتی فلیٹ خریدے گئے اس وقت تو آپ ہی کی حکومت تھی۔

 اور جوں جوں آپ کی حکومت چلتی رہی آپ کا بیرون ملک سرمایہ تیز رفتاری سے بڑھتا گیا۔

تہذیب یافتہ ملکوں میں کسی حکومتی عہدہ رکھنے والے کا حالیہ تو کیا اس کے زمانہ طالب علمی کا کوئی چھوٹا سا معاملہ بھی سامنے آجائے تو وہ استعفی دے کر اپنے عہدے سے سبکدوش ہوکر گھر چلا جاتا ہے تا کہ معاملے کی تحقیقات میں رکاوٹ نہ  ہو۔

لیکن آپ اور آپ کے حواری ہیں کہ مانتے ہی نہیں، آپ کے سمدھی اور ملک کے علیل وزیر خزانہ اسحاق ڈار حدیبیہ پیپر ملز کیس میں اب ملزم بن چکے ہیں اور احتساب عدالت نے ان کے نا قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے ہیں لیکن شاید آپ کی حمایت کی وجہ سے وہ استعفی دینے کو تیار نہیں اور نہ کوئی ان سے تقاضہ کرنے کی جرات رکھتا ہے۔

نواز شریف کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی میں ان کے نااہل ہونے کے بعد سے اب تک مفاہمت یا مزاحمت کی سیاست پر بحث جاری ہے، نواز شریف مزاحمت کی سیاست کرنا چاہتے ہیں اور کر رہے ہیں جب کہ شہباز شریف مفاہمت کی سیاست کے حامی ہیں۔

شہباز شریف نہایت ادب کے ساتھ بڑے بھائی کو سمجھانے کی کوشش بھی کررہے ہیں لیکن نوازشریف بدستور اپنی سیاسی حمکت عملی پر ڈٹے ہوئے ہیں۔

پچھلے دنوں نواز شریف کی صدارت میں ہونے والے ایک اجلاس میں وزیر ریلوے اور میاں صاحب کے قریبی ساتھی خواجہ سعد رفیق اور صوبائی وزیر رانا ثناءاللہ نے جارحانہ انداز اپناتے ہوئے میاں صاحب کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں سڑکوں پر آکر لوگوں بتانا چاہئے کہ راہزن کون ہے جو میاں نواز شریف کو سیاست سے دور کرنا چاہتا ہے تو شہباز شریف ان پر برہم بھی ہوئے اور محاذ آرائی کی سیاست سے دور رہنے کا کہا۔

اس موقع پر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور وزیرداخلہ احسن اقبال نے بھی میاں شہباز شریف کا ساتھ دیا۔

شہباز شریف چاہتے ہیں کہ مفاہمت کی سیاست کی جائے تاکہ ملک ترقی کرے اور اداروں کے درمیان کسی بھی تصادم سے بچا جائے لیکن نواز شریف کسی صورت ماننے کو تیار نہیں ہیں، وہ اپنی نااہلی کے بعد بپھر گئے ہیں اور ان کی صاحبزادی مریم نواز بھی جارحانہ سیاست پر عمل پیرا ہیں۔

ہمارے سیاست دانوں کو سمجھنا چاہیے کہ ملک کے حالات خراب کرنے والی بیرونی طاقتوں کو ایٹمی پاکستان کھٹکتا ہے، یہ طاقتیں جانتی ہیں کہ افواج پاکستان کا نظم و نسق مثالی ہے اور فوج جیسے با صلاحیت ادارے کے ہوتے ہوئے وہ پاکستان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ 

ان کی یہی کوشش ہے کہ کسی طرح اس ادارے کو کمزور کرکے پاکستان کے استحکام کو خطرات سے دوچار کیا جائے اور ان حالات میں میاں نواز شریف سمیت ہم سب کو سوچنا چائیے کہ مسلح افواج کو متنازعہ بنانے سے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بشکریہ ’’جیو نیوز‘‘
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  3725
کوڈ
 
   
مزید خبریں
دنیا بھر میں بولی اور سمجھی جانی والی زبانوں میں سے اردو ہندی دنیا کی دوسری بڑی زبان بن چکی ہے، جبکہ اول نمبر پر آنے والی زبان چینی ہے اور انگریزی کا نمبر تیسرا ہے۔ روزنامہ ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے یونیورسٹی آف ڈیسلڈرف الرچ کی 15 برس کی مطالعاتی رپورٹ
ہمارے نیم حکیموں کو کون سمجھائے کہ بلکتے، سسکتےعوام کو جمہوریت سے بدہضمی ہونے کا خوف دلانا چھوڑ دیجئے حضور! 144 معالجین کے مطابق انسانی معدے کی خرابی تمام بیماریوں کی ماں ہوتی ہے اور معدے کی خرابی سے ہی بدہضمی، ہچکی، متلی، قے، ہاتھوں میں جلن کا احساس، بھوک کا نہ لگنا، پژمردگی اور چہرے پر افسردگی کے اثرات چھائے
یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ پارلیمنٹ لاجز میں ہونے والی غیر اخلاقی حرکتوں کے متعلق جمشید دستی کو کس نے ویڈیو ثبوت اور ”ناقابل تردید“ ثبوت فراہم کیے ہیں؟ یہ سوال بھی اہم ہے کہ آخر جمشید دستی نے یہ ا یشو کیوں چھیڑا ؟ اس کے نتیجے میں جو صورتحال پیش آسکتی ہے اس کے دور رس نتائج نکل سکتے ہیں۔
دہشت گردوں کی طرف سے جنگ بندی کے اعلان کے صرف 48 گھنٹے بعد ہی دارالحکومت اسلام آباد کودہشت گردی کا نشانہ بنادیا گیا۔

مقبول ترین
راولپنڈی۔ پاک فوج فاٹا کو قومی دھارے میں لانے کے حق میں ہے جب کہ قیام امن کے لئے قبائلی عوام کی قربانیاں رنگ لارہی ہیں، ان خیالات کا اظہار پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے قبائلی عمائدین اور یوتھ جرگہ کے
بغداد۔ عراق میں داعش کو شکست دینے کے بعد امریکی فوج سمیت دیگرممالک کی افواج کی موجودگی کے سخت مخالف ہیں، ان خیالات کا اظہار تحریک عصائب اہل الحق کے سربراہ نے شیخ قیس خزعلی نے ذرائع ابلاغ
پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ حکومت ناموس رسالت سے متعلق قوانین میں تبدیلی سے باز رہے۔ ختم نبوت اور ناموس رسالت ہر مسلمان کا بنیادی عقیدہ ہے۔ حکومت نے الیکشن قوانین کی آڑ میں ختم نبوت کے معاملہ میں چھیڑ چھاڑ کی
اسسٹنٹ کمشنر کھاریاں اویس منظور تارڑنے کہا ہے کہ شمسہ ویلفیئر فاونڈیشن جس اچھے ، منفرد اور منظم انداز میں خواتین کی پسماندگی اور چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لئےجو کام کررہی ہےوہ قابل تحسین ہے۔ شمسہ ویلفیئر فاونڈیشن جیسے ادارے ہمارے ملک کے لئے بہت بڑی نعمت ہیں۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں