Monday, 22 April, 2019
گلگت بلتستان کا تاریخی و آئینی پس منظر۔۔۔۔ !!!

گلگت بلتستان کا تاریخی و آئینی پس منظر۔۔۔۔ !!!
تحریر: ڈاکڑ سید قلب نواز

 

خطہ گلگت بلتستا ن محل وقوع کے اعتبار سے تاریخی حیثیت کا حامل ہے ، یہ خطہ پاکستان کے مستقبل ، سی پیک اورملکی ترقی کادارومدار میں اہم کردار ادا کرنے جارہاہے۔ اس خطہ کے پُرامن ،دلیر اور پاکستان سے محبت کر نیوالی قوم ایک طویل مدت ( 70سالہ) سے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتی نظر آئی اور گلگت بلتستانی عوام کی پاکستان سے محبت، وفادار ی و صبر و تحمل کا پھل گلگت بلتستان کی عوام کو اس صورت میں ملا کہ پوری دنیا کی نظریں گلگت بلتستان پر ہی مرکوز ہیں اور یہ خطہ ملک کی ضرورت،ترقی کا ضامن سمیت ملک کی اہم اکائی بن چکا ہے۔ 

شمالی علاقہ جات موجودہ گلگت بلتستان کی آبادی 11لاکھ سے زائد نفوس پر مشتمل ہے جبکہ اس کا کل رقبہ 28ہزار مربع میل ہے ‘ اردو کے علاوہ بلتی اور شینا یہاں کی مشہور زبانیں ہیں۔ گلگت و بلتستان کا نیا مجوزہ صوبہ دوڈویژنز بلتستان اور گلگت پر مشتمل ہے۔ اول الذکر ڈویژن سکردو اور گانچے کے اضلاع پر مشتمل ہے جب شمالی علاقہ جات کے شمال مغرب میں افغانستان کی واخان کی پٹی ہے جو پاکستان کو تاجکستان سے الگ کرتی ہے جب کہ شمال مشرق میں چین کے مسلم اکثریتی صوبے سنکیانگ کا ایغورکا علاقہ ہے۔ 

جنوب مشرق میں مقبوضہ کشمیر، جنوب میں آزاد کشمیر جبکہ مغرب میں صوبہ خیبر پختونخوا واقع ہیں۔ اس خطے میں سات ہزار میٹر سے بلند 50 چوٹیاں واقع ہیں۔ دنیا کے تین بلند ترین اور دشوار گزار پہاڑی سلسلے قراقرم،ہمالیہ اور ہندوکش یہاں آکر ملتے ہیں۔ دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو بھی اسی خطے میں واقع ہے۔ جب کہ دنیا کے تین سب سے بڑے گلیشئیر بھی اسی خطے میں واقع ہیں۔ 

گلگت بلتستان کا خطہ دنیا بھر میں قدرتی مناظر حسن سمیت قدرتی جھیلوں سے سے مال و مال جنت نظیر خطہ توجہ کا مرکز ہے۔ گلگت بلتستان کو حکومت برطانیہ نے مہاراجہ کشمیر سے 1935ء میں پٹہ پر خریدا تھا لیکن جب ہندوستان کی تقسیم ہو نے لگی اور ایک عظیم مملکت اسلام کے نام پر وجود میں آنے لگی تو ہندوستان کے طول و عرض میں ہندود مسلم سکھ فسادات شروع ہوگئے اور لاکھوں قربانیوں کے بعد اسلام کے نام پر الگ ایک ملک پاکستان معرض وجود میں آیا تو برطانیہ نے پٹہ کی معیاد ختم ہو نے سے قبل ہی یہ پورا علاقہ جسمیں جموں ،کشمیر اور گلگت شامل تھا کو دوبارہ مہاراجہ کو واپس کردیا جس سے اس خطے کے مسلمانوں میں بے چینی پھیل گئی ،گلگت ایجنسی میں بھی برطانوی جھنڈے کی جگہ مہاراجہ کشمیر کے ترنگا نے لی اور یہ افواہ پھیل گئی کہ مسلم اکثریتی خطہ ہو نے کے باوجود مہاراجہ جموں کشمیر اور گلگت بلتستان کا الحاق بھارت سے کرنا چاہتا ہے ،جو اس خطے کے مسلمانوں کو کسی طرح بھی قابل قبول نہیں تھا ۔ 

تاریخی اورراق گردانی سے پتہ چلتا ہے اورزہنوں میں سوالات جنم لیتے ہیں کہ وہ کیا وجوہات تھی کہ اور برطانیہ کو کیا مفا دتھا کہ پورے متحدہ ہندوستان کے نام سے الگ الگ مملکتیں وجودمیں آگئیں برطانیہ نے اپنا جھنٖڈاُ تاراور پاکستان اور ہندوستان نے اپنے اپنے ملکوں میں اپنا جھنڈا لہرا دیا اور کشمیر کو بھی مہاراجہ کے حوالہ کیا،یہ تمام کام برطانیہ نے اپنی خوشی سے کیا تو صرف گلگت ایجسنی کے چھوٹے سے علاقے کو اپنے زیر نگیں رکھنے پر کیوں مصر تھا ؟

اس کو سمجھنے کیلئے تاریخی حوالہ جات کی ضرورت ہے ہم پہلےء گلگت پر ہر حال میں برطانوی راج قائم رکھنے اور گلگت ایجنسی کی اس وقت کی سامراجی دنیا میں اہمیت سمجھنے کیلئے گلگت بلتستان کی تاریخی و آئینی حیثیت کا مطالعہ کیا تو پتہ چلا کہ گلگت 1800ء سے بین الاقوامی سیاسیات کی ذد میں آیا ۔ زارروس ہو یا روسی کیمونسٹ خلیج فارس اور بحر ہند کے گرم پانیوں تک پہنچنے کیلئے ہندوستان کو ایک شاہراہ کے طور پر استعمال کر نا چاہتے تھے۔ وہ بھی چاہتے تھے کہ افغانستان ان کے زیر اثر رہے ،ایران ،افغانستان نیز گلگت کی سرحد یں جو اس سے متصل تھیں ،کسی بڑے خطرے کے باعث نہ ہوں اسی پس منظر میں برطانیہ ،امریکا اور یورپ سمیت تمام ممالک نے بھانپا اس لئے کہ سرمایہ دارو نظام کے محافظوں کو اس وقت سب سے زیادہ خطرہ کمیونزم سے تھا جس کا مرکز و منبع روس تھا ،پوری دنیا میں روس اس وقت زمینی راستہ دنیا کیلئے گلگت تھا اور ہنزہ نگر ،یاسین ،اشکومن ، پونیال اور مستوج اور چترال کی سرحدیں روس اور افغانستان سے ملتی تھیں۔

ان تما م جگہوں سے پیدل اور گھوڑوں کے راستے تھے اور انہی راستوں سے تجارت ہوتی تھی تاج برطانیہ کا خیال درست تھا کہ اگر کمیونزم باقی دنیا میں پھیلا تو اس کے لئے سب سے سہل راستہ گلگت ہے اس لئے صرف کمیونزم کے خطرات سے اپنے ملکوں کو بچانے کیلئے گلگت ایجنسی کو براہ راست اپنے ماتحت رکھا ۔ ’’روس میں سرخ انقلاب آجانے کے بعد برصغیر کو کمیو نزم کے بڑھتے ہو ئے اثر نفوذ سے بچانے کیلئے کشمیر کے شمالی علاقوں میں انگریزوں کی دلچسپی میں اور اضافہ ہو گیا تھا چناچہ برصغیر میں انگریز حکومت نے اپنے (Council Of Regency )کے ذریعے ریاستی امور پر گرفت مضبوط کر نے کی کوشش کی اس کونسل میں مہاراجہ پرتاب سنگھ کے سو بھائی راجہ رام سنگھ ،راجہ امر سنگھ ایک تجربہ کارانگریز ،رائے بہادر پنڈت باغ رام ،رائے بہادر پنڈت سوراج کول یہ پانچ افراد شامل تھے ۔

1868ء میں اس علاقے میں نقل و حرکت ،سرحدوں کی نگہداشت اور سراغ رسانی کے اداروں کی رپورٹوں کی نگرانی کرنے کیلئے معاہدہ امرتسر 1846ء کی دفعہ 9کی آڑ لے کر لارڈ لیٹن وائس رائے ہند نے ایک برطانوی میجر ہولڈ لیف کو مہاراجہ کشمیرکی اجازت اور منظوری سے گلگت میں آفیسر آن سپیشل ڈیوٹی تعینات کیا ۔ 1877ء میں پہلی بار برٹش ایجنسی کا قیام عمل میں لایا گیا حکومت برطانوی ہند نے کپتان جان ہیڈف کو افسر بکار خاص مقررکرکے گلگت میں متعین کر دیا ان کے فرائض میں صحیح معلومات و اطلاعات فراہم کرنا شمال کی طرف موجود دشمن روس پر نظر رکھنا تھا ۔

گلگت ایجنسی کی اہمیت سے برطانوی سامراج شروع سے حساس تھا یہی وجہ ہے کہ دنیا کے نقشے پر متحدہ ہندوستان برطانیہ سے آزادی حاصل کر رہا تھا اور ایک نئی اسلامی مملکت اسلامی جموریہ پاکستان وجود میں آچکا تھا ،کشمیرکی جنگ اسلام کے متوالے لڑ رہے تھے اس موقع سے روس کا فائدہ اُٹھانے کا خطرہ برطانیہ کے سرپر کھڑ اتھا یہی وجہ ہے کہ وہ چاہتا تھا کہ اس موقع پر ایجنسی براہ رراست برطانیہ کے اپنی عمل داری میں رہے اس پر پاکستان ،ہندستان یا مہاراجہ کا دخل نہ ہو ۔ 1880ء میں ایجنسی وجود میں لائی گئی جسمیں یاسین ،پونیال ،غذر ،اشکومن اور چلاس کے علاقے شامل تھے کر نل ڈیوڈ کو گلگت کا پولیٹکل ایجنٹ بنا کر بھیجا گیا۔

گلگت ایجنسی میں شامل تمام علاقوں پر آئینی او رقانونی حکومت کا حق اور اختیار مہاراجہ کشمیرکے پاس رہا ۔ڈوگرہ سپاہیوں پر مشتمل مہارجہ کشمیرکی محافظ فوج ان تمام علاقوں میں اپنے فرائض بدستور سرا نجام دیتی رہی اور جموں کشمیر سٹیٹ گورنمنٹ کیڈیٹ سے تعلق رکھنے والے ڈوگرہ اور مسلمان کشمیری افسران گلگت میں تعینات کئے جاتے رہے ۔

یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ 15اگست1947ء کو تقسیم برصغیر پاک و ہند کے ساتھ ہی ہندو مسلم فسادات پوری شدت کے ساتھ اُٹھے اور اگر اب مہاراجہ انڈیا سے الحاق کرتا تو اسے مسلمانوں کا 77فیصد کااکثریتی آبادی کی بھر پور مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ۔اس کی ریاست کا صوبہ جموں بھی فساد کی لپیٹ میں آگیا تھا اب تین صوبوں والی ریاست میں بے چینی پھیل گئی تھی ۔اس مرحلے پر کرنل حسن خان کو بھمبر میں مہاراجہ کشمیر کا وزیر اعظم رام چند کاک ملتا ہے اور بتاتا ہے کہ وہ مہاراجہ کو ریاست کو آزاد او خود مختار رکھنے پر تیار کر رہاہے اور اس مقصد کیلئے ایک تاج بھی بنوایا جا رہاہے ۔

انگریز و امریکی سامراج کیونکہ ریاست کو آزاد نہیں دیکھنا چاہتے اور اس وقت ان کے مقاصد صرف اور صرف ڈومینین آف انڈیا ،یاپاکستان کے ذریعے ہی پورے ہو سکتے تھے ۔اس وقت مہاراجہ کی فوج میں 9بٹالین فوج تھی اور اس میں ملا جلا کر ایک تہائی مسلمان عناصر و صیغوں پر مشتمل تھی ،بے چینی فوج کے اند ر بھی سرائیت کر چکی تھی اور ہندو مسلم و سکھ تفریق گہری اور وسیع ہو تی جاری تھی اس نازک مرحلے پر ریاستی فوج کے انقلابی مسلمان افسر ،صوبیدار و جمعدار و عہدیداران نے جو قائدانہ صلاحیتوں کے مالک اور جذبہ اسلامی سے سرشار تھے ،سرجوڑے اور ایک خفیہ انقلابی کونسل قائم کی،میجر مرزا حسن خان ملٹری کراس اس کونسل کے سربراہ مقرر ہوئے اور انہوں نے معاہدہ قائمہ کی غیر موافق صورت میں چلے جانے ،یعنی مہاراجہ کے انڈیا کی طرف جانے کی صور ت میں علم بغاوت کر نے اور پوری ریاست کو قبضے میں لے کر اس کا الحاق پاکستان کے ساتھ کر نے کی ٹھانی ۔

ایک مستند 30ستمبر 1947ء کی دستاویز کے مطابق نیو دہلی میں دونوں آزاد ڈمینین کے زمینی افواج و ہوائی و سمندری افواج کے مشترکہ کمانڈ ر انچیف فیلڈ مارشل آکلیک ڈومینین آف پاکستان کے دوسرے کمانڈر انچیف جنرل گریسی پہلا اور ڈومینین آف انڈیا کے دوسرے کمانڈر انچیف جنرل ہیو چر پہلا تھا اور دونوں ملکوں کی نیول اور ہوائی فوک کے سربراہان اور اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل ملٹری آبزرور میراتو کی ساتھ میٹنگ کرتے ہیں اور انہیں بتاتے ہیں کہ دونوں ڈومنیز کے مابین جنگ چھڑنے والی ہے یا با الفاظ دیگر ہم جنگ (وار گیم )شروع کرنے والے ہیں اور جب ایسا ہو تو دونوں طرف کی افواج کی انگریز افسران سٹینڈ ڈاون کا کوڈ ورڈ ملنے پر اپنے اپنے ممالک کے سربراہان کو بتا دیں کہ انگریز فوجی افسران اس جنگ سے لا تعلق ہیں اور گورنر جنرل کے احکامات تسلیم نہیں کریں گے ۔

اب انگریز کی ایما پرکرایا گیا قبائلی لشکر کا حملہ 22تا 26اکتوبر بطرف سرینگر سمجھ آجانا چاہیے ،یہ قبائلی جھتے سرکار کی طرف سے فراہم کر دہ بسوں و دیگر ٹرانسپورٹ میں آندھی کی طرح لوٹ مار ،قتل و غارت اوربربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایبٹ آباد ،مانسہرہ ،مظفرآبا د کی طرف سے سرینگر کے قریب تر پہنچ کر مہاراجہ کو اپنی دہشت سے ڈرا کر بجانب جموں بھگوا کر انڈیا کے ایک خطے کیساتھ اننٹرومنٹ آف ایکشن (الحاق ) کا بہانا ،مجبوری و بعض و سامان مہیا کرکے ،طوفان سے بھی زیادہ تیزی کیساتھ واپس لوٹ مار کرکے سامان کیساتھ بھاگ گئے ،مہاراجہ نے اس حکومت انڈیا سے الحاق کی اس قبائلی حملے کے نتیجہ میں الحاق کی درخواست کی اور ساتھ ہی ایک خط لکھا کہ جس کے مندرجات پڑھنے اور غور کرنے سے تعلق رکھتے ہیں اور بہت اہم ہیں وہ لکھتا ہے کہ اس کا پاکستان سے معاہدہ قائمہ ہو چکا تھا اور کیونکہ اس کے ریاست کی سرحدیں چین اور روس کیساتھ ملتی تھیں (گلگت کی وجہ سے )اس لئے وہ وقت لے رہاتھاکہ وہ فیصلہ کرے وہ انڈیا سے الحاق کرے یا پاکستان سے یا پھر خود آزاد و مختار رہے کہ جس صور ت میں دونوں کو فائدہ اس کی سرحدوں سے پہنچتا۔

اب یہاں پر دوسرا سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ انڈیا کے گورنر جنرل اور اس کے وزیر اعظم نہرو نے یہ الحاق حتمی طور پر منظور کیوں نہیں کیا اور اس الحاق کو عبوری الحاق قرار دیا اور جواب میں لکھا کہ الحاق کی درخواست کو عبوری منظور کرتے ہوئے توثیق کے لئے عوام کو معاملہ رائے دہی کیلئے پیش کیا جائیگا۔جھگڑا کروانا ہی کروانا تھا۔

یوں معاہدہ قائمہ ختم ہوا اور اگلے دن 27اکتوبر1947ء کو انڈین آرمی سرینگر اتری اور قبائلی میجر خورشید انور و میجر اسلم (بریگیڈیر شنگریلا)پسپاہو گئے اس کے بعد جو جنگ آزادی جموں و صوبہ کشمیر میں لڑی گئی اور گلگت بلتستان ،لداخ و کشمیرمیں لڑی گئی ۔گلگت سے شروع ہو تو اس میں جو علاقہ جات آزا د کرائے گئے وہ انڈین آرمی کو شکست دے کر آزاد ہوئے ۔

یہ بہت حیرت انگیز امر ہے اور غداری معلوم ہوتی ہے کہ بعد ازاں ان علاقوں پر انڈیا کا دعویٰ کیوں تسلیم کیا گیا ۔قانونی و تکنیکی طور پر معاہدجات کی صورت میں 26اکتوبر 1947ء کو گلگت کی ڈوگرہ حکومت انڈیاکا حصہ بن گئی تھی۔یکم نومبر 1947ء انقلاب کی کامیابی ڈوگرہ فوج کی تاریخی شکست اور علاقہ آزاد کر انے کے بعد میر آف ہنزہ و میر آف نگر کے الحاق نامے 1نومبر 1947ء کو گلگت میں عبوری ،اسلا می جمہوریہ گلگت کا قیام ،گلگت کی قیم و جدید تاریخ میں لاثانی و لافانی سیاسی اقدام تھا اور اس اقدام کی بابت خود حکومت پاکستان نے قوام متحدہ سیکورٹی کونسل کولکھا خط جس اسکے ریکارڈ میں موجود ہے کہ ڈوگرہ /انڈین حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا اور گلگت میں ایک فعال ایمر جنسی انتظامیہ قائم کی گئی ہے جس نے استور و گریزکے علاقے فتح کئے اور اپنا خزانہ و لاجسٹک کو ٹھیک کیا اور ان سپاہ کے روندو پر قبضے کے بعد بلتستان کی طرف سے اس مؤثر گلگت انتظامیہ کا دائر ہ کار بڑھ رہا ہے ۔

یہ حکومت یا انتظامیہ کچھ خصوصیات رکھتی تھی ۔اول یہ کہ یہ عبوری تھی کیونکہ مقصد پوری ریاست کو آزاد کر اکر اس کا الحاق پاکستان سے کرناتھا ۔شو مئی قسمت انڈیا سے مہاراجہ کا الحاق بھی عبوری یعنی حل طلب قرار پایا اور جب معاملہ اقوام متحدہ میں گیا تو تب بھی 20سے زیادہ قرار دادوں کی روشنی میں پوری ریاست زندہ ،منقسم ،متنازعہ اور مجموعی حل کی طلبگار قرار پائی اوریوں اس ریاست میں سرینگر اور اقوام متحدہ کے قرار پائے خالی یا آزاد کر دہ علاقہ جات 5فیصد آزاد جموں کشمیر اور موجودہ 354فیصد گلگت بلتستان میں 2عبوری مقامی خود حکومتیں ہونی چاہیے۔

مظفرآباد اور گلگت ،سری نگر کی حکومت بھی تنازع کے مکمل حل تک عبوری ہی ہے ۔گلگت کی آزادی کیلئے خطہ کی عوام نے بڑی دلیری کیساتھ جنگ لڑتے ہوئے انڈیا کی فوجوں کو شکست دے کرگلگت کو آزاد کرواکر پاکستان سے الحاق کیا لیکن گلگت کی بہادر عوام کی آزادی و قربانیوں کاسلسلہ پاکستان کیسے دے گا؟ 

اس کیلئے ملکی و بین الاقوامی تناظر میں گلگت کی عوامی خواہشات کو مدنظر رکھتے ہوئے تاریخی فیصلے وقت کی ضرورت ہے ۔موجودہ گلگت بلتستان کو آئینی حقوق دئیے جانے سے پاکستان کا موقف کمزور نہیں بلکہ زیادہ مضبوط ہو گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  31997
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
گلگت بلتستان کا ریاست جموں کشمیر سے دو سوسالہ سیاسی اور قانونی رشتے کی داستان اندوہناک بھی ہے اور عجیب غریب بھی۔ 1840 سے 1947 تک کی تاریخ میں کہیں نظر نہیں آتا کہ گلگت بلتستان اور لداخ کے لوگ مہاراجہ کی حکومت سے خوش رہا ہو
جنگ کسی بھی معاشرے کیلئے نہ صرف بربادی کا سامان فراہم کرتی ہے بلکہ جنگ زدہ علاقے معاشی طور پر بھی ترقی اور تعمیر کے عمل میں پیچھے رہ جاتا ہے۔ جنگوں کی وجہ سے تقسیم ہونے والے خاندانوں کے دل کی کیفیت اور کرب تو وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں
پاکستان کے زیر انتظام مسلہ کشمیر سے منسلک ریاست جموں کشمیر کی سب بڑی اور وسیع اکائی سرزمین گلگت بلتستان کی تاریخ پر بہت کچھ لکھا جا چُکا ہے۔ آج ہمارا بحث یہ نہیں ہے کہ یہ خطہ ماضی بعید میں کئی ریاستوں پر مشمل ایک عظم ملک ہوا کرتے تھے۔
گلگت بلتستان کے کل 9 اضلاع ہیں۔ کل آبادی تقریباً 15 سے 16لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ تقریباً 90فیصد آبادی خواندہ ہے۔ گلگت بلتستان میں شیعہ، سنی، اسماعیلی اور نور بخشی کے لوگ آباد ہیں۔ ٹوٹل آبادی کا تقریباً 60فیصد حصہ شیعہ آبادی پر مشتمل ہیں۔ 20فیصد تک

مزید خبریں
دنیا بھر میں بولی اور سمجھی جانی والی زبانوں میں سے اردو ہندی دنیا کی دوسری بڑی زبان بن چکی ہے، جبکہ اول نمبر پر آنے والی زبان چینی ہے اور انگریزی کا نمبر تیسرا ہے۔ روزنامہ ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے یونیورسٹی آف ڈیسلڈرف الرچ کی 15 برس کی مطالعاتی رپورٹ

مقبول ترین
وزیراعظم عمران خان دو روزہ دورے پر ایران پہنچ گئے۔ وزیراعظم عمران خان پہلے ایرانی صوبے خراساں کے دارالحکومت مشہد پہنچے جہاں ان کا استقبال گورنر رضا حسینی نے کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے مشہد میں حضرت امام علی رضا کے مزار پر حاضری
سری لنکا میں ایسٹر کے موقع پر تین گرجا گھروں اور 4 ہوٹلوں سمیت 8 دھماکوں کے نتیجے میں 207 افراد ہلاک اور 400 سے زائد زخمی ہوگئے۔ سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو میں ایسٹر کے موقع پر دہشت گردی کی بڑی کارروائی سامنے آئی
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ 18 اپریل کو سرحد پار سے 15 دہشت گرد داخل ہوئے، دہشت گردوں نے فرنٹیئر کور کی وردی پہن رکھی تھی ، جنہوں نے بس کو روکا اورشناخت کرکے 14 پاکستانی شہید کیے
وزیراعظم نے اپنی حکومتی ٹیم میں مزید تبدیلیوں کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہےکہ کپتان کا مقصد ٹیم کو جتانا ہوتا ہے اور بطور وزیراعظم ان کا مقصد اپنی قوم کو جتانا ہے اس لیے جو وزیر ملک کے لیے فائدہ مند نہیں ہوگا اسے تبدیل کردیا جائے گا۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں