Monday, 22 April, 2019
’’انسانوں کے حقیقی مسائل، میلادِ مسیح کے تناظر میں‘‘

’’انسانوں کے حقیقی مسائل، میلادِ مسیح کے تناظر میں‘‘
تحریر: مفتی امجد عباس

 

یورپ سے آئے، ایک پاکستانی سکالر نے ہمیں ایک بار بتایا کہ وہ یورپ میں جہاں بھی گئے ہمارے لوگ یہی پوچھتے ہیں کہ یہاں گوشت کھا سکتے ہیں؟ یورپ میں بسنے والے مُسلمانوں کی نظر میں سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے۔
ہمارے ہاں رائج مذہبی سوچ کا نتیجہ یہی ہونا چاہیے تھا۔

اِسی طرح یورپ میں ایک مذہبی سنٹر کے سربراہ پاکستانی عالم نے ایک نشست میں بتایا تھا کہ یورپ میں مسلمان خواتین کا بڑا مسئلہ "حلالہ" کا ہے (بظاہر اس مسئلہ کا شکار ایک مجلس میں تین طلاقوں کے قائل حضرات ہیں)۔ اُنھوں نے بی بی سی لندن کی اِس حوالے سے سامنے آنے والی رپورٹ سے پہلے ہی بتادیا تھا کہ وہاں حلالہ سنٹر اور "شرعی" خلع دلوانے کے سنٹر بنائے جا رہے ہیں۔

ایک بار ہماری یونیورسٹی میں ایک مذہبی سکالر نے عربی اور اسلامیات کے شعبہ کے طُلاب کو لیکچر دیتے ہوئے فرمایا کہ جامعات کے علومِ اسلامی کے شعبے نئے مسائل پر تحقیق نہیں کروا رہے۔ بندہ نے عرض کیا کہ مدارسِ دینیہ سے عام طور پر چھپنے والی کتب کا پسندیدہ موضوع "آمین بالجہر کا اثبات"، "بیس رکعات تراویح کی شرعی حیثیت"، "داڑھی منڈوانے والے کی امامت کا مسئلہ"، "فضائلِ صحابہ"، "فضائلِ اہلِ بیت" جیسے مسائل ہوتے ہیں۔

اسلام میں سب سے زیادہ زور ایمان باللہ، اخلاقیات اور انسانوں کے حُسنِ روابط پر دیا گیا ہے۔ آج پوری انسانیت کو بڑے بڑے مسائل درپیش ہیں، آج ملکوں کے مُلک تباہی کے دہانے پر ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے 2015ء میں ہونے والے سترہویں اجلاس سے مسیحی پوپ فرانسس نے خطاب کرتے ہوئے معاصر مسائل کا یُوں تذکرہ کیا:

" طاقت اور دولت جمع کرنے کی بے مہار ہوس کے ہاتھوں قدرتی وسائل کی بُری طرح سے پامالی کمزور طبقات کو مسلسل کونے میں دھکیل رہی ہے ۔ ماحولیاتی بربادی انسانی بقا کے لئے اب ایٹمی ہتھیاروں سے بھی بڑا خطرہ ہے۔ ریاستیں اپنے لوگوں کو چھت، روزگار اور زمین ہی دے دیں تو بڑی بات ہوگی۔ مساوات کا خواب تب تک پورا نہیں ہوسکتا جب تک عالمی ساہوکار ادارے کرپشن سے پاک پائیدار ترقی میں مدد کرنے کے بجائے قرضوں کے موجودہ استحصالی نظام سے چمٹے رہیں گے۔ ایسا ہوئے بغیر غربت، کمزور طبقات کی لاچاری اور محتاجی کم نہ ہوگی۔"

یہ ہیں آج کے اصلی زندہ مسائل۔ آج کُتبِ فتاویٰ کو اُٹھائیے، مفتی صاحبان سے پوچھیے، وہ انسان کی انفرادی زندگی سے متعلق چند عبادتی مسائل اور بعض معاملات کو ہی بیان کرتے ہیں۔ کیا ہمارا اسلام یہی ہے؟ کیا چند عبادات اور چند معاملات (از قبیل نکاح، طلاق، زکات، میراث) کے ضوابط کا نام ہی اسلام ہے!

کیا عدل و انصاف، انسانی اخلاقیات، معاشرتی ترقی، بہتر نظامِ حکومت، انسانیت کے لیے مفید نظامِ معیشت اور ماحولیاتی تبدیلیوں نیز اِن جیسے معاملات کے متعلق دین رہنمائی نہیں کرتا؟ اگر کرتا ہے تو اِس پر لکھا کیوں نہیں جاتا؟ لکھا گیا ہے تو عمل کیوں نہیں کیا جاتا؟ عمل بھی کیا جاتا ہے تو آج دین کے نام لیوا معاشروں کی اکثریت ہی زوال کا شکار کیوں ہے؟ آج مدارسِ دینیہ کے بہت سے اساتذہ کیوں اپنے مہتمم سے مطمئن نہیں؟ آج دینی طُلاب کی ایک بڑی تعداد دینی مُعلموں سے کیوں متنفر ہے؟ آج کیوں زیادہ تر لوگ، علماء پر، جو وارثِ انبیاء کہلاتے ہیں، اعتماد کرنے کو آمادہ نہیں! خلافت کے نام پر قائم حکومتیں کیوں عدل و انصاف پر مبنی اچھا معاشرہ تشکیل نہ دے سکیں۔ ماضی قریب میں جائیے تو اورنگ زیب عالمگیر جیسے بادشاہ نے فتاویٰ کو مرتب کروا دیا لیکن برصغیر کو کوئی منظم نظامِ تعلیم، نظامِ صحت نہ دے سکا! کب تک ہمارے فقہاء کی توانائیاں معمولی معمولی مسائل میں صرف ہوتی رہیں گی اور بڑے بڑے مسائل انسانیت کو تباہ کر کے رکھ دیں گے۔

آج بھی ہماری ابحاث میں مخلوط تعلیم کی شرعی حیثیت، طہارت کے طریقے، بیویوں کو بقدرِ حاجت مارنے کے جواز، آمین بالجہر کہنے نہ کہنے، رفع یدین کرنے نہ کرنے، تصویر کے جواز و عدمِ جواز، صحابہ کے دشمنوں کے تعین، اہلِ بیت کے دشمنوں کی تشخیص، ماضی کے واقعات کی کھوج، بینک میں کھاتہ کھلونے کا جواز و عدم جواز، داڑھی کی مقدار کے تعین جیسے مسائل نمایاں ہیں۔ آپ کسی مفتی/فقیہ کے پاس جائیے، کسی دینی مدرسہ کا چکر لگائیے، اُن سے آج انسانیت کو درپیش مسائل کا پوچھیے، پھر اندازہ لگانا کہ حضرت کس دنیا کے باسی ہیں۔ وہ آج سے چودہ سو سال پہلے کے زمانے میں رہ رہے ہیں، اُن کی تمام تر اصطلاحات اور پیمانوں کا تعلق ماضی سے ہے، وہ آج بھی چودہ سو سال پہلے کے پیمانے بتائیں گے، وہ آج بھی کوڑے کو بطورِ سزا اور صاع کو بطور پیمانہ تجویز کریں گے۔ ہماری فکری زبوں حالی کا یہیں سے جائزہ لگائیے کہ امام کعبہ کہتے نظر آتے ہیں کہ صحابہ کے دشمنوں سے دوری اختیار کیجیے۔ وہ انسانیت کے دشمنوں سے دوری کا نہیں بولتے، وہ ظلم، دہشت گردی، قتل، فراڈ، دھوکے اور ایسے جرائم کو اپنانے والوں سے دوری کا نہیں کہتے۔ آج بھی ہماری محبت، دشمنی کا معیار مسلکی افکار و عقائد ہیں، اعمال نہیں۔

حضرت مسیح علیہ السلام کے زمانے میں یہودی علماء و فریسیوں (مذہبی سیاست دانوں) کی یہی کیفیت تھی، وہ دین کے نام پر چند ظواہر پر عمل پیرا تھے، تب آپؑ سے نقل کیا گیا ہے کہ فرمایا:

اَے رِیاکار فقِیہو اور فرِیسیو تُم پر افسوس! کہ پودِینہ اور سونف اور زِیرہ تو دہ یکی (عُشر کی طرح کی ادائیگی) دیتے ہو پر تُم نے شَرِیعَت کی زیادہ بھاری باتوں یعنی اِنصاف اور رحم اور اِیمان کو چھوڑ دِیا ہے۔ لازِم تھا کہ یہ بھی کرتے اور وہ بھی نہ چھوڑتے (23) اَے اَندھے راہ بتانے والو جو مچھّر کو تو چھانتے ہو اور اُنٹ کو نِگل جاتے ہو (24) اَے رِیاکار فقِیہو اور فرِیسیو تُم پر افسوس! کہ پیالے اور رِکابی کو اُوپر سے صاف کرتے ہو مگر وہ اَندر لُوٹ اور ناپرہیزگاری سے بھرے ہیں (25) اَے اَندھے فرِیسی! پہلے پیالے اور رِکابی کو اَندر سے صاف کر تاکہ اُوپر سے بھی صاف ہو جائیں(26) اَے رِیاکار فقِیہو اور فرِیسیو تُم پر افسوس! کہ تُم سفیدی پھِری ہُوئی قَبروں کی مانِند ہو جو اُوپر سے تو خُوبصُورت دِکھائی دیتی ہیں۔ مگر اَندر مُردوں کی ہڈیّوں اور ہر طرح کی نجاست سے بھری ہیں (27) (متی کی انجیل: باب 23)

اے فقیہانِ اُمت! کیا آج ہم سب آگاہ نہیں کہ ہم قربانی کی کھالیں نہ دینے والوں کو سخت وعیدیں سُناتے ہیں لیکن خود کُش بمبار کی کُھل کر مذمت نہیں کرتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی محبت کا دَم بھرا جاتا ہے لیکن سیرت طیبہ پر عمل نہیں کیا جاتا۔ کیا وجہ ہے کہ دار الافتاء میں سبھی سوالوں کے تسلی بخش جوابات دیئے جاتے ہیں لیکن کالعدم ٹی ٹی پی کے سوالات تشنہءِ جواب رہے۔

آج مسلمانی کی علامت داڑھی، ٹوپی، نماز و روزہ ہیں، امانت و دیانت کیوں نہیں ہیں۔ آج سادہ دل مُسلمانوں کو اہلِ مذہب کی بد اخلاقی کی شکایت عام ہے۔ آج پوری دنیا مذہبی دہشت گردی کا رونا رو رہی ہے۔ آج وطنِ عزیز پاکستان میں "اللہ اکبر" کی صدا کے ساتھ خودکُش بمبار پھٹتا ہے۔ آج لوگ مساجد اور دینی پروگراموں سے ڈرتے ہیں۔ سچ بتائیے آج انسانیت کو درپیش کون سے چیلنجز ہیں اور ہماری ترجیحات کیا ہیں؟

جیسا کہ آج ہمارے علماء و مفتیوں کی بڑی تعداد، آج کے زندہ مسائل جیسے غربت، بے روزگاری، کرپشن، دہشت گردی وغیرہ کو نظر انداز کیے ہے اور چند مخصوص عبادات و معاملات کو ہی توجہ کا محور قرار دیئے ہے، حضرت عیسیٰ مسیحؑ کے زمانے میں یہودی علماء کا یہی حال دیکھ کر آپؑ نے اُنھیں حقیقی انسانی مسائل اور روحِ دین کی طرف متوجہ کیا، "میلادِ مسیح" کی مناسبت سے ہمیں بحیثیتِ مسلمان، انسانوں کے حقیقی مسائل کو روحِ دین کی روشنی میں دیکھنا چاہیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  43706
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
امریکہ روز اول سے ایران کے اسلامی انقلاب کے خلاف ہے ۔ پاکستان کے ایٹمی طاقت بننے کے بعد وہ مزید خلاف ہو گیاہے۔ جب ترکی بھی اسلامی ہو گیا ہے۔ تو اس کا پیمانہ صبر لبریز ہو گیا اور وہ عالم اسلام سے خوف زدہ ہو گیا ۔ عراق میں جنگ کر کے،
دماغ کے سرطان میں مبتلا امریکہ کے سرکردہ سیاست دان سینیٹر جان مکین سے دنیا کو مکتی ملی۔ وہ امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے سربراہ اور سابق صدارتی امیدوار تھے۔ انہوں نے صدر اوباما کے مقابلے میں انتخاب لڑا، تاہم کامیاب نہ ہوسکے۔
پروردگار کا احسان عظیم ہے کہ ہمارے پیارے وطن پاکستان کو قیام میں آئے 71برس ہو رہے ہیں۔ اس مملکت خداداد کی اساس ان گنت قربانیوں پر استوار ہے جو ہمارے آباؤ اجداد نے اپنے لہو سے بنائی ہے اور ان قربانیوں کے ضمن میں مرد و خواتین دونوں نے
دنیا میں سینکڑوں مختلف مذاہب ہیں جن میں مزید سینکڑوں مختلف فرقے ہیں اور ہر فرقے کے عقائد کے ساتھ لاکھوں کروڑوں پیروکار ہیں۔ دنیا بھر میں عورت کی کوکھ سے پیدا ہونے والا بچہ ایک انسانی اساس پر جنم لیتا ہے

مزید خبریں
دنیا بھر میں بولی اور سمجھی جانی والی زبانوں میں سے اردو ہندی دنیا کی دوسری بڑی زبان بن چکی ہے، جبکہ اول نمبر پر آنے والی زبان چینی ہے اور انگریزی کا نمبر تیسرا ہے۔ روزنامہ ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے یونیورسٹی آف ڈیسلڈرف الرچ کی 15 برس کی مطالعاتی رپورٹ

مقبول ترین
وزیراعظم عمران خان دو روزہ دورے پر ایران پہنچ گئے۔ وزیراعظم عمران خان پہلے ایرانی صوبے خراساں کے دارالحکومت مشہد پہنچے جہاں ان کا استقبال گورنر رضا حسینی نے کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے مشہد میں حضرت امام علی رضا کے مزار پر حاضری
سری لنکا میں ایسٹر کے موقع پر تین گرجا گھروں اور 4 ہوٹلوں سمیت 8 دھماکوں کے نتیجے میں 207 افراد ہلاک اور 400 سے زائد زخمی ہوگئے۔ سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو میں ایسٹر کے موقع پر دہشت گردی کی بڑی کارروائی سامنے آئی
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ 18 اپریل کو سرحد پار سے 15 دہشت گرد داخل ہوئے، دہشت گردوں نے فرنٹیئر کور کی وردی پہن رکھی تھی ، جنہوں نے بس کو روکا اورشناخت کرکے 14 پاکستانی شہید کیے
وزیراعظم نے اپنی حکومتی ٹیم میں مزید تبدیلیوں کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہےکہ کپتان کا مقصد ٹیم کو جتانا ہوتا ہے اور بطور وزیراعظم ان کا مقصد اپنی قوم کو جتانا ہے اس لیے جو وزیر ملک کے لیے فائدہ مند نہیں ہوگا اسے تبدیل کردیا جائے گا۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں