Saturday, 04 July, 2020
سوشل میڈیا، سیاسی پارٹیاں اور وضاحتیں

سوشل میڈیا، سیاسی پارٹیاں اور وضاحتیں
تحریر: ڈاکٹرعاطف افتخار

 

گاؤں کی سڑک کے کنارے ایک ہوٹل میں چائے پینے کے لیے رکا تو ایک مقامی صحافی دوست سے ملاقات ہوگئی جنہیں سب شاہ جی کہتے ہیں سلام دعا کے بعد شاہ جی سے پوچھا کہ ٹیکنالوجی کی وجہ سے پاکستان کتنا تبدیل ہوچکا ہے تو کہنے لگے کہ سوشل میڈیا کی وجہ سےعدم برداشت میں بہت اضافہ ہوا ہے۔ حکومت کسی کی بھی ہوعوام ان کی کارکردگی کے متعلق اپنی رائے کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ گزشتہ ایک دہائی سے پیپلز پارٹی کے بعد مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کی موجودہ حکومت سوشل میڈیا پرموضع بحث ہے۔ آپوزیشن، میڈیا اورعوام کی تنقید کوبرداشت کرنے کے حوالے سے پیپلزپارٹی سرفہرست ہے ن لیگ دوسرے اور تحریک انصاف بالترتیب تیسرے نمبرپر ہے۔ موجودہ حکومت کے سپورٹرزکا گمان ہے کہ عموماً ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے سپورٹرز ہی تحریک انصاف کے حکمرانوں سے وعدوں کی تکمیل کے متعلق سوال کرتے ہیں حالانکہ سوال تو کوئی بھی عام پاکستانی پوچھ سکتا ہے اورعین ممکن ہے کہ وہ کسی سیاسی جماعت سے تعلق نہ رکھتا ہو آمریت کا یہ عالم ہے کہ خود تحریک انصاف کے ووٹرز بھی یہ سوال پوچھنے کے حق سے محروم ہیں۔ اگر سوشل میڈیا پر ان سوالات کے جوابات ملاحظہ کیے جائیں تو سوال گندم جواب چنا والی مثال مصداق نظر آتی ہے۔ صحافی حضرات ہر دور میں ہر حکومت پر تنقید کرتے آئے ہیں کیونکہ حکومتوں کو تنقید برداشت کرنا ہوتی ہے لیکن آج صورتحال یہ ہے کہ صحافی وضاحت دیتا ہے کہ اس کا تعلق کسی سیاسی جماعت سے نہیں اگر حکمرانوں کو ناگوار نہ لگے توعوام کی مشکلات سے متعلق سوالات کے جوابات دے دیں۔ گزشتہ حکومتوں پرتنقید کرتے کرتے تحریک انصاف حکومت میں آ گئی اور وہی گردان دہراتے اقتدار کے پانچ سال پورے کرنا چاہتی ہے اور اپنی کارکردگی کے متعلق وضاحت دینا بلکل پسند نہیں کرتی۔

شاہ جی نے چائے کا کپ میز پر رکھتے ہوئے ایک لمبی سانس لی کرسی کے ساتھ ٹیک لگائی اور قدرے توقف کے بعد بولے ن لیگ والے ہمیں پی ٹی آئی کا سپورٹر سمجھتے رہے اور آج تحریک انصاف والے پٹواری کا اعزاز بخشتے ہیں اگر ان دونوں جماعتوں کی کارکردگی کا احوال لکھ دیا جائے تو جیالا ہونے کا شبہ ظاہر کیا جاتا ہے۔

شاہ جی آپ کو مسئلہ کیا ہے میں نے ٹوکتے ہوئے سوال کیا۔ کہنے لگے کہ غریب عوام کو برسر روزگار اور معیشت کا پہیہ رواں دیکھ کر اطمینان نصیب ہوتا ہے اور جب صورتحال اس سے مختلف ہو تو دل خون کے آنسو روتا ہے اور الفاظ کا سہارا لے کر بیان کردیتے ہیں۔ آن ریکارڈ ایسی بہت سی تحریریں ہیں کہ جن میں گزشتہ حکومت اور نواز شریف کے طرز سیاست پر برملا تنقید کی ہے۔ مقصد صرف اور صرف حکمرانوں کو یادہانی کرانا ہوتا ہے کہ الیکشنز سےقبل انہوں نے عوام سے کیا وعدے کیے تھے۔

پیپلز پارٹی سے کیا امید رکھنا وہ تو سندھ کو پتھر کے زمانے میں دھکیل چکی ہے۔ نواز شریف کے اندر بھی بے شمار خامیاں ہیں اسی لیے عمران خان کو نجات دہندہ سمجھا۔ تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے انہوں نے پاکستان کی عوام کوایسے سہانے خواب دکھائے کہ دل یہ ماننے کو قطعاً آمادہ ہی نہیں کہ کپتان نے جھوٹ بولا تھا لیکن دماغ بار ہا سوال کرتا ہے کہ اگر وہ سب جھوٹ نہیں تو سچ کیا ہے؟ ملکی سیاست کے حوالے سے پڑھے لکھے باشعورعوام نے خان صاحب کی بات سے اتفاق سے کیا تھا کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے منتخب نمائندوں کا کام تعمیراتی کاموں کی تختیاں آویزاں کرنا نہیں بلکہ قانون سازی ہے ہمارا خیال تھا کہ آج کے نئے پاکستان میں ادارے اس قدر فعال اور باآختیار ہونگے کہ وہ خود ہی سروے کرتے ہوئے یہ فیصلہ کریں گے کہاں سڑک بننی ہے کس جگہ سوئی گیس کی سپلائی ضروری ہے تو کن علاقوں میں پانی کی قلت باعث واٹر سپلائی کو یقینی بنایا جائے۔

تحریک انصاف کے منشور اور سحر انگیز انتخابی تقاریر کی ایک ایک بات گویا سنہری حروف سے لکھے جانے کے قابل تھی لیکن اقتدار کی بھاگ دوڑ سنبھالتے ہی حکمرانوں نے اپنے طرز عمل سے ہر وعدے کی نفی کی جو کہ نئے پاکستان کی نوید اور غریب عوام کی امید تھے۔ اگر نئے اور پرانے پاکستان کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے شعبے پہلے سے بدتر ہو چکے ہیں۔

پڑھے لکھے باشعور افراد نے نئے پاکستان کے تصور میں یہ طے کر لیا تھا کہ کپتان صاحب ایک ایسا انتظامی ڈھانچہ متعارف کرانے جا رہے ہیں کہ جس کی وجہ سے ترقیاتی کام اوردیگر مسائل کے حل کے لیے سیاستدان اور معاونین بے معنی ہو جائیں گے اور پاکستان کا کوئی بھی شہری ایک درخواست جمع کرا کر اپنے مسائل کا حل طلب کر لے گا لیکن نہ جانے کون سے مسائل آڑے آئے کہ عوام آج کی ریاست مدینہ اور نئے تعمیر شدہ پاکستان میں بھی اسی بوسیدہ نظام کی چکی میں پس رہی ہے۔

شاہ جی کا تسلسل توڑنے کی جسارت کرتے ہوئے میں نے کہہ دیا شاہ جی آپ ملکی معاملات پر گہری نظر رکھتے ہیں جس سے ان کے جوش و خروش میں مزید اضافہ ہو گیا۔ اب تو ہوٹل کا عملہ بھی ان کا سامعین بن چکا تھا کہنے لگے یہ ساری باتیں صرف ایک جھلک ہیں کہ تبدیلی کے نام پر پاکستان کی عوام کے ساتھ کیا کچھ ہو چکا ہے کوئی ایک شعبہ ہی بتا دیا جائے جو پرانے پاکستان سے بہتر ہو۔ اچھا ہے کہ آج میٹرو بسوں پر پیسے کا ضیاع نہیں ہو رہا لیکن صحت اور تعلیم کے میدان میں کوئی انقلاب آ چکا ہے یا وہ پہلے سے بدتر ہو چکے ہیں؟ ٹرین حادثوں میں کتنے ہی غریب مر چکے ہیں لیکن افسوس کہ آج ہمارے پاس خان صاحب جیسا بے باک اور راست گو آپوزیشن لیڈرموجود نہیں جو ایک للکار سے متعلقہ وزیر کا استعفٰی طلب کر سکے۔ مفاد پرست اورموقع پرست خان صاحب کے گرد جمع ہوچکے ہیں گزشتہ ق لیگ اور دیگر چڑھتے سورج کر پجاری تحریک انصاف پر قابض نظر آتے ہیں۔

        اب شاہ جی کے چہرے کا رنگ سرخ ہو چکا تھا غصے سے کانپ رہے تھے دوبارہ کہنے لگے حکومتوں کا کام تنقید برداشت کرنا اور اپنی کارکردگی کی وضاحت دینا ہوتا ہے شاہ جی کا دھیان ہٹانے کی خاطر میں نے انہیں پانی کا گلاس پیش کیا جس کے بعد چائے کا ایک اور کپ ان کی جانب بڑھا دیا تو انکار کے ساتھ کہنے لگے کہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے شوگر اور بلڈ پریشر کنٹرول نہیں رہتے اور زیادہ چاہے نقصان دیتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  30953
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
آن لائن ایجوکیشن سسٹم تقریباً پوری دنیا میں رائج ہے ۔پاکستان میں بھی دو بڑی یونیورسٹیاں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اورورچوئل یونیورسٹی اس وقت ہزاروں اسٹوڈنٹ کو آن لائن ایجوکیشن فراہم کر رہی ہیں۔
کوئی یاد رکھے یا نہ رکھے اس حوا کی بیٹی کو مگر کچھ ایسی باتیں ضرور چھوڑ جاتی ہے یہ حوا کی بیٹی کہ اُس کے مٹی ہو جانے کے بعد اُس کی نسل اور لوگ اُسے فراموش نہیں کر سکتےـ
آج یہ کہتے ہوئے دل کر رہا ہے کہ مسلسل ہنستی رہوں کہ سپر پاورامریکہ۔۔۔ جی ہاں! وہی امریکہ جس نے افغانستان کو کھنڈرات میں بدل دیا وہی امریکہ جس نے عراق پر ایک عرصہ جنگ مسلط کیے رکھی، کبھی بمباری کر کے تو کبھی داعش کی شکل میں کیڑے مکوڑوں کی فوج بنا کے، عراق پر اپنا تسلط برقرار رکھنا چاہا۔
علامہ محمداقبال رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا ہے کہ”ثبات ایک تغیرکو ہے زمانے میں“،گویا اس آسمان کی چھت کی نیچے کسی چیز کو قرارواستحکام نہیں۔تاریخ گواہ ہے کہ اس زمین کا جغرافیہ ایک ایک صدی میں کئی کئی مرتبہ کروٹیں بدلتارہا ہے۔سائنس کی بڑھتی ہوئی رفتار کے ساتھ جغرافیے کی تبدیلی کا عمل بھی تیزتر ہوتاجارہاہے،چنانچہ گزشتہ ایک صدی نے تین بڑی بڑی سپر طاقتوں کے ڈوبنے کا مشاہدہ کیا،

مزید خبریں
کورونا وائرس پاکستان ہی نہیں ہی دنیا بھر میں اپنی پوری بدصورتی کے ساتھ متحرک ہے ، تشویشناک یہ ہےاس عالمی وباء کے نتیجے میں ہمارے ہاں اموات کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا،
میرے پڑھنے والو،میں ایک عام سی،نا سمجھ ایک الہڑ سی لڑکی ہوا کرتی تھی، بات بات پہ رو دینا تو جیسے میری فطرت کا حصہ تھا، اور پھربات بے بات ہنسنا میری کمزوری، یہ لڑکی دنیا کے سامنے وہی کہتی اور وہی کرتی تھی جو یہاں کے لوگ سن اور سمجھ کر خوش ہوتے تھے
صبح سویرے اسکول جاتے وقت ہم عجیب مسابقت میں پڑے رہتے تھے پہلا مقابلہ یہ ہوتا تھا کہ کون سب سے تیز چلے گا دوسرا شوق سلام میں پہل کرنا۔ خصوصاً ساگری سے آنیوالے اساتذہ کو سلام کرنا ہم اپنے لیے ایک اعزاز تصور کرتے تھے۔
عزیزان۔۔۔! بہت آسان ہے ہر رات ٹی وی ڈرامہ کا انتخاب کرنا یا کسی فلم کو دیکھنے کے لیے دیر تک جاگنا۔۔ بہت مشکل ہے ٹھنڈی اور تاریک رات میں اپنے بچوں اور والدین سے دور برفباری جیسے موسم کے اندر اپنا فرض نبھانا۔۔

مقبول ترین
پاکستان اور چین کے وزرائے خارجہ نے ایک اہم ٹیلی فونک گفتگو میں بین الاقوامی فورمز پر باہمی تعاون کے فروغ پر اتفاق کیا ہے۔ میڈیا کے مطابق وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے چینی وزیر خارجہ وانگ یی سے ٹیلی فونک رابطہ کرکے خطے
ہائی کورٹ کی انتظامی کمیٹی نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو العزیزیہ اسٹیل مل ریفرنس میں سزا سنانے والے احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک کو برطرف کر دیا ہے۔ ارشد ملک کا اسکینڈل سامنے آنے پر انہیں عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور قومی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ مائنس عمران خان کا مطالبہ غیر جمہوری مطالبہ نہیں۔ حکومت ہٹانے کے لیے کبھی بھی غیر آئینی طریقے کی حمایت نہیں کریں گے۔
تائیوان حکومت کا عجیب و غریب اقدام ،کورونا وائرس میں سفر کے لیے ترسنے والوں کے لیے تائیوان میں ’’جعلی پروازوں‘‘ کا سلسلہ شروع کردیا۔ ابتدائی مرحلے میں اس سفر کے لیے 7 ہزار افراد نے رجوع کیا۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں