Friday, 22 March, 2019
پاکستان کی سربلندی میں خواتین کا کردار

پاکستان کی سربلندی میں خواتین کا کردار
تحریر: سیدہ ہما مرتضیٰ

 

پروردگار کا احسان عظیم ہے کہ ہمارے پیارے وطن پاکستان کو قیام میں آئے 71برس ہو رہے ہیں۔ اس مملکت خداداد کی اساس ان گنت قربانیوں پر استوار ہے جو ہمارے آباؤ اجداد نے اپنے لہو سے بنائی ہے اور ان قربانیوں کے ضمن میں مرد و خواتین دونوں نے آزادی کے حصول کے لیے مال و جان کے نذرانے پیش کیے ہیں۔ ہمارے قائد محمد علی جناح کو اپنی خواتین کی اہمیت کا کامل اندازہ اور ان کی ہمت و جرأت کا پورا ادراک تھا۔ 1947ء کے اواخر میں کراچی میں خواتین کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے قائداعظم نے کہا تھا:
’’آدھا پاکستان آپ خواتین کا ہے کیونکہ اس کے حصول میں آپ کا حصہ مردوں سے کم نہیں ہے۔‘‘
اکیسویں صدی کی پاکستانی خواتین کو اس بات پر فخر ہونا چاہیے کہ ان کے اس سفر کا آغاز محترمہ فاطمہ جناح کی راہنمائی میں ہوا۔ آزادی کی اس جدوجہد میں خواتین مادر ملت کی راہنمائی میں مردوں کے شانہ بشانہ تھیں۔ بہرحال یہ کوئی آسان سفر نہ تھا۔ آگ اور خون کے درمیان سے عورتوں کو گزرنا پڑا۔ کتنی اغوا ہوئیں، کتنی کی عصمت دری ہوئی اور کتنی عورتوں نے جان بچانے کے لیے کنوؤں میں چھلانگ لگا دی۔ پاکستان میں اگر خواتین کی قربانیوں کی بات کی جائے تو تحریک آزادی اور پاکستان بن جانے کے بعد تو پیپلز پارٹی اس دوڑ میں صف اول پرنظر آتی ہے کیونکہ مسلم امہ میں پہلی خاتون وزیراعظم بننے والی محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کا تعلق بھی اسی پارٹی سے تھا جنھوں نے اپنے والد شہید ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل کے بعد بطور خاتون پارٹی کی چیئرپرسن منتخب ہو کر ملک کی سب سے بڑی جمہوری پارٹی کی باگ دوڑ سنبھالی اور بھرپور طریقے سے اپنا کام سرانجام دیا۔ 

یہ بات تاریخی اعتبار سے ناقابل تردید ہے کہ پیپلز پارٹی جو پاکستان کی خواتین کے حقوق کے فروغ اور تحفظ کی مدعی ہے پاکستانی سیاست میں بھٹو کا دور پاکستانی خواتین کے لیے ترقی کا دور ثابت ہوا۔ 1972 میں ساری سرکاری ملازمتوں کے دروازے عورتوں کے لیے کھول دیے گئے۔ پہلی مرتبہ 70خواتین کو یونیورسٹیز کا وائس چانسلر، صوبوں کی گورنر اور قومی اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر ہونے کا موقع ملا۔ پہلی مرتبہ وزارت خارجہ میں عورتوں کو ملازمتوں کے مواقع ملے۔ میکسیکو میں عورتوں کی پہلی کانفرنس منعقد ہوئی جس میں پاکستانی وفد کی قیادت بیگم نصرت بھٹو نے کی۔ اس کانفرنس میں پیش کی گئی تجاویز کے نتیجے میں 1976 میں حکومت پاکستان نے ویمن ڈویژن کے قیام کی منظوری دی۔ 1988میں بے نظیر بھٹو کو پاکستان کی پہلی وزیراعظم بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔ اپنی انتخابی مہم کے دوران میں انھوں نے عورتوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی اور ویمن پولیس اسٹیشنز بنوائے۔ عورتوں کو اعلیٰ عدالتوں میں ججز بنایا۔ محترمہ ماجدہ رضوی کو سندھ ہائی کورٹ کی پہلی خاتون جج بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔ اکرم خاتون فرسٹ ویمن بینک کی پہلی صدر بنیں، فرسٹ ویمن بینک کا قیام بھی 1989میں عمل میں آیا۔ اس کا مقصد عورتوں کی مالی ضروریات کے حوالے سے کام کرنا تھا۔ اس لیے قومیائے کیے گئے کمرشل بینک کو ترقی مالیاتی ادارہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک سماجی فلاحی تنظیم کا درجہ بھی دیا گیا۔ اس بینک کو عورتیں ہی چلا رہی ہیں اور ملک میں اس کی 36شاخیں کام کررہی ہیں۔

اکیسویں صدی کو سماجی اور معاشی طور پر خواتین کو بااختیار بنانے کی صدی کہا جارہا ہے۔ اس میں خواتین کو سفارتکاری اور خارجہ امور سے دور رکھنے کے تصورات اور نظریات کوبتدریج ناقابل قبول قرار دیا جارہا ہے۔ پاکستان میں جن خواتین نے سفارتکاری کے شعبے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے ان میں بیگم رعنا لیاقت علی خان، بیگم شائستہ اکرام اللہ، سیدہ عابدہ حسین، شیری رحمن، حنا ربانی کھر، ملیحہ لودھی اور تہمینہ جنجوعہ قابل ذکر ہیں۔

واضح رہے حنا ربانی کھر کو پاکستان کی پہلی وزیر خارجہ ہونے اعزاز بھی حاصل ہے۔ شیری رحمن اس وقت سینٹ میں پیپلز پارٹی کی رکن ہیں۔ شیری رحمن نے سیاست اور سفارتکاری کے شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ وہ 2002 میں پہلی بار پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر خواتین کی مخصوص نشستوں پر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئی تھیں اور سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے دور میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مقرر کی گئیں۔ شیری رحمن اور ان کی سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے دیگر اراکین نے 2003 میں تحفظ و بااختیاری خواتین بل 2003 کے نام سے واحد پرائیویٹ ممبرز بل پیش کیا۔ 2004 میں شیری رحمن نے غیرت کے نام پر قتل کے معاملے سے متعلق بھی ایک بل پیش کیا۔ اسی سال 30جولائی کو غیرت کے نام پر قتل کے خاتمہ کا ایک سرکاری بل بھی پیش کیا گیا۔ اس بل پر اس وقت کے وزیراعظم کی مشیر برائے ترقی نسواں نیلوفر بختیار عورت فاؤنڈیشن کے اشتراک سے ایک عرصہ سے کام کررہی تھیں۔ اس میں قصاص اور راضی نامے کی دونوں دفعات شامل نہیں تھیں۔ محترمہ نیلو فر بختیار،محترمہ مہناز رفیع اور مسز کشمالہ طارق جن کا تعلق اس وقت کی حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ ق سے تھا، نے ان مثبت ترامیم کو بل کا حصہ بنانے کے لیے آخری لمحہ تک کوشش کی لیکن حکومت اور بعض حلقوں کی مزاحمت کی وجہ سے انھیں کامیابی نہ ہوئی خیر شیری رحمان آج کل سینیٹر کے طور پر فرائض انجام دے رہی ہیں۔

ڈاکٹر ملیحہ لودھی کا شمار نہ صرف پاکستان کی معروف اور تجربہ کار سفارتکاروں میں ہوتاہے بلکہ اقتصادیات، سماجی سیاست اور صحافت کے شعبوں سمیت تدریس کے میدان میں بھی انھوں نے نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ نائلہ چوہان بھی پاکستان کی خواتین سفارتکاروں میں نمایاں مقام رکھتی ہیں۔ نائلہ چوہان حقوق نسواں کی بڑی علمبردار ہیں۔ انھوں نے اپنے کیرئیر کا آغاز پاکستانی دفتر خارجہ میں پاک چائنہ ڈیسک سے کیا تھا۔ یہ اب تک مختلف ممالک بشمول ملائیشیا، مشرق وسطی، ارجنٹائن اور ایران میں سفارتکاری کے 8 مختلف مناصب پر فرائض انجام دے چکی ہیں۔ پاکستان کے دفتر خارجہ میں اس وقت 39خواتین ہیں جن میں 19خواتین افسران اسلام آباد ہیڈ کوارٹر میں تعینات ہیں، جب کہ 20خواتین بیرون ملک خدمات انجام دے رہی ہیں۔ سیدہ عابدہ حسین کو امریکا میں پاکستان کی پہلی خاتون سفیر ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ وہ 26نومبر 1991 سے 24جنوری 1997 تک امریکا میں سفیر ۔ سیدہ عابدہ حسین ایک ایسے وقت میں امریکا کی سفیر مقرر کی گئی تھیں جب امریکا نے پہلی مرتبہ شدت کے ساتھ پاکستان کے جوہری پروگرام کو رول بیک کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور ایف 16فیلکن طیاروں کی فراہمی کا معاہدہ منسوخ کردیا تھا۔ ایسے نازک موقع پر سیدہ عابدہ حسین نے موثر سفارتکاری کا مظاہرہ کیا۔

پاکستان کی با اثر خواتین بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا نام روشن کررہی ہیں اور ان کے پاکستانی معاشرے کی ترقی و فلاح میں فعال کردار سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ 2016 میں کئی پاکستانی خواتین نے دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیا۔ ترقی یافتہ شہروں سے لے کر پسماندہ اور روایت پسند علاقوں تک کئی خواتین اپنے عزم و حوصلہ کے سبب دنیا کی نظروں کا مرکز بنیں اور یہ پیغام دیا کہ وہ وقت بدلا گیا جب خواتین کی اہمیت کو تسلیم کیا جاتا تھا، اب ذہن بدلنا ہوگا۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ مزید خواتین نے پاکستانیوں کا سر فخر سے بلند کیا۔
فروری 2016کی ایک روشن صبح پاکستان کی پہلی آسکر ایوارڈ یافتہ شخصیت شرمین عبید چنائے دوسرا آسکر ایوارڈ جیتنے میں کامیاب ہو گئیں۔ ان کی ایوارڈ یافتہ دستاویزی فلم ’’آگرل ان دی ریور پرائس آف فورگیونیس‘‘(A Girl in the river price of forgiveness) غیرت کے نام پر قتل کے موضوع پر بنائی گئی جس نے پاکستانی قوانین پر بھی واضح اثرات مرتب کیے۔

اسی سال 2016 میں پاک نیوی کی تاریخ میں پہلی بار بلوچستان سے تعلق رکھنے والی ذکیہ جمالی پاکستان نیوی کی پہلی کمیشن آفیسر بن گئیں۔ سوات سے تعلق رکھنے والی تبسم عدنان کو خواتین کے حقوق کے لیے انتھک جدوجہد پر کولمبیا میں نیلسن منڈیلا ایوارڈ سے نوازا گیا۔ پاکستانی نژاد خاتون نرگس ماولہ والہ نے اس وقت پاکستانیوں کا سر فخر سے بلند کردیا جب انھوں نے اپنی ٹیم کے ساتھ خلاء میں کشش ثقل کی لہروں کی نشاندہی کرنے کا کارنامہ انجام دے ڈالا۔ ثمینہ بیگ یہ نوجوان خاتون پاکستان کی پہلی خاتون ہیں جو کے۔ٹو کو سر کر چکی ہیں جسے دنیا کا کٹھن ترین پہاڑ سمجھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ثمینہ بیگ دنیا کے سات براعظموں کی سات بلند ترین چوٹیوں کو بھی سر کر چکی ہیں۔ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں انھوں نے عزم وہمت کی اعلیٰ مثال قائم کی ہے۔

نفیس صادق ایک اور پاکستانی خاتون ہیں 1987 میں ڈاکٹر صادق اقوام متحدہ میں انڈر سیکرٹری جنرل کے عہدے پر فائز ہوئی تھیں۔ یہ دنیا کی پہلی خاتون تھیں جو اقوام متحدہ میں اتنے اعلیٰ عہدے پر فائز ہوئیں۔ انھوں نے ماؤں اور بچوں کی صحت پر بے پناہ کام کیا ہے۔ انھوں نے ہمیشہ خواتین کے مسائل کے حل کے لیے خواتین کے ساتھ ساتھ مردوں کی شمولیت پر زور دیا ہے۔ 

ایک اور قابل فخر پاکستانی خاتون جہاں آرا پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن فار انفارمیشن ٹیکنالوجی کی صدرکی حیثیت سے کام کررہی ہیں۔ وہ پاکستان کی سافٹ ویئر انڈسٹری کو بین الاقوامی رسائی دلوانے میں اہم کردار ادا کر چکی ہیں۔ 29سالہ تجربہ رکھنے والی یہ خاتون ایک مقررہ اور سماجی کارکن ہیں۔ یہ معلومات کے تبادلے اور ٹیکنالوجی کے ذریعے کمیونٹیز کو خود مختار بنانے کے لیے بھی کام کررہی ہیں۔ اسی طرح کوئٹہ کے اسلامیہ گرلز کالج میں سیکنڈ ایئر کی طالبہ نورینہ شاہ نے اس وقت ملک بھرکی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی جب علم فلکیات پر اپنے مطالعے اور تجربے کے باعث اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور دنیا بھر کے ماہرین فلکیات نے ان کی مہارت کو سراہا۔ آج کی پاکستانی خواتین مردوں کے شانہ بشانہ ہر شعبے میں کام کرتے ہوئے ملک کی ترقی و خوشحالی میں اپنا رول پلے کررہی ہیں اور پاکستان کے لیے فخر کا باعث بن رہی ہیں ۔طب سے لے کر مسلح افواج، سیاست، صحافت، فلم سازی، ادب، تعلیم، بزنس، سیاست، کھیل، فنون لطیفہ اور سماجی خدمت کے ہر شعبے میں خواتین وطن کا نام روشن کررہی ہیں۔ پاکستان کی تعمیر و ترقی میں خواتین کا اہم کردار رہا ہے کیونکہ یہ صرف ریاست نہیں معاشرے کو بھی مضبوط بنیادوں پر استوار کررہی ہیں ۔جہاں ایک طرف اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز ہو کر ملکی معیشت کو مضبوط کرنے میں اپنے حصہ ڈال رہی ہیں وہاں دوسری طرف خاندان کی دیکھ بھال بھی خود کرتی ہیں۔ ایک نئی نسل کو معاشرے کا بہترین فرد بنانے میں ان کا کلیدی کردار ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  33060
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
25 دسمبر گزرگیا، یہ نئے پاکستان کا پہلا 25 دسمبرتھا۔ پاکستانیوں کیلئے 25 دسمبرکرسمس کے ساتھ ساتھ قائداعظم ڈے کے حوالے سے بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ بانئ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح 25 دسمبر 1876 کو پیدا ہوئے تھے، اس لحاظ ملک بھر
امریکی کانگریس نے قرارداد منظور کی ہے کہ امریکہ یمن سعودی جنگ میں سعودی عرب کی حمایت سے دستبردار ہو جائے.امریکہ کی وزارت خارجہ کے وزیر پومپیو نے کہا کہ ہم امریکی کانگریس کی منظور کی گئی قرارداد کا احترام کریں گے.
کل پارلیمنٹ میں پاکستان کی پارلیمانی تاریخ کا نہایت شرم ناک واقعہ پیش آیا جب حکومتی بنچوں سے ایک غیرمسلم ممبر پارلیمنٹ نے شراب پر پائبندی کا بل پیش کیا جسے پوری پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر مسترد کردیا.صرف ایم ایم اے ممبرز نے رامیش
پاکستان کے زیر انتظام مسلہ کشمیر سے منسلک ریاست جموں کشمیر کی سب بڑی اور وسیع اکائی سرزمین گلگت بلتستان کی تاریخ پر بہت کچھ لکھا جا چُکا ہے۔ آج ہمارا بحث یہ نہیں ہے کہ یہ خطہ ماضی بعید میں کئی ریاستوں پر مشمل ایک عظم ملک ہوا کرتے تھے۔

مزید خبریں
دنیا بھر میں بولی اور سمجھی جانی والی زبانوں میں سے اردو ہندی دنیا کی دوسری بڑی زبان بن چکی ہے، جبکہ اول نمبر پر آنے والی زبان چینی ہے اور انگریزی کا نمبر تیسرا ہے۔ روزنامہ ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے یونیورسٹی آف ڈیسلڈرف الرچ کی 15 برس کی مطالعاتی رپورٹ
ہمارے نیم حکیموں کو کون سمجھائے کہ بلکتے، سسکتےعوام کو جمہوریت سے بدہضمی ہونے کا خوف دلانا چھوڑ دیجئے حضور! 144 معالجین کے مطابق انسانی معدے کی خرابی تمام بیماریوں کی ماں ہوتی ہے اور معدے کی خرابی سے ہی بدہضمی، ہچکی، متلی، قے، ہاتھوں میں جلن کا احساس، بھوک کا نہ لگنا، پژمردگی اور چہرے پر افسردگی کے اثرات چھائے
یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ پارلیمنٹ لاجز میں ہونے والی غیر اخلاقی حرکتوں کے متعلق جمشید دستی کو کس نے ویڈیو ثبوت اور ”ناقابل تردید“ ثبوت فراہم کیے ہیں؟ یہ سوال بھی اہم ہے کہ آخر جمشید دستی نے یہ ا یشو کیوں چھیڑا ؟ اس کے نتیجے میں جو صورتحال پیش آسکتی ہے اس کے دور رس نتائج نکل سکتے ہیں۔
دہشت گردوں کی طرف سے جنگ بندی کے اعلان کے صرف 48 گھنٹے بعد ہی دارالحکومت اسلام آباد کودہشت گردی کا نشانہ بنادیا گیا۔

مقبول ترین
ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد تین روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد وزیراعظم عمران خان کی دعوت پر 21 سے 23 مارچ تک پاکستان کا دورہ کریں گے اور وہ
سپریم کورٹ میں بحریہ ٹاؤن عملدرآمد کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت عظمیٰ نے بحریہ ٹاؤن کی جانب سے 460 ارب روپے جمع کروانے کی پیشکش قبول کرتے ہوئے بحریہ ٹاؤن کراچی کو کام کرنے کی اجازت دے دی۔
اسلام آبادمیں اخبارات کے ایڈیٹرز اور مالکان سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بھارت میں الیکشن مہم پاکستان کی نفرت کی بنیاد پر ہورہی ہے،ہم بھارت کے حوالے سے ہونے والی کسی بھی مہم جوئی کا جواب
آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو نے جعلی اکاونٹس کیس میں نیب کے سامنے اپنے ابتدائی بیانات ریکارڈ کروا دئیے۔ پیپلز پارٹی کے دونوں رہنما، کارکنوں اور پارٹی رہنماوں کے ہمراہ نیب راولپنڈی کے دفتر میں پیش ہوئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں