Friday, 18 October, 2019
وسطی ایشیا اور پاک روس تعلقات

وسطی ایشیا اور پاک روس تعلقات
تحریر: ناصر خان

 

روس کے ساتھ تعلقات دوستانہ، خوشگوار اور پائیدار بنانے کے سلسلے میں عوامی اور سیاسی سطح پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔ یہی وہ بنیادی نکتہ ہے کہ عالمی سیاسی حلقوں اور تزویراتی موضوع پر قائم تھنک ٹینکس میں آج کل پاکستان اور روس کے مابین بڑھتے ہوئے تزویراتی تعلقات کا موضوع خاصا اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ 

21 اگست 2017کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی ایشیا کے بارے میں اپنی نئی حکمت عملی کو جس انداز سے بیان کیا اور اس میں پاکستان کے حوالے سے جو جارحانہ لہجہ اختیار کیا اس کے بعد پاکستان نے علاقائی طاقتوں سے روابط کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا۔ علاقے کے دو بڑے ممالک چین اور روس نے اس سلسلے میں کھلے لفظوں میں پاکستان کی حمایت کی اور مسٹر ٹرمپ کی دھمکیوں کو نامناسب قرار دیا۔ ایران نے امریکی صدر کے نقطۂ نظر کو مسترد کردیا ہے۔

امریکی سرپرستی میں افغان جہاد کے بعد پاک روس تعلقات سرد مہری بلکہ کشیدگی کا شکار رہے۔ دنیا ایک گلوبل ولیج بن چکی ہے۔ عالمی ممالک کے مفادات ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ سفارت کاری بھی ہوشیاری کا دوسرا نام ہے جیسے شطرنج کے کھلاڑی مخالف کو شہہ دینے کے لیے مہرے آگے بڑھاتے ہیں۔ اسی طرح سفارت کار بھی ایک دوسرے سے بلف کھیلتے ہیں۔

کچھ عرصے سے افغانستان اور پاکستان کے بارے میں امریکا کی نئی حکمت عملی کا عندیہ دیا جارہا تھا۔ اس کے پیش نظر پاکستانی حکام کو یہ توقع توتھی کہ امریکا کی نئی افغان پالیسی کا نشانہ پاکستان ہوگا لیکن انھیں یہ توقع نہ تھی کہ امریکا پاکستان کے بارے اپنے تمام تر وعدوں سے یوں انحراف کرے گا اور جارحانہ رویے پر اتر آئے گا۔ 

21اگست کی امریکی صدر کی تقریر کے بعد چین اور روس نے اس نئی امریکی افغان پالیسی پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے اور اعلانیہ پاکستان کی حمایت کی۔ ماسکو نے واشنگٹن کو خبردار کیا کہ پاکستان پر دباؤ ڈالنے سے خطہ شدید عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے اور اس کے منفی نتائج نکل سکتے ہیں۔ روسی صدر کے افغانستان کے لیے نمائندہ ضمیر کابلوف نے اپنے ایک بیان میں افغانستان کے حوالے سے کہاکہ پاکستان علاقے کا ایک بنیادی کھلاڑی ہے جس سے بات چیت کرنا ہوگی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ افغان مسئلے کے حل میں پاکستان کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

جب امریکہ نے افغانستان میں اپنی افواج اُتاریں تو اردگرد کے علاقے تشویش میں مبتلا ہوگئے۔ پاکستان، روس اور چین افغانستان کے ہمسایے ہیں ان تینوں ملکوں کے درمیان سفارتی سطح پر تعلقات میں اضافہ ہوااور اتفاق ہوا کہ امریکہ کو تیل اور گیس کے مرکزی علاقوں پر قدم جمانے کا موقع نہ دیا جائے۔ اس ضمن میں شنگھائی کانفرنس نے قابل ذکر کردار ادا کیا۔

پاکستان کے دفاعی اور خارجہ امور ہمیشہ افواج پاکستان کے کنٹرول میں ہی رہے ہیں۔ آج بھی کلیدی فیصلے جی ایچ کیو میں ہی کیے جاتے ہیں البتہ آئین کے تقاضے پورے کرنے کے لیے منتخب حکومت سے منظوری کا ٹھپہ لگوالیا جاتا ہے۔ تاہم اس وقت یوں محسوس ہوتا ہے کہ وزارت خارجہ اور جی ایچ کیو کے مابین روس کے حوالے سے ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔

بظاہر افواج پاکستان نے زمینی اور معروضی حقائق سے سیکھنا شروع کردیا ہے۔ عسکری قیادت دفاعی اور خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کرنے پر آمادہ نظر آتی ہے۔ بھارت امریکہ بڑھتے ہوئے تعلقات نے روس ، چین اور پاکستان کو تشویش میں مبتلا کردیا۔ ایبٹ آباد آپریشن اور سلالہ چیک پوسٹ پر حملے نے افواج پاکستان کو سخت مایوس کیا ہے۔ بھارت کے ساتھ امریکہ کے گہرے تعلقات اور امریکہ کی موجودگی میں افغان راستے سے پاکستان میں تخریبی کارروائیوں میں بھارتی کردار نے پاکستانی افواج کو اپنا نقطۂ نظر تبدیل کروانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے جارحانہ اور معاندانہ روئے کے ساتھ ساتھ امریکی حکام نے پاکستان کے نان ناٹو اتحادی کا سٹیٹس بھی ختم کرنے کا عندیہ دیا ہے اور دہشت گردی کے خلاف مالی امداد کا سلسلہ امریکی انتظامیہ پہلے ہی بند کر چکی ہے۔ اس امر نے بھی پاک فوج کو نئے فیصلوں تک پہنچنے میں مدد کی ہے۔

پاکستان کے سیاسی و فوجی اداروں کی رائے میں ان دھمکیوں اور ایسے امریکی اقدامات کے بعد پاکستان کے لیے علاقائی طاقتوں اور اپنے دوستوں کے ساتھ تیز رفتار روابط قائم کرنا نہایت ضروری ہو گیا تھا۔ چنانچہ پاکستان کے وزیر خارجہ نے اپنے امریکا کے دورے کو ملتوی کردیا اور چین،ایران اور ترکی کا دورہ کرکے امریکا کو یہ پیغام دیا کہ ہمارے پاس متبادل راستے موجود ہیں۔ 

اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کے لیے چین کی حمایت اہمیت رکھتی ہے لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ روس کی طرف سے دست تعاون بڑھایا جانا پاکستان کے لیے ایک انہونی قرار دیا جاسکتا ہے۔ پاکستان جو امریکا کا اتحادی رہا ہے اور آخر کار امریکا کا اتحادی بن کر اس نے سوویت یونین کو توڑنے میں اپنا کردار ادا کیا ہے، آج اگر روس کا اتحادی بننے جا رہا ہے تو بلاشبہ اسے ایک غیر معمولی واقعہ قرار دیا جاسکتا ہے۔

پاک روس مشترکہ مفادات نے ایک دوسرے کے تعلقات میں گرم جوشی پیدا کی ہے۔ پاکستان کے لیے لازم ہے کہ وہ امریکہ پر اپنا انحصار کم کردے اور پاکستان کے لانگ ٹرم مفادات کی خاطر روس کے ساتھ ٹھوس بنیادوں پر تعلقات کو آگے بڑھائے۔ جس امر کا خطرہ اب بھی موجود ہے اور وہ یہ کہ کہیں ہمارے حکمران طبقے امریکیوں کی کسی دلفریب پیش کش کے جھانسے میں نہ آجائیں اور آج علاقے کی سیاست کے تقاضوں کے عین مطابق جو اقدامات کررہا ہے وہ تندروی کا شکار نہ ہو جائیں تاہم سی پیک جیسا عظیم منصوبہ ممکن طور پر پاکستان کو نئی حکمت عملی سے جوڑے رکھنے میں اپنا کردار ادا کرسکتا ہے اور یہی وہ منصوبہ ہے جس میں روس نے بھی شرکت کا فیصلہ کیا ہے اور ایران نے بھی جس میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے جب کہ امریکا اور بھارت سی پیک کے کسی بھی طرح خاتمے کے لیے سر جوڑے ہوئے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  18577
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
ملکوں کے تعلقات کی بنیاد مفادات پر ہوتی ہے۔مفادات طے کرتے ہیں کہ کس ملک کے ساتھ کس نوعیت کے تعلقات رکھنے ہیں۔یہ بات بھی طے ہے کہ یہ مفادات وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتے رہتے ہیں یہی تبدیل ہوتے مفادات
پاکستان مشرق وسطی سے متصل اور خلیج فارس کے دہانے پر واقع ہے۔ مغربی ایشیا کے ساتھ تعلقات کے بارے میں پاکستان ہمیشہ حساس رہا ہے۔ اس خطے کے ساتھ پاکستان مذہبی، تاریخی، تہذیبی، سیاسی اور معاشی رشتوں میں بندھا ہوا ہے۔
علامہ عارف حسین واحدی پاکستان کے مذہبی و سیاسی حلقوں میں کسی تعارف کے محتا ج نہیں۔
چند دِن پہلے بچوں کے اسکول جانا پڑا۔ بچوں کے تیسری سہ ماہی کے پیپر ہونے والے ہیں مگر ان کی کچھ کاپیاں اور کتابوں میں موجودہ کام ابھی تک صحیح طرح سے چیک نہیں کیا گیا تھا۔ اوپر سے متزادیہ کہ سکول میں احتجاجاً دو چھٹیاں دے دی گئیں تھیں اور سننے میں یہ آرہا تھا

مقبول ترین
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ یہ پہلی اسمبلی ہے جو’ڈیزل‘ کے بغیر چل رہی ہے اگر فضل الرحمان کے لوگ میرٹ پر ہوئے تو انہیں بھی قرضے دیے جائیں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے نوجوانوں کے لیے ’کامیاب جوان پروگرام‘ کا افتتاح کردیا ہے۔
وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت تحریک انصاف کی کورکمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں پنجاب اور خیبر پختونخوا کے وزرائے اعلیٰ اورتین گورنرز نے شرکت کی۔ حکومت نے مولانا فضل الرحمان سے مذاکرات کے لیے کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ نوکریاں حکومت نہیں نجی سیکٹر دیتا ہے یہ نہیں کہ ہر شخص سرکاری نوکر ی ڈھونڈے ، حکومت تو 400 محکمے ختم کررہی ہے مگرلوگوں کا اس بات پر زور ہے کہ حکومت نوکریاں دے۔
وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ ایرانی صدر سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا کہ پاکستان اور

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں