Friday, 07 August, 2020
’’سینٹرل ایشیا کا گیٹ وے ۔۔۔ گوادر‘‘

’’سینٹرل ایشیا کا گیٹ وے ۔۔۔ گوادر‘‘
تحریر: ظریف بلوچ

گوادر جوکہ بلوچستان کا ایک جنوبی ساحلی شہر ہے اور تین اطراف سمندر میں واقع ہونے کی وجہ سے یہ ایک جزیرہ نما شہر ہے۔ اور گوادر بلوچستان کی ساحلی شہر ہونے کے ساتھ سینٹرل ایشیا کا گیٹ وے بھی کہلاتا ہے اور گوادر کی اہمیت اس وقت مذید اجاگر ہوا جب 2002میں گوادر پورٹ کی تعمیر کا آغاز ہوا اور گوادر پورٹ دنیا کی ایک گہری بندرگاہ ہے جو کہ اپنی افادیت اور اہمیت کی وجہ سے سینٹرل ایشیا کا گیٹ وے ہے۔ 

گوادر پورٹ نہ صرف معاشی حوالے سے اہم ہے بلکہ عسکری حوالے سے بھی گوادر پورٹ کی اہمیت ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ گوادر کی گہری سمندر جو کہ  بین الاقوامی بحری جہازوں کے لئے ایک آبی گزرگاہ بھی ہے۔گوادر کو ملک اور بین الاقوامی دنیا سے ملانے کے لئے سی پیک کا منصوبہ بھی مکمل ہوچکا ہے جسے مقتدر حلقے ملکی معیشیت کے لئے ایک سنگ میل سمجھتے ہیں کیونکہ سی پیک منصوبے کے تحت چیالیس بلین ڈالرز کی میگا پروجیکٹس کے منصوبے ہیں اور ان منصوبوں سے لاکھوں روزگار کے ذرائع پیدا ہوں گے۔ گوادر انٹرنیشنل ائیر پورٹ اور ریلوے لائن کے منصوبے بھی اس میگا پروجیکٹس کے لئے مختص کردئیے گئے۔ کیونکہ گوادر پورٹ سے کئی اور منصوبے بھی علاقے کی ترقی اور خوشحالی کے لئے شروع کئے جائیں گے جو کہ ملک اور بلوچستان کے عوام کی ترقی اور خوشحالی کے نئے دور کے آغاز ہوں گے۔ 

گوادر جو کہ سی پیک کا مرکز ہے گوادر پورٹ کے چیرمین دوستین جمالدینی  نے گوادر پورٹ کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ گوادر پورٹ مکران کا پہلا بڑا پورٹ ہے اور اس سے مکران اور پورے صوبے کو صنعت کے حوالے سے فروغ ملے گا اور کئی صنعتی منصوبے شروع ہوں گے۔ اور اس سے نہ صرف صوبے کی معشیت میں اضافہ ہوگا بلکہ علاقے میں بے روزگاری میں کمی ہوگی اور جی ڈی پی کی شرح میں اضافہ کے ساتھ ساتھ علاقے میں ترقی اور خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہوگا ان کا مذید کہنا تھا کہ گوادر پورٹ سے شہر اور ضلع کی اکنامک میں اضافہ ہوگا اور اس سے گوادر میں بے روزگاری کا خاتمہ ہوگا.انہوں نے کہا کہ گوادر پورٹ میں ملازمت کے حوالے سے مقامی لوگوں کو ترجیح دیا جارہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان کی ہدایات اور مقامی آبادی کے تعاون سے گوادر پورٹ تیز رفتار ترقی کی طرف گامزن ہے۔اور اس حوالے سے تمام سٹیک ہولڈر اور متعلقہ حکام کے ساتھ ملکر گوادر کو پاکستان اور جنوبی ایشیا کا معاشی حب بنایا جائے گا۔  گوادر کے سماجی شخصیت میر ابوبکر دشتی کا کہنا ہے کہ گوادر پورٹ اور سی پیک سے بلوچستان اور

 گوادر میں ترقی اور خوشحالی کا دور شروع ہوگا۔انکا کہنا ہے کہ ترقی کے ثمرات سے فائدہ مقامی لوگوں کو ملنا چاہئے اور ہیاں کے بزنس کمیونٹی کو اس سے استفادہ کرنا ہوگا۔۔ مقامی صحافی غلام یاسین بزنجو گوادر پورٹ کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہتا ہے کہ گوادر پورٹ ایک اہم بندرگا ہے۔ کیونکہ دنیا میں اس وقت وہی ملک یا خطے خود کفیل سمجھے جاتے ہیں جو کہ اپنے پورٹ اور سمندری راستوں پر انحصار کرتے ہیں  ان کا کہنا ہے کہ  ہماری خوش قسمتی ہے کہ گوادر پورٹ بلوچستان کے پسماندہ علاقے میں موجود ہے. جس سے نہ صرف ہمیں اس سے استفادہ کا موقع ملے گا ، بلکہ دنیا کے دیگر ممالک بھی ہماری مدد سے اپنے تجارتی ساز و سامان دنیا بھر میں پہنچانے میں کامیاب ہوں گے  ۔ ان کے مطابق  سی پیک کوئی عام روٹ نہیں ہے  بلکہ سی پیک کے ساتھ انرجی سیکٹر سمیت بہت سارے دیگر پروجیکٹس شامل ہیں جس سے نہ صرف ہماری نوجوان نسل برسرروزگار ہوں گے بلکہ اس سے نئے ذرائع اور پیدا ہوںگے ۔  

چیرمین گوادر پورٹ دوستین جمالدینی نے کہا کہ گوادر پورٹ سی پیک کا اہم جز ہے اور اس سے بلوچستان کے جنوبی علاقوں میں معاشی ترقی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ گوادر پورٹ اور سی پیک سے بلوچستان کی پسماندگی اور روزگار کی کمی کو دور کرنے کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ اور گوادر پورٹ بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی کے لئے اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔

گوادر پورٹ کو دنیا سے ملانے کے لئے سی پیک روٹ کے ساتھ ساتھ گوادر میں انٹرنیشنل ہوائی اڈے پر کام ہورہا ہے جبکہ ریلوے نظام کے ذرئعے گوادر کو دنیا کے دیگر ممالک سے ملایا جائے گا۔ اس حوالے سے دوستین جمالدینی کہتے ہیں کہ روڈ اور ریلوے نظام سے گوادر پورٹ کو نہ صرف ملک بلکہ ہمسایہ ممالک سے ملایا جارہا ہے جس سے علاقے میں معاشی استحکام آئے گی اور روزگار کے نئے ذرائع پیدا ہوں گے ۔

ان کا مذید کہنا تھا کہ گوادر پورٹ کی وجہ سے مکران کے تین شہر اکنامک سنٹر ہوں گے۔ گوادر۔پسنی اور تربت اکنامک سنٹر میں منتقل ہوں گے اور اس حوالے سے صوبائی حکومت شارٹ ٹو مڈم ٹرم سٹی پلان تیار کررہا ہے انہوں نے کہا گوادر پورٹ سے سیاسی۔سماجی اور معاشی حوالے سے مقامی لوگ مسفید ہوں گے۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  46136
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
ان دنوں پاکستان سمیت دنیاکے مختلف ممالک میں درجہ حرارت انتہائی زیادہ ہے ۔اس گرم موسم میں لُو اس وقت لگتی ہے جب جسم کا درجہ حرارت 40 ڈگری سیلسیئس یا اس سے بڑھ جائے۔ لُو لگ جانے کے بعد متاثرہ شخص کو فوری طبی امداد کی ضرورت ہوتی ہے
گذشتہ کئی عشروں سے صہیونی ریاست کے قبضے میں انبیاءکی سرزمین نہ صرف سرزمین فلسطین بلکہ مسلمانوں کے قبلہ اول بھی عالمی سازش کے تحت قبضے میں ہے۔ مسئلہ فلسطین مسلمانوں کا اساسی اور بنیادی مسئلہ ہے جس نے دنیا میں بسنےوالے ہر مسلمان کو بے چین کر کے رکھا ہوا ہے۔
اسوقت جہاں دنیا ایک طرف کرونا سے جنگ لڑ رہا ہے وہیں دوسری طرف کرونا کی وجہ سے جس طرح سے عالمی حالات میں تبدیلی آرہی ہے اور دنیا کے طاقتور ممالک شدید معاشی بحران کا شکار ہوگیا ہے ۔اس تناطر میں عالمی میڈیا پر کچھ اسطرح کی خبریں گردش
عیدالفطرانتہائی خوشی ومسرت کااسلامی تہوارہے۔میٹھی عیدپرنمازعیدسے پہلے اوربعدمیں ہرگھرمیں انواع واقسام کی ڈشز تیارہوتی ہیں جنہیں بچے بڑے سب بہت ذوق و شوق سے کھاتے ہیں۔میٹھی عیدپرمیٹھی سویاں،پھینیاں،شیرخرما،سوجی کاحلوہ

مزید خبریں
کورونا وائرس پاکستان ہی نہیں ہی دنیا بھر میں اپنی پوری بدصورتی کے ساتھ متحرک ہے ، تشویشناک یہ ہےاس عالمی وباء کے نتیجے میں ہمارے ہاں اموات کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا،
کی سڑک کے کنارے ایک ہوٹل میں چائے پینے کے لیے رکا تو ایک مقامی صحافی دوست سے ملاقات ہوگئی جنہیں سب شاہ جی کہتے ہیں سلام دعا کے بعد شاہ جی سے پوچھا کہ ٹیکنالوجی کی وجہ سے پاکستان کتنا تبدیل ہوچکا ہے تو کہنے لگے کہ سوشل میڈیا کی وجہ سےعدم برداشت میں بہت اضافہ ہوا ہے۔
میرے پڑھنے والو،میں ایک عام سی،نا سمجھ ایک الہڑ سی لڑکی ہوا کرتی تھی، بات بات پہ رو دینا تو جیسے میری فطرت کا حصہ تھا، اور پھربات بے بات ہنسنا میری کمزوری، یہ لڑکی دنیا کے سامنے وہی کہتی اور وہی کرتی تھی جو یہاں کے لوگ سن اور سمجھ کر خوش ہوتے تھے
صبح سویرے اسکول جاتے وقت ہم عجیب مسابقت میں پڑے رہتے تھے پہلا مقابلہ یہ ہوتا تھا کہ کون سب سے تیز چلے گا دوسرا شوق سلام میں پہل کرنا۔ خصوصاً ساگری سے آنیوالے اساتذہ کو سلام کرنا ہم اپنے لیے ایک اعزاز تصور کرتے تھے۔

مقبول ترین
پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے چند روز قبل نجی ٹی وی چینل پر کشمیر اور مسلم ممالک پر مشتمل اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) سے متعلق ایک بیان دیا جسے بعدازاں چینل نے سینسر کر دیا گیا۔
احتساب عدالت نے پارک لین ریفرنس میں نیب کے دائرہ اختیار کیخلاف آصف زرداری کی درخواست مسترد کرتے ہوئے پیر کے روز فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ تحریری حکم نامہ آج ہی جاری کریں گے جس میں ضروری ہدایات دی جائیں گی۔
اس میں شک نہیں کہ مختلف دینی مسالک کے ماننے والوں کا عمومی رویہ یہ ہے کہ وہ دوسروں کی بات نہیں سنتے بلکہ اپنی محفلوں میں دوسروں کو آنے کی دعوت تک نہیں دیتے ۔ اس غیر صحت مندانہ رجحان سے غیر صحت مندانہ معاشر ہ تشکیل پاچکا ہے ۔ اس صورت حال کا ازالہ بحیثیت قوم بقا کے لیے ناگزیر ہے ۔ اس سلسلے میں ہم ذیل میں چند معروضات پیش کرتے ہیں :
احتساب عدالت نے رمضان شوگر ملز ریفرنس میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز پر فرد جرم عائد کردی۔ شہباز شریف اور حمزہ شہباز کا صحت جرم سے انکار کردیا، عدالت نے آئندہ سماعت پر نیب گواہوں کو طلب کرلیا۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں