Monday, 09 December, 2019
’’سینٹرل ایشیا کا گیٹ وے ۔۔۔ گوادر‘‘

’’سینٹرل ایشیا کا گیٹ وے ۔۔۔ گوادر‘‘
تحریر: ظریف بلوچ

گوادر جوکہ بلوچستان کا ایک جنوبی ساحلی شہر ہے اور تین اطراف سمندر میں واقع ہونے کی وجہ سے یہ ایک جزیرہ نما شہر ہے۔ اور گوادر بلوچستان کی ساحلی شہر ہونے کے ساتھ سینٹرل ایشیا کا گیٹ وے بھی کہلاتا ہے اور گوادر کی اہمیت اس وقت مذید اجاگر ہوا جب 2002میں گوادر پورٹ کی تعمیر کا آغاز ہوا اور گوادر پورٹ دنیا کی ایک گہری بندرگاہ ہے جو کہ اپنی افادیت اور اہمیت کی وجہ سے سینٹرل ایشیا کا گیٹ وے ہے۔ 

گوادر پورٹ نہ صرف معاشی حوالے سے اہم ہے بلکہ عسکری حوالے سے بھی گوادر پورٹ کی اہمیت ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ گوادر کی گہری سمندر جو کہ  بین الاقوامی بحری جہازوں کے لئے ایک آبی گزرگاہ بھی ہے۔گوادر کو ملک اور بین الاقوامی دنیا سے ملانے کے لئے سی پیک کا منصوبہ بھی مکمل ہوچکا ہے جسے مقتدر حلقے ملکی معیشیت کے لئے ایک سنگ میل سمجھتے ہیں کیونکہ سی پیک منصوبے کے تحت چیالیس بلین ڈالرز کی میگا پروجیکٹس کے منصوبے ہیں اور ان منصوبوں سے لاکھوں روزگار کے ذرائع پیدا ہوں گے۔ گوادر انٹرنیشنل ائیر پورٹ اور ریلوے لائن کے منصوبے بھی اس میگا پروجیکٹس کے لئے مختص کردئیے گئے۔ کیونکہ گوادر پورٹ سے کئی اور منصوبے بھی علاقے کی ترقی اور خوشحالی کے لئے شروع کئے جائیں گے جو کہ ملک اور بلوچستان کے عوام کی ترقی اور خوشحالی کے نئے دور کے آغاز ہوں گے۔ 

گوادر جو کہ سی پیک کا مرکز ہے گوادر پورٹ کے چیرمین دوستین جمالدینی  نے گوادر پورٹ کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ گوادر پورٹ مکران کا پہلا بڑا پورٹ ہے اور اس سے مکران اور پورے صوبے کو صنعت کے حوالے سے فروغ ملے گا اور کئی صنعتی منصوبے شروع ہوں گے۔ اور اس سے نہ صرف صوبے کی معشیت میں اضافہ ہوگا بلکہ علاقے میں بے روزگاری میں کمی ہوگی اور جی ڈی پی کی شرح میں اضافہ کے ساتھ ساتھ علاقے میں ترقی اور خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہوگا ان کا مذید کہنا تھا کہ گوادر پورٹ سے شہر اور ضلع کی اکنامک میں اضافہ ہوگا اور اس سے گوادر میں بے روزگاری کا خاتمہ ہوگا.انہوں نے کہا کہ گوادر پورٹ میں ملازمت کے حوالے سے مقامی لوگوں کو ترجیح دیا جارہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان کی ہدایات اور مقامی آبادی کے تعاون سے گوادر پورٹ تیز رفتار ترقی کی طرف گامزن ہے۔اور اس حوالے سے تمام سٹیک ہولڈر اور متعلقہ حکام کے ساتھ ملکر گوادر کو پاکستان اور جنوبی ایشیا کا معاشی حب بنایا جائے گا۔  گوادر کے سماجی شخصیت میر ابوبکر دشتی کا کہنا ہے کہ گوادر پورٹ اور سی پیک سے بلوچستان اور

 گوادر میں ترقی اور خوشحالی کا دور شروع ہوگا۔انکا کہنا ہے کہ ترقی کے ثمرات سے فائدہ مقامی لوگوں کو ملنا چاہئے اور ہیاں کے بزنس کمیونٹی کو اس سے استفادہ کرنا ہوگا۔۔ مقامی صحافی غلام یاسین بزنجو گوادر پورٹ کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہتا ہے کہ گوادر پورٹ ایک اہم بندرگا ہے۔ کیونکہ دنیا میں اس وقت وہی ملک یا خطے خود کفیل سمجھے جاتے ہیں جو کہ اپنے پورٹ اور سمندری راستوں پر انحصار کرتے ہیں  ان کا کہنا ہے کہ  ہماری خوش قسمتی ہے کہ گوادر پورٹ بلوچستان کے پسماندہ علاقے میں موجود ہے. جس سے نہ صرف ہمیں اس سے استفادہ کا موقع ملے گا ، بلکہ دنیا کے دیگر ممالک بھی ہماری مدد سے اپنے تجارتی ساز و سامان دنیا بھر میں پہنچانے میں کامیاب ہوں گے  ۔ ان کے مطابق  سی پیک کوئی عام روٹ نہیں ہے  بلکہ سی پیک کے ساتھ انرجی سیکٹر سمیت بہت سارے دیگر پروجیکٹس شامل ہیں جس سے نہ صرف ہماری نوجوان نسل برسرروزگار ہوں گے بلکہ اس سے نئے ذرائع اور پیدا ہوںگے ۔  

چیرمین گوادر پورٹ دوستین جمالدینی نے کہا کہ گوادر پورٹ سی پیک کا اہم جز ہے اور اس سے بلوچستان کے جنوبی علاقوں میں معاشی ترقی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ گوادر پورٹ اور سی پیک سے بلوچستان کی پسماندگی اور روزگار کی کمی کو دور کرنے کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ اور گوادر پورٹ بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی کے لئے اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔

گوادر پورٹ کو دنیا سے ملانے کے لئے سی پیک روٹ کے ساتھ ساتھ گوادر میں انٹرنیشنل ہوائی اڈے پر کام ہورہا ہے جبکہ ریلوے نظام کے ذرئعے گوادر کو دنیا کے دیگر ممالک سے ملایا جائے گا۔ اس حوالے سے دوستین جمالدینی کہتے ہیں کہ روڈ اور ریلوے نظام سے گوادر پورٹ کو نہ صرف ملک بلکہ ہمسایہ ممالک سے ملایا جارہا ہے جس سے علاقے میں معاشی استحکام آئے گی اور روزگار کے نئے ذرائع پیدا ہوں گے ۔

ان کا مذید کہنا تھا کہ گوادر پورٹ کی وجہ سے مکران کے تین شہر اکنامک سنٹر ہوں گے۔ گوادر۔پسنی اور تربت اکنامک سنٹر میں منتقل ہوں گے اور اس حوالے سے صوبائی حکومت شارٹ ٹو مڈم ٹرم سٹی پلان تیار کررہا ہے انہوں نے کہا گوادر پورٹ سے سیاسی۔سماجی اور معاشی حوالے سے مقامی لوگ مسفید ہوں گے۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  97591
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
ہم کربلا سے سبق سیکھ سکتے ہیں کہ کیسے تہذیب اسلامی کو فرعونی تہذیب بننے سے بچایا جائے، آج تہذیب اسلامی کو سب سے بڑا خطر ہ مقبوضہ کشمیر اور فلسطین میں ہے۔ان خیالات کا اظہار پروفیسر فتح محمد ملک سابق ریکٹر اسلامی یونیورسٹی
شہید بینظیربھٹو ہیومن رائٹس سینٹر فار وومن سے گزشتہ 10 سال کے دوران 43سوسے زائد خواتین نے رابطہ کیا اور 3707 خواتین کو گھریلو تشدد،جسمانی ہراساں کرنے، پراپرٹی میں حصہ نہ دینے کی شکایات پرریلیف
محرم حرمت والا مہینہ ہے۔ اس کی حرمت عربوں میں ظہور اسلام سے پہلے بھی تھی۔ پیغمبراسلامؐ نے اس کے احترام کو باقی رکھا۔ 61 ہجری کے آغاز میں واقعۂ کربلا پیش آیا تو مسلمانوں میں اس مہینے کے احترام کی ایک اورنوعیت پیدا ہوگئی۔ اب اس کے ساتھ نواسۂ رسولؐ کی المناک شہادت کی یاد بھی وابستہ ہوگئی۔
صدر کے طور پر پہلی بار، ڈونالڈ ٹرمپ نے 11 ستمبر 2001میں نیو یارک اور واشنگٹن پر ہونے والے دہشت گرد حملوں کی یاد منانے کے سلسلے میں قوم کی قیادت کی۔

مقبول ترین
نئے چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کے معاملے پر قائد حزب اختلاف اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کا کہنا ہے کہ کوشش ہو گی کہ حکومت سے پُر خلوص بات چیت کی جائے۔ اِس وقت شہباز شریف اپنے بھائی اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی
آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ لاہور پہنچے ہیں۔ انہوں نے داتا دربارؒ پر حاضری دی، مزار پر چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی۔ اس موقع پر ملکی ترقی و خوشحالی اور سلامتی کیلئے دعائیں بھی مانگی گئیں۔
لاہور میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ سپریم ہے، قانون سازی کا اختیار رکھتی ہے۔ سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے کے بعد فیصلہ کیا جائے گا کہ ریویو میں جانا ہے یا قانون بنانا ہے؟
جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی-ف) کے امیر مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ آئین کی حکمرانی کے لیے جو قدم اٹھایا وہ منزل پر پہنچ رہا ہے اور حکمرانوں کی کشتی ڈوبنے کے قریب پہنچ گئی ہے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں