Thursday, 26 November, 2020
بڑھتی مہنگائی اور پریشان حال عوام

بڑھتی مہنگائی اور پریشان حال عوام
شمائلہ شاہین


پاکستان میں مہنگائی کا جن پچھلے کئی سالوں سے آزادہےاورہرگزرتےدن کےساتھ پہلےسےزیادہ طاقتورہوتاجارہاہے۔ہرآنےوالی حکومت اسے قابوکرنےمیں ناکام رہی ہے، یہی وجہ ہےآج کل جسےدیکھووہی مہنگائی کاروناروتانظرآتاہے،ہر شے کی قیمت آسمان سے باتیں کرتی نظرآتی ہے۔ اقتدار میں آنے سے قبل ہر سیاسی جماعت عوام کے سامنے بلندوبانگ دعوے کرتی ہے اور اپنی چکنی چپڑی باتوں سے عوام کو سبز باغ بھی دیکھاتی ہے، لیکن اقتدار میں آتے ہی سبھی وعدے بھلا دیے جاتے ہیں۔
ایک جانب حکومت پٹرولیم مصنوعات اوراشیاءخوردونوش کی قیمتیں  خود بڑھاتی ہے تو دوسری جانب ان اشیا کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر نوٹس بھی لیتی نظر آتی ہے اگر عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہو جائیں تب بھی پاکستان میں ان اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہی کیا جاتا ہے۔ہر شے کی قیمت روپوں میں بڑھائی جاتی ہیں جبکہ سستی پیسوں کے حساب سے  کی جاتی ہے۔ کچھ دن قبل حکومت وقت نے عوام کو سستا پٹرول فراہم کرنے کی نوید سنائی لیکن جلد ہی اس خوش خبری کو بھی کسی کی نظر لگ گئی۔ پہلے تو شہروں میں پٹرول کی قلت پیدا ہوئی لیکن بجٹ کی منظوری کے بعد پٹرول کی قیمت میں ہی اضافہ ہو گیا۔ 
مختلف حکومتوں نے اپنے اپنے دوراقتدارمیں بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے پریشان حال عوام کو ریلیف دینے کےلیے، اتوار بازار، سستے بازار اور یوٹیلیٹی اسٹورز قائم کیے۔ عوام کو ریلیف  دینے کے لیے یوٹیلیٹی اسٹورزکا قیام ایک خوش آئند فیصلہ تھا لیکن ان اسٹورز کا قیام صرف شہروں تک محدود رہایوں دیہات میں بسنے والی اکثریتی آبادی اس ریلیف سےمحروم ہے۔اوران ااسٹورز پر اشیائے خوردونوش کو سستے داموں فروخت کیا جاتا تھا۔لیکن گزرتے وقت کے ساتھ یوٹیلیٹی اسٹورز بھی معاشی بحران کا شکار ہونے لگے۔ ان اسٹورز پر چند اشیاءایسی ہیں جوکم قیمت پر فروخت ہورہی ہیں لیکن ان کی کوالٹی بہت بری ہےاس بڑھتی ہوئی مہنگائی کی ایک بڑی وجہ ذخیرہ اندوزی بھی ہے۔ کرونا وباء کی وجہ سے ملک میں لگائے جانے والا لاک ڈاون  بھی مہنگائی میں اضافہ کاسبب بن رہا ہے۔ لاک ڈاؤن کے ختم ہوتے ہی عوام کو ایک بار پھر سے مہنگائی کے طوفان سے مقابلہ کرنا ہوگا۔کورونا وباء کی وجہ سے بیروزگاری میں مزید اضافہ ہوا ہےاوربیروزگاری،مہنگائی میں اضافہ کا سبب بن رہی ہے۔بڑھتی ہوئی مہنگائی جرائم میں اضافہ کا بھی باعث بن رہی ہے۔اس مہنگائی کی وجہ سے دیہاڑی دار طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے خودکشی کی شرح میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، اس مہنگائی کی وجہ سے والدین اپنی بچوں کولوگوں کے گھروں میں کام کروانے پر مجبور ہے  حکومت عوام کو صبروتحمل کا درس دیتی نظر آتی ہے،اور مدینے کی ریاست بنانے کا دعویٰ کرتی ہے، مدینہ کی ریاست  تووہ تھی جس میں حضرت عمرفاروقؓ نے اپنی تنخواہ ایک مزدورکی اجرت کے مساوی رکھی جس پر آپ ؓسے پوچھا گیا کیا اتنی کم آمدنی میں آپؓ کا گزاراہو جائے گا آپؓ نے کہا اگر میرا اس میں گزارا نہ ہوا تو میں مزدور کی اجرت بڑھا دوں گا۔ محترم وزیراعظم صاحب کا ااپنا گزارہ دو لاکھ میں نہیں  ہوتا لیکن غریب عوام کو صبر و تحمل اور بردباری کا درس دیتے ہیں، حکومت محض بلندوبانگ دعوے کرتی ہے، لیکن عملاًکوئی کام کرتی دیکھائی  نہیں دیتی۔  بڑھتی ہوئی مہنگائی پر نوٹس بھی لیے جاتے ہیں لیکن اس کے باوجودشرح مہنگائی میں کمی کے بجائے اضافہ ہی دیکھنے میں آتا ہے۔نون لیگ کی حکومت کے وقت موجودہ حکومت نے بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بیروزگاری پر عوام کو سول نافرمانی پر اکسایا تھا اور طویل دھرنا دیا تھا ،جسکی وجہ سے ملکی معشیت کو نا قابل تلافی نقصان پہنچا تھا ۔اور خود اقتدار میں آنے کے بعد کمزور معشیت کا روناروتے نظر آئے۔اور مہنگائی میں  اضافہ ہی کرتے چلے گئےیہاں تک کے سال میں دو بار بجٹ پیش کیا گیا لیکن عوام کو کوئی ریلیف نہ دیا جاسکا امسال بھی بجٹ پیش ہوا تو عوام کو ریلیف سے محروم ہی رکھا گیا اگرچہ عوام نے موجودہ حکومت سے بہت سی امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں،حکومت کوچاہئے کہ عوام سے کیے گئے وعدے پورے کرے،اور عوام کو ریلیف فراہم کرے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  33668
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
عورت اردو کے چار حروف پر مبنی ان لفظوں کا بھی کیا خوب امتزاج ہے، کہ ع،عزت دیتا ہے،تو و،وفا کی علامت بن کر نکھرتا ہے،ر،راحت کا سبب بنتا ہے تورونق بھی بخشتا ہے، ت،تعمیل بجا لا کرتعریف میں پھولے نہیں سماتا، ایسی ہے عورت جو عزت کی مورت ہو تو باوفا کہلاتی ہے اور جب وفا داری کی چمک رونق بخشتی ہے تو خوب تعریف سمیٹتی ہے۔
چند روز قبل ( ن) لیگ کی ریلی جس وقت اسلام آباد سے راولپنڈی کا سفر طے کررہی تھی اس دوران چند ٹی وی چینلوں کے رپورٹروں اور کیمرہ مینوں کوریلی میں شریک لوگوں نے تشدد کا نشانہ بنایا، عام فہم زبان میں یوں
خواتین کے حقوق کو سمجھنے سے پہلے یہ بات جاننا ضروری ہے کہ دور جدید میں ہم خواتین کے حقوق کو کس تناظر میں دیکھنا چاہتے ہیں، حقوق نسواں کے حوالے سے دنیا بھر میں 8 مارچ کو "خواتین کا عالمی دن" بھی منایا جاتا ہے، پہلے ہم اس بات کا جائزہ لیتے ہیں

مزید خبریں
کورونا وائرس پاکستان ہی نہیں ہی دنیا بھر میں اپنی پوری بدصورتی کے ساتھ متحرک ہے ، تشویشناک یہ ہےاس عالمی وباء کے نتیجے میں ہمارے ہاں اموات کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا،
کی سڑک کے کنارے ایک ہوٹل میں چائے پینے کے لیے رکا تو ایک مقامی صحافی دوست سے ملاقات ہوگئی جنہیں سب شاہ جی کہتے ہیں سلام دعا کے بعد شاہ جی سے پوچھا کہ ٹیکنالوجی کی وجہ سے پاکستان کتنا تبدیل ہوچکا ہے تو کہنے لگے کہ سوشل میڈیا کی وجہ سےعدم برداشت میں بہت اضافہ ہوا ہے۔
میرے پڑھنے والو،میں ایک عام سی،نا سمجھ ایک الہڑ سی لڑکی ہوا کرتی تھی، بات بات پہ رو دینا تو جیسے میری فطرت کا حصہ تھا، اور پھربات بے بات ہنسنا میری کمزوری، یہ لڑکی دنیا کے سامنے وہی کہتی اور وہی کرتی تھی جو یہاں کے لوگ سن اور سمجھ کر خوش ہوتے تھے
صبح سویرے اسکول جاتے وقت ہم عجیب مسابقت میں پڑے رہتے تھے پہلا مقابلہ یہ ہوتا تھا کہ کون سب سے تیز چلے گا دوسرا شوق سلام میں پہل کرنا۔ خصوصاً ساگری سے آنیوالے اساتذہ کو سلام کرنا ہم اپنے لیے ایک اعزاز تصور کرتے تھے۔

مقبول ترین
تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ مولانا خادم حسین رضوی قضائے الہیٰ سے انتقال کر گئے ہیں۔ میڈیا کے مطابق وہ چند دنوں‌سے شدید علیل تھے۔ مولانا خادم حسین رضوی صوبہ پنجاب کے ضلع اٹک سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں قران پاک حفظ کیا ہوا تھا۔
پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ نے جلسوں پر پابندی کے حکومتی فیصلے کو مسترد کردیا اور کہا ہے کہ جلسے اپنے شیڈول کے مطابق ہوں گے ہم حکومتی پابندی کو تسلیم نہیں کرتے۔ یہ بات اپوزیشن جماعتوں کے مشترکہ اتحاد پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل
ڈی جی آئی ایس پی آرمیجرجنرل بابرافتخار نے خبردار کیا ہے کہ نومبر اور دسمبر میں کراچی، لاہور اور پشاور میں بھارتی دہشت گردی کے بڑے واقعات کا خطرہ ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آرمیجرجنرل بابر افتخار نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ہمراہ مشترکہ
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق بھارت نے اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لئے ایل او سی پر محاز کھول دیا ہے، 7 اور 8 نومبر کو مبینہ طور پر بھارتی فوج کی ضلع کپواڑہ میں حریت پسندوں کے ساتھ جھڑپ ہوئی، جھڑپ حریت پسندوں

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں