Wednesday, 21 August, 2019
محرم باہمی احترام کا مہینہ

محرم باہمی احترام کا مہینہ
فائل فوٹو
ثاقب اکبر

محرم حرمت والا مہینہ ہے۔ اس کی حرمت عربوں میں ظہور اسلام سے پہلے بھی تھی۔ پیغمبراسلامؐ نے اس کے احترام کو باقی رکھا۔ 61 ہجری کے آغاز میں واقعۂ کربلا پیش آیا تو مسلمانوں میں اس مہینے کے احترام کی ایک اورنوعیت پیدا ہوگئی۔ اب اس کے ساتھ نواسۂ رسولؐ کی المناک شہادت کی یاد بھی وابستہ ہوگئی۔ آنحضرتؐ کی نسبت سے اوراپنے تاریخ ساز حریت پسندانہ اقدام کی نسبت سے امام حسینؑ کو مسلمانوں میں ایک خاص طرح کی محبوبیت حاصل ہوگئی۔یہاں تک کہ محرم کا مہینہ آپ ہی کی یاد سے منسوب ہوکر رہ گیا۔ اس مہینے میں آپ کی شجاعانہ شہادت کی یاد کو مسلمان طرح طرح سے مناتے ہیں۔ اس یاد کے منانے کے اندازمختلف علاقوں اورمختلف گروہوں میں جدا جدا ہیں۔ شاید عجیب نہ ہو کہ فرزند رسولؐ کی یاد منانے والوں میں دیگر مذاہب وادیان کے لوگ بھی شریک ہوتے ہیں۔ بہت سے غیر مسلم اکابر نے امام حسینؑ کی غم انگیز قربانی کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ آپ کی یاد منانے کے طریقوں میں علاقائی روایات ورسوم بھی داخل ہوگئی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لبنان ،شام ،سعودی عرب، عراق،خلیج ،ایران، آذربائیجان، افغانستان، پاکستان، بھارت اور دیگر ممالک میں ہمیں اس کے مختلف انداز دکھائی دیتے ہیں بلکہ ایک ملک کے مختلف حصوں میں بھی اس یاد سے وابستہ مختلف رسوم دکھائی دیتی ہیں تاہم اس کا اصل مقصد سبط پیغمبرؐاورآپ کے اقربا و انصار کی اس عظیم الشان قربانی کو خراج عقیدت پیش کرنا ہے جس نے حق وباطل میں رہتی دنیا تک حد فاصل قائم کردی اورجس نے دینی مظاہر کو بے روح ہونے سے بچا لیا۔ یہی سبب ہے کہ مسلمان عام طور پر سید الشہداؑ کو محافظ دینِ مصطفیؐ کے طور پر یاد کرتے ہیں۔
محبت ونسبت کے مختلف مظاہر میں بظاہر کوئی عیب نہیں۔ اظہار محبت کے مختلف طریقے ہوسکتے ہیں لیکن محبوب کے ایک ہونے کی وجہ سے باہم اختلاف بلکہ افتراق کی کوئی وجہ دکھائی نہیں دیتی۔ روحانی ومعنوی محبوب کی یگانگت تو اتحاد ووحدت کی راہ دکھاتی ہے انتشار اورافتراق کی نہیں۔مادی ودنیاوی محبوب رقیبوں میں عداوت کا باعث بنتا ہے۔ غالبؔ نے اس حوالے سے ایک بڑی خوبصورت بات کی ہے:
سب رقیبوں سے ہیں ناخوش پر زنانِ مصر سے
ہے زلیخا خوش کہ محوِ ماہ کنعاں ہو گئیں
امام حسینؑ تو سب مسلمانوں کو عزیز ہیں اور کیوں نہ ہوں رسول اسلام سرکار دوجہاںؐ کے محبوب نواسے ہیں جن کی جلالتِ شان کوآنحضرتؐ نے طرح طرح سے بیان فرمایا ہے۔ کبھی ان کے جوانانِ جنت کے سردار ہونے کی خبر دی اور کبھی فرمایا کہ میں حسین سے ہوں اورحسین مجھ سے ہیں۔ آنحضورؐ اپنے اس نواسے سے طرح طرح سے اظہار محبت کرتے رہے۔ آپ کواپنے دوش مبارک پر سوار کرکے بازار میں لے جاتے، دوران نمازاگر پشت پرسوار ہوجاتے تو سجدہ طویل کرلیتے۔ آنحضرتؐ کی یہ ساری ادائیں مسلمانوں نے جان ودل سے لگا رکھی ہیں اس لئے امام حسینؑ سے والہانہ پیار کرتے ہیں۔
جب حقیقت یہی ہے جو ہم نے بیان کی ہے تو محرم کو وحدتِ امت کے اظہار کا مہینہ بن کر طلوع کرناچاہیے۔ اس میں اِدھر اُدھر بھولے بھٹکوں کو بھی ایک مرکز پر واپس آجانا چاہیے لیکن یہ بات کہے بغیر چارہ نہیں کہ اِدھر محرم نزدیک آتا ہے اوراُدھرحکومت کے ذمہ داران اورامت کے خیر خواہ عامۃ المسلمین سے اتحاد کی اپیلیں شروع کردیتے ہیں۔فرقہ وارانہ ہم آہنگی اوروحدت کے تقاضے ہونے لگتے ہیں۔افتراق ہی کا نہیں دنگا فساد کے خطرات بھی منڈلانے لگتے ہیں۔ کچھ عرصے سے تو خوف ودہشت کی فضا ہلالِ محرم کے ساتھ ہی مطلع کشور پر نمودار ہوجاتی ہے۔ مختلف مکاتب فکر کے علماء کے اجلاس منعقد ہوتے ہیں۔ سب ہم آہنگی کی باتیں کرتے ہیں۔اس کے باوجود گاہے المناک حادثات جنم لیتے ہیں۔ گذشتہ برسوں میں بھی ہم نے دیکھا کہ امام حسینؑ کی یاد منانے والوں پر خود کش حملے ہوئے۔ بہت سے افراد خون میں نہا گئے۔ دھماکوں نے وحشت برپا کردی۔ جسموں کے چیتھڑے اڑ گئے۔ کئی گھر اجڑ گئے۔ خاندان برباد ہوگئے۔ یہ سفاک کون ہیں اور کیا چاہتے ہیں۔ انسان تو معاشرتی حیوان ہوتا ہے۔ جنگل میں اکیلا توزندگی نہیں گزارتا۔ کسی کنبے اور قبیلے میں پروان چڑھتا ہے۔ اپنے آپ کو بم سے اڑا کردوسروں کی جان لینے والا بھی کسی خاندان کافرد ہوتا ہے۔ کسی کا دوست ہوتا ہے۔ ایسے بہت سے افراد ہوں گے جن سے تبادلۂ خیال کرتا ہوگا۔ ایسا تو نہیں ہوسکتا کہ اکیلا سوچتا ہے اورپھراچانک کہیں سے اسے بارود سے بھری جیکٹ مل جاتی ہے اورپھر وہ ’’دشمن‘‘ کا تعین کرتا ہے اورخود ہی پورا منصوبہ بنا کر خود بھی چیتھڑوں میں تبدیل ہوجاتا ہے اوربہت سے دیگر ہم نوع انسانوں کو خاک وخون میں غلطاں کردیتا ہے۔ وحشت آفریں بات تو یہی ہے کہ کیا اتنے ڈھیر سارے لوگ اس طرح سے دوسرے انسانوں کوکسی بھی اختلاف کی بنیاد پر قتل کرنے پر راضی ہوجاتے ہیں۔
ہمارا فہم دین ہمیں نہیں بتاتا کہ قرآن کریم اورصاحب قرآن پیغمبر عظیمؐ کی تعلیمات ایسے قتل وغارت کی اجازت دیتی ہیں۔ عدم برداشت کا یہ رویہ لا اکراہ فی الدین کی تعلیم سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ خدا کی رضا کا یہ راستہ نہیں ہے۔ چھپ کر اوراچانک نہتے انسانوں پرایسے قاتلانہ حملوں کی اجازت رحمۃ للعالمین کا مکتب ہرگز نہیں دے سکتا۔ حرمت کے مہینے میں تو احترامِ آدمیت کا جذبہ اور بھی بڑھ جانا چاہیے۔
اس موقع پر امام حسینؑ کی یاد منانے والے مختلف گروہوں کو بھی اپنی ذمہ داریاں یاد رکھنی چاہیے۔ رسوم ورواج کو اصل دین سمجھ لینا بھی کوتاہئ فکر کے سوا کچھ نہیں ۔ روایت وعادت کو اپنی حد میں رکھنے کی ضرورت ہے۔اگراپنا دین دوسروں پر ٹھونسنا درست نہیں تو اپنی رسوم کو دوسروں کے لئے لازمی سمجھنا کیسے درست گرداناجاسکتا ہے۔ ہر مسلمان اپنے انداز سے سید الشہداؑ کی یاد مناتا ہے اوروہ اس کا حق رکھتا ہے۔ امت کا اتحاد ہمارے طور طریقوں سے زیادہ اہم ہے۔ ’’لا تفرقوا‘‘ کا حکم، الٰہی حکم ہے کسی عالم دین کا فتویٰ نہیں کہ جس سے دوسرے عالم دین کواجتہادی رائے کی بنا پر اختلاف کا حق ہو۔ یہ یاد مناتے ہوئے ہمیں نبی کریمؐ کا یہ فرمان بھی یاد رکھنا چاہیے کہ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اورہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ امام حسینؑ نے جس دین کی بقا کے لئے قربانی دین ہے اُسی دین کی یہ تعلیمات ہیں۔ ہمیں امام حسینؑ کی یادکے نام پر دین کی ایسی تعلیمات کو پامال کرنے کا کوئی حق نہیں۔ ہمیں فرزند رسولؐ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے دوسروں کی زندگی میں خلل نہیں ڈالنا چاہیے۔ خطبا اورذاکروں کی ذمہ داری بہت زیادہ ہے۔ اُن کی زبان سے دوسرے مسلمانوں کو ہرگز اذیت نہیں پہنچنی چاہیے۔ یزید کے ظلم اورامام حسینؑ کی مظلومیت کو آشکارکرنا تو ضروری ہے کہ اس سے دین کی حقیقت آشکار ہوتی ہے۔ لیکن اختلافات کو اچھالنا اور کثیر مشترکات کو چھوڑ کر امتیازات پر ایسا اصرار کرنا جس سے مسلمانوں میں دوریاں اورنفرتیں پیدا ہوں، اللہ کے غضب کو آواز دینے کے مترادف ہے۔
قرآن حکیم نے مسلمانوں کو تبلیغ ودعوت کے جو طریقے بتائے ہیں ہمیں ہمیشہ انھیں ملحوظ رکھنا چاہیے ۔ یہ تو غیر مسلموں کو دعوتِ اسلام دینے کے لئے بھی ضروری ہیں چہ جائیکہ مسلمانوں کے اندر اختلافی مسائل کے بارے میں اپنے نقطۂ نظرکی طرف دعوت دینا۔اس سلسلے میں تو بیشتر محبت ورواداری کی فضا کی ضرورت ہے۔ اختلافات برداشت کرکے اورایک دوسرے کا احترام کرکے زندگی گزارنے کا ہنر سیکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ ہنر سیکھے بغیر امت اسلامیہ زوال وانزوا کی کیفیت سے نہیں نکل سکتی۔ کیا ہی خوب ہے کہ اس کار خیر کا آغاز اس حرمت والے مہینے میں کردیا جائے جسے ’’محّرم‘‘ کہتے ہیں، جو قمری کیلنڈر کا پہلا مہینہ ہے اورجس میں اس دین کی بقا کے لئے فرزند رسول نے قربانی پیش کی۔ آئیے سبط رسولؐ سے ایثاروقربانی کا سبق لیں اوردین کی بقا وارتقا میں اپنا حصہ ڈالیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوٹ: مضمون نگار ’’مبصر ڈاٹ کام‘‘ کے چیف ایڈیٹر ہیں۔ مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھinfo@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  41762
کوڈ
 
   
مقبول ترین
پاک فوج نے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ اور سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزیوں کا منہ توڑ جواب دیا جس کے نتیجے میں ایک افسر سمیت 6 بھارتی فوجی ہلاک اور 2 بنکرز تباہ ہوگئے۔
پاکستان نے مسئلہ کشمیر کو عالمی عدالت انصاف میں لے جانے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔ میڈیا کے مطابق آئندہ ماہ جنیوا میں انسانی حقوق کمیشن اجلاس بلانے کیلئے وزارت خارجہ نے تیاری شروع کر دی ہے اور اس سلسلے میں سابق سیکرٹری
وزیراعظم عمران خان نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں 3 سال کی توسیع کردی۔ وزیراعظم آفس کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے عہدے کی موجودہ مدت مکمل ہونے کے بعد انہیں مزید 3 سال کیلئے آرمی چیف مقرر
بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 ختم کیے جانے کے بعد سے وزیراعظم عمران خان نے شدید تشویش کا اظہار کیا تھا اور وہ کشمیر کے معاملے پر بین الاقوامی برادری سے مسلسل رابطے میں ہیں۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں