Thursday, 09 July, 2020
عالمی صہیونزم کی شکست اور اعتراف

عالمی صہیونزم کی شکست اور اعتراف
تحریر: صابرابو مریم

سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان

خطے کی موجودہ صورتحال اور بالخصوص شام و یمن اور عراق میں صہیونی محاذ کی شکست کے بعد ایک ایسی ویڈیو منظر عام پر آئی ہے کہ جس میں غاصب صیہونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کی قابض افواج سے تعلق رکھنے والے میجر جنرل تامیر ھایمن ایک فوجی بریفنگ میں ایسے انکشافات کر رہے ہیں جس سے مغربی ایشیائی ممالک میں جاری جنگ و جدل اور صہیونیوں کی ناپاک سازشوں کا پردہ چاک ہو گیا ہے۔ صہیونی قابض افواج کے میجر جنرل تامیر ھایمن اسرائیل کے ایک اعلی سطح کے فوجی اہلکاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اس وقت اسرائیل کی انٹیلی جنس کے چئیر مین کے عہدے پر کام کر رہے ہیں ۔

اسرائیلی فوج کے ایک اعلی سطحی اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے تامیر ھایمن نے کہا ہے کہ اسرائیل کی تمام تر کوششوں کے باوجود اسرائیل کی شام اور عراق میں شکست کی سب سے بڑی وجہ ایران کی حکمت عملی اور اسرائیلی پالیسیوں کے سامنے ڈٹ کر مقابلہ کر نا ہے ۔ اپنی اسی بریفنگ میں فوجیوں کو یہ بتاتے ہیں کہ ایران میں آنے والے اسلامی انقلاب کی فکراسرائیل کے شام اور عراق سمیت خطے میں منصوبوں کی ناکامی کا باعث بن رہی ہے اور فکر سے منسلک لوگ خاص طور پر اسرائیل کو صفحہ ہستی سے نابود کرنا چاہتے ہیں ۔

تامیر ھایمن اس ویڈیو فوٹیج میں اپنے ماتحت فوجی افسران کوشا م اور عرا ق کی صورتحال کے بارے میں بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ عراق ہمارے اور امریکہ کے ہاتھوں سے نکل چکا ہے ۔ عراق اب اسرائیل کے لئے آج سے بیس سالے پہلے والا عرا ق نہیں رہا ۔ عرا ق اور شام یہ دونوں ایران کے ساتھ مربوط ہو چکے ہیں اور ایران ان کی پشت پناہی کر رہا ہے جس کی وجہ سے اسرائیل کے منصوبوں پر عمل درآمد میں اکثر وبیشتر ناکامی کا سامنا ہے ۔

یمن میں سعودی عرب کی جانب سے مسلط کردہ جنگ کے بارے میں بات کرتے ہوئے ھایمن نے کہا ہے کہ ایران سمندری حدود میں یمن کے راستے باب مندب تک آ چکا ہے اور باب مندب بھی ہمارے منصوبوں کے تحت اسرائیل کے ہاتھ سے نکل چکی ہے حالانکہ اسرائیل یمن میں سعودی قیادت میں جاری جنگ میں مسلسل یمن کے خلاف سرگرم عمل ہے لیکن یہاں بھی ایران کی یمن کے ساتھ ہم آہنگی نے نہ صرف یمن کے حوثیوں کو کامیاب قرار دلوا یا ہے بلکہ ہمارے تمام منصوبے یہاں پر ناکام ہو رہے ہیں ۔

اسی طرح ایک اور عنصر جو کہ اسرائیل کے پڑوس میں موجود ہے وہ لبنان میں حزب اللہ کا وجود ہے ۔ حزب اللہ کے بارے میں ھایمن نے اعتراف کیا ہے کہ حزب اللہ ہمارے پڑوس میں ایک ایس اگروہ موجو دہے کہ جو اسرائیل کے لئے انتہائی خطر ناک ثابت ہو اہے ۔ حزب اللہ اپنے قیام سے اب تک مسلسل طاقت میں اضافہ کر رہی ہے اور حزب اللہ میں موجود شیعہ عناصر جو براہ راست ایران کو اپنا مرکز و محور مانتے ہیں اسرائیل کے لئے خطر ناک ہیں کیونکہ اسرائیل کی دفاعی طاقت کو حزب اللہ کئی مرتبہ سوالیہ نشان پر لا چکی ہے ۔ ھایمن کے اعتراف کے مطابق حزب اللہ کے پاس جد ید اسلحہ اور ایسے اسلحہ موجود ہیں جو اسرائیل کے ٹینکوں اور توپوں کا آسانی سے مقابلہ کر سکتے ہیں ۔

اسی بریفنگ میں ھایمن نے اعتراف کیا ہے کہ عراق، یمن اور شام سے ایسے میزائل داغے جا سکتے ہیں جو براہ راست تل ابیب پر گر سکتے ہیں اور بڑے نقصانات کا خدشہ موجو دہے ۔

اسرائیلی انٹیلی جنس کے اعلی عہدیدار ھایمن نے اپنی اسی فوجی بریفنگ میں فلسطینیوں کو دہشت گرد قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اسرائیل کے اند ر فلسطینیوں کا وجود دہشت گردی کے وجود کے مترداف ہے اور یہ فلسطینی بھی ایران کے ساتھ منسلک ہیں اور ایران سے اسلحہ اور ٹریننگ لیتے رہے ہیں اور اب اسرائیل کے خلاف برسر پیکار ہیں ۔ ھایمن نے اعتراف کیا کہ فلسطینی مزاحمت کاروں کے پاس اب ایسی ٹیءکنالوجی موجود ہے جو اسرائیل کے ڈرون طیاروں کو بھی نشانہ بنا سکتی ہے اور فلسطینی مزاحمت کار اس عنوان سے کئی مرتبہ ا سکا عملی نمونہ دکھا چکے ہیں ، ھایمن نے یہاں تک ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ اپنے جونیئر فوجی افسران کو بتایا کہ فلسطینی مزاحمت کار ڈرون مار گرانے میں تو مہارت رکھتے ہی ہیں بلکہ ساتھ ساتھ دیسی ساختہ ڈرون طیار کر رہے ہیں اور اسرائیل کے حساس مقامات کی جاسوسی بھی کرتے ہیں ۔

ھایمن نے گفتگو کے اختتام پر اپنے فوجی افسران کو بتاتے ہیں کہ فلسطین، یمن، عراق، شام اور لبنان میں حزب اللہ یہ پانچ عناصر ایسے عناصر ہیں جو اسرائیل کے سلامتی کے لئے خطرہ ہیں اور اسرائیل کو اپنا سب سے بڑا دشمن تصور کرتے ہوئے اسرائیل کی نابودی کے لئے سرگرم عمل ہیں ۔ ان تمام پانچ عناصر کی پشت پناہی میں ایران کی انقلابی سوچ اور تفکر کے ساتھ ساتھ انقلاب کے وہ قائدین ہیں یعنی ھایمن کا اشارہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی طرف ہے کہ جنہوں نے فلسطین کی آزادی کو حتمی قرار دیا ہے اور اسرائیل کی نابودی کو یقینی اور وعدہ الہی قرار دیا ہے ۔

خلاصہ اب یہ ہے کہ اگر ان تمام پانچ کے پانچ عناصر کی جد وجہد کا مختصر جائزہ لیا جائے تو واضح طور پر ایک بات یہ ثابت ہوجاتی ہے کہ یمن کے عوام اپنی آزادی اور اپنے استقال و عزت کی جنگ لڑ رہے ہیں اور انہوں نے امریکہ و اسرائیل کے سامنے سرتسلم خم ہونے سے انکار کر دیا ہے یہاں پر یقینا ایران کا کوئی ایسا فائدہ موجود نہیں ہے کہ جس کے لئے ایران کو مورد الزام ٹہرایا جاتا رہے ۔ یمن کے حوثی اپنی آزاد حیثیت میں موجود ہیں اور اپنے مستقل اور حال کے فیصلے وہ خود کر رہے ہیں ۔ یہاں پر جنگ استقلال کی جنگ ہے ۔

شام کی بات کریں تو یہاں بھی شامی حکومت اپنے وطن اور سرزمین کو ان دہشت گردوں سے نجات دلوانے کی جنگ لڑ رہی ہے جن دہشت گردوں کو امریکہ، اسرائیل اور عرب حواریوں نے شام کی حکومت کو گرانے کے لئے بھیجا تھا جس کا ذکر کود اسرائیلی انٹیلی جنس کے اعلیٰ عہدیدار تامیر ھایمن نے بھی اپنی گفتگو میں کیا ہے ۔ لہذا شام اپنی بقاء اور خود مختاری کی جنگ لڑ ررہا ہے ۔

لبنان کی حزب اللہ بھی لبنان کے دفاع میں مصروف ہے ۔ اسرائیل کو نکال باہر کر چکی ہے اور حزب اللہ کی طاقت کا ذکر بھی ھایمن اپنی گفتگو میں کر چکے ہیں ۔ عرا ق کی صورتحال بھی اسی طرح کی ہے کہ جہاں داعش جیسی امریکی وا سرائیلی حمایت یافتہ دہشت گرد حکومت اور تنظیم کو ختم کرنے کے لئے عرا ق نے مزاحمت اور استقامت کے ساتھ کامیابی حاصل کر لی ہے ۔

فلسطین کی جہاں تک بات ہے تو فلسطینیوں کی جنگ نہ تو ایران کی آزادی کی جنگ ہے اور نہ ہی ایران کے لئے ہے بلکہ فلسطین فلسطینیوں کا وطن ہے اور فلسطین کی آزادی فلسطینیوں کا حق ہے ۔

خلاصہ یہ ہے کہ جہاں تک ایران کی جانب سے ان پانچ عناصر کی مدد و تعاون کی بات ہے تو یقینا ایران نے عرا ق و شام کی درخواست پر ان دونوں ممالک کا ساتھ دیا تا کہ دونوں خود مختاری قائم رہے ۔ ایران نے لبنان میں حزب اللہ کا ساتھ اس لئے دیا کہ حزب اللہ لبنان کو اسرائیل کے قبضہ سے آزاد کروائے اور ایسا ہوا ۔ اسی طرح ایران یمن کے عوام کے حقوق کے دفاع کی حمایت کرتا ہے اوراسی طرح فلسطین کے لئے ایران نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد سے مسلسل مالی ومسلح مدد بھی کی ہے اور جد ید ٹیکنالوجی سے بھی فلسطینیوں کو آراستہ کیا ہے جس کا ذکر خود صہیونی دشمن کے انٹیلی جنس ٓفیسر تامیر ھایمن نے نشر ہونے والی ویڈیو میں کیا ہے ۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ اسرائیل کمزور ہو چکا ہے اور نابودی کی طرف گامزن ہے ۔ عنقریب وہ وقت آنے ہی والا ہے کہ مظلوم ملت فلسطین کو صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کے چنگل سے نجات حاصل ہوگی اور دنیا بھر سے فلسطینی اپنے وطن واپس آ کر سرزمین مقدس فلسطین پر آباد ہوں گے اور یہ حتمی ہونا ہے اگرچہ ہم اس واقعہ کو دیکھ پائیں یہ نہ دیکھیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  87878
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
ان دنوں پاکستان سمیت دنیاکے مختلف ممالک میں درجہ حرارت انتہائی زیادہ ہے ۔اس گرم موسم میں لُو اس وقت لگتی ہے جب جسم کا درجہ حرارت 40 ڈگری سیلسیئس یا اس سے بڑھ جائے۔ لُو لگ جانے کے بعد متاثرہ شخص کو فوری طبی امداد کی ضرورت ہوتی ہے
آن لائن ایجوکیشن سسٹم تقریباً پوری دنیا میں رائج ہے ۔پاکستان میں بھی دو بڑی یونیورسٹیاں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اورورچوئل یونیورسٹی اس وقت ہزاروں اسٹوڈنٹ کو آن لائن ایجوکیشن فراہم کر رہی ہیں۔
آج یہ کہتے ہوئے دل کر رہا ہے کہ مسلسل ہنستی رہوں کہ سپر پاورامریکہ۔۔۔ جی ہاں! وہی امریکہ جس نے افغانستان کو کھنڈرات میں بدل دیا وہی امریکہ جس نے عراق پر ایک عرصہ جنگ مسلط کیے رکھی، کبھی بمباری کر کے تو کبھی داعش کی شکل میں کیڑے مکوڑوں کی فوج بنا کے، عراق پر اپنا تسلط برقرار رکھنا چاہا۔
صدی کی ڈیل (deal of century) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی طرف سے مسئلہ فلسطین کا پیش کیا جانے والا نام نہاد حل ہے ۔اس منصوبہ کے تحت اسرائیل اور فلسطین کے درمیان ایک نئی حد بندی کی جائے گی ۔جس کے نتیجے میں ایک جدید فلسطین تشکیل دیا جائے گا ۔اگر اس صدی کی ڈیل کے بعد کے فلسطین کو دیکھا جائے تو مکمل طور پہ تبدیل ہو جائے گا۔

مزید خبریں
کورونا وائرس پاکستان ہی نہیں ہی دنیا بھر میں اپنی پوری بدصورتی کے ساتھ متحرک ہے ، تشویشناک یہ ہےاس عالمی وباء کے نتیجے میں ہمارے ہاں اموات کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا،
کی سڑک کے کنارے ایک ہوٹل میں چائے پینے کے لیے رکا تو ایک مقامی صحافی دوست سے ملاقات ہوگئی جنہیں سب شاہ جی کہتے ہیں سلام دعا کے بعد شاہ جی سے پوچھا کہ ٹیکنالوجی کی وجہ سے پاکستان کتنا تبدیل ہوچکا ہے تو کہنے لگے کہ سوشل میڈیا کی وجہ سےعدم برداشت میں بہت اضافہ ہوا ہے۔
میرے پڑھنے والو،میں ایک عام سی،نا سمجھ ایک الہڑ سی لڑکی ہوا کرتی تھی، بات بات پہ رو دینا تو جیسے میری فطرت کا حصہ تھا، اور پھربات بے بات ہنسنا میری کمزوری، یہ لڑکی دنیا کے سامنے وہی کہتی اور وہی کرتی تھی جو یہاں کے لوگ سن اور سمجھ کر خوش ہوتے تھے
صبح سویرے اسکول جاتے وقت ہم عجیب مسابقت میں پڑے رہتے تھے پہلا مقابلہ یہ ہوتا تھا کہ کون سب سے تیز چلے گا دوسرا شوق سلام میں پہل کرنا۔ خصوصاً ساگری سے آنیوالے اساتذہ کو سلام کرنا ہم اپنے لیے ایک اعزاز تصور کرتے تھے۔

مقبول ترین
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کئے گئے ایک مشترکہ بیان میں تینوں ملکوں نے دہشتگرد مزاحمتی تحریک کے دوبارہ اٹھنے سے بچنے کےلئے افغانستان سے غیر ملکی فوجوں کے منظم، ذمہ دار اور حالات پر مبنی انخلا پر زور دیا۔
سرمایہ کاروں کی جانب سے سرمائے کو محفوظ بنانے کےلیے سونے میں بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری کے باعث مقامی صرافہ مارکیٹوں میں سونے کی قیمت تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی جبکہ بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت
سپریم کورٹ نے کرپشن کے مقدمات جلد نمٹانے اور نیب ریفرنسز کے فیصلوں کیلئے 120 نئی احتساب عدالتوں کے قیام کا حکم دے دیا۔ سپریم کورٹ میں لاکھڑا کول مائننگ پاور پلانٹ کی تعمیر میں بے ضابطگیوں سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی۔
ملک بھر کے تعلیمی ادارے ستمبر کے پہلے ہفتے میں طے شدہ ضابطہ کار (ایس او پیز) کے ساتھ کھولنے پر اتفاق ہوگیا۔ وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کی زیر صدارت بین الصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس ہوئی جس میں تعلیمی اداروں کو ایس او پیز کے ساتھ امتحانات

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں