Sunday, 24 March, 2019
بے نظیر بھٹو کی زندگی پر ایک نظر

بے نظیر بھٹو کی زندگی پر ایک نظر
تحریر: مہران صغیر

 

وقت گزرنے پر تم جو بھول جاؤ گے
ہم تمہیں بتائیں گے بے نظیر کیسی تھی
زندگی کے ماتھے پر وہ ایک لکیر جیسی تھی 
ظلم کے نشانے پر ایک تیر جیسی تھی 
شہر کے غریبوں میں ایک امیر جیسی تھی
بے نظیر بس بے نظیر جیسی تھی

محترمہ بے نظیر بھٹوپاکستان کی پہلی خاتون وزیر اعظم تھیں۔بے نظیر بھٹو 21 جون 1953ء میں سندھ کے مشہور سیاسی خاندان بھٹو میں پیدا ہوئیں ۔بے نظیر کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے تھااور وہ ذوالفقار علی بھٹو کی بڑی صاحبزادی تھیں۔بے نظیر بھٹو نے اپنی ابتدائی تعلیم (Lady Jenning Nursery School) اور (Convent Jesus and Mary) کراچی میں حاصل کی ۔اس کے بعددو سال (Rawalpindi Presentation Convent) میں تعلیم حاصل کی۔جبکہ انہیں بعد میں مری کے جیسس اینڈ مری میں داخلہ مل گیا۔بے نظیر بھٹو نے 15سال کی عمر میں او لیول کا امتحان پاس کیا۔اپریل 1964ء میں انہوں نے ہارورد یونیورسٹی کے (Redcliff College) میں داخلہ لیا۔بے نظیر بھٹو نے ہارورڈ یونیورسٹی سے 1973ء میں پولیٹیکل سائنس میں گریجویشن کر لیاتھا۔

اس کے بعد انہوں نے فلسفہ ،معاشیات اور سیاسیات میں ایم اے کیا۔بے نطیر بھٹو آکسفورڈ یونیورسٹی میں کافی مقبول تھیں۔بے نظیر بھٹو برطانیہ سے تعلیم حاصل کرنے کہ بعد جون 1977ء کو وطن واپس لوٹیں تو ان کی خواہیش تھی کہ وہ ملک کے خارجہ امور میں اپنی خدمات سر انجام دے سکیں۔لیکن ان کی پاکستان آمد کے ساتھ ہی ملک میں حالات خراب ہونے لگے اور حکومت کا تخت الٹ دیا گیا۔جنرل ضیاء الحق نے ذوالفقار علی بھٹو کو جیل بھیج دیا اورملک میں مارشل لاء نافذ کر دیا اور ساتھ ہی بے نظیر کو بھی گھر میں نظر بند کر دیا ۔

اپریل 1979ء میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے ذوالفقار علی بھٹو کو قتل کے ایک متنازع کیس میں پھانسی کی سزا سنا دی۔ اس کے بعد بے نظیر بھٹو نے آمریت کے خلاف 14 اگست 1983 ء کو جہد و جہد شروع کر دی۔1984ء میں بے نظیر کو جیل سے رہائی ملی جس کے بعد انہوں نے دو سال تک برطانیہ میں جلاوطنی کی زندگی گزاری اسی دوران وہ پیپلز پارٹی کی سربراہ بھی بنی۔ 

اپریل 1986ء میں مارشل لاء ختم ہوا اور بے نطیر وطن واپس لوٹ کے آئیں تو لاہور ائیرپورٹ پر ان کا فقید المثال استقبال کیا گیا۔بے نظیر بھٹو نے 1987ء کو نواب شاہ کے رئیس علی زرداری کے بیٹے آصف زرداری سے رشتہ ازداج میں منسلک ہوئیں اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی سیاسی جہدوجہد بھی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔1988ء میں ملک میں عام انتخابات ہوئے جس میں پیپلز پارٹی کو قومی اسمبلی کی سب سے زیادہ نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی اور اس طرح محترمہ دو دسمبر 1988ء کو 35 سال کی عمر میں ملک اور اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیر اعظم منتخب ہوئیں۔ْ لیکن اگست 1990ء میں ان کی حکومت کو برطرف کر دیا گیا۔

1993 ء میں عام انتخابات ہوئے جس میں پیپلز پارٹی اور ان کے اتحادی جماعتوں نے معمولی اکثریت سے میدان مار لیا اور یوں بے نظیر دوسری مرتبہ ملک کی وزیر اعظم بن گئیں۔لیکن پھر ایسا ہوا کہ ان کو مدت پوری کیے بنا 1996ء میں برطرف کر دیا گیا۔بے نظیر نے کچھ عرصہ بعد ہی جلاوطنی اختیار کر لی اور متحدہ عرب امارات میں جا کر قیام کیا۔اور جنرل پرویز مشرف کے خلاف بھرپور مزاحمت کا اعلان کیا۔

28 جولائی 2007ء کو ابو ظہبی میں جنرل مشرف اور بے نطیر کے درمیان اہم ملاقات ہوئی جس کے بعد پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن تقریبا ساڑھے آتھ سال جلاوطنی کے بعد 18 اکتوبر کو وطن وپس پہنچی تو کراچی ائیرپورٹ پر ان کا فقید المثال استقبال کیا گیا۔پاکستان پہنچتے ہی بے نظیر پر دو حملے کیے گئے پہلا حملہ کراچی میں جب ان کاْ افلہ شاہراہ فیصل سے مزار قائد کی طرف روا دوان تھا تو اچانک ایک زور دار دھماکے کی آواز آئی جس کے نتیجہ میں 150 افراد موت کی نیند سو گئے اور سینکڑوں زخمی ہو گئے۔

27 دسمبر 2007ء کو ان پر دوسرا حملہ کیاگیا جب وہ لیاقت باغ راولپنڈی میں اپنے جلسہ سے خطاب کرنے کے بعد اپنی گاڑی مین بیٹھ کر اسلام آباد روانہ ہونے لگی تھی ۔لیاقت باغ کے مرکزی گیٹ پر پیپلزیوتھ آرگنائزیشن کے کارکن بے نظیر کے حق میں نعرے لگا رہے تھے اسی دوران جب محترمہ نے ان نعروں کا جواب دینے کے لیے گاڑی کی چھت سے باہر نکلی تو ایک نامعلوم شخص نے ا پر فائرنگ شروع کر دی بے نطیر گولیاں لگنے سے شدید زخمی ہوئیں اور گاڑی کے اندر گر گئی اسی حالت میں انہیں جنرل ہسپتال راولپنڈی لایا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نا لاتے ہوئے خالق حقیقی سے جا ملی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  92563
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
پاکستان کی ترقی کا دارومدار تعلیم یافتہ نوجوان نسل پر مبنی ہے ۔لیکن ان جوانوں کی لیڈنگ کرنے کے لئے تعلیم یافتہ لیڈر کی ضرورت ہے۔پاکستان حاصل کرنے کے لئے اگر قائد اعظم جیسے عظیم لیڈر کی ضرورت پڑی تھی تو پاکستان کی بقا کے
شہید بینظیربھٹو ہیومن رائٹس سینٹر فار وومن سے گزشتہ 10 سال کے دوران 43سوسے زائد خواتین نے رابطہ کیا اور 3707 خواتین کو گھریلو تشدد،جسمانی ہراساں کرنے، پراپرٹی میں حصہ نہ دینے کی شکایات پرریلیف
جو کام پاکستان کی پوری اسٹیبلشمنٹ نہ کر سکی اور نہ زرداری کے بڑے سے بڑے مخالفین کر سکے۔ وہ کام محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ کی دو معصوم بچیوں نے کر دکھایا۔ خبر ہے کہ بختاور اور آصفہ بھٹو نے عرفان اللہ مروت کی پیپلز پارٹی

مزید خبریں
دنیا بھر میں بولی اور سمجھی جانی والی زبانوں میں سے اردو ہندی دنیا کی دوسری بڑی زبان بن چکی ہے، جبکہ اول نمبر پر آنے والی زبان چینی ہے اور انگریزی کا نمبر تیسرا ہے۔ روزنامہ ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے یونیورسٹی آف ڈیسلڈرف الرچ کی 15 برس کی مطالعاتی رپورٹ
ہمارے نیم حکیموں کو کون سمجھائے کہ بلکتے، سسکتےعوام کو جمہوریت سے بدہضمی ہونے کا خوف دلانا چھوڑ دیجئے حضور! 144 معالجین کے مطابق انسانی معدے کی خرابی تمام بیماریوں کی ماں ہوتی ہے اور معدے کی خرابی سے ہی بدہضمی، ہچکی، متلی، قے، ہاتھوں میں جلن کا احساس، بھوک کا نہ لگنا، پژمردگی اور چہرے پر افسردگی کے اثرات چھائے
یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ پارلیمنٹ لاجز میں ہونے والی غیر اخلاقی حرکتوں کے متعلق جمشید دستی کو کس نے ویڈیو ثبوت اور ”ناقابل تردید“ ثبوت فراہم کیے ہیں؟ یہ سوال بھی اہم ہے کہ آخر جمشید دستی نے یہ ا یشو کیوں چھیڑا ؟ اس کے نتیجے میں جو صورتحال پیش آسکتی ہے اس کے دور رس نتائج نکل سکتے ہیں۔
دہشت گردوں کی طرف سے جنگ بندی کے اعلان کے صرف 48 گھنٹے بعد ہی دارالحکومت اسلام آباد کودہشت گردی کا نشانہ بنادیا گیا۔

مقبول ترین
یوم پاکستان کی مرکزی تقریب میں صدر، وزیراعظم، آرمی چیف، ملائیشین وزیراعظم مہاتیر محمد سمیت دیگر ممالک کی معزز شخصیات نے بھرپور شرکت کی۔ سپیکر قومی اسمبلی، چیئرمین سینیٹ، وفاقی وزراء، وزرائے اعلی، شوبز ستارے
نیوزی لینڈ کی تاریخ کی بدترین دہشت گردی کے ایک ہفتے بعد نہ صرف سرکاری طور پر اذان نشر کی گئی بلکہ مسجد النور کے سامنے ہیگلے پارک میں نمازِ جمعہ کے اجتماع میں وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن کے علاوہ ہزاروں غیر مسلم افراد نے بھی شرکت کی۔
ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد کا سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب میں کہنا تھا کہ آزادی کے وقت ملائیشیا غریب ملک تھا۔ آزادی کے وقت طے کیا تھا کہ ملائیشیا ترقی کے مراحل طے کرے گا۔ ہم نے کوریا اور جاپانی لوگوں سے سبق لیا اور کام کیا۔
کراچی کی نیپا چورنگی پر ممتاز عالم دین مفتی تقی عثمانی قاتلانہ حملے میں محفوظ رہے جب کہ ان کے دو گارڈ جاں بحق ہو گئے۔ ابتدائی طور پر اطلاعات تھیں کہ مختلف مقامات پر فائرنگ کے دو واقعات پیش آئے ہیں لیکن ایس ایس پی گلشن اقبال طاہر

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں