Saturday, 04 July, 2020
کورونا وائرس اور ٹڈی دل کی یلغار: امتحان یاعذاب

کورونا وائرس اور ٹڈی دل کی یلغار: امتحان یاعذاب
تحریر:حرا احمد

ملک اس وقت ناگہانی  آفات، بحرانوں،وباؤں اور آسمانی  آفات کی زد میں ہے  اورحالت جنگ کی سی کیفیت سے دوچار ہے۔ایک طرف مہلک کورونا وائرس تودوسری جانب ٹڈی دل کی ہولناک یلغارجاری و ساری ہے یوں  کہیں کہ اللہ تعالٰی کی نا شکری کی بناء پرہم پرایک کے بعدایک عذاب مسلط ہو رہا ہے۔اللہ تعالٰی کی  ناراضگی  دور کرنے اورآسمان  کی نامہربانیوں اور آسمانی آفتوں سے محفوظ رہنے کا صرف  یہ ہی حل ہے کہ پوری قوم اللہ  تبارک تعالٰی سے اپنے گناہوں کی معافی مانگےاورتوبہ کرے۔اجتماعی استغفار سےشایدبربادی کی جگہ ابرکرم دکھائی دے وہ ذات جو رحیم وکریم ہےرحم  کرے اور ہمیں اس آفت سے نجات ملے آمین۔۔

ایک طرف کورونا وائرس قہر برسا رہا ہے ہرگزرتے وقت کے ساتھ شدت اختیار کرتا جارہا ہے، بد قسمتی سے پاکستان میں کورونا کیسز کی تعداد چین سے  تجاویز کر گئی ہےجو کہ لاک ڈاؤن میں نرمی  کا خمیازہ ہے جس میں نہ صرف قصور وار عوام  ہے  بلکہ حکومت کی نااہلی بھی واضح ہے عین اس موقع پر جب وائرس اپنے عروج پر تھاعوام کے لئے بازار کھول دیئے گئے اوروائرس کے پھیلاوؑکا کھلا موقع دیا گیا پھر اس کے بعد مریضوں کی جو تعدادہزاروں میں تھی وہ لاکھوں تک جا پہنچی، صرف چند دنوں میں صورت حال اتنی پریشان کن ہو گئی ہے کہ حکومت نےدوبارہ سےلاک ڈاؤن  اورایس اوپیزکی خلاف ورزی پر سخت  کریک ڈاؤن کاآغاز کر دیا ہے. اس وبا ء سےاب تک بچاؤ کا جوواحد طریقہ سامنےآیا ہے وہ سماجی دوری ہے۔  

بہرحال قوم بھی کرونا کی وباسے مقابلے کے  لیئے میدان  میں اتر چکی ہے وزیراعظم عمران خان کا موقف شروع ہی سے یہ ہے کہ مکمل لاک ڈاؤن ناقابلِ برداشت مشکلات کا سبب بنے گا۔جوکہ چند  ہفتوں میں ہی حقائق کو سامنے لے آیا کہ دیہاڑی دارطبقہ دو وقت کی دوٹی کمانے سے بھی محروم ہو گیا اور فاقوں پر نوبت  آنے لگی۔اس تمام صورت حال اورمعاشی حالات کے باوجودحکومت نےہاتھ کھڑے کر دیئے ہیں۔ اس بارے میں وزیراعظم نے اپنے ایک پیغام میں کہا کہ کہ محدود وسائل والے ممالک لامحدود لاک ڈاؤن نہیں کر سکتے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ ملک لاک ڈاؤن برداشت نہیں کرسکتا، ہم لاک ڈآؤن کی طرف واپس نہیں جاسکتے،  دنیا ،میں لاک ڈاؤن کھل گیاامیر ترین ملک بھی اس  کو جاری  نہیں  رکھ  سکے اور دنیا اس معاملے میں ہمارے موقف کی معترف ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ کورونا کو پھیلنے سے نہیں روک سکتے ہیں، لاک ڈاؤن سے کورونا ختم نہیں ہوتا، صرف پھیلنے کی رفتار کم ہو گی۔

 تاہم علامتی طورپر ہفتے میں دو دن  کے لیے اسمارٹ لاک ڈاؤن برقرار رکھا گیاہے۔شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ عوام کو یاد کروایا جاتا رہے کہ کورونا کی وبا ابھی موجودہے۔ پاکستان میں ماہ جون کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے حوالے سےاب تک انتہائی خطرناک مہینہ ثابت ہو رہا ہے۔امید کی جا رہی ہے کہ کورونا وائرس کا عروج جولائی کے آخر یا اگست میں ہوگا۔

ان تمام باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئےاپنی اوراپنے پیاروں کی زندگی کا  انحصار ہم پرہےکہ احتیاطی تدابیر اختیارکر کے کورونا وائرس کی وبا کو تیزی سے پھیلنے سے روکا جائے۔  

دوسری طرف معاشی صورت حال گھمبیرہےاس سب کے دوران ٹڈی دل کاحملہ بدستورجاری ہے۔ 
جوہر طرح کی فصلوں کو تباہ کر کے پاکستانی کسان اور معیشت کی کمر توڑ رہا ہے۔

ٹڈی دل  کےجھنڈ آندھی کی طرح کئی کلومیٹر پر پھیلے کھیتوں کو پلک جھپکتے ہی اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے اور اس کے بعد کسان کچھ نہیں کر سکتا۔ ٹڈی دل اس کی آنکھوں کے سامنے اس کی فصل کا صفایا کردیتا ہے۔

ٹڈی دل لاکھوں روپے مالیت کی فصل منٹوں میں چٹ کرجاتے ہیں اور کسان دیکھتے رہ جاتے ہیں، لہٰذا اگریہی صورت حال رہی تو ملک میں معاشی بدحالی کے ساتھ خوارک کی قلت بھی پیدا ہو سکتی ہے۔یہ ٹڈی دل افریقاسے یمن، سعودی عرب اور پھر عمان کے رستے ایران میں داخل ہوا۔
رواں برس افغانستان سے بھی ٹڈی پاکستان آیا جو پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔

اس مرتبہ ایران سے یہ افغانستان گیا اور وہاں سے پاکستان میں داخل ہوا اور صوبہ پنجاب کے علاقوں کی طرف چلا گیا۔

پاکستان کو ٹڈی دل سے متاثر ہونے والے چند بڑے ممالک میں شامل کیا جا رہا ہے۔ بنیادی طور پر پاکستان میں ٹڈی دل عرب کے صحراؤں سے آیا ہے۔ ٹڈی دل کا یہ پاکستان میں 28 برس کے بعد ایک بڑا حملہ ہے۔پاکستان میں ٹڈی دل اس وقت تقریباً آدھے ملک میں پھیل چکا ہے۔

ٹڈی دل ایک ہجرت کرنے والا کیڑا ہے نیز یہ کیڑے غول کی صورت میں اڑتے ہیں، زمین کے اندر انڈے دیتے ہیں اور بعد میں اس زمین پر ٹڈیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ٹڈی دل کو انڈے دینے کیلئے بنجر اور سخت زمین پسند ہے اور ٹڈیاں ریتلے علاقوں میں انڈے دیتی ہیں اور پھرجب انڈوں سے کیڑے نکل آتے ہیں تو غول کی شکل میں سفر شروع کردیتے ہیں اور کئی سو کلومیٹر کا سفر ایک دن میں مکمل کرلیتے ہیں۔ٹڈی دل اپنی خوارک کیلئے تازہ فصل کو کھانا پسند کرتے ہیں۔ بدقسمتی سےٹڈی دل کا دوسرا غول افزائش کے مرحلے میں ہے اور بارش کے بعد یہ تعداد میں بڑھ جائیں گے اوراگلا حملہ مزید خطرناک ہو سکتا ہے۔ 

ٹڈی دل کا ایک غول  کئی لاکھ ٹڈیوں پر مشتمل ہوسکتا ہے اور ان کا ایک غول35 ہزار انسانوں کی خوراک ایک دن میں کھا سکتا ہے۔یہ دہشت گرد ٹڈیاں ایک دن میں120 کلومیڑ سفر کرسکتی ہیں اور ہزاروں ایکٹر پر موجود فصلوں کو نقصان پہنچاسکتی ہیں۔ایک ٹڈی ایک وقت میں دو سو سے 1200انڈے دیتی ہےاورایک سال میں اس کی تین نسلیں پروان چڑھ سکتی ہیں۔

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے برائے خوراک کے مطابق اگر ان کو قابو نہیں کیا گیا تو ان کی تعداد میں20 سے 25 گنا مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔واضح رہے کہ یہ ٹڈیاں جہاں فصلوں پر حملہ کرتی ہیں، وہیں انڈے دے جاتی ہیں اس لئے جب اگلی فصل تیار ہوگی، اس سے پہلے ٹڈی دل کی بھی افزائش ہوجائے گی۔ ٹڈیوں کی افزائش کا موسم جنوری سے جون ہے۔افزائشِ نسل کے لیے ٹڈی دل اس وقت صحراؤں کا رخ کیےہوئے ہے اور بلوچستان کے علاوہ چولستان اور دیگر ریتیلے علاقوں میں اپنی تعداد کو تیزی سے بڑھا رہا ہے۔ 

اس کے بعد میدانی علاقوں میں ان کی افزائش برسات کے موسم میں ہو گی،اگر اس کاخاتمہ ابھی نہیں کیا گیا تو مون سون کے بعد ان کی تعداد دُگنی ہوجائے گی۔

پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے اور اس کی معیشت کا دارومدار زراعت پر ہی ہے، لیکن یہ زمینی حقیقت ہے کہ پاکستانی کسان اور زراعت کسی بھی حکومت کی ترجیح میں شامل نہیں رہے۔ ٹڈل دل نے پہلے ٹماٹر کی فصل پر حملہ کیا اور یوں ٹماٹر کی فصلیں تباہ ہونے کے باعث شدید قلت پیدا ہونے سے قیمت چار سو فی کلو تک جا پہنچی۔چند ماہ قبل ٹڈیاں سندھ کے علاقوں گھوٹکی اور کشمور میں داخل ہوئی تھیں۔تازہ ترین صورت حال کے مطابق تمام صوبوں کی انتظامیہ کی جانب سے ناکافی اقدامات کے سبب کسان شدید گرمی کے باوجود ہاتھوں میں تھال اور پلاسٹک کی بوتلیں لیے اپنی مدد آپ کے تحت ٹڈیاں بھگانے کی کوششوں میں مصروف ہیں، یہ صورتحال انتہائی پریشان کن ہے۔
ٹڈی دل کے حملوں نے پاکستان کی زراعت کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔

محکمہ زراعت اس خطرے سے بہت پہلے سے واقف تھا، تاہم وسائل کی کمی کے باعث وہ اس خطرے کا مقابلہ نہیں کرسکا۔12 جنوری کو پلانٹ پروٹیکشن یونٹ کا سپرے والا جہاز ٹڈی دل کے خاتمے کیلئے رحیم یار خان پر سپرے کرتے وقت حادثے کا شکار ہو گیا تھا، لہٰذا اس حادثے کے بعد ٹڈی دل کے خلاف کام مزید سست روی کا شکار ہوگیا۔بلوچستان میں ٹڈی دل نے گندم کی فصلوں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا۔ ۔بلوچستان کے بعد ٹڈی دل نے سندھ اور پنجاب کا رخ کیا۔ یہاں پر بھی گندم، سرسوں، مکئی اور کپاس کی فصلوں کو تباہ کیا۔ ذہن نشین رہے کہ مارچ سے ٹڈی دل سے نمٹنے کی ذمہ داری این ڈی ایم اے کوسونپ دی گی ہے، وہ محکمہ زراعت، پلانٹ پروٹیکشن فوڈ سکیورٹی کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں۔ٹڈی دل پاکستان کی ربیع اور خریف کی فصلوں کو نقصان پہنچائے گا۔پاکستانی کسانوں کے مطابق ٹڈی دل آندھی کی طرح آتے ہیں اور یہ اتنے زیادہ ہوتے ہیں کہ سورج کی روشنی کم پڑجاتی ہے اور یہ غذائی دہشت گرد منٹوں میں فصلوں کو چٹ کرجاتے ہیں۔ ٹڈی دل کے خاتمے کے لیے جنگی بنیادوں پر کام ہونا چاہیے تھا۔

فصلیں کھانے والا ٹڈی دل اس وقت ملک کے 52اضلاع میں موجود ہے جہاں ٹڈی دل کے وار جاری ہیں۔ان اضلاع میں ٹڈی دل نے حملہ کر کے فصلوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ 

جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے، پاکستان میں ٹڈی  دل کا حملہ نئی بات نہیں لیکن اس بار ٹڈی دل کے لشکروں کی تعداد اور فصلوں ہر حملوں میں اضافےنےماہرین حشرات کو پریشان کر دیا ہے۔   

ٹڈی دل نے سندھ اور شمالی پنجاب میں کپاس کی فصل کا صفایا کر دیا ہے۔ گزشتہ چند برس سے کپاس کی پیداوار کم ہوتی جا رہی ہے۔ اس بار تو نقصان اور بھی شدید ہے۔ ٹڈی دل چاول کی پنیری بھی صاف کر گیا ہے۔ آم کی فصل بھی متاثر ہوئی ہے۔ ٹڈی دل کا لعاب پھل، پھول، سبزیوں، اور پودوں کے لیےخطرناک ہوتا ہے جہاں لگ جاتا ہے اس چیز کو برباد  کر کے رکھ دیتا ہے۔کھڑی فصلوں پر ٹڈی دل کے حملے سے سب سے زیادہ کسان متاثر ہوئے ہیں۔ خدشہ ہے کہ ان کے گھروں میں فاقے پڑ جائیں گے۔
سوال یہ ہے کہ اس پر قابو کیسے پایا جائے؟ 

ملک بھر میں ٹڈی دل کے فصلوں پر حملے کے بعد محکمہ زراعت ،فوڈ سکیورٹی اور پاک آرمی نے مشترکہ طورپرٹڈیوں کے خاتمے کیلئے کنڑولٹڈ  آپریشن شروع کر دیا  ہے نیشنل لوکسٹ کنٹرول سنٹر کے مطابق  ملک کے مختلف  اضلاع میں ٹڈی دل کے خاتمے کیلئے بھر پور سروے آپریشن جاری ہےمگراب تک کوئی خاطر خواہ کامیابی سامنے نہیں آئی۔

جبکہ دوسری جانب وفاقی وزیربرائےغذائی تحفظ وتحقیق سید فخر امام کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں ایران اورعمان سےٹڈی دل کے حملے کا خدشہ ہے۔

بڑھتے ہوئے ٹڈی دل کے حملوں کے باعث ملک ہر لمحہ غذائی قلت کی طرف بڑھ رہا ہو گا مگر حکومت نے اس مسئلے کوانتہائی غیر سنجیدگی سے لیا ہے، جب کہ زمینی حقائق کے مطابق ٹڈی دل کے مسلسل  کئی ماہ سے جاری حملوں کے نتیجےمیں ملک میں غذائی قلت اورقحط پیدا ہونے کے امکانات واضح ہیں۔ لیکن ماسوائے چندخوش کن دعوؤں اور بیانات کے بعداب تک کوئی عملی اقدامات سامنے نہیں آئےجس کی واضح مثال ہمارے 

منتخب نمائندوں اور وزراءکی ناسنجیدگی کی ہے۔ حال ہی میں وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی زرتاج گل نے کووڈ-19 کے حوالے سے ایک ٹاک شو میں بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا نام کووڈ-19 اس لیے رکھا گیا ہے کیوں کہ اس کے انیس پوائنٹس ہوتے ہیں اور یہ پوائنٹس ہر ملک پر الگ طریقے سے اثر انداز ہوسکتا ہے۔

زرتاج گل کی جانب سے کووڈ-19 کو دراصل 19 پوائنٹس قرار دینے پر سوشل میڈیا پر ان پر خوب تنقید کی گئی تھی اور 21 جون کو ان کا نام ٹاپ ٹرینڈ رہا۔

جبکہ دوسری جانب پی ٹی آئی کےرکن اسمبلی ریاض فتیانہ نے 24 جون کو قومی اسمبلی میں اپنے مختصر خطاب میں کہا کہ ٹڈی دل کے حوالے سے عام مفروضہ پایا جاتا ہے کہ انہیں کھانے سے کورونا کی وبا ختم ہوجاتی ہے۔ حکومت اس مفروضے سے متعلق تحقیق کروائے اور اگر یہ ثابت ہوجائے کہ واقعی ٹڈی دل سے کورونا ختم ہوجاتا ہے تو حکومت کو زیادہ محنت نہیں کرنا پڑے گی۔ پاکستانی قوم خود ہی ٹڈی دل کا خاتمہ کردے گی۔
 ریاض فتیانہ کی جانب سے ٹڈی دل کھانے سے کورونا کے خاتمے کے مفروضے کی بات ایوان کے فلور پر کہے جانے پر انہیں بھی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

انھوں نے ٹڈی دل اور کورونا سے متعلق بیان ایک ایسے وقت میں دیا ہے جب ملک میں کورونا وائرس کے کیسز میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور ٹڈی دل کے حملوں پر قابو نہ پانے پر بھی حکمران جماعت کو تنقید کا سامنا ہے۔ 
اس سب سے حکومت کی نااہلی اور ناسنجیدہ رویہ کھل کے سامنے آگیا ہے۔

ہنسی مذاق میں کبھی ٹڈی دل کی بریانی تو کبھی مختلف ڈش میں اس کا استعمال اور اور اب کورونا کاعلاج بتا کرانتہائی غیرسنجیدگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں جو کہ اس تمام تر صورت حال میں افسوس کا مقام ہے۔   

چند دن قبل امریکی ادارے فوڈ اینڈ ایگری کلچر آرگنائزیشن نے حکومت پاکستان کو خبردار کیا ہے کہ ایکشن پلان پر فوری عمل نہ کیا گیا تو بارشوں کے بعد ٹڈی دَل کے حملوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

ٹڈی دَل کی وجہ سے آدھی فصل برباد ہوسکتی ہے اور مقامی تخمینے کے مطابق ایک ہزار ارب روپے کا نقصان متوقع ہے ۔

ستم یہ ہے کہ عالمی ادارۂ خوراک ہر بار رپورٹ جاری کرتا ہے کہ ٹڈی دل دنیا میں کہاں سے اٹھ رہا ہے اور کدھر کا رخ کرے گا۔ اس بار بھی عالمی ادارے کی طرف سے پاکستان کو رپورٹ بھجوائی گئی تھی، جس کو شاید خاطر میں نہیں لایا گیا۔

کہا جا رہا ہے کہ ٹڈی دل کا ایک اورخطرناک حملہ ہو سکتاہے لہٰذا محکمہ زراعت‘ این ڈی ایم اے اور دیگر متعلقہ ادارے بروقت اقدامات کریں تاکہ کسان اور معیشت کو ٹڈی دل کے عفریت سے ہر صورت بچایا جا سکے۔ اگرچہ کورونا وائرس اور ٹڈی دَل اس وقت بہت بڑا خطرہ بن چکے ہیں مگر ایک آفت ان سے بھی بڑی ہے اور وہ ہے حکمرانوں میں قوت ِفیصلہ کا نہ ہونا ۔ میرے خیال میں آفت تمام آفتوں سے بڑھ کرہے۔ اس کو قابو کر کے کورونا اور ٹڈی دَل کو آسانی سے ختم کیا جاسکتا ہے۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

 

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  2939
کوڈ
 
   
مزید خبریں
کورونا وائرس پاکستان ہی نہیں ہی دنیا بھر میں اپنی پوری بدصورتی کے ساتھ متحرک ہے ، تشویشناک یہ ہےاس عالمی وباء کے نتیجے میں ہمارے ہاں اموات کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا،
کی سڑک کے کنارے ایک ہوٹل میں چائے پینے کے لیے رکا تو ایک مقامی صحافی دوست سے ملاقات ہوگئی جنہیں سب شاہ جی کہتے ہیں سلام دعا کے بعد شاہ جی سے پوچھا کہ ٹیکنالوجی کی وجہ سے پاکستان کتنا تبدیل ہوچکا ہے تو کہنے لگے کہ سوشل میڈیا کی وجہ سےعدم برداشت میں بہت اضافہ ہوا ہے۔
میرے پڑھنے والو،میں ایک عام سی،نا سمجھ ایک الہڑ سی لڑکی ہوا کرتی تھی، بات بات پہ رو دینا تو جیسے میری فطرت کا حصہ تھا، اور پھربات بے بات ہنسنا میری کمزوری، یہ لڑکی دنیا کے سامنے وہی کہتی اور وہی کرتی تھی جو یہاں کے لوگ سن اور سمجھ کر خوش ہوتے تھے
صبح سویرے اسکول جاتے وقت ہم عجیب مسابقت میں پڑے رہتے تھے پہلا مقابلہ یہ ہوتا تھا کہ کون سب سے تیز چلے گا دوسرا شوق سلام میں پہل کرنا۔ خصوصاً ساگری سے آنیوالے اساتذہ کو سلام کرنا ہم اپنے لیے ایک اعزاز تصور کرتے تھے۔

مقبول ترین
پاکستان اور چین کے وزرائے خارجہ نے ایک اہم ٹیلی فونک گفتگو میں بین الاقوامی فورمز پر باہمی تعاون کے فروغ پر اتفاق کیا ہے۔ میڈیا کے مطابق وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے چینی وزیر خارجہ وانگ یی سے ٹیلی فونک رابطہ کرکے خطے
ہائی کورٹ کی انتظامی کمیٹی نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو العزیزیہ اسٹیل مل ریفرنس میں سزا سنانے والے احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک کو برطرف کر دیا ہے۔ ارشد ملک کا اسکینڈل سامنے آنے پر انہیں عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور قومی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ مائنس عمران خان کا مطالبہ غیر جمہوری مطالبہ نہیں۔ حکومت ہٹانے کے لیے کبھی بھی غیر آئینی طریقے کی حمایت نہیں کریں گے۔
تائیوان حکومت کا عجیب و غریب اقدام ،کورونا وائرس میں سفر کے لیے ترسنے والوں کے لیے تائیوان میں ’’جعلی پروازوں‘‘ کا سلسلہ شروع کردیا۔ ابتدائی مرحلے میں اس سفر کے لیے 7 ہزار افراد نے رجوع کیا۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں