Monday, 18 November, 2019
پاک امریکہ تعلقات اور ٹرمپ کا خطاب

پاک امریکہ تعلقات اور ٹرمپ  کا خطاب
تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس

 

ملکوں کے تعلقات کی بنیاد مفادات پر ہوتی ہے۔مفادات طے کرتے ہیں کہ کس ملک کے ساتھ کس نوعیت کے تعلقات رکھنے ہیں۔یہ بات بھی طے ہے کہ یہ مفادات وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتے رہتے ہیں  یہی تبدیل ہوتے مفادات ملکوں میں تعلقات کی تبدیلی کی بنیاد بھی بنتے ہیں۔مشرق و مغرب میں بنتے نئے اتحاد اور ٹوٹتے پرانے اتحاد بھی انہی مفادات  کی وجہ سے ہیں۔

امریکہ اور پاکستان کے باہمی تعلقات کی بنیاد بھی مفادات پر ہے ۔پاکستان بنتے ساتھ ہی دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات قائم  ہو گئے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ امریکہ خطے میں بننے والے اس نئے اور  دفاعی اعتبار سے اہم ملک سے تعلقات قائم کرنا چاہتا تھا ۔ اسی طرح پاکستان بھی  یہ چاہتا تھا کہ وہ دنیا کے ساتھ تعلقات قائم کرے۔ جس سے اسے  دنیا بھر سے تجارت کے مواقع ملیں اور وہ جلد از جلد اپنے پاؤں پر کھڑا ہو جائے۔

پاکستان کے اس وقت کے وزیر اعظم لیاقت علی خان  نے روسی بلاک کی بجائے امریکی بلاک میں جانے کا فیصلہ کیا اور اس وقت کے قابل ترین فرد محترم اصفہانی صاحب کو امریکہ میں پاکستانی سفیر لگا دیا۔ لیاقت علی خان نے کیوں روسی بلاک کو چھوڑا کر امریکی بلاک میں شامل ہوئے؟ بنیادی بات  یہ ہے  پاکستان کو ابتدا سے ہی شدید ترین سکیورٹی مسائل کا سامنا کرنا پڑا ۔ ملک بنتے ساتھ ہی مسائل کا پہاڑ سامنے کھڑا تھا اور ان سماجی، معاشی، قانونی اور مہاجرین کے مسائل کے ساتھ اپنے سے کئی گنا بڑے ملک سے دشمنی کا سامنا بھی تھا ۔ ایسی صورتحال میں پاکستان نے امریکہ سے بہتر تعلقات کے آپشن کو منتخب کیا اور امریکی بلاک میں شامل ہو گیا۔

امریکہ کے ساتھ پاکستانی تعلقات کی بنیاد اس بات پر تھی کہ امریکہ پاکستان کی دفاعی اور معاشی امور میں بھرپور مدد کرے گا۔ابتدائی طور پر کسی نہ کسی صورت میں امریکہ نے پاکستان کی کچھ مدد کی بھی جیسے مشہور ہے کہ ایوب خان کے زمانے میں امریکہ سے کچھ گندم پاکستان بھجوائی گئی جب وہ جہازوں سے اتار کر اونٹوں پر لادی گئی تو ان کے گلے میں بھی  تھینک امریکہ کے کارڈ لٹکا دیےگئے۔

پاک، امریکہ تعلقات  کا اصل امتحان  1971ء کی  پاک بھارت جنگ تھی جس میں پاکستانیوں کو یہ امید تھی کہ پچھلے 24 سال سے وہ جن تعلقات کو جس مشکل وقت کے لیے پروان چڑھا رہے ہیں وہ مشکل وقت آن پہنچا ہے اور اب امریکہ براہ راست پاکستان کی مدد کرے گا لیکن امریکہ نے سوائے ایک آدھ بیان کے پاکستان کی کوئی مدد نہیں کی اور پاکستانی  امریکی بحری بیڑے کا انتظار کرتے رہے جس کے بارے میں ان کو بتایا گیا تھا کہ وہ  ان کی مدد کے لیے چل پڑا ہے مگر وہ کبھی بھی مدد کو نہ پہنچا۔اس واقعہ نے پاکستان امریکہ تعلقات پر گہرے تعلقات مترتب کیے۔

اسی کی دہائی میں جب سوویت یونین نے  افغانستان پر قبضہ کر لیا اور گرم پانیوں تک رسائی کے اپنے خواب کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کرتے نظر آیا۔ یہ خطے میں امریکی مفادات کے سخت خلاف تھا تیل کے مراکز کے پاس یوں سوویت یونین کا آنا مستقبل میں خطرناک نتائج دے سکتا تھا ۔ اب امریکہ جلدی سے پاکستان کے پاس آیا اور ایک بار پھر امریکی پاکستانی مفادات نے انہیں ایک کر دیا ۔ پاکستان نے امریکی تحفظ کی ایک بڑی جنگ لڑی جس نے اس کی اقتصادی، دفاعی اور معاشرتی صورت حال کو تبدیل کر کے رکھ دیا۔ پاکستان نے بڑی تعداد جانی قربانیاں دے کر سوویت یونین کو شکست دی۔ جیسے ہی سوویت یونین ٹوٹ گیا امریکہ کا مسئلہ حل ہو گیا امریکہ یہاں سے نکل گیا اور سارے مسائل پاکستان کے گلے پڑ گئے۔ پاکستان نے بارہا ان مسائل کے حل کرنے کے لیے امریکہ سے رابطہ کیا مگر اب امریکہ کو خطے سے کوئی دلچسپی نہ تھی اس لیے اس نے کوئی توجہ نہ دی۔

یہ دوسرا بڑا موقع تھا جہاں پاکستان نے یہ سمجھا کہ اس کے ساتھ بے وفائی بلکہ دھوکہ کیا گیا ہے۔ یہ صورتحال یوں ہی چلتی رہی اور نائن الیون ہو گیا جس کے بعد ایک بار پھر حالات نے امریکہ کو مجبور کر دیا کہ وہ پاکستان کے ساتھ  ملک کر کام کرے کیونکہ وہ اکیلے یہ کام نہیں کر سکتا تھا۔ اب کی با رپاکستان مکمل طور پر اس بات سے آگاہ ہے کہ امریکہ حسب روایت اپنا کام نکل جانے کے بعد پاکستان کو مسائل میں گھرے چھوڑ کر چلا جائے گا اس لیے ہمیں ابھی سے ان مسائل کو حل کرنا ہے جن کا سامنا ہمیں کل کو کرنا پڑ سکتا ہے۔

امریکہ کا بار بار پاکستان کو تنہا چھورنا اور اب مسلسل بھارت کو ہر معاملے میں سپورٹ کرنا  پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کی فالٹ لائنز ہیں۔ ہم سے ڈو مور کا مطالبہ کیا جاتا ہے، دہشتگردوں کی سپورٹ کے الزامات لگائے جاتے ہیں مگر امریکہ کبھی بھی اپنی غلطیوں کو نہیں مانے گا۔ امریکہ کی مجبوری یہ ہے کہ اس کے پاس آپشنز بہت محدود ہیں اگر وہ چاہتا ہے کہ افغانستان میں طالبان کو شکست دے تو اس کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں کہ وہ پاکستان سے تعاون مانگے اور اگر امریکہ اس کے ساتھ ساتھ بھارت پر نوازشات جاری رکھے گا اور پاکستان کو ہر چیز سے محروم رکھے گا  تو تعلقات مثالی نہیں ہو سکتے۔

اس کی تازہ مثال ٹرمپ کی تقریر ہے جس میں انہوں نے پاکستان کو آڑھے ہاتھوں لیا ہے۔ انہوں نے پاکستان کی ان قربانیوں کو یکسر انداز میں نظر انداز کیا جس میں لاکھوں پاکستانیوں نے ایک لاحاصل جنگ کہ جس کا نتیجہ شائد ہی کبھی ظاہر ہو کے لیے جان دی۔ پاکستان کی معیشت تباہ ہو گئی،پاکستان کا امن غارت ہو گیا، پاکستان میں فرقہ واریت نے زور پکڑا  یہ سب کچھ ٹرمپ صاحب نے نظر انداز کر دیا اور اپنے چند ارب ڈالر کو یاد رکھا کہ جس سے زیادہ ان کی گاڑیاں ہمارے  مواصلاتی نظام کو نقصان پہنچا چکی ہیں۔ مشکل وقت میں مدد نہ کرنا، پاکستان کی بجائے ہر معاملہ میں انڈیا کے ساتھ کھڑے ہو جانا،اپنا کام نکالنے کے بعد لاتعلق ہو جانا اور پاکستان کے بارے میں حقارت آمیز رویہ اختیار کرنا یہ ایسے فالٹ لائنز  ہیں جن  کے ہوتے ہوئے کبھی بھی پاکستان اور امریکہ کے تعلقات ٹھیک نہیں ہو سکتے۔ ٹرمپ صاحب کو شائد یہ اندازہ نہیں ہے کہ ان کے بیانات سے جو چند فیصد پاکستانی امریکہ کو دشمن ملک نہیں سمجھتے تھے ان کی تعداد میں مزید کمی آ جائے گی اور پاکستانیوں کا شائد اس پر اتفاق ہو جائے کہ امریکہ ایک دشمن ملک ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  28818
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
روس کے ساتھ تعلقات دوستانہ، خوشگوار اور پائیدار بنانے کے سلسلے میں عوامی اور سیاسی سطح پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔ یہی وہ بنیادی نکتہ ہے کہ عالمی سیاسی حلقوں اور تزویراتی موضوع پر قائم تھنک ٹینکس
علامہ عارف حسین واحدی پاکستان کے مذہبی و سیاسی حلقوں میں کسی تعارف کے محتا ج نہیں۔
چند دِن پہلے بچوں کے اسکول جانا پڑا۔ بچوں کے تیسری سہ ماہی کے پیپر ہونے والے ہیں مگر ان کی کچھ کاپیاں اور کتابوں میں موجودہ کام ابھی تک صحیح طرح سے چیک نہیں کیا گیا تھا۔ اوپر سے متزادیہ کہ سکول میں احتجاجاً دو چھٹیاں دے دی گئیں تھیں اور سننے میں یہ آرہا تھا

مقبول ترین
وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ عدلیہ طاقتور اور کمزور کےلیے الگ قانون کا تاثر ختم کرے۔ ہزارہ موٹروے فیز 2 منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پچھلے دنوں کنٹینر
لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالتے کا حکم دیتے ہوئے انہیں 4 ہفتے کیلئے بیرون ملک جانے کی اجازت دیدی جبکہ عدالت کی طرف سے کوئی گارنٹی نہیں مانگی گئی۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباداور کراچی سمیت ملک کے مختلف شہروں میں جمعیت علماء اسلام (ف) کے کارکنوں نے دھرنے دے کر سڑکیں بلاک کردیں۔ مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کے ’پلان بی‘ کے تحت ملک بھر میں دھرنوں کا سلسلہ
وفاقی حکومت اور نیب کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا تھا کہ لاہور ہائیکورٹ کو درخواست پر سماعت کا اختیار نہیں جبکہ نواز شریف کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ عدالت کے پاس کیس سننے کا پورا اختیار ہے۔ عدالت نے درخواست کو قابل سماعت قرار

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں