Sunday, 20 October, 2019
ایدھی کے قبرستان میں اپنی لاش کی تلاش

ایدھی کے قبرستان میں اپنی لاش کی تلاش
تحریر: توقیر چغتائی

 

پچھلے چالیس سال سے میں اپنے آپ کو تلاش کر رہا ہوں، کبھی لیاری کی تنگ و تاریک گلیوں میں جا کر اپنا پتا پوچھتا ہوں، کبھی فشری کی سڑکوں سے اٹھنے والی مچھلیوں کی بدبو سے اپنی ناک کو بچاتے ہوئے دور تک پھیلے ہوئے سمندر کی آخری حد تک اپنا عکس تلاش کرتا ہوں اور کبھی شاہراہ فیصل پر ممنوعہ اوقات میں چلنے والی بھاری گاڑیوں کے ٹائروں سے اپنے وجود کو محفوظ رکھنے کی ناکام کوشش میں الجھا رہتا ہوں۔

مجھے لیاری کی گلیوں میں بیٹھ کر بانکلیٹ، مورصوابی اور کابلی بیچتی بلُک زیتون ( بلوچی زبان میں نانی) نظر آتی ہے نا ہی شیر شاہ کے محمدی روڈ پر کھڑا حسین ملباری کہیں دکھائی دیتا ہے جو تانبے کے ٹوٹی لگے تھرموس سے شیشے کے گلاس میں ملائی والی چائے کا ادھیا (آدھا گلاس) بنا کر دیتا تھا۔

رنچھور لائن کے لکھ پتی ہوٹل کے ساتھ پان کے کیبن پر کھڑا وہ راجستھانی پنواڑی بھی تو کہیں کھوگیا ہے جو رات 12 بجے گھر جانے سے پہلے سادہ خوشبو کا پان میرے کلے میں رکھ دیتا تھا تاکہ میرے ہاتھ خراب نہ ہوں، ہو سکتا ہے کلفٹن جانے کیلئے 20 نمبر بس میں بیٹھنے کے بعد ہوا کے جھونکوں نے مجھ پر نیند طاری کردی ہو، کنڈیکٹر نے نہ جگایا ہو اور میں واپس منگھو پیر پہنچ گیا ہوں۔

ہوسکتا ہے میں مر چکا ہوں، ہوسکتا نہیں بلکہ ہوچکا ہے، میں جس شہر میں رہ رہا ہوں اس کی سڑکوں پر چلنے پھرنے والے سارے لوگ زندہ لاشیں ہی تو ہیں، فرق صرف اتنا ہے کہ کچھ لاشیں اپنی تلاش میں ہیں اور کچھ اس انتظار میں پڑی ہیں کہ کوئی انہیں پہچان کر اپنے ساتھ لے جائے۔

مرحوم عبدالستار ایدھی نے جن لاوارث لاشوں کو جمع کرنا شروع کیا تھا، ان کی تعداد 84,000 سے تجاوز کرچکی ہے، ان لاشوں میں 20 نمبر بس کے اُس ڈرائیور کی لاش بھی ہوگی جس کی بس کو ایک ہڑتال کے دران جلا دیا گیا تھا اور ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے بیٹھے وہ بھی جل گیا تھا، اس میں بلُک زیتون کی لاش بھی ہوگی جو منشیات فروشوں اور پولیس کے درمیان ہونے والے مقابلے کے دوران ایک سنسناتی گولی کا نشانہ بنی تھی، یقیناً ان لاشوں میں شیر شاہ کے محمدی روڈ پر چائے بیچنے والے محمد حسین ملباری کی لاش بھی ہوگی جسے فرقہ وارانہ فساد کے دوران چھریوں کے پے در پے وار کرکے قتل کردیا گیا تھا، ان لاشوں میں رنچھوڑ لائن کے اُس راجستھانی پنواڑی کی لاش بھی ہو گی جسے بھتہ نہ دینے کی پاداش میں ہاتھ پاﺅں باندھ کر لیاری ندی میں پھینک دیا گیا تھا۔

اب لیاری بھی ویران ہے، شیر شاہ کی ٹوٹی پھوٹی سڑکیں بھی بین کر رہی ہیں، رنچھوڑ لائن کی جگمگاتی راتیں بھی اندھیروں میں ڈوب گئی ہیں اور 20 نمبر بسیں بھی بہت کم رہ گئی ہیں، ہاں ایدھی کے قبرستان میں آنے والی لاشوں کا سلسلہ معمول کے مطابق چل رہا ہے، یقیناً اس قبرستان میں میری بھی لاش موجود ہوگی، آج میں اپنے آپ کو ڈھونڈ کے ہی رہوں گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

ایدھی کے قبرستان میں اپنی لاش کی تلاش
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  13164
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
روس کے ساتھ تعلقات دوستانہ، خوشگوار اور پائیدار بنانے کے سلسلے میں عوامی اور سیاسی سطح پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔ یہی وہ بنیادی نکتہ ہے کہ عالمی سیاسی حلقوں اور تزویراتی موضوع پر قائم تھنک ٹینکس
پاکستان میں کسی بھی زبان میں سادہ خط پڑھنے اور لکھنے کی صلاحیت کے حامل افراد کو خواندہ کہتے ہیں خواندگی کے حوالے سے ریاست پاکستان کی آئینی ذمہ داریاں اور حکومتی عزم ہے کہ کم سے کم ممکنہ مدت کے اندر ناخواندگی کا خاتمہ کرے گی
کہاں علامہ اقبال اور کہاں میں، چہ نسبت خاک را بہ عالم پاک، کوئی نسبت ہی نہیں، علامہ اقبال وہ ہستی کہ جو ایک ولی کامل تھے ، جنہوں نے غلامی کی دبیز تہوں میں دبی ہوئی قوم کو بیدار کیا، جگایا، اٹھایا اور پھر اس
چند روز قبل ( ن) لیگ کی ریلی جس وقت اسلام آباد سے راولپنڈی کا سفر طے کررہی تھی اس دوران چند ٹی وی چینلوں کے رپورٹروں اور کیمرہ مینوں کوریلی میں شریک لوگوں نے تشدد کا نشانہ بنایا، عام فہم زبان میں یوں

مقبول ترین
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ یہ پہلی اسمبلی ہے جو’ڈیزل‘ کے بغیر چل رہی ہے اگر فضل الرحمان کے لوگ میرٹ پر ہوئے تو انہیں بھی قرضے دیے جائیں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے نوجوانوں کے لیے ’کامیاب جوان پروگرام‘ کا افتتاح کردیا ہے۔
وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت تحریک انصاف کی کورکمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں پنجاب اور خیبر پختونخوا کے وزرائے اعلیٰ اورتین گورنرز نے شرکت کی۔ حکومت نے مولانا فضل الرحمان سے مذاکرات کے لیے کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ نوکریاں حکومت نہیں نجی سیکٹر دیتا ہے یہ نہیں کہ ہر شخص سرکاری نوکر ی ڈھونڈے ، حکومت تو 400 محکمے ختم کررہی ہے مگرلوگوں کا اس بات پر زور ہے کہ حکومت نوکریاں دے۔
وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ ایرانی صدر سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا کہ پاکستان اور

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں