Tuesday, 11 August, 2020
محبت کیا ہے؟

محبت کیا ہے؟
تحریر: رضوان علی شاہ


کسی رانجھے کی ہیر ہے محبت ۔۔۔۔ یا کسی مرزا کی صاحبہ ہے محبت ؟
کیا محبت محض وصل کا نام ہے ؟ یا  محبت نفرت کا بھی دوسرا روپ ہے ؟ 
سوال تو یہ بھی ہے کیا محبت واقعی کوئی احساس ہے ۔۔ یا محض کوہ قاف کی کہانیوں میں سے ایک کہانی ہے ۔ 
زندگی میں ہم بہت سارے مراحل سے گزرتے ہیں ۔ ان مراحل میں بچپن ، لڑکپن ، جوانی، ڈھلتی جوانی اور پھر بڑھاپا آن گھیرتا ہے ۔ پھر یاد آتی ہے رب کی محبت۔ 
دنیا میں ہونے والے بہت سارے فسادات ، جھگڑے ، ممالک کی آپس کی دشمنیاں ، یہ سب کہیں نہ کہیں محبت کے نظریہ کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔ 
ہم لوگ بھول جاتے ہیں کہ یہ کائنات بھی محبت میں ہونے والی ایک تخلیق ہے ۔ ایک مسلمان ہونے کے ناطے ہمارا یہ ایمان ہے کہ یہ کائنات حضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم کی خاطر بنائی گئی ہے۔ تو محبت تو رب کی ایک خوبصورت تخلیق ہے ۔ اور معراج کی رات محبت کی سب سے بڑی دلیل ہے ۔ 
محبت دو طرح کی ہوتی ہے ، مجازی محبت اور حقیقی محبت ۔
مجازی محبت میں انسان محبوب کے گیسوؤں ، رخسار اور آنکھوں کی تعریف کرتے نہیں تھکتا۔ میٹھے سے جذبوں سے شروع ہونے والی یہ محبت ہڈیاں چٹخ دینے والے درد پر اختتام پذیر ہوتی ہے ۔اور کسی کا درد تو اس کے جانے کے بعد بھی داستان بن جاتا ہے جیسے لیلی مجنوں کی محبت ، شیریں فرہاد کی محبت ، ہیر کی محبت۔
محبت کے مختلف روپوں میں ایک روپ ماں باپ کی محبت کا بھی ہے۔ ماں کی ممتا دنیا میں رب کی محبت کا عکس ہے ۔ باپ کی شفقت کا ایک الگ ذائقہ ہے ، الگ خوشبو ہے۔ 
رب کی محبت تو تمام محبتوں سے افضل ہے ۔ تہجد میں ٹھنڈے پانی سے وضو رب سے محبت کا عکس ہے ۔ وصی شاہ کا شعر ہے 
مجھ کو پانے کے لئے جون کے روزے رکھے
میں ہوں دیوانہ وہ دیوانوں سا اظہار کرے
میں جو دن کو بھی کہوں رات وہ اقرار کرے 
مجھ کو حسرت ہے کوئی یوں بھی مجھے پیار کرے
اب یہاں جون کے روزے محبت کی بہت بڑی دلیل کے طور شاعر نے بیان کئے ہیں ۔ یعنی مجازی محبت اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ حقیقی محبت ہی سب سے بڑی محبت ہے ۔ اس کائنات کی گردش جس کے ہاتھ میں ہے اس سے محبت ایک الگ کیفیت ہے ۔ اور پھر اگر رب سے محبت ہے تو اس کے محبوب خاتم انبییین حضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم سے محبت تو لازم و ملزوم ہے۔ اس کے بغیر ایمان مکمل ہو ہی نہیں سکتا۔
محبت تو یہ بھی ہے کہ کسی بھوکے کو کھانا کھلا دیا جائے ۔ محبت تو یہ بھی ہے کہ کسی کی غلطی رب کی خاطر بخش دی جائے۔ لیکن یہ کر کون سکتا ہے ؟ جس کا اندر ہی خالی ہو، جس کا اندر ہی جھوٹ ، فریب ، دھوکے بازی ، کھوکھلے پن ، نفرت سے زنگ آلود ہو چکا ہو تو اس کے اندر یہ عرق شیریں کیسے ٹپکے گا۔ اس کے لئے اندر صاف چاہیے۔ دل ایسے ہو جیسے بہتا پانی ، جیسے صبح کی کرن ، جیسے کسی باغ کا تازہ گل ہو ۔ خاک آلود دل پر یہ رحمت نہیں اترتی ۔ محبت بھی نعمت ہے ، یہ کسی کسی کو عطا ہوتی ہے ۔ 
کسی کے غم میں آنسو نکلنا بھی محبت ہے ۔ کسی کا غم دیکھ کر اپنی آنکھیں بھر آنا بھی محبت ہے ۔ عشق رسول صل اللہ علیہ والہ وسلم میں جان کی بازی لگا دینا بھی محبت ہے ۔ یاد رکھیے گا آج کل حضور صل اللہ والہ وسلم سے محبت کو بنیاد کر کچھ عناصر آپ کو استعمال بھی کر سکتے ہیں ۔ محبت کے ساتھ ساتھ اپنے دل و دماغ بھی کھلے رکھیے اور سچ اور جھوٹ کی تحقیق خود کیجیے ۔
الغرض محبت رب کی عطا ہے جو بے قدروں اور کم ظرفوں کے بس کی بات نہیں۔ یاد رکھیے گا محبت کرنے والے بیوقوف نہیں ہوتے، بس ان کا دل بہت بڑا ہوتا ہے ۔ چند بیوقوف سمجھتے ہیں کہ ہم نے فلاں کو بے وقوف بنا لیا۔ ارے بے وقوفوں وہ محبت والا تھا ، وگرنہ تمہاری اتنی اوقات کہاں کہ کسی کچھ بنا بھی سکو پھر چاہے وہ بے وقوف بنانا ہی کیوں نہ ہو۔ 
اللہ ہمیں محبتیں بانٹنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  62428
کوڈ
 
   
مزید خبریں
کورونا وائرس پاکستان ہی نہیں ہی دنیا بھر میں اپنی پوری بدصورتی کے ساتھ متحرک ہے ، تشویشناک یہ ہےاس عالمی وباء کے نتیجے میں ہمارے ہاں اموات کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا،
کی سڑک کے کنارے ایک ہوٹل میں چائے پینے کے لیے رکا تو ایک مقامی صحافی دوست سے ملاقات ہوگئی جنہیں سب شاہ جی کہتے ہیں سلام دعا کے بعد شاہ جی سے پوچھا کہ ٹیکنالوجی کی وجہ سے پاکستان کتنا تبدیل ہوچکا ہے تو کہنے لگے کہ سوشل میڈیا کی وجہ سےعدم برداشت میں بہت اضافہ ہوا ہے۔
میرے پڑھنے والو،میں ایک عام سی،نا سمجھ ایک الہڑ سی لڑکی ہوا کرتی تھی، بات بات پہ رو دینا تو جیسے میری فطرت کا حصہ تھا، اور پھربات بے بات ہنسنا میری کمزوری، یہ لڑکی دنیا کے سامنے وہی کہتی اور وہی کرتی تھی جو یہاں کے لوگ سن اور سمجھ کر خوش ہوتے تھے
صبح سویرے اسکول جاتے وقت ہم عجیب مسابقت میں پڑے رہتے تھے پہلا مقابلہ یہ ہوتا تھا کہ کون سب سے تیز چلے گا دوسرا شوق سلام میں پہل کرنا۔ خصوصاً ساگری سے آنیوالے اساتذہ کو سلام کرنا ہم اپنے لیے ایک اعزاز تصور کرتے تھے۔

مقبول ترین
ادارہ التنزیل اور خادمان قرآن کے زیر اہتمام قرآنی ویبینار کا انعقاد کیا گیا جس میں ملک بھر سے قرآنی اداروں کے سربراہان نے شرکت کی۔ ویبینار میں قرآنی معاشرے کی تشکیل اور اس کے خدوخال کے موضوع پہ مقررین نے خطاب کیا۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر وولکن بوزکر نے کہا ہے کہ دنیا کو کورونا سے نمٹنے کے لیے پاکستان کی کوششوں سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ کورونا وائرس سے نمٹنا دنیا بھر کےممالک کے لیے چیلنج ہے۔
شہر قائد میں مسلسل تیسرے روز بھی وقفے وقفے سے کہیں تیز اور کہیں ہلکی بارش کا سلسلہ جاری ہے جب کہ اس دوران پیش آنے والے حادثات و واقعات میں جاں بحق افراد کی تعداد ۹ ہوگئی ہے۔ کراچی سمیت سندھ اور بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں مون سون بارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔
پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے چند روز قبل نجی ٹی وی چینل پر کشمیر اور مسلم ممالک پر مشتمل اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) سے متعلق ایک بیان دیا جسے بعدازاں چینل نے سینسر کر دیا گیا۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں