Wednesday, 22 August, 2018
’’مذہبی آزادی کے بغیر کوئی بھی ملک ترقی نہیں کر سکتا‘‘

’’مذہبی آزادی کے بغیر کوئی بھی ملک ترقی نہیں کر سکتا‘‘
فائل فوٹو

اسلام آباد ۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مذہبی سکالرز، پارلیمنٹیرینز، غیر مسلم نمائندوں، مدرسین اور سول سوسائٹی کی اہم شخصیات نے زور دیا ہے کہ تمام مکاتب فکر کے مذہبی نظریات پر برابر توجہ دی جائے اور باہمی احترام کا رویہ اپنایا جائے، میثاق مدینہ اور قرارداد مقاصد کی روشنی میں تمام مسلم و غیر مسلم شہریوں کو برابر سمجھا جائے اور ان کو برداشت کیا جائے، مذہبی آزادی کے بغیر کوئی بھی ملک ترقی نہیں کر سکتا، جمہوریت ہی تمام مذاہب کو مذہبی آزادی کی ضمانت دیتی ہے، سکول کے نصاب سے نفرت آمیز مواد کو ختم کیا جائے، جب تک مسجد سے ہم آہنگی کی آواز نہیں اٹھے گی تب تک معاشرہ میں برداشت کا کلچر فروغ نہیں پا سکتا۔ 

ان خیالات کا اظہار منگل کو یہاں بحریہ یونیورسٹی اور وزارت مذہبی امور کے زیر اہتمام سماجی ہم آہنگی اور پاکستان میں غیر مسلم شہریوں کی قومی دھارے میں شمولیت کے موضوع پر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کیا۔ وزارت مذہبی امور کے سینئر جوائنٹ سیکرٹری الیاس خان نے کہا کہ وزارت مذہبی امور پورے ملک میں مختلف مذاہب میں ہم آہنگی کے فروغ کیلئے کام کر رہی ہے، پورے ملک میں مختلف تقریبات منعقد کر رہی ہے تاکہ مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکے اور مختلف فرقہ واریت اور مذاہب کے درمیان بھائی چارہ پیدا ہو سکے۔ 

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رکن قومی اسمبلی اصفن یار بھنڈرا نے کہا کہ اس کامیاب کانفرنس کے انعقاد پر وزارت مذہبی امور اور بحریہ یونیورسٹی کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ سکولوں کا نصاب تبدیل کیا جائے اور اس میں نفرت آمیز مواد کو ختم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک مساجد سے ہم آہنگی کی آواز نہیں اٹھے گی تب تک تبدیلی نہیں آئے گی۔ 

اسلامی یونیورسٹی کے اسلامک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ضیاءنے کہا کہ پاکستان میں رہنے والے تمام غیر مسلم کو مکمل مذہبی آزادی کے ساتھ رہنے کا حق حاصل ہے، نفرت جہاں پر بھی پائی جاتی ہے وہ ہم سب کی مشترکہ دشمن ہے، تمام علماءبھی اس بات پر متفق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب نے اس ملک کو بچانا ہے۔ پپس کے ڈائریکٹر جنرل ظفر اﷲ خان نے کہا کہ یہ خطہ جس کے ہم وارث ہیں اس خطہ میں ہندو، سکھ اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ سب برابر ہیں اور سب کو مذہبی آزادی حاصل ہے۔ 

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پنڈت چنا لال نے کہا کہ پاکستان میں تمام مذاہب کو مذہبی آزادی حاصل ہے اور یہاں پر ہمارے بچے بھی پڑھتے ہیں، پاکستان میں سب کو برابری کی سطح کے حقوق حاصل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک کی فلاح و بہبود کیلئے ہم نے 35 سال تک خدمت کی ہے اور ہم سب ایک دوسرے سے پیار کرنے والے لوگ ہیں۔ 

اس موقع پر گلبیر سنگھ نے کہا کہ تمام مذاہب کے لوگ آپس میں مل جل کر رہ رہے ہیں۔ انہوں نے تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے کہا کہ وہ مذہبی تہواروں میں شرکت کریں تاکہ ہمارے درمیان دوریاں ختم ہوں۔ رکن قومی اسمبلی آسیہ ناصر نے کہا کہ میرے لئے سب سے زیادہ اہم اپنے بچوں کو یہ سمجھانا ہے کہ آپس میں مل جل کر رہیں، ہمیں تعلیمی اداروں کے دوروں کے ساتھ ساتھ پالیسی سازی کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ باچہ خان یونیورسٹی میں ہونے والے مشعال کا واقعہ ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے، اس واقعہ نے پاکستان کا تشخص خراب کیا، ہم سب پاکستانی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جتنے بھی چینلنجز درپیش ہیں ہم مل کر ان سے مقابلہ کر سکتے ہیں۔ 

سکھ کمیونٹی کے سربراہ تارا سنگھ نے کہا کہ ملک اپنا اپنا، مذہب اپنا اپنا لیکن انسانیت کے ناطے ہم سب ایک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب 2005ءمیں پاکستان میں زلزلہ آیا تھا تو سکھ برادری نے انسانیت کے ناطے لوگوں کی مدد کرنے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ رکن قومی اسمبلی شہریار آفریدی نے کہا کہ گناہ سے نفرت کرو لیکن گناہگار سے نفرت نہ کرو۔ انہوں نے کہا کہ بحریہ یونیورسٹی میں اس کانفرنس کے انعقاد پر پاکستان اچھا تشخص اجاگر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس کی بنیاد امن تھی اور امن رہے گی۔ 

کانفرنس سے دیگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایک دوسرے کو برداشت کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی آزادی کے بغیر کوئی بھی ملک ترقی نہیں کر سکتا، جمہوریت ہی تمام مذاہب کو مذہبی آزادی کی ضمانت دیتی ہے۔ مقررین نے کہا کہ سکولوں کے نصاب سے نفرت انگیز مواد کو ختم کیا جائے، مسجد سے ہم آہنگی کی آواز جب تک نہیں اٹھے گی تب تک معاشرہ میں برداشت کا کلچر فروغ نہیں پا سکتا، نفرت کی سوچ ہماری مشترکہ دشمن ہے، میثاق مدینہ میں حضور اکرم نے غیر مسلم کی مذہبی آزادی کو تحفظ دیا، کوئی بھی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتی جب تک اقلیتوں کو مذہبی آزادی نہ دے، ہمیں نہ صرف برداشت کے کلچر کو فروغ دینا چاہئے بلکہ کھلے دل سے دوسرے مذاہب کے لوگوں کو قبول کرنا چاہئے۔ 

کانفرنس کے اختتام پر متفقہ طور پر اعلامیہ جاری کیا گیا۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ بین العقائد مذاکرہ پر امن بقائے باہمی اور ہم آہنگی کے فروغ کا کلیدی ذریعہ ہے، بین العقائد مذہبی ونظریاتی اختلافات پر تب تک بحث نہ ہو جب تک کہ اختلاف رائے کے آداب کا خیال نہ رکھا جائے، آئین پاکستان میں اقلیت کے لفظ کو غیر مسلم سے تبدیل کیا جائے جبکہ بین العقائدہم آہنگی ، صبراور پر امن بقائے باہمی کو باقاعدہ ایک مضمون کے طور پر سکولوں میں متعارف کرایا جائے۔ 

کانفرنس کے اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ مذہبی بنیادوں پر نفرت انگیز گفتگو کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ تمام مذہبی سکالرز کےلئے یہ لازم قرار دیا جائے کہ وہ حب الوطنی، معاشرتی اقدار اور بین العقائد ہم آہنگی پر ہفتہ وار اجتماعات میں گفتگو کریں۔ اس امر کی کسی کو بھی اجازت نہ دی جائے کہ وہ عقیدہ میں اختلافات کے باعث پاکستان اور ملکی نظریات کو نشانہ بنائے۔ 

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ مذہبی بنیادوں پر نفرت انگیز تقاریر کی حوصلہ شکنی کی جائے اور اس کے ارتکاب کرنے والے شخص کے خلاف انسداد دہشت گردی قانون کے تحت کارروائی کی جائے۔ بین العقائد مذاکرے کو امن کے استحکام اور پر امن بقائے باہمی کے فروغ کےلئے پالیسی کے طور پر استعمال کیا جائے ۔ تمام مکاتب فکر کے مذہبی نظریات کو برابر توجہ دی جائے اور باہمی احترام کا رویہ اپنایا جائے۔ میثاق مدینہ اور قرارداد مقاصد کی روشنی میں تمام مسلم و غیر مسلم شہریوں کو برابر سمجھا جائے اور ان کو برداشت کیا جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کرسکتے ہیں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  55061
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
سوشل میڈیا پر 27 جولائی سے جس شخصیت کو سب سے زیادہ ٹارگٹ کیا جا رہا ہے یقینا وہ جناب مولانا فضل الرحمان ہی ہیں۔ ہر دوسرا تبدیلی کا دعوے دار، مخالف مسلک کا پیروکار، مولانا کا سیاسی مخالف، بس مولانا پر ہی لعن طعن کر کے ملک کے تمام مسائل حل اور نئی
جمعیت علمائے اسلام جو مکتب دیوبند کی ایک گراں قدر اور اہم ترین سیاسی و مذہبی جماعت ہے، اس وقت تاریخ کے مشکل ترین دور سے گزر رہی ہے۔ اس سے ہمدردی اور وابستگی رکھنے والے حلقے موجودہ صورتحال میں سخت بے چین ہے۔ بعض مخلصین
پروردگار کا احسان عظیم ہے کہ ہمارے پیارے وطن پاکستان کو قیام میں آئے 71برس ہو رہے ہیں۔ اس مملکت خداداد کی اساس ان گنت قربانیوں پر استوار ہے جو ہمارے آباؤ اجداد نے اپنے لہو سے بنائی ہے اور ان قربانیوں کے ضمن میں مرد و خواتین دونوں نے
دنیا میں سینکڑوں مختلف مذاہب ہیں جن میں مزید سینکڑوں مختلف فرقے ہیں اور ہر فرقے کے عقائد کے ساتھ لاکھوں کروڑوں پیروکار ہیں۔ دنیا بھر میں عورت کی کوکھ سے پیدا ہونے والا بچہ ایک انسانی اساس پر جنم لیتا ہے

مزید خبریں
دنیا بھر میں بولی اور سمجھی جانی والی زبانوں میں سے اردو ہندی دنیا کی دوسری بڑی زبان بن چکی ہے، جبکہ اول نمبر پر آنے والی زبان چینی ہے اور انگریزی کا نمبر تیسرا ہے۔ روزنامہ ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے یونیورسٹی آف ڈیسلڈرف الرچ کی 15 برس کی مطالعاتی رپورٹ
ہمارے نیم حکیموں کو کون سمجھائے کہ بلکتے، سسکتےعوام کو جمہوریت سے بدہضمی ہونے کا خوف دلانا چھوڑ دیجئے حضور! 144 معالجین کے مطابق انسانی معدے کی خرابی تمام بیماریوں کی ماں ہوتی ہے اور معدے کی خرابی سے ہی بدہضمی، ہچکی، متلی، قے، ہاتھوں میں جلن کا احساس، بھوک کا نہ لگنا، پژمردگی اور چہرے پر افسردگی کے اثرات چھائے
یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ پارلیمنٹ لاجز میں ہونے والی غیر اخلاقی حرکتوں کے متعلق جمشید دستی کو کس نے ویڈیو ثبوت اور ”ناقابل تردید“ ثبوت فراہم کیے ہیں؟ یہ سوال بھی اہم ہے کہ آخر جمشید دستی نے یہ ا یشو کیوں چھیڑا ؟ اس کے نتیجے میں جو صورتحال پیش آسکتی ہے اس کے دور رس نتائج نکل سکتے ہیں۔
دہشت گردوں کی طرف سے جنگ بندی کے اعلان کے صرف 48 گھنٹے بعد ہی دارالحکومت اسلام آباد کودہشت گردی کا نشانہ بنادیا گیا۔

مقبول ترین
وزیر اعظم عمران خان نے نجم سیٹھی کے استعفے کے بعد احسان مانی کو نیا چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ نامزد کردیا۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں نے احسان مانی کو چیئرمین پی سی بی کے طور
مسجد نبویؐ کے امام ڈاکٹر شیخ حسین بن عبدالعزیز آل الشیخ نے خطبہ حج دیتے ہوئے کہا ہے کہ اللہ سے ڈرو اور کسی کو اس کے ساتھ شریک نہ کرو ٗ تمام انبیاء نے کہا صرف اللہ کی عبادت کرو ٗاسلام کی حقیقی تصویر اعلیٰ اخلاق اور بہترین سلوک و برتاؤ ہے۔
وزیراعظم عمران خان کی 16 رکنی ٹیم نے حلف اٹھالیا، اسد عمر خزانے کے وزیر، شاہ محمود وزیرخارجہ اور فواد چودھری وزیراطلاعات بن گئے، شیخ رشید ریلوے، فروغ نسیم قانون اور پرویز خٹک نے وفاع کی کمان سنبھال لی۔
ہالینڈ میں گستاخانہ خاکوں کے مقابلے کرانے پر ہالینڈ کے ناظم الامور کو دفترخارجہ طلب کیا گیا۔ دفترخارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق ہالینڈ میں گستاخانہ خاکوں کے مقابلے کرانے پر ہالینڈ کے ناظم الامور کو دفترخارجہ طلب

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں