Monday, 22 April, 2019
کوئی سیکیورٹی ایجنسی بچانے کے لیے نہیں آئی، شہباز تاثیر

کوئی سیکیورٹی ایجنسی بچانے کے لیے نہیں آئی، شہباز تاثیر
مانیٹرنگ ڈیسک

 

سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے صاحبزادے شہباز تاثیر کا کہنا ہے کہ اغوا کے تجربے نے انہیں بہت زیادہ مضبوط کردیا،وہ خوش قسمت ہیں کہ انہیں اپنی کہانی خود بیان کرنے کا موقع مل رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کوئی سیکیورٹی یا انٹیلی جنس ایجنسی انہیں بازیاب کرانے کے لیے نہیں آئی اور یہ اللہ کی مہربانی تھی کہ وہ وہاں سے بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوئے۔

ڈان نیوز کے پروگرام 'نیوز وائز' سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے شہباز تاثیر نے بتایا کہ 'اپنی کہانی لکھنا بہت مشکل کام ہے، ایک سال لگ سکتا ہے'۔

انہوں نے کہا کہ 'اپنی کہانی لکھنا ایک چیلنج ہے، یہ میری خوش قسمتی ہے کہ میرے داد شاعر تھے اور میرے والد مصنف تھے'۔

واضح رہے کہ اپنے والد سلمان تاثیر کے قتل کے بعد شہباز تاثیر کو 25 اگست 2011 کو لاہور سے اسلامک موومنٹ آف ازبکستان نے اس وقت اغواء کرلیا تھا جب وہ دفتر جارہے تھے۔

پانچ سال تک قید میں رہنے کے بعد شہباز تاثیر کو رواں برس مارچ میں بازیاب کرالیا گیا تھا۔

سیاستدانوں نے تاثیر خاندان کو تنہا چھوڑ دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔
دوران قید پاکستان پیپلز پارٹی کے کردار کے حوالے سے شہباز تاثیر نے بتایا کہ 'ریکارڈ کی درستگی کے لیے میں یہ بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میرے والد کے قتل کے بعد بلاول واحد شخص تھے جنہوں نے مجھ سے رابطہ کیا'۔

انہوں نے بتایا کہ بلاول کے علاوہ باقی ہر سیاستدان نے یہ کہہ کر تاثیر خاندان سے روابط رکھنے سے انکار کردیا تھا کہ یہ بہت ہی متنازع معاملہ ہے۔

بازیابی کے پیچھے کوئی ڈیل نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنی رہائی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے شہباز تاثیر نے کہا کہ 'میں اپنی آزادی کے لیے صرف اور صرف اللہ کا شکر گزار ہوں، کسی اور نے میری رہائی میں کوئی کردار ادا نہیں کیا نہ ہی سیکیورٹی ایجنسیوں نے اور نہ ہی حکومت نے'۔

انہوں نے بتایا کہ 'سیکیورٹی ایجنسیوں نے بس اتنا کیا کہ مجھے کچلاک کے اس ہوٹل سے لے کر آئے جہاں میں اغواء کاروں کے قبضے سے بھاگ کر خود پہنچ گیا تھا'۔

رہائی کے حوالے سے ڈیل سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں شہباز تاثیر واضح طور پر اس کی تردید کی اور کہا کہ 'واحد ڈیل یہ ہوئی تھی کہ میں وہاں سے بھاگ نکلنے میں کامیاب رہا'۔

قید میں گزارے گئے ایام کے حوالے سے شہباز تاثیر نے کہا کہ 'ہردن میرے لیے ایک چیلنج تھا، جب میں ان دنوں کو یاد کرتا ہوں تو مجھے کوئی دردناک بات نظر نہیں آتی، میں اسے ایک تجربے کے طور پر دیکھتا ہوں جس نے مجھے مضبوط کیا'۔

شہباز تاثیر نے کہا کہ 'میں خود کو بہت خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ آج یہاں بیٹھ کر آپ سے بات کررہا ہوں، اپنے تجربات شیئر کررہا ہوں'

انہوں نے کہا کہ 'میری کہانی بقائے وجود کی کہانی ہے، یہ کہانی امید کی ہے، ناامید ہونا میرے لیے کوئی آپشن نہیں تھا'۔

شہباز تاثیر نے کہا کہ 'آزادی ایک بہت بڑی نعمت ہے جس کی اہمیت کا اندازہ ہمیں عام طور پر نہیں ہوتا، مجھے خوشی ہے کہ مجھے دوبارہ آزادی ملی'۔

انہوں نے کہا کہ 'جب میں ساڑھے چار برس تک قید میں تھا تو وہاں میں نے کسی سے بات بھی نہیں کی، میں اپنی کہانی کبھی کسی کو نہیں بتاسکتا تھا'۔

ڈرون حملے میں زخمی ہوا
شہباز تاثیر نے بتایا کہ جس علاقے میں وہ قید تھے وہاں موجود القاعدہ کے ایک سینئر رہنما پر ڈرون حملہ ہوا، ان کا کمرہ اس گھر کے برابر میں تھا اور اس حملے وہ خود بھی زخمی ہوئے۔

انہوں نے بتایا کہ 'وزیرستان کے علاقے میر علی میں جہاں مجھے رکھا گیا تھا، اغواء کاروں کے لیے مجھے چھپانا بہت مشکل ہورہا تھا کیوں کہ لوگوں میں یہ بات مشہور تھی کہ گورنر سلمان تاثیر کا بیٹا ازبکوں کے پاس ہے'۔

شہباز تاثیر نے بتایا کہ 'جس آدمی نے مجھے اغواء کیا تھا اس نے مجھے اپنے گھر میں چھپایا ہوا تھا'۔

چھوٹے بچے نے ہنسایا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شہباز تاثیر نے قید کے دوران پیش آنے والا ایک واقعہ بھی سنایا، انہوں نے بتایا کہ 'جس شخص نے مجھے اپنے گھر میں قید رکھا ہوا تھا اس کا ایک سے ڈیڑھ سال کا بچہ بھی تھا'۔

'وہ بچہ اچانک کھیلتا ہوا اس کمرے میں آگیا جہاں مجھے قید رکھا گیا تھا اور اس نے کچھ ایسی حرکتیں کیں کہ میری ہنسی نکل گئی'۔

شہباز تاثیر نے بتایا کہ 'بعد ازاں جب مجھے دوبارہ باندھ کر کمرہ بند کردیا گیا تو میں نے سوچا کہ میں کتنے دنوں بعد ہنسا ہوں، میں تو اصل میں بھول ہی گیا تھا کہ میں ہنس بھی سکتا ہوں'۔

انہوں نے بتایا کہ 'میں ہنسا ضرور تھا لیکن وہ خوشی نہیں تھی بلکہ ایک احساس تھا جو کسی بھی چھوٹے بچے کو دیکھ پر پیدا ہوتا ہے'۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح کے واقعات اور احساسات کو وہ اپنی کتاب میں قلم بند کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

شہباز تاثیر نے کہا کہ 'میری کہانی امید کی کہانی ہے لیکن یہ امید پہلے روز سے نہیں تھی، میں نے یہ امید پیدا کی اور اسی امید کی وجہ سے میں وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہوا'۔

انہوں نے بتایا کہ 'جب تک انسان کو اللہ پر یقین ہو وہ ناامید ہو ہی نہیں سکتا اور مسلمان کا نا امید ہونا ممکن نہیں، قید کے دوران میرے والد، اہل خانہ اور دوستوں کی یادوں نے مجھے مضبوط کیا'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'مایوس ہونا بے وقوفی تھی، مجھے اپنی زندگی اور آزادی کے لیے لڑنا تھا'۔

پشتو مشکل زبان ہے ۔۔۔۔۔
شہباز تاثیر نے بتایا کہ 'دوران قید میں نے پشتو زبان بھی سیکھی اور یہ ایک مشکل زبان ہے جس کے بنیادی جملے سیکھنے میں ہی تین سال لگ گئے، مجھے اغواء کاروں سے پشتو میں ہی بات کرنی پڑتی تھی کیوں کہ وہ ازبک اور پشتو کے علاوہ کوئی زبان نہیں بولتے تھے'۔

انہوں نے بتایا کہ 'ابتداء میں اغواء کار بہت پریشان تھے کہ میں ان کی زبان نہیں سمجھ سکتا، میں ان سے بات کرنے کی بہت کوشش کرتا تھا لیکن وہ مجھ پر تشدد شروع کردیتے تھے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ایسے لوگوں کے ساتھ انسانی تعلق قائم کرنا بہت ہی مشکل تھا جو آئے دن مجھ پر تشدد کرتے تھے'۔ بہ شکریہ ڈان نیوز

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  79231
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ پاکستانی معاشرے میں ہر سو کالے دھن اور اندھیر نگری کا راج ہے اور اس مروجہ نظام کے باعث معاشرہ نہ صرف ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکا ہے بلکہافراتفری اور انتشار کی جیتی جاگتی تصویر بھی بن گیا ہے ایسے حالات میں وطن عزیز
محترمہ بے نظیر بھٹوپاکستان کی پہلی خاتون وزیر اعظم تھیں۔بے نظیر بھٹو 21 جون 1953ء میں سندھ کے مشہور سیاسی خاندان بھٹو میں پیدا ہوئیں ۔بے نظیر کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے تھااور وہ ذوالفقار علی بھٹو کی بڑی صاحبزادی تھیں۔بے نظیر بھٹو
کل پارلیمنٹ میں پاکستان کی پارلیمانی تاریخ کا نہایت شرم ناک واقعہ پیش آیا جب حکومتی بنچوں سے ایک غیرمسلم ممبر پارلیمنٹ نے شراب پر پائبندی کا بل پیش کیا جسے پوری پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر مسترد کردیا.صرف ایم ایم اے ممبرز نے رامیش
انسان فطری پر مدنیت پسند ہے اور اسی فطری تقاضے کے باعث انسان نے جنگلوں سے نکل کر آبادیوں میں بسیرا کیا اور اپنے طرز حیات کو ایک ایسے ڈگر پر ڈالا جو بعدازاں دن بدن ترقی کے زینے طے کرتے ہوئے ستاروں پر کمندیں ڈالنے لگا جوں جوں انسان

مزید خبریں
دنیا بھر میں بولی اور سمجھی جانی والی زبانوں میں سے اردو ہندی دنیا کی دوسری بڑی زبان بن چکی ہے، جبکہ اول نمبر پر آنے والی زبان چینی ہے اور انگریزی کا نمبر تیسرا ہے۔ روزنامہ ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے یونیورسٹی آف ڈیسلڈرف الرچ کی 15 برس کی مطالعاتی رپورٹ

مقبول ترین
وزیراعظم عمران خان دو روزہ دورے پر ایران پہنچ گئے۔ وزیراعظم عمران خان پہلے ایرانی صوبے خراساں کے دارالحکومت مشہد پہنچے جہاں ان کا استقبال گورنر رضا حسینی نے کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے مشہد میں حضرت امام علی رضا کے مزار پر حاضری
سری لنکا میں ایسٹر کے موقع پر تین گرجا گھروں اور 4 ہوٹلوں سمیت 8 دھماکوں کے نتیجے میں 207 افراد ہلاک اور 400 سے زائد زخمی ہوگئے۔ سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو میں ایسٹر کے موقع پر دہشت گردی کی بڑی کارروائی سامنے آئی
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ 18 اپریل کو سرحد پار سے 15 دہشت گرد داخل ہوئے، دہشت گردوں نے فرنٹیئر کور کی وردی پہن رکھی تھی ، جنہوں نے بس کو روکا اورشناخت کرکے 14 پاکستانی شہید کیے
وزیراعظم نے اپنی حکومتی ٹیم میں مزید تبدیلیوں کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہےکہ کپتان کا مقصد ٹیم کو جتانا ہوتا ہے اور بطور وزیراعظم ان کا مقصد اپنی قوم کو جتانا ہے اس لیے جو وزیر ملک کے لیے فائدہ مند نہیں ہوگا اسے تبدیل کردیا جائے گا۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں