Tuesday, 15 October, 2019
’’مذہبی آزادی کے بغیر کوئی بھی ملک ترقی نہیں کر سکتا‘‘

’’مذہبی آزادی کے بغیر کوئی بھی ملک ترقی نہیں کر سکتا‘‘
فائل فوٹو

اسلام آباد ۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مذہبی سکالرز، پارلیمنٹیرینز، غیر مسلم نمائندوں، مدرسین اور سول سوسائٹی کی اہم شخصیات نے زور دیا ہے کہ تمام مکاتب فکر کے مذہبی نظریات پر برابر توجہ دی جائے اور باہمی احترام کا رویہ اپنایا جائے، میثاق مدینہ اور قرارداد مقاصد کی روشنی میں تمام مسلم و غیر مسلم شہریوں کو برابر سمجھا جائے اور ان کو برداشت کیا جائے، مذہبی آزادی کے بغیر کوئی بھی ملک ترقی نہیں کر سکتا، جمہوریت ہی تمام مذاہب کو مذہبی آزادی کی ضمانت دیتی ہے، سکول کے نصاب سے نفرت آمیز مواد کو ختم کیا جائے، جب تک مسجد سے ہم آہنگی کی آواز نہیں اٹھے گی تب تک معاشرہ میں برداشت کا کلچر فروغ نہیں پا سکتا۔ 

ان خیالات کا اظہار منگل کو یہاں بحریہ یونیورسٹی اور وزارت مذہبی امور کے زیر اہتمام سماجی ہم آہنگی اور پاکستان میں غیر مسلم شہریوں کی قومی دھارے میں شمولیت کے موضوع پر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کیا۔ وزارت مذہبی امور کے سینئر جوائنٹ سیکرٹری الیاس خان نے کہا کہ وزارت مذہبی امور پورے ملک میں مختلف مذاہب میں ہم آہنگی کے فروغ کیلئے کام کر رہی ہے، پورے ملک میں مختلف تقریبات منعقد کر رہی ہے تاکہ مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکے اور مختلف فرقہ واریت اور مذاہب کے درمیان بھائی چارہ پیدا ہو سکے۔ 

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رکن قومی اسمبلی اصفن یار بھنڈرا نے کہا کہ اس کامیاب کانفرنس کے انعقاد پر وزارت مذہبی امور اور بحریہ یونیورسٹی کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ سکولوں کا نصاب تبدیل کیا جائے اور اس میں نفرت آمیز مواد کو ختم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک مساجد سے ہم آہنگی کی آواز نہیں اٹھے گی تب تک تبدیلی نہیں آئے گی۔ 

اسلامی یونیورسٹی کے اسلامک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ضیاءنے کہا کہ پاکستان میں رہنے والے تمام غیر مسلم کو مکمل مذہبی آزادی کے ساتھ رہنے کا حق حاصل ہے، نفرت جہاں پر بھی پائی جاتی ہے وہ ہم سب کی مشترکہ دشمن ہے، تمام علماءبھی اس بات پر متفق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب نے اس ملک کو بچانا ہے۔ پپس کے ڈائریکٹر جنرل ظفر اﷲ خان نے کہا کہ یہ خطہ جس کے ہم وارث ہیں اس خطہ میں ہندو، سکھ اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ سب برابر ہیں اور سب کو مذہبی آزادی حاصل ہے۔ 

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پنڈت چنا لال نے کہا کہ پاکستان میں تمام مذاہب کو مذہبی آزادی حاصل ہے اور یہاں پر ہمارے بچے بھی پڑھتے ہیں، پاکستان میں سب کو برابری کی سطح کے حقوق حاصل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک کی فلاح و بہبود کیلئے ہم نے 35 سال تک خدمت کی ہے اور ہم سب ایک دوسرے سے پیار کرنے والے لوگ ہیں۔ 

اس موقع پر گلبیر سنگھ نے کہا کہ تمام مذاہب کے لوگ آپس میں مل جل کر رہ رہے ہیں۔ انہوں نے تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے کہا کہ وہ مذہبی تہواروں میں شرکت کریں تاکہ ہمارے درمیان دوریاں ختم ہوں۔ رکن قومی اسمبلی آسیہ ناصر نے کہا کہ میرے لئے سب سے زیادہ اہم اپنے بچوں کو یہ سمجھانا ہے کہ آپس میں مل جل کر رہیں، ہمیں تعلیمی اداروں کے دوروں کے ساتھ ساتھ پالیسی سازی کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ باچہ خان یونیورسٹی میں ہونے والے مشعال کا واقعہ ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے، اس واقعہ نے پاکستان کا تشخص خراب کیا، ہم سب پاکستانی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جتنے بھی چینلنجز درپیش ہیں ہم مل کر ان سے مقابلہ کر سکتے ہیں۔ 

سکھ کمیونٹی کے سربراہ تارا سنگھ نے کہا کہ ملک اپنا اپنا، مذہب اپنا اپنا لیکن انسانیت کے ناطے ہم سب ایک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب 2005ءمیں پاکستان میں زلزلہ آیا تھا تو سکھ برادری نے انسانیت کے ناطے لوگوں کی مدد کرنے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ رکن قومی اسمبلی شہریار آفریدی نے کہا کہ گناہ سے نفرت کرو لیکن گناہگار سے نفرت نہ کرو۔ انہوں نے کہا کہ بحریہ یونیورسٹی میں اس کانفرنس کے انعقاد پر پاکستان اچھا تشخص اجاگر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس کی بنیاد امن تھی اور امن رہے گی۔ 

کانفرنس سے دیگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایک دوسرے کو برداشت کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی آزادی کے بغیر کوئی بھی ملک ترقی نہیں کر سکتا، جمہوریت ہی تمام مذاہب کو مذہبی آزادی کی ضمانت دیتی ہے۔ مقررین نے کہا کہ سکولوں کے نصاب سے نفرت انگیز مواد کو ختم کیا جائے، مسجد سے ہم آہنگی کی آواز جب تک نہیں اٹھے گی تب تک معاشرہ میں برداشت کا کلچر فروغ نہیں پا سکتا، نفرت کی سوچ ہماری مشترکہ دشمن ہے، میثاق مدینہ میں حضور اکرم نے غیر مسلم کی مذہبی آزادی کو تحفظ دیا، کوئی بھی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتی جب تک اقلیتوں کو مذہبی آزادی نہ دے، ہمیں نہ صرف برداشت کے کلچر کو فروغ دینا چاہئے بلکہ کھلے دل سے دوسرے مذاہب کے لوگوں کو قبول کرنا چاہئے۔ 

کانفرنس کے اختتام پر متفقہ طور پر اعلامیہ جاری کیا گیا۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ بین العقائد مذاکرہ پر امن بقائے باہمی اور ہم آہنگی کے فروغ کا کلیدی ذریعہ ہے، بین العقائد مذہبی ونظریاتی اختلافات پر تب تک بحث نہ ہو جب تک کہ اختلاف رائے کے آداب کا خیال نہ رکھا جائے، آئین پاکستان میں اقلیت کے لفظ کو غیر مسلم سے تبدیل کیا جائے جبکہ بین العقائدہم آہنگی ، صبراور پر امن بقائے باہمی کو باقاعدہ ایک مضمون کے طور پر سکولوں میں متعارف کرایا جائے۔ 

کانفرنس کے اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ مذہبی بنیادوں پر نفرت انگیز گفتگو کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ تمام مذہبی سکالرز کےلئے یہ لازم قرار دیا جائے کہ وہ حب الوطنی، معاشرتی اقدار اور بین العقائد ہم آہنگی پر ہفتہ وار اجتماعات میں گفتگو کریں۔ اس امر کی کسی کو بھی اجازت نہ دی جائے کہ وہ عقیدہ میں اختلافات کے باعث پاکستان اور ملکی نظریات کو نشانہ بنائے۔ 

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ مذہبی بنیادوں پر نفرت انگیز تقاریر کی حوصلہ شکنی کی جائے اور اس کے ارتکاب کرنے والے شخص کے خلاف انسداد دہشت گردی قانون کے تحت کارروائی کی جائے۔ بین العقائد مذاکرے کو امن کے استحکام اور پر امن بقائے باہمی کے فروغ کےلئے پالیسی کے طور پر استعمال کیا جائے ۔ تمام مکاتب فکر کے مذہبی نظریات کو برابر توجہ دی جائے اور باہمی احترام کا رویہ اپنایا جائے۔ میثاق مدینہ اور قرارداد مقاصد کی روشنی میں تمام مسلم و غیر مسلم شہریوں کو برابر سمجھا جائے اور ان کو برداشت کیا جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کرسکتے ہیں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  76208
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
چند روز قبل ( ن) لیگ کی ریلی جس وقت اسلام آباد سے راولپنڈی کا سفر طے کررہی تھی اس دوران چند ٹی وی چینلوں کے رپورٹروں اور کیمرہ مینوں کوریلی میں شریک لوگوں نے تشدد کا نشانہ بنایا، عام فہم زبان میں یوں
کیا وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے غلط کہا ہے کہ اداروں میں ٹوئیٹس کے ذریعے ایک دوسرے کو مخاطب نہیں کیا جاتا،ادارے ٹویٹس کے ذریعے نہیں چل سکتے۔ ٹوئٹس پاکستانی جمہوریت کے لیے زہر قاتل ہیں۔
پچھلے چالیس سال سے میں اپنے آپ کو تلاش کر رہا ہوں، کبھی لیاری کی تنگ و تاریک گلیوں میں جا کر اپنا پتا پوچھتا ہوں، کبھی فشری کی سڑکوں سے اٹھنے والی مچھلیوں کی بدبو سے اپنی ناک کو بچاتے ہوئے دور تک پھیلے ہوئے سمندر کی آخری حد
بلی تھیلے سے باہر آنے کے بعد بٹ بٹ دیکھ رہی ہے اور اپنے آقاؤں کو ڈھونڈ رہی ہے کیونکہ سابق وزیراعظم گیلانی کی بااختیار اور رعب دارپرنسپل سیکریٹری نرگس سیٹھی کے دستخط سے جاری کیا گیا خط منظر عام پر اگیا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ

مقبول ترین
وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ ایرانی صدر سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا کہ پاکستان اور
اسلام آباد میں وزیراعظم آفس کے سامنے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کیخلاف انسانی زنجیر بنائی گئی۔ وزیراعظم عمران خان نے بھی اس تقریب میں شرکت کی اور قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر میں
برطانوی پولیس نے 2016 میں برطانیہ سے بیٹھ کر پاکستان میں نفرت انگیز تقریر کرنے سے متعلق تفتیش میں متحدہ قومی مومنٹ (ایم کیو ایم) کے بانی الطاف حسین پر دہشت گردی کی دفعہ کے تحت فرد جرم عائد کردی۔
وزیراعظم کی چین کے صدر شی جن پنگ سے ملاقات ہوئی جس میں مقبوضہ کشمیر کی صورت حال اور علاقائی سیکیورٹی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم عمران خان اور چین کے صدر شی جن پنگ کے درمیان بیجنگ کے اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس میں ملاقات ہوئی۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں