Friday, 07 August, 2020
’’مذہبی آزادی کے بغیر کوئی بھی ملک ترقی نہیں کر سکتا‘‘

’’مذہبی آزادی کے بغیر کوئی بھی ملک ترقی نہیں کر سکتا‘‘
فائل فوٹو

اسلام آباد ۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مذہبی سکالرز، پارلیمنٹیرینز، غیر مسلم نمائندوں، مدرسین اور سول سوسائٹی کی اہم شخصیات نے زور دیا ہے کہ تمام مکاتب فکر کے مذہبی نظریات پر برابر توجہ دی جائے اور باہمی احترام کا رویہ اپنایا جائے، میثاق مدینہ اور قرارداد مقاصد کی روشنی میں تمام مسلم و غیر مسلم شہریوں کو برابر سمجھا جائے اور ان کو برداشت کیا جائے، مذہبی آزادی کے بغیر کوئی بھی ملک ترقی نہیں کر سکتا، جمہوریت ہی تمام مذاہب کو مذہبی آزادی کی ضمانت دیتی ہے، سکول کے نصاب سے نفرت آمیز مواد کو ختم کیا جائے، جب تک مسجد سے ہم آہنگی کی آواز نہیں اٹھے گی تب تک معاشرہ میں برداشت کا کلچر فروغ نہیں پا سکتا۔ 

ان خیالات کا اظہار منگل کو یہاں بحریہ یونیورسٹی اور وزارت مذہبی امور کے زیر اہتمام سماجی ہم آہنگی اور پاکستان میں غیر مسلم شہریوں کی قومی دھارے میں شمولیت کے موضوع پر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کیا۔ وزارت مذہبی امور کے سینئر جوائنٹ سیکرٹری الیاس خان نے کہا کہ وزارت مذہبی امور پورے ملک میں مختلف مذاہب میں ہم آہنگی کے فروغ کیلئے کام کر رہی ہے، پورے ملک میں مختلف تقریبات منعقد کر رہی ہے تاکہ مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکے اور مختلف فرقہ واریت اور مذاہب کے درمیان بھائی چارہ پیدا ہو سکے۔ 

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رکن قومی اسمبلی اصفن یار بھنڈرا نے کہا کہ اس کامیاب کانفرنس کے انعقاد پر وزارت مذہبی امور اور بحریہ یونیورسٹی کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ سکولوں کا نصاب تبدیل کیا جائے اور اس میں نفرت آمیز مواد کو ختم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک مساجد سے ہم آہنگی کی آواز نہیں اٹھے گی تب تک تبدیلی نہیں آئے گی۔ 

اسلامی یونیورسٹی کے اسلامک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ضیاءنے کہا کہ پاکستان میں رہنے والے تمام غیر مسلم کو مکمل مذہبی آزادی کے ساتھ رہنے کا حق حاصل ہے، نفرت جہاں پر بھی پائی جاتی ہے وہ ہم سب کی مشترکہ دشمن ہے، تمام علماءبھی اس بات پر متفق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب نے اس ملک کو بچانا ہے۔ پپس کے ڈائریکٹر جنرل ظفر اﷲ خان نے کہا کہ یہ خطہ جس کے ہم وارث ہیں اس خطہ میں ہندو، سکھ اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ سب برابر ہیں اور سب کو مذہبی آزادی حاصل ہے۔ 

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پنڈت چنا لال نے کہا کہ پاکستان میں تمام مذاہب کو مذہبی آزادی حاصل ہے اور یہاں پر ہمارے بچے بھی پڑھتے ہیں، پاکستان میں سب کو برابری کی سطح کے حقوق حاصل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک کی فلاح و بہبود کیلئے ہم نے 35 سال تک خدمت کی ہے اور ہم سب ایک دوسرے سے پیار کرنے والے لوگ ہیں۔ 

اس موقع پر گلبیر سنگھ نے کہا کہ تمام مذاہب کے لوگ آپس میں مل جل کر رہ رہے ہیں۔ انہوں نے تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے کہا کہ وہ مذہبی تہواروں میں شرکت کریں تاکہ ہمارے درمیان دوریاں ختم ہوں۔ رکن قومی اسمبلی آسیہ ناصر نے کہا کہ میرے لئے سب سے زیادہ اہم اپنے بچوں کو یہ سمجھانا ہے کہ آپس میں مل جل کر رہیں، ہمیں تعلیمی اداروں کے دوروں کے ساتھ ساتھ پالیسی سازی کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ باچہ خان یونیورسٹی میں ہونے والے مشعال کا واقعہ ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے، اس واقعہ نے پاکستان کا تشخص خراب کیا، ہم سب پاکستانی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جتنے بھی چینلنجز درپیش ہیں ہم مل کر ان سے مقابلہ کر سکتے ہیں۔ 

سکھ کمیونٹی کے سربراہ تارا سنگھ نے کہا کہ ملک اپنا اپنا، مذہب اپنا اپنا لیکن انسانیت کے ناطے ہم سب ایک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب 2005ءمیں پاکستان میں زلزلہ آیا تھا تو سکھ برادری نے انسانیت کے ناطے لوگوں کی مدد کرنے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ رکن قومی اسمبلی شہریار آفریدی نے کہا کہ گناہ سے نفرت کرو لیکن گناہگار سے نفرت نہ کرو۔ انہوں نے کہا کہ بحریہ یونیورسٹی میں اس کانفرنس کے انعقاد پر پاکستان اچھا تشخص اجاگر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس کی بنیاد امن تھی اور امن رہے گی۔ 

کانفرنس سے دیگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایک دوسرے کو برداشت کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی آزادی کے بغیر کوئی بھی ملک ترقی نہیں کر سکتا، جمہوریت ہی تمام مذاہب کو مذہبی آزادی کی ضمانت دیتی ہے۔ مقررین نے کہا کہ سکولوں کے نصاب سے نفرت انگیز مواد کو ختم کیا جائے، مسجد سے ہم آہنگی کی آواز جب تک نہیں اٹھے گی تب تک معاشرہ میں برداشت کا کلچر فروغ نہیں پا سکتا، نفرت کی سوچ ہماری مشترکہ دشمن ہے، میثاق مدینہ میں حضور اکرم نے غیر مسلم کی مذہبی آزادی کو تحفظ دیا، کوئی بھی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتی جب تک اقلیتوں کو مذہبی آزادی نہ دے، ہمیں نہ صرف برداشت کے کلچر کو فروغ دینا چاہئے بلکہ کھلے دل سے دوسرے مذاہب کے لوگوں کو قبول کرنا چاہئے۔ 

کانفرنس کے اختتام پر متفقہ طور پر اعلامیہ جاری کیا گیا۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ بین العقائد مذاکرہ پر امن بقائے باہمی اور ہم آہنگی کے فروغ کا کلیدی ذریعہ ہے، بین العقائد مذہبی ونظریاتی اختلافات پر تب تک بحث نہ ہو جب تک کہ اختلاف رائے کے آداب کا خیال نہ رکھا جائے، آئین پاکستان میں اقلیت کے لفظ کو غیر مسلم سے تبدیل کیا جائے جبکہ بین العقائدہم آہنگی ، صبراور پر امن بقائے باہمی کو باقاعدہ ایک مضمون کے طور پر سکولوں میں متعارف کرایا جائے۔ 

کانفرنس کے اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ مذہبی بنیادوں پر نفرت انگیز گفتگو کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ تمام مذہبی سکالرز کےلئے یہ لازم قرار دیا جائے کہ وہ حب الوطنی، معاشرتی اقدار اور بین العقائد ہم آہنگی پر ہفتہ وار اجتماعات میں گفتگو کریں۔ اس امر کی کسی کو بھی اجازت نہ دی جائے کہ وہ عقیدہ میں اختلافات کے باعث پاکستان اور ملکی نظریات کو نشانہ بنائے۔ 

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ مذہبی بنیادوں پر نفرت انگیز تقاریر کی حوصلہ شکنی کی جائے اور اس کے ارتکاب کرنے والے شخص کے خلاف انسداد دہشت گردی قانون کے تحت کارروائی کی جائے۔ بین العقائد مذاکرے کو امن کے استحکام اور پر امن بقائے باہمی کے فروغ کےلئے پالیسی کے طور پر استعمال کیا جائے ۔ تمام مکاتب فکر کے مذہبی نظریات کو برابر توجہ دی جائے اور باہمی احترام کا رویہ اپنایا جائے۔ میثاق مدینہ اور قرارداد مقاصد کی روشنی میں تمام مسلم و غیر مسلم شہریوں کو برابر سمجھا جائے اور ان کو برداشت کیا جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کرسکتے ہیں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  9694
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
علامہ محمداقبال رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا ہے کہ”ثبات ایک تغیرکو ہے زمانے میں“،گویا اس آسمان کی چھت کی نیچے کسی چیز کو قرارواستحکام نہیں۔تاریخ گواہ ہے کہ اس زمین کا جغرافیہ ایک ایک صدی میں کئی کئی مرتبہ کروٹیں بدلتارہا ہے۔سائنس کی بڑھتی ہوئی رفتار کے ساتھ جغرافیے کی تبدیلی کا عمل بھی تیزتر ہوتاجارہاہے،چنانچہ گزشتہ ایک صدی نے تین بڑی بڑی سپر طاقتوں کے ڈوبنے کا مشاہدہ کیا،
میرے بچپن میں میرے والد صاحب بیرون ملک ملازمت کرتے تھے. اچھا کھاتے پیتے تھے لیکن وہ ایک کمی ہوتی ہے نا کہ کب ابو آئیں گے اور کب ان کو لینے ایئرپورٹ جائیں گے، وہ ہمیشہ رہتی تھی. اور جب ان کو لینے ائیر پورٹ جاتے تو خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہوتا تھا.
سعودی عرب کے ایک ایم بی سی چینل پر رمضان کے شروع میں ایک ڈرامہ "ام ہارون" کے نام سے نشر کیا جا رہا ہے، جس میں یہودیت کو مظلوم بنا کر پیش کیا گیا ہے۔
عالمی یوم آزادیِ صحافت کے حوالے سے خصوصی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ تیس برس میں انیس صحافی فرائض کی ادائیگی کے دوران جاں بحق ہوچکے ہیں۔ بھارتی فورسز کے مظالم اجاگر کرنے پر صحافیوں کو گرفتار کیاجاتا ہے اور تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

مزید خبریں
کورونا وائرس پاکستان ہی نہیں ہی دنیا بھر میں اپنی پوری بدصورتی کے ساتھ متحرک ہے ، تشویشناک یہ ہےاس عالمی وباء کے نتیجے میں ہمارے ہاں اموات کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا،
کی سڑک کے کنارے ایک ہوٹل میں چائے پینے کے لیے رکا تو ایک مقامی صحافی دوست سے ملاقات ہوگئی جنہیں سب شاہ جی کہتے ہیں سلام دعا کے بعد شاہ جی سے پوچھا کہ ٹیکنالوجی کی وجہ سے پاکستان کتنا تبدیل ہوچکا ہے تو کہنے لگے کہ سوشل میڈیا کی وجہ سےعدم برداشت میں بہت اضافہ ہوا ہے۔
میرے پڑھنے والو،میں ایک عام سی،نا سمجھ ایک الہڑ سی لڑکی ہوا کرتی تھی، بات بات پہ رو دینا تو جیسے میری فطرت کا حصہ تھا، اور پھربات بے بات ہنسنا میری کمزوری، یہ لڑکی دنیا کے سامنے وہی کہتی اور وہی کرتی تھی جو یہاں کے لوگ سن اور سمجھ کر خوش ہوتے تھے
صبح سویرے اسکول جاتے وقت ہم عجیب مسابقت میں پڑے رہتے تھے پہلا مقابلہ یہ ہوتا تھا کہ کون سب سے تیز چلے گا دوسرا شوق سلام میں پہل کرنا۔ خصوصاً ساگری سے آنیوالے اساتذہ کو سلام کرنا ہم اپنے لیے ایک اعزاز تصور کرتے تھے۔

مقبول ترین
پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے چند روز قبل نجی ٹی وی چینل پر کشمیر اور مسلم ممالک پر مشتمل اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) سے متعلق ایک بیان دیا جسے بعدازاں چینل نے سینسر کر دیا گیا۔
احتساب عدالت نے پارک لین ریفرنس میں نیب کے دائرہ اختیار کیخلاف آصف زرداری کی درخواست مسترد کرتے ہوئے پیر کے روز فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ تحریری حکم نامہ آج ہی جاری کریں گے جس میں ضروری ہدایات دی جائیں گی۔
اس میں شک نہیں کہ مختلف دینی مسالک کے ماننے والوں کا عمومی رویہ یہ ہے کہ وہ دوسروں کی بات نہیں سنتے بلکہ اپنی محفلوں میں دوسروں کو آنے کی دعوت تک نہیں دیتے ۔ اس غیر صحت مندانہ رجحان سے غیر صحت مندانہ معاشر ہ تشکیل پاچکا ہے ۔ اس صورت حال کا ازالہ بحیثیت قوم بقا کے لیے ناگزیر ہے ۔ اس سلسلے میں ہم ذیل میں چند معروضات پیش کرتے ہیں :
احتساب عدالت نے رمضان شوگر ملز ریفرنس میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز پر فرد جرم عائد کردی۔ شہباز شریف اور حمزہ شہباز کا صحت جرم سے انکار کردیا، عدالت نے آئندہ سماعت پر نیب گواہوں کو طلب کرلیا۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں