Sunday, 24 March, 2019
علی رضا عابدی کا قتل اور گردش کرنے والی خبریں

علی رضا عابدی کا قتل اور گردش کرنے والی خبریں
تحریر: نجف علی بلوچ

 

پاکستانی عوام کی قسمت میں زیادہ دیرپا خوشی کا زمانہ چلتے دکھائی نہیں دیتا ۔وطن عزیز کی قسمت کی باگ ڈور ایسے افراد کے ہاتھوں میں سونپی گئی ہے جو صرف اپنا مفاد کو ہی دیکھتے ہیں ۔ ایسا لگتا ہے کہ وطن عزیزدہشتگردوں کو جھیز میں ملاہواہے۔ یہاں پر کسی سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں ہے۔دہشتگردی ہمارے اسی ہزار تک لوگوں کی زندگیوں کو نگل چکی ہے۔

اس کے باوجود بھی ہم دوسروں کے مسائل میں اس طرح کودپڑتے ہیں جیسے ’’بے گانے شادی میں عبداللہ دیوانہ‘‘ہوتا ہے۔انسانیت کو مولی گاجر کی طرح کاٹا جاتا ہے۔کرپشن تو یہاں کے لوگوں کی میراث ہے ۔ظالم کو پالنا یہاں کے لوگوں کا فخر ہے ۔فرقہ واریت یہاں کے لوگوں کو ایمان اورنجات کی گولی سمجھا کر دی جاتی ہے ۔انسانیت کی زندگیوں سے کھیلنے والے اکثر ایسے موضوع کو لے کر آتے ہیں جس سے اتحاد اوراتفاق کو پارہ پارہ کیا جاتا ہے ۔

ہم بحیثیت مسلمان ایسے فرقہ واریت میں جکڑے گئے ہیں جو ایمانی کام کرنے تھے وہ ہمارے ہاتھوں سے اس طرح نکل گئے ہیں جس طرح جال کے بغیر مچھیرے کے ہاتھ سے مچھلی نکل جاتی ہے۔بیت المقدس کا مسئلہ ہمارے ہاتھوں سے نکلتا جا رہا ہے۔اسرائیل کی حمایت میں نعرے اسمبلیوں میں بلند ہوناشروع ہوچکے ہیں۔جہازوں کی گردش کی خبریں اپنی جگھ پر باقی ہیں اس کے ساتھ کشمیر کاموقف بے جان ہوتا ہوا نظرآرہا ہے ۔امن ہمارے ملک سے ایسے دورچلاگیا ہے جیسے اس کا تعلق پاکستان سے تھا ہی نہیں۔

25 دسمبر قائد اعظم محمد علی جناح کے یوم پیدائش کے ساتھ عیسائی کمیونٹی کی عید کا دن بھی تھا لیکن پاکستان کو کون یہ خوشیاں منانے دے گا ؟ ایک محب وطن نڈر انسان سید علی رضا عابدی اپنے دفتر سے گھر آئے اور بچوں کے ساتھ کھانے کے لیے جانے کی تیاری کرنے کے لیے گھر کے دروازے پر ہی ظالموں کی گولیوں کا نشانہ بنا ۔

اب بات یہاں پر ختم نہیں ہوئی،اس کے بچے اپنے باپ کو تڑپتے دیکھتے رہے۔والد کی مدعیت میں ایف آئی آر درج بھی ہوگئی۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا قاتلوں کو کرارواقعی سزامل پائے گی؟ سوشل میڈیا پرہرطرف شور بپا ہے کہ علی رضا عابدی کے قتل میں ایم کیو ایم لندن شامل ہے۔بعض خبریں گردش کررہی ہیں کہ تکفیریوں نے قتل کیا ہے۔ 

عوام کا مطالبہ ہے حکمرانوں سے علی رضا عابدی کے قاتل کراچی کے امن کے قاتل ہیں جہاں پر بھی ان کے تانے بانے مل رہے ہیں ان کو کیفرکردار تک پہنچانا چائیے ایسے لوگوں سے کوئی نرمی نا برتی جائے۔یہ حکمرانوں کی گڈگورنس کے لیے ایک چلینج ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  90820
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
کل پارلیمنٹ میں پاکستان کی پارلیمانی تاریخ کا نہایت شرم ناک واقعہ پیش آیا جب حکومتی بنچوں سے ایک غیرمسلم ممبر پارلیمنٹ نے شراب پر پائبندی کا بل پیش کیا جسے پوری پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر مسترد کردیا.صرف ایم ایم اے ممبرز نے رامیش
’’اختلاف‘‘ کا لفظ اتنا منفی مفہوم اختیار کر گیا ہے کہ بہت سے لوگ ہر قسم کا اختلاف ختم کرنے کے درپے ہوگئے ہیں حالانکہ اختلاف کے بعض خوبصورت اور اچھے پہلو بھی ہیں۔ تاہم بعض اختلافات ایسے ہوتے ہیں کہ جنھیں ختم کرنا چاہیے یا پھر جنھیں برداشت کرنا چاہیے۔
سوشل میڈیا پر 27 جولائی سے جس شخصیت کو سب سے زیادہ ٹارگٹ کیا جا رہا ہے یقینا وہ جناب مولانا فضل الرحمان ہی ہیں۔ ہر دوسرا تبدیلی کا دعوے دار، مخالف مسلک کا پیروکار، مولانا کا سیاسی مخالف، بس مولانا پر ہی لعن طعن کر کے ملک کے تمام مسائل حل اور نئی
پروردگار کا احسان عظیم ہے کہ ہمارے پیارے وطن پاکستان کو قیام میں آئے 71برس ہو رہے ہیں۔ اس مملکت خداداد کی اساس ان گنت قربانیوں پر استوار ہے جو ہمارے آباؤ اجداد نے اپنے لہو سے بنائی ہے اور ان قربانیوں کے ضمن میں مرد و خواتین دونوں نے

مزید خبریں
دنیا بھر میں بولی اور سمجھی جانی والی زبانوں میں سے اردو ہندی دنیا کی دوسری بڑی زبان بن چکی ہے، جبکہ اول نمبر پر آنے والی زبان چینی ہے اور انگریزی کا نمبر تیسرا ہے۔ روزنامہ ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے یونیورسٹی آف ڈیسلڈرف الرچ کی 15 برس کی مطالعاتی رپورٹ
ہمارے نیم حکیموں کو کون سمجھائے کہ بلکتے، سسکتےعوام کو جمہوریت سے بدہضمی ہونے کا خوف دلانا چھوڑ دیجئے حضور! 144 معالجین کے مطابق انسانی معدے کی خرابی تمام بیماریوں کی ماں ہوتی ہے اور معدے کی خرابی سے ہی بدہضمی، ہچکی، متلی، قے، ہاتھوں میں جلن کا احساس، بھوک کا نہ لگنا، پژمردگی اور چہرے پر افسردگی کے اثرات چھائے
یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ پارلیمنٹ لاجز میں ہونے والی غیر اخلاقی حرکتوں کے متعلق جمشید دستی کو کس نے ویڈیو ثبوت اور ”ناقابل تردید“ ثبوت فراہم کیے ہیں؟ یہ سوال بھی اہم ہے کہ آخر جمشید دستی نے یہ ا یشو کیوں چھیڑا ؟ اس کے نتیجے میں جو صورتحال پیش آسکتی ہے اس کے دور رس نتائج نکل سکتے ہیں۔
دہشت گردوں کی طرف سے جنگ بندی کے اعلان کے صرف 48 گھنٹے بعد ہی دارالحکومت اسلام آباد کودہشت گردی کا نشانہ بنادیا گیا۔

مقبول ترین
یوم پاکستان کی مرکزی تقریب میں صدر، وزیراعظم، آرمی چیف، ملائیشین وزیراعظم مہاتیر محمد سمیت دیگر ممالک کی معزز شخصیات نے بھرپور شرکت کی۔ سپیکر قومی اسمبلی، چیئرمین سینیٹ، وفاقی وزراء، وزرائے اعلی، شوبز ستارے
نیوزی لینڈ کی تاریخ کی بدترین دہشت گردی کے ایک ہفتے بعد نہ صرف سرکاری طور پر اذان نشر کی گئی بلکہ مسجد النور کے سامنے ہیگلے پارک میں نمازِ جمعہ کے اجتماع میں وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن کے علاوہ ہزاروں غیر مسلم افراد نے بھی شرکت کی۔
ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد کا سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب میں کہنا تھا کہ آزادی کے وقت ملائیشیا غریب ملک تھا۔ آزادی کے وقت طے کیا تھا کہ ملائیشیا ترقی کے مراحل طے کرے گا۔ ہم نے کوریا اور جاپانی لوگوں سے سبق لیا اور کام کیا۔
کراچی کی نیپا چورنگی پر ممتاز عالم دین مفتی تقی عثمانی قاتلانہ حملے میں محفوظ رہے جب کہ ان کے دو گارڈ جاں بحق ہو گئے۔ ابتدائی طور پر اطلاعات تھیں کہ مختلف مقامات پر فائرنگ کے دو واقعات پیش آئے ہیں لیکن ایس ایس پی گلشن اقبال طاہر

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں