Thursday, 28 May, 2020
جناب زرداری! جواب دیں، جناب گیلانی! چپ کیوں ہیں؟

جناب زرداری! جواب دیں، جناب گیلانی! چپ کیوں ہیں؟
تحریر: ناصر خان

 

بلی تھیلے سے باہر آنے کے بعد بٹ بٹ دیکھ رہی ہے اور اپنے آقاؤں کو ڈھونڈ رہی ہے کیونکہ سابق وزیراعظم گیلانی کی بااختیار اور رعب دارپرنسپل سیکریٹری نرگس سیٹھی کے دستخط سے جاری کیا گیا خط منظر عام پر اگیا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے امریکیوں کی جانب سے ویزا حاصل کرنے کے لیے درخواست پاکستان کے متعلقہ افسران کو دینے کے بجائے پاکستان کے اس وقت کے سفیر حسین حقانی کو دینے کا حکم جاری کیا اور ان سے کہا کہ وہ خود سے فوری طور پر ایک سال کی مدت کے لیے ویزا جاری کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

پھر یہ اختیار کس کس کے لئے استعمال ہوا اور کون کون اس وطن میں ریمنڈ ڈیوس کی طرح داخل ہوا اور کون کون بلیک واٹر کے رکن کی حثیت سے اس ملک میں وارد ہوا اور پھر اس نے کیا کیا گل کھلائے۔ اب یہ بات منظرعام پر آہی جانا چاہئے۔ پاک وطن کے باسیوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ انہوں نے جن لوگوں کے ہاتھ میں اس ملک کی باگ ڈور سونپی تھی انہوں نے اس وطن کے ساتھ کیا کیا کیا۔

امریکی انہی ’’امین‘‘ حکمرانوں کے ایما پر ہماری سرزمین کو چرا گاہ سمجھ کر پھرتے رہے اور جہاں چاہتے منہ مارتے رہے جبکہ زرداری صاحب اس خط کے منظر عام پر آنے سے پہلے کچھ اور ارشاد فرما چکے ہیں۔ یہ خط کم از کم نون لیگ کی سازش نہیں ہے اور نہ ہی اس میں چوہدری افتخار کا عمل دخل ہے۔ یہ قابل افتخار کام انہی کے لائق وزیراعظم کی طرف سے انجام دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ خط کے مطابق واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے نے وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد کی مرضی سے امریکیوں کو ویزے جاری کیے۔

خیال رہے کہ سابق وزیر داخلہ رحمٰن ملک کے ترجمان پہلے ہی اس بات سے انکار کرچکے ہیں کہ وزارت داخلہ نے اُس وقت اس طرح کا کوئی خط جاری کیا تھا۔ اب اس خط کے سامنے آنے سے واضح ہو گیا ہے کہ ’’بےچارے‘‘ رحمان ملک اپنی طرف سے ٹھیک ہی کہ رہے تھے کیونکہ یہ تو ان سے بالا بالا کام ہو گیا تھا۔

اسی مذکورہ دور میں امریکیوں کو جاری کئے گئے ویزوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے سینیٹ کو بتایا کہ پالیسی کی تبدیلی کے باعث زیادہ تعداد میں ویزے جاری کیے گئے اور محض 6 ماہ میں 2 ہزار 487 امریکیوں کو سفارتی ویزے جاری ہوئے۔

اب پاکستان کے عوام یہ کہنے کا حق رکھتے ہیں: جناب زرداری! جواب دیں، جناب گیلانی! چپ کیوں ہیں ؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  10232
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
عالمی یوم آزادیِ صحافت کے حوالے سے خصوصی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ تیس برس میں انیس صحافی فرائض کی ادائیگی کے دوران جاں بحق ہوچکے ہیں۔ بھارتی فورسز کے مظالم اجاگر کرنے پر صحافیوں کو گرفتار کیاجاتا ہے اور تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
حضرت علامہ محمد اقبال رحمتہ اللہ علیہ قانون کی اعلٰی ڈگری انگلینڈ سے اور پی ایچ ڈی جرمنی سے کرنے کے بعد ڈاکٹر کہلائے ، دنیا اس وقت نہیں جانتی تھی کہ یہ پی ایچ ڈی ڈاکٹر جو کہ سنی العقیدۃ مسلمان ایک سچے عاشق رسول ص تھے بعد میں حکیم امت کہلائیں گے۔ جی ہاں۔۔ حکیم امت۔۔۔ گلی ، محلوں ، شہروں حتٰی کہ ملکی سطح پر مشہور حکماء تو بہت سُنے اور دیکھے بھی ہونگے مگر حکیم امت (جو امت میں چھپی بیماریوں کا علاج کرے) صرف ایک ہی ہستی ہیں۔
وفا اور جفا کی عجب کشمکش میں ہچکولے کھاتا دانش بالآخر اپنی محبت کا لاشہ اٹھائے جہان فانی سے کوچ کر گیا،

مزید خبریں
کورونا وائرس پاکستان ہی نہیں ہی دنیا بھر میں اپنی پوری بدصورتی کے ساتھ متحرک ہے ، تشویشناک یہ ہےاس عالمی وباء کے نتیجے میں ہمارے ہاں اموات کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا،
کی سڑک کے کنارے ایک ہوٹل میں چائے پینے کے لیے رکا تو ایک مقامی صحافی دوست سے ملاقات ہوگئی جنہیں سب شاہ جی کہتے ہیں سلام دعا کے بعد شاہ جی سے پوچھا کہ ٹیکنالوجی کی وجہ سے پاکستان کتنا تبدیل ہوچکا ہے تو کہنے لگے کہ سوشل میڈیا کی وجہ سےعدم برداشت میں بہت اضافہ ہوا ہے۔
میرے پڑھنے والو،میں ایک عام سی،نا سمجھ ایک الہڑ سی لڑکی ہوا کرتی تھی، بات بات پہ رو دینا تو جیسے میری فطرت کا حصہ تھا، اور پھربات بے بات ہنسنا میری کمزوری، یہ لڑکی دنیا کے سامنے وہی کہتی اور وہی کرتی تھی جو یہاں کے لوگ سن اور سمجھ کر خوش ہوتے تھے
صبح سویرے اسکول جاتے وقت ہم عجیب مسابقت میں پڑے رہتے تھے پہلا مقابلہ یہ ہوتا تھا کہ کون سب سے تیز چلے گا دوسرا شوق سلام میں پہل کرنا۔ خصوصاً ساگری سے آنیوالے اساتذہ کو سلام کرنا ہم اپنے لیے ایک اعزاز تصور کرتے تھے۔

مقبول ترین
وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارت خطے کے امن کو داﺅ پر لگا رہا ہے ‘ بھارت متنازعہ علاقوں میں تعمیراتی کام ‘سڑکیں اور فوجی بنکرز بنا رہا ہے جو کہ اس کے توسیع پسندانہ عزائم کو ظاہر کرتا ہے ‘لداخ کے متنازعہ علاقے میں تعمیرات سے بھارت عالمی قوانین کی خلاف ورزیاںکر رہا ہے۔
نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے اعدادوشمار کے مطابق کورونا س کے وار تیز ہوگیاہے ،60ہزار پاکستانی متاثر‘ اب تک 1240 جاں بحق ،مجموعی طور پر 19 ہزار142 مریض صحت یاب ‘ 24 گھنٹوں میں مزید ایک ہزار446 کیسز رپورٹ ہوئے۔
سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ شدید مہنگائی کے باعث عوام حکومت سے تنگ آچکی ہے مو جودہ حکومت کاخاتمہ ہی عوام کے لئے ریلیف ہو گا،عوام نا اہل نیازی حکومت سے نجات چاہتی ہے ۔ کورونا وباءاور ٹڈی دل کے خاتمے کے لئے حکو مت کی کو ئی پا لیسی نظر نہیں آئی ، ڈنگ ٹپاو¿ نظام چل رہا ہے ۔
پاکستان مسلم لیگ(ن)کی ترجمان مریم اورنگزیب نے حکومت پر طنز کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران کے حکم پر چینی بر آمد کی گئی‘ مقدمہ بنایا جائے ،وزیراعظم کے لاپتہ ہونے پر تشویش ہے وزیراعظم کی گمشدگی کا اشتہار شائع کرنا چائیے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں