Friday, 14 August, 2020
ایدھی کے قبرستان میں اپنی لاش کی تلاش

ایدھی کے قبرستان میں اپنی لاش کی تلاش
تحریر: توقیر چغتائی

 

پچھلے چالیس سال سے میں اپنے آپ کو تلاش کر رہا ہوں، کبھی لیاری کی تنگ و تاریک گلیوں میں جا کر اپنا پتا پوچھتا ہوں، کبھی فشری کی سڑکوں سے اٹھنے والی مچھلیوں کی بدبو سے اپنی ناک کو بچاتے ہوئے دور تک پھیلے ہوئے سمندر کی آخری حد تک اپنا عکس تلاش کرتا ہوں اور کبھی شاہراہ فیصل پر ممنوعہ اوقات میں چلنے والی بھاری گاڑیوں کے ٹائروں سے اپنے وجود کو محفوظ رکھنے کی ناکام کوشش میں الجھا رہتا ہوں۔

مجھے لیاری کی گلیوں میں بیٹھ کر بانکلیٹ، مورصوابی اور کابلی بیچتی بلُک زیتون ( بلوچی زبان میں نانی) نظر آتی ہے نا ہی شیر شاہ کے محمدی روڈ پر کھڑا حسین ملباری کہیں دکھائی دیتا ہے جو تانبے کے ٹوٹی لگے تھرموس سے شیشے کے گلاس میں ملائی والی چائے کا ادھیا (آدھا گلاس) بنا کر دیتا تھا۔

رنچھور لائن کے لکھ پتی ہوٹل کے ساتھ پان کے کیبن پر کھڑا وہ راجستھانی پنواڑی بھی تو کہیں کھوگیا ہے جو رات 12 بجے گھر جانے سے پہلے سادہ خوشبو کا پان میرے کلے میں رکھ دیتا تھا تاکہ میرے ہاتھ خراب نہ ہوں، ہو سکتا ہے کلفٹن جانے کیلئے 20 نمبر بس میں بیٹھنے کے بعد ہوا کے جھونکوں نے مجھ پر نیند طاری کردی ہو، کنڈیکٹر نے نہ جگایا ہو اور میں واپس منگھو پیر پہنچ گیا ہوں۔

ہوسکتا ہے میں مر چکا ہوں، ہوسکتا نہیں بلکہ ہوچکا ہے، میں جس شہر میں رہ رہا ہوں اس کی سڑکوں پر چلنے پھرنے والے سارے لوگ زندہ لاشیں ہی تو ہیں، فرق صرف اتنا ہے کہ کچھ لاشیں اپنی تلاش میں ہیں اور کچھ اس انتظار میں پڑی ہیں کہ کوئی انہیں پہچان کر اپنے ساتھ لے جائے۔

مرحوم عبدالستار ایدھی نے جن لاوارث لاشوں کو جمع کرنا شروع کیا تھا، ان کی تعداد 84,000 سے تجاوز کرچکی ہے، ان لاشوں میں 20 نمبر بس کے اُس ڈرائیور کی لاش بھی ہوگی جس کی بس کو ایک ہڑتال کے دران جلا دیا گیا تھا اور ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے بیٹھے وہ بھی جل گیا تھا، اس میں بلُک زیتون کی لاش بھی ہوگی جو منشیات فروشوں اور پولیس کے درمیان ہونے والے مقابلے کے دوران ایک سنسناتی گولی کا نشانہ بنی تھی، یقیناً ان لاشوں میں شیر شاہ کے محمدی روڈ پر چائے بیچنے والے محمد حسین ملباری کی لاش بھی ہوگی جسے فرقہ وارانہ فساد کے دوران چھریوں کے پے در پے وار کرکے قتل کردیا گیا تھا، ان لاشوں میں رنچھوڑ لائن کے اُس راجستھانی پنواڑی کی لاش بھی ہو گی جسے بھتہ نہ دینے کی پاداش میں ہاتھ پاﺅں باندھ کر لیاری ندی میں پھینک دیا گیا تھا۔

اب لیاری بھی ویران ہے، شیر شاہ کی ٹوٹی پھوٹی سڑکیں بھی بین کر رہی ہیں، رنچھوڑ لائن کی جگمگاتی راتیں بھی اندھیروں میں ڈوب گئی ہیں اور 20 نمبر بسیں بھی بہت کم رہ گئی ہیں، ہاں ایدھی کے قبرستان میں آنے والی لاشوں کا سلسلہ معمول کے مطابق چل رہا ہے، یقیناً اس قبرستان میں میری بھی لاش موجود ہوگی، آج میں اپنے آپ کو ڈھونڈ کے ہی رہوں گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

ایدھی کے قبرستان میں اپنی لاش کی تلاش
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  70391
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
لاک ڈاؤن نے جہاں ہماری زندگی میں معیشت کا پہیہ جام کیا وہیں بہت سارے سبق بھی دے گیا۔ لاک ڈاؤن نہ ہوتا تو ہم شاید اپنی مصروف زندگی میں اتنے مصروف ہو جاتے کہ رشتوں، ناطوں کی اہمیت اور فیملی سسٹم کی خوبصورتی اور چاشنی سے مزید دور ہوتے چلے جاتے۔ وہ جو اک زندگی ہے نا کہ جس میں بیٹا دفتر جا رہا ہے، بیٹی یونیورسٹی جا رہی ہے، سب گھر والے ادھرادھر بکھرے پڑے ہیں۔
5 اگست کو جب بھارت کی پارلیمنٹ نے کشمیر کی آئینی خود مختیاری کو یکطرفہ اور غیر قانونی طور پر منسوخ کیا تقریباً 10 ہزار کشمیری جن میں بچے،بوڑھے اور خواتین سبھی شامل ہیں، کو ریاست سے باہر مختلف جیلوں میی رکھا گیا۔
آن لائن ایجوکیشن سسٹم تقریباً پوری دنیا میں رائج ہے ۔پاکستان میں بھی دو بڑی یونیورسٹیاں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اورورچوئل یونیورسٹی اس وقت ہزاروں اسٹوڈنٹ کو آن لائن ایجوکیشن فراہم کر رہی ہیں۔
بچے کسی بھی ملک کا سرمایہ اور مستقبل ہوتے ہیں ،لیکن اس کے باوجود بچوں کی ایک بڑی تعداد سکول کے بجائے ورکشاپس، کارخانوں اور لوگوں کے گھروں میں کام کرتی نظر آتی ہے ،

مزید خبریں
کورونا وائرس پاکستان ہی نہیں ہی دنیا بھر میں اپنی پوری بدصورتی کے ساتھ متحرک ہے ، تشویشناک یہ ہےاس عالمی وباء کے نتیجے میں ہمارے ہاں اموات کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا،
کی سڑک کے کنارے ایک ہوٹل میں چائے پینے کے لیے رکا تو ایک مقامی صحافی دوست سے ملاقات ہوگئی جنہیں سب شاہ جی کہتے ہیں سلام دعا کے بعد شاہ جی سے پوچھا کہ ٹیکنالوجی کی وجہ سے پاکستان کتنا تبدیل ہوچکا ہے تو کہنے لگے کہ سوشل میڈیا کی وجہ سےعدم برداشت میں بہت اضافہ ہوا ہے۔
میرے پڑھنے والو،میں ایک عام سی،نا سمجھ ایک الہڑ سی لڑکی ہوا کرتی تھی، بات بات پہ رو دینا تو جیسے میری فطرت کا حصہ تھا، اور پھربات بے بات ہنسنا میری کمزوری، یہ لڑکی دنیا کے سامنے وہی کہتی اور وہی کرتی تھی جو یہاں کے لوگ سن اور سمجھ کر خوش ہوتے تھے
صبح سویرے اسکول جاتے وقت ہم عجیب مسابقت میں پڑے رہتے تھے پہلا مقابلہ یہ ہوتا تھا کہ کون سب سے تیز چلے گا دوسرا شوق سلام میں پہل کرنا۔ خصوصاً ساگری سے آنیوالے اساتذہ کو سلام کرنا ہم اپنے لیے ایک اعزاز تصور کرتے تھے۔

مقبول ترین
لاک ڈاؤن نے جہاں ہماری زندگی میں معیشت کا پہیہ جام کیا وہیں بہت سارے سبق بھی دے گیا۔ لاک ڈاؤن نہ ہوتا تو ہم شاید اپنی مصروف زندگی میں اتنے مصروف ہو جاتے کہ رشتوں، ناطوں کی اہمیت اور فیملی سسٹم کی خوبصورتی اور چاشنی سے مزید دور ہوتے چلے جاتے۔ وہ جو اک زندگی ہے نا کہ جس میں بیٹا دفتر جا رہا ہے، بیٹی یونیورسٹی جا رہی ہے، سب گھر والے ادھرادھر بکھرے پڑے ہیں۔
قومی اسمبلی سے انسداد دہشتگردی ترمیمی بل 2020 کو کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا، شرکت داری محدود ذمہ داری سمیت پانچ بلز منظور کرلئے گئے۔ تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی میں انسداد دہشتگردی ترمیمی بل 2020 کو کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا جس میں کمپنیز ترمیمی بل اور نشہ آور اشیا کی روک تھام کا بل بھی شامل ہے۔
وفاقی وزیر برائے مذہبی امور پیر نورالحق قادری نے کہا ہے کہ اسرائیل میں موساد کی ایک خاتون جعلی اکاؤنٹ سے فرقہ وارانہ مواد پھیلا رہی ہے۔ یہ خاتون فرقہ وارانہ موادسوشل میڈیا پربھیج دیتی ہے اورپھر آگے شیعہ اور سنی خود سے اسے پھیلاتے ہیں۔
سعودی عرب کے سابق انٹیلجنس افسر کی شکایت پر واشنگٹن کی ایک امریکی عدالت نے سعودی بن سلمان ولی عہد کو طلب کرلیا ہے۔ سابق سعودی انٹیلی جنس ایجنٹ کو مبینہ طور پر ناکام قاتلانہ حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں