Friday, 23 August, 2019
مدارس کنٹرول: علامہ طاہراشرفی اور جرمن حکومت کے درمیان ڈیل کا انکشاف

مدارس کنٹرول: علامہ طاہراشرفی اور جرمن حکومت کے درمیان ڈیل کا انکشاف

اسلام آباد ۔ امریکہ کے بعد جرمن حکومت حکومت کی طرف سے بھی مدارس اور سوشل میڈیامیں انتہاپسندی کے خاتمے کے لیے علامہ طاہراشرفی سے 37 لاکھ یوروکے عوض خدمات لیے جانے کاانکشاف ہواہے جس میں 20ہزارمدارس تک رسائی ٹارگٹ رکھاگیاہے معاہدے کے مطابق علامہ طاہراشرفی چھ ماہ میں چھ علماء کانفرنسوں سمیت بین المدارس تقریری مقابلے منعقدکریں گے جس کے لیے عوامی سطح سے پاکستان میں کوئی چندہ نہیں لیاجائے گا۔

میڈیا مطابق امریکہ کے بعد یورپ نے بھی پاکستان سے انتہاپسندی کے خاتمے کے لیے کوششیں شروع کردی ہیں اس حوالے سے جرمن حکومت نے 21جولائی 2016کو پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین وعلم وامن فائونڈیشن کے سربراہ علامہ طاہراشرفی سے معاہدہ کیاہے اس معاہدے پرجرمن حکومت کی طرف سے پاکستان میں متعین ان کے سفیرINR RUTH LUISE LEPELاورعلم وامن فائونڈیشن کی طرف سے علامہ طاہراشرفی نے دستخظ کیے ہیں اس معاہدے کے مطابق جرمن حکومت علم وامن فائونڈیشن کو 37لاکھ 13ہزارایک سویورو جوتقریبا 43لاکھ 44ہزار516روپے پاکستانی بنتے ہیں اس معاہدے کے مطابق پاکستان میں سوشل میڈیااورمدارس میں انتہاپسندی کے لیے مہم چلائی جائے گی۔ 

معاہدے کی دستاویزات کے مطابق اس پروجیکٹ کی درخواست علامہ طاہراشرفی نے 4جولائی 2016میں دی تھی درخواست کے مطابق علامہ طاہراشرفی نے لکھا ہے کہ علم وامن فائونڈیشن سوسائٹی ایکٹ 1860کے تحت 2013میں رجسٹرڈ کروائی گئی تھی اس پروجیکٹ کامقصدملک میں موجود 20ہزارمدارس تک رسائی حاصل کرناہے کیوں کہ ان مدارس میں غریب والدین کے بچے زیرتعلیم ہیں۔ 

علامہ طاہراشرفی مزیدلکھتے ہیں کہ ایک ریسرچ کے مطابق مدارس میں زیرتعلیم 63فی صدطلباء ایسے ہیں کہ ان کے فیملی کے ممبرپانچ یااس سے زائدہیں اور28فی صدطلباء ایسے ہیں کہ جن کے فیملی ممبران کی تعدادسات یااس سے زائدہے غربت اوربڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے طلباء کومدارس میں بھیجاجاتاہے یہ مدارس چندے پرچلتے ہیں ا س کے ساتھ ساتھ انتہاپسندپوری دنیامیں اپنے خیالات پھیلانے کے لیے سوشل میڈیاکااستعمال کرتے ہیں ان انتہاپسندوں کے خلاف سوشل میڈیاپرکچھ نہیں کیا گیاہے علم وامن فائونڈیشن مختلف مسالک کے علماء کرام کوساتھ ملاکر متبادل بیانیہ تیارکرے گی اوراس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیاپرانتہاپسندوں کی سرگرمیوں پرنظررکھے گی اوران سرگرمیوں کاتوڑکرنے کے لیے موادسوشل میڈیاپراپ لوڈ کرے گی اس کے لیے علم وامن فائونڈیشن ویب سائٹس ،ٹویٹر،وٹس ایپ اورفیس بک کواستعمال کرے گی۔

علامہ طاہراشرفی نے اپنی درخواست میں مزیدلکھا ہے کہ ملک کے تعلیمی نظام کوہائی جیک کردیاگیاہے قومی وبین الاقوامی پلیئرزنے اپنے سٹیریٹجک مقاصدحاصل کرنے کے لیے تعلیمی نظام کوتوڑموڑدیاہے پاکستان کی سردجنگ میں شمولیت اوربھارت کے ساتھ کشمیرکے متنازعہ جھگڑے کیو جہ سے سوسائٹی متاثرہوئی ہے اورمدارس کے طلباء امریکہ کی جنگ میں ایک پراکسی وارکے طورپراستعمال کیاگیا اورکشمیرمیں ایک مذہبی تحریک کھڑی کی گئی جس کی وجہ سے پاکستان انتہاپسندی کامرکزبن گیاہے اورفرقہ وارانہ کشیدگی سے خودبھی متاثرہواہے اس فرقہ واریت کے خاتمے، متبادل بیانیہ تیارکرنے ،معاشرے میں عدم برداشت کے خاتمے ،نوجوان علماء میں تحمل اورصبرپیداکرنے کے لیے یہ پروجیکٹ کیاجائے گا۔ 

معاہدے کے مطابق علامہ طاہراشرفی اس پروجیکٹ کے مکمل طورپرذمے دارہوں گے اس کے لیے علامہ طاہراشرفی کورقم ان کے فیصل بنک لاہورمیں موجود اکائونٹ نمبر10043960005کے ذریعے دی جائے گی معاہدے کے مطابق اکائونٹ میں رقم پہنچنے کے بعد اگراس پرکوئی سود کی رقم آئے گی توعلامہ طاہراشرفی کواس کاحق نہیں ہوگا کہ وہ اس کواستعما ل کریں بلکہ وہ سود والی رقم جرمن حکومت کوواپس کی جائے گی اوراس کے لیے اکائونٹ نمبر86001040a at leip/ig branch of the deutscheمیں واپس کی جائے گی اس کے علاوہ مزیددواکاوئنٹ بھی دیے گئے ہیں۔ 

معاہدے کے مطابق جرمن حکومت کوپروجیکٹ کے آڈٹ کامکمل اختیارہوگا پروجیکٹ کی تکمیل کے بعد 31اپریل 2017تک تمام ترتفصیلا ت جرمن حکومت کودی جائیں گی اورخرچے کی اصل رسیدیں بھی ڈونرکے حوالے کی جائیں گی دستاویزات کے مطابق علامہ طاہراشرفی نے پروجیکٹ کی مکمل تفصیلات اوراخراجات کی تفصیل ایک چارٹ کی صورت میں جرمن حکومت کے حوالے کی ہے جس میں کہاگیاہے کہ پروجیکٹ کے لیے ساڑھے چھ ماہ میں چھ علماء کانفرنس بلائی جائیں گی اورایک کانفرنس پر1لاکھ 91ہزاردوسورروپے اخراجات آئیں گے ہرکانفرنس میں 120افرادشرکت کریں گے اورکانفرنس میں شریک ایک آدمی پرکھانے پینے کے 800روپے کے اخراجات آئیں گے جبکہ کانفرنس میں شرکت کرنے والے چارسپیکرزمیں سے فی سپیکر8ہزارروپے کے اخراجات آئیں گے اس طرح چھ کانفرنس میں ایک سپیکرپر1لاکھ 92ہزارروپے کے اخراجات آئیں گے سفری اخراجات اس کے علاوہ ہیں درخواست کے مطابق اس پروجیکٹ کے لیے دولاکھ 73ہزارروپے کی سی ڈیزبھی تقسیم کی جائیں گی اورہرمہینے انتہاپسندی کے خاتمے کے حوالے سے سات سوکاپیاں تقسیم کی جائیں گی اوراس میں سے ایک کاپی جرمن حکومت کوبھی دی جائے گی اس پروجیکٹ کے لیے پچاس پچاس ہزارروپے کے عوض دوسکالرزبھی رکھے جائیں گے معاہدے کی دستاویزات کے مطابق تمام اخراجات کی مکمل تفصیلات جرمن حکومت کومہیاکی گئی ہیں۔

اس معاہدے میں جرمن حکومت کی طرف سے کچھ سوالات بھی پوچھے گئے ہیں علامہ طاہراشرفی نے ان سوالات کے جوابات بھی دیے ہیں اورجرمن حکومت نے مکمل یقین دہانی کے بعد معاہدے پردستخط کیے ہیں۔

یا درہے کہ مذکورہ رپورٹ آج 24 فروری 2017 کو روزنامہ اوصاف اسلام آباد میں شائع ہوئی ہے۔ بہ شکریہ روزنامہ اوصاف اسلام آباد

نوٹ: مبصر کے مطابق 37 لاکھ 13ہزارایک سو جرمنی یورو سے کروڑوں روپے پاکستانی بنتے ہیں، ہو سکتا ہے اوصاف سے اعداد و شمار کی کمپوزنگ میں غلطی ہو گئی ہو۔ شکریہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  99424
کوڈ
 
   
مقبول ترین
صدر آزاد کشمیر مسعود خان کا کہنا ہے کہ امیت شاہ اور راج ناتھ سنگھ سن لو ہم کشمیر میں تمہارا اور بھارتی فوجیوں کا قبرستان بنادیں گے۔ کشمیریوں سے اظہار یکجہتی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان کا کہنا تھا کہ آرٹیکل
سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ بھارتی میڈیا دعوے کررہا ہے کہ افغانستان سے کچھ دہشت گرد مقبوضہ وادی میں داخل ہوئے ہیں، بھارتی دعویٰ ہے کہ دہشت گرد جنوبی علاقوں میں بھی داخل ہوئے ہیں
وزیراعظم عمران خان نے خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب وہ بھارت سے مزید بات چیت کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے کیونکہ اس کا اب کوئی فائدہ نہیں ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے امریکی جریدے نیویارک ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے مقبوضہ کشمیر
ترجمان چینی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ پاکستان آرمی کے زبردست سپہ سالار ہیں۔ گزشتہ دنوں وزیراعظم عمران خان نے جنرل قمر جاوید باجوہ کو مزید 3 سال کیلئے آرمی چیف مقرر کیا تھا۔ اس حوالے سے پاکستان کے دیرینہ دوست

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں