Friday, 18 January, 2019
پروین شاکر کے ساتھ تین ادھوری ملاقاتیں

پروین شاکر  کے ساتھ تین ادھوری ملاقاتیں
تحریر: حسنین ترمزی

 

(نامور شاعرہ پروین شاکر کی 23 ویں برسی کے موقع پر خصوصی تحریر)

 

1992کی بات ہے، میں گھوڑا گلی  اسکاؤٹ  کیمپ میں ایک ہفتہ گزار کر اسلام آباد وارد ہوا۔ یہاں ہمارا قیام یوتھ ہاسٹل میں تھا۔ اسلام آباد کا یوتھ ہاسٹل آب پارہ کے قریب  ہی ہے۔  نئے نئے کالج میں داخل ہوئے ہم   6 دوست اس ہاسٹل میں تین دن  گزار کر لاہور  واپس جانے سے پہلے پورا اسلام آباد گھوم لینا چاہتے تھے  اس لیے اپنے بیگ کمرے میں پھینک کر فوری باہر نکل کھڑے ہوئے۔

    سخت سردی کے دن تھے اور اسلام آباد میں بھی خاصی ٹھنڈ تھی اور سب کی خواہش تھی کہ  فیصل مسجد سے پہلے بری امام سرکار پر حاضری ہوجائے  سو وہاں گئے اور شام ڈھلے وہاں سے سپر مارکیٹ  آگئے۔ دیگر دوست کھانے پینے کی جانب بڑھے جبکہ میں غیر ارادی طور پر کتانوں کی ایک دوکان " مسٹر بکس "  جا گھسا۔ خاصی بڑی دکان تھی اور بہت زیادہ کتب بھی موجود تھیں ۔ 

میں ابھی دوکان اور کتابوں کے درمیان میں موجود ہی تھا کہ ایک دلکش و حسین خاتون کو دیکھا جن  کے گرد خاصے  لوگ جمع تھے جن میں اکثریت خواتین کی تھی اور ان سے آٹوگراف لے رہے تھے اور وہ بھی اپنے چہرے پر مسکراہٹ سجائے  سب سے خندہ پیشانی سے پیش آرہی تھیں۔ پہلے تو سمجھ ہی نہیں آئی کہ یہ "مشعل نما" خاتون کون ہیں جن کے گرد لوگ یوں پروانوں کی طرح جمع ہیں۔ اس وقت میرے ساتھ میرا کلاس فیلو دوست عرفان باجوہ بھی تھا۔ ہم دونوں محویت سے  بس ا نھیں دیکھے  ہی جارہے تھے کہ انھوں نے ہمارے قریب آکر انتہائی نرمی سے ایکسکیوز می کہا  اور ہم  جو ان کا راستہ روکے کھڑے تھے اسی محویت کے عالم میں دائیں بائیں ہوگئے جبکہ وہ ہوا کے جھونکے کی مانند ہمارے قریب سے گزر گئیں۔ 

اہلِ لاہور جانتے ہیں کہ 1992 اور 1993 میں  کینال روڈ کی حالت ایسی نہیں ہوتی تھی جیسی اب ہے  اور نا ہی اتنا بے ھنگم ٹریفک کا رش ہوا کرتا تھا  جیسا آجکل ہوچکا ہے۔  اس دور میں نہر کے گرد دونوں اطراف کی سڑکوں پر بہت کم ٹریفک ہو کرتی تھی اور گرمیوں کے دنوں میں لوگ نہر کے گرد اپنی گاڑیوں سے اتر آیا کرتے تھے  اور نہر کے پانی کو چھو کر یا اپنا آپ مکمل بھگو کر گرمی کی حدت کو کم کرنے کی کوشش کیا کرتے تھے۔ ایسی ہی ایک کوشش  مکمل کرنے کو ہم دوست بھی گھروں سے باہر نکلے ہوئے تھے۔   شام ڈھل چکی تھی اور اب ہماری منزل اپنے اپنے گھروں کی طرف تھی۔  موٹر سائیکلوں پرسوار ہمار قافلہ نہر کے قریب باغبان پورہ  سے گزر رہاتھا کہ  میرے پیچھے بیٹھے دوست عرفان باجوہ نے چیخنا  شروع کردیا " شاہ اسلام آباد والی آنٹی" او ویکھ  -اُدھر – میں نے بھی اس طرف دیکھا تو واقعی وہی خاتون تھیں۔ گاڑی کی  پچھلی سیٹ پر سوار  وہ ادھر ادھر نہیں دیکھ رہی تھیں بلکہ اوپر آسمان کی طرف چاند کو دیکھنے کی کوشش کررہی تھیں  اور اس منظر میں وہ اتنی محو تھیں کہ ان کو قطعی احساس نہیں ہوا کہ ہم موٹرسایئکل پر خاصی دیر سے ان کے ساتھ ساتھ چل رہے تھے بلکہ کئی بار گاڑی چلاتے انکل اور ساتھ بیٹھی ہوئی آنٹی نے  شدید ناگواری سے ہمیں دیکھا بھی۔ آخر جب موٹر سائیکل میں سوائے ریزروڈ فیول کے کچھ نہ بچا اور عرفان باجوہ کی لعن طعن طول پکڑنے لگی تو میں نے بھی تعاقب کا ارادہ موقوف کیا اور  مال  روڈ سے  گھر واپسی کی راہ لے لی ۔ احساسات کی شاعرہ کیساتھ  یہ دوسری ملاقات بھی ادھوری ہی رہی۔

اس بار ہیپی نیو ائیر مری میں منانے کا پروگرام بن رہا ہے، ایک دوست نے اعلان کیا تو میں نے کہا کہ دیکھیں گے۔ مگر بچپن کے دوستوں سے آپ جان نہیں چھڑا سکتے۔ لہذا سب کچھ پسِ پشت ڈال کر ساری رات کا سفر طے کرکے ہم راولپنڈی پہنچے۔ پروگرام بنا کہ ناشتہ اسلام آباد ہوگا اور باقی دوستوں سے ملاقاتیں کرنے کے بعد پھرمری کا پلان بنایا جائے گا۔ اسی پروگرام کے تحت ابھی عازم اسلام آباد ہی تھے کہ راستے میں ایک بڑی سی بس اور ایک سفید  پچکی ہوئی مارگلہ نظر آئی   ڈرائیور نے  ایکسیڈینٹ  کی گاڑیاں دیکھتے ہی بتایا کہ اس کے سواروں کا بچنا ناممکن ہے اور ہم اللہ سے معافی مانگتے ہوئے جائے حادثہ سے گزر گئے۔ جب اسلام آباد میں اپنے دوست کے گھر پنہچے تو اس دوست کے والد، جو کہ پی ٹی وی میں ملازم تھے، خاصے رنجیدہ دکھائی دیے۔ استفسار پر بولے کہ آج پروین شاکر روڈ ایکسیڈینٹ میں انتقال کر گئی ہیں۔ حادثہ کی تفصیلات جاننے پر ہمیں معلوم ہوا کہ جس جائے حادثہ سے ہم ابھی گزرے تھے، وہی پروین شاکر کی "جائے انتقال" تھی۔ بس اس کے بعد ایک بھیانک اداسی تھی جو ہم سب پر چھا گئی۔ 

یہ پروین شاکر سےمیری تیسری اورآخری ملاقات تھی۔ یہ آخری ملاقات اور اس سے پیشر دو ملاقاتوں میں ایک قدر مشترک تھی کہ یہ ادھوری ملاقاتیں تھیں،  مگر گزشتہ دونوں ملاقاتوں کے بعد ہمیشہ ایک امید ہوا کرتی تھی کہ آئیندہ ملیں گے مگر یہ آخری ملاقات یہ امید بھی اپنے ساتھ لیتی گئی۔ 

 پارہ " پروین شاکر " کے بارے میں میں کچھ نہیں لکھنا چاہتا اور نہ ہی اپنی کوئی فیلینگ بیان کرنا چاہتا ہوں بس ان تین ادھوری ملاقاتوں کی ایک کسک ہے جو رہے گی۔ پہلی ملاقات پر میں نہیں جانتا  تھا کہ یہ کون ہیں،  دوسری پر میں جانتا تھا مگر نہ ہوپائی اور تیسری  اللہ نہ ہی کراتا۔ آج پروین شاکر کی برسی ہے کسی چینل پر کوئی خبر بھی چل رہی تھی مگر میں آج بھی انھیں تین ملاقاتوں کا احوال دل میں بسائے ہوئے ہوں جو تاحال ادھوری ہیں۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  61392
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
اسرائیل جو کہ ایک نسل پرست صہیونی ریاست ہے اور اس کا وجود چونکہ صہیونیوں نیبوڑھے استعمار برطانیہ کی مدد سے عالم اسلام کے قلب فلسطین پرغاصبانہ طور پر سنہ1948ء میں قائم کیا تھاتاہم ستر برس کے اس غاصبانہ قبضہ اور تسلط
اسلام آباد ۔ اللہ کریم نے عورت کو ماں ، بہن ، بیٹی ، بیوی ہر روپ میں عزت و تکریم عطا کی ہے تاہم آج ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں خاتون کو وہ مقام حاصل نہیں ہے جو اللہ اور اس کے نبی نے دیا ۔ اس کی وجہ جہاں مرد ہے خود عورت بھی اس کی ذمہ دار ہے
پروردگار کا احسان عظیم ہے کہ ہمارے پیارے وطن پاکستان کو قیام میں آئے 71برس ہو رہے ہیں۔ اس مملکت خداداد کی اساس ان گنت قربانیوں پر استوار ہے جو ہمارے آباؤ اجداد نے اپنے لہو سے بنائی ہے اور ان قربانیوں کے ضمن میں مرد و خواتین دونوں نے
پاکستان میں تو تیل کو ویسے بھی آگ لگی ہوئی ہے جس میں ملک کی مقتدر اشرافیہ کے علاوہ ’’سب‘‘ ہی جل رہے ہیں۔ جلے، کٹے جسموں سے بدبو اورتعفن کے سرانڈ اٹھ رہے ہیں جو مملکت خداداد کے بوسیدہ نظام ریاست کو آشکارا کر رہے ہیں۔

مزید خبریں
دنیا بھر میں بولی اور سمجھی جانی والی زبانوں میں سے اردو ہندی دنیا کی دوسری بڑی زبان بن چکی ہے، جبکہ اول نمبر پر آنے والی زبان چینی ہے اور انگریزی کا نمبر تیسرا ہے۔ روزنامہ ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے یونیورسٹی آف ڈیسلڈرف الرچ کی 15 برس کی مطالعاتی رپورٹ
ہمارے نیم حکیموں کو کون سمجھائے کہ بلکتے، سسکتےعوام کو جمہوریت سے بدہضمی ہونے کا خوف دلانا چھوڑ دیجئے حضور! 144 معالجین کے مطابق انسانی معدے کی خرابی تمام بیماریوں کی ماں ہوتی ہے اور معدے کی خرابی سے ہی بدہضمی، ہچکی، متلی، قے، ہاتھوں میں جلن کا احساس، بھوک کا نہ لگنا، پژمردگی اور چہرے پر افسردگی کے اثرات چھائے
یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ پارلیمنٹ لاجز میں ہونے والی غیر اخلاقی حرکتوں کے متعلق جمشید دستی کو کس نے ویڈیو ثبوت اور ”ناقابل تردید“ ثبوت فراہم کیے ہیں؟ یہ سوال بھی اہم ہے کہ آخر جمشید دستی نے یہ ا یشو کیوں چھیڑا ؟ اس کے نتیجے میں جو صورتحال پیش آسکتی ہے اس کے دور رس نتائج نکل سکتے ہیں۔
دہشت گردوں کی طرف سے جنگ بندی کے اعلان کے صرف 48 گھنٹے بعد ہی دارالحکومت اسلام آباد کودہشت گردی کا نشانہ بنادیا گیا۔

مقبول ترین
حکومت نے پیپلز پارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کی منظوری دے دی۔ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں بلاول
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق آرمی چیف سے زلمے خلیل زاد اور افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر کی ہونے والی ملاقات میں علاقائی سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
لیون میں یونی ورسٹی کی چھت پر دھماکے کے نتیجے میں 3 افراد زخمی ہوگئے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانس کے شہر لیون میں یونی ورسٹی کی چھت پر دھماکے کے بعد آگ لگ گئی جس نے دیکھتے دیکھتے شدت اختیار کرلی۔
چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنے اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جج کی زندگی میں ڈرکی کوئی گنجائش نہیں۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار آج ریٹائر ہورہے ہیں، ان کے اعزاز میں سپریم کورٹ میں ریفرنس

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں