Friday, 18 January, 2019
2019ء، ہماری توقعات (2)

2019ء، ہماری توقعات (2)
تحریر: ثاقب اکبر

 

جیسا کہ ہم نے گذشتہ سطور میں (26 دسمبر کو) اپنی معروضات میں لکھا تھا کہ سعودی عرب کے داخلی حالات بھی گذشتہ برس کی نسبت 2018ء کے اختتام پر خاصے مختلف ہوچکے ہیں۔ عالمی سطح پر برسراقتدار سعودی خاندان کی پذیرائی کو خاصے جھٹکے لگے ہیں، لیکن سعودی عرب چونکہ اب بھی ایک بڑی اقتصادی طاقت ہے اس لئے اس کا اہم کردار عالمی سطح پر ابھی باقی ہے۔ سعودی عرب میں داخلی طور پر تبدیلیاں جاری ہیں، ان کی وجوہات داخلی کے علاوہ خارجی بھی ہیں۔ عالمی سطح پر شہرت پانے والے سعودی مقتول صحافی خاشقچی کے قتل کی فائل ابھی بند نہیں ہوئی۔ چنانچہ 27 دسمبر کو سعودی وزیر خارجہ الجبیر کی تنزلی کا اعلان کیا گیا ہے اور انہیں وزارت سے ہٹا کر مشاورت کی ذمہ داریاں دے دی گئی ہیں۔ یاد رہے کہ وزارت کے منصب پر فائز کئے جانے سے پہلے الجبیر سعودی سفیر کی حیثیت سے امریکہ میں ذمہ داریاں ادا کر رہے تھے۔ اس کے علاوہ بھی سعودی عرب میں بہت ساری تبدیلیاں معرض عمل میں آئی ہیں۔ اسی روز ابراہیم العساف آل سعود کو وزیر خارجہ مقرر کیا گیا ہے، جو ان افراد میں شامل تھے جنھیں دیگر شہزادوں کے ساتھ بند کرکے ان سے ولی عہد محمد بن سلمان نے کرپشن کی رقوم واپس لی ہیں۔ وزیر تعلیم کو بھی تبدیل کیا گیا ہے اور اس کے علاوہ بہت سی تبدیلیاں عمل میں آئی ہیں۔
 
سی پیک کے حوالے سے معاہدوں کے اگلے مرحلے پر پیش رفت ہونے جا رہی ہے۔ اس مرحلے میں توقع ہے کہ پاکستان اور چین کے سرمایہ کار مشترکہ منصوبوں پر کام شروع کریں گے۔ پاکستان میں نئی صنعتیں لگیں گی، جن سے یقینی طور پر دیگر فوائد کے علاوہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ پاکستانی سرمایہ کاروں کا بھی حکومت کو زیادہ اعتماد حاصل ہوسکے گا۔ پاکستان میں دو بڑی اپوزیشن جماعتوں کی قیادت پر کرپشن کے الزامات میں جو گھیرا تنگ ہوچکا ہے، اس کی وجہ سے دونوں جماعتیں ایک دوسرے کے قریب آسکتی ہیں۔ تاہم گذشتہ روز وزیر اطلاعات نے ان پارٹیوں کے اندر ٹوٹ پھوٹ کے عمل کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اگر اس اشارے کو سنجیدہ لیا جائے تو پھر کہا جاسکتا ہے کہ قانون سازی کے لئے حکومت کو جو مشکلات ہیں، وہ نئے انتخابات کے بغیر بھی حل ہوسکتی ہیں۔ ہمیں یہی توقع ہے کہ 2019ء میں یہی حکومت چلتی رہی گی اور بظاہر اسمبلیوں کو تحلیل کرنے کا امکان دکھائی نہیں دیتا۔ اس کی اگرچہ دیگر وجوہات بھی ہیں۔ پنجاب میں سرائیکی علاقوں پر مشتمل نئے سیکرٹریٹ کے قیام کی تجویز بظاہر تو خوش آئند دکھائی دے رہی ہے، لیکن آئندہ برس کے وسط میں جب یہ سیکرٹریٹ کام شروع کرے گا تو معلوم ہوگا کہ یہ انتظام کس قدر مفید واقع ہوتا ہے۔ البتہ جب پسماندہ علاقوں کے لئے مختص کیا گیا بجٹ یقینی طور پر ان علاقوں میں خرچ ہونے لگے گا، وہاں بہتری ضرور دکھائی دے گی۔ نہ فقط انفراسٹرکچر بہتر ہوگا بلکہ بے روزگاری کو کم کرنے میں بھی اس سے مدد ملے گی۔
 
بھارت میں اگلے برس عام انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔ حال ہی میں پانچ صوبوں میں ہونے والے انتخابات میں برسراقتدار بی جے پی کو ایک بڑا دھچکا لگا ہے۔ اگر اسے ہندوستان کے وسیع و عریض خطوں میں پیدا ہونے والا موجودہ حکومت کے خلاف ردعمل قرار دیا جائے تو پھر کہا جاسکتا ہے کہ یہ فضا آئندہ انتخابات تک برقرار رہ سکتی ہے۔ اس کی دیگر وجوہات کے علاوہ بی جے پی کی قیادت کی اپنے عوام سے کئے گئے وعدے پورے کرنے میں ناکامی اور نریندر مودی پر لگائے جانے والے کرپشن کے ہوش ربا الزامات بھی ہیں۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ ان الزامات کی تائید بھارت کے باہر سے بھی کی جا رہی ہے۔ پاکستان میں جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس تبدیلی کی وجہ یہ ہے کہ بھارتی حکومت کے متشددانہ اور فرقہ وارانہ مو قف کو عوام نے بالآخر مسترد کر دیا ہے، ہماری رائے میں اس میں حقیقت کا صرف ایک عنصر موجود ہوسکتا ہے، پوری حقیقت اسے قرار نہیں دیا جاسکتا۔

پاکستان میں مذہبی قوتوں کا زور پہلے کی نسبت خاصا کم ہوگیا ہے۔ سیاسی حوالے سے اس وقت گذشتہ دو دہائیوں کی نسبت ان کا حکومت میں حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ اگرچہ اسمبلیوں میں ابھی تک ان کی قابل لحاظ تعداد موجود ہے، لیکن اپوزیشن میں ہونے کی وجہ سے اقتدار کی صفوں میں مذہبی جماعتوں کے نمائندے دکھائی نہیں دیتے۔ موجودہ حکومت کا ”ریاست مدینہ“ کا نعرہ بھی مذہبی جماعتوں کے نعروں کے مقابلے میں اپنی ایک تاثیر رکھتا ہے۔ حکومت کے بعض اقدامات بھی ایسے ہیں، جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ دینی مظاہر کے ساتھ اس کی مضبوط وابستگی ہے۔ یہ تاثر جتنا گہرا ہوگا، مذہبی جماعتوں کی طرف رجحان اتنا ہی کم ہوتا چلا جائے گا۔

مشرق وسطیٰ کے ممالک میں سے ایک اہم ملک عراق ہے۔ کرسمس کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وہاں پر متعین امریکی فوجیوں سے ملاقات کے لئے اپنی اہلیہ میلانیا ٹرمپ کے ہمراہ دورہ کیا ہے۔ ایک طرف شام سے فوجوں کے انخلاء کا اعلان اور دوسری طرف عراق میں متعین پانچ ہزار سے زائد افواج کے ساتھ اپنی یگانگت کا اظہار یہ ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ ابھی اس خطے میں اپنی فوجی موجودگی کو برقرار رکھے گا۔ تاہم اس دورے میں عراق کی تقریباً تمام تر منتخب قیادت نے اپنی ناگواری کا مختلف انداز سے اظہار کیا ہے، جو یہ سمجھنے کے لئے کافی ہے کہ موجودہ عراق بہت تبدیل ہوچکا ہے اور وہ امریکہ کو اب اپنا حلیف نہیں سمجھتا۔ یہی وجہ ہے کہ عراق کی بیشتر پارٹیاں امریکی افواج کے عراق سے انخلاء کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ اس دورے کے موقع پر بھی عراق کے وزیراعظم مہدی نے الاسد فضائی اڈے پر جا کر مسٹر ٹرمپ سے ملنے سے انکار کر دیا۔ پارلیمان میں حزب اصلاح کے سربراہ صباح الساعدی نے ٹرمپ کے دورے کو عراق کی خود مختاری کی کھلے عام خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ عراقی ملیشیا الحشد الشعبی کے کمانڈر قیس الخز علی نے بھی اس دورے پر اعتراض کیا ہے۔ انھوں نے ایک ٹویٹ میں خبردار کیا کہ اس دورے کا جواب عراقی پارلیمنٹ امریکی فوجوں کو عراق سے بے دخل کرنے کی شکل میں دے سکتی ہے۔
 
یورپ میں بھی تبدیلیاں آرہی ہیں البتہ 2019ء میں بعض تبدیلیاں واضح شکل اختیار کرلیں گی۔ ان میں سے ایک برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ برطانیہ یورپی یونین میں ہو کر بھی عام طور پر امریکہ سے زیادہ قریب دکھائی دیتا تھا۔ اس کی وجہ سے پہلے ہی یورپ کے اہم ممالک اور برطانیہ کے مابین بعض بین الاقوامی مسائل میں ہم آہنگی دکھائی نہیں دیتی تھی۔ اس فیصلے کے فوری طور پر تو برطانیہ پر منفی اثرات دکھائی دے رہے ہیں، لیکن یورپی یونین اور برطانیہ کے مابین نیز یورپی یونین اور امریکہ کے مابین تعلقات پر اس کے اثرات کی عملی شکل آئندہ برس ہی سامنے آسکے گی۔ امریکہ کی طرف سے اپنے اتحادیوں کے علاوہ چین اور ترکی جیسے ممالک پر بعض نئے ٹیکسز کے نفاذ سے صورت حال عالمی سطح پر کشیدہ دکھائی دیتی ہے۔ اس کی دیگر وجوہات کے علاوہ امریکہ کی داخلی طور پر اقتصادی مشکلات بھی ہیں۔ دوسری طرف مقابلے پر یورپ، کینڈا، چین اور ترکی وغیرہ نے بھی امریکہ پر بعض تجارتی ٹیکسز کا اضافہ کیا ہے۔ اسے عالمی سطح پر نئی اقتصادی جنگ سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ اس کے اثرات عالمی اقتصادیات پر جاری ہیں، دیکھنا یہ ہے کہ آئندہ برس یہ اقتصادی جنگ کیا رخ اختیار کرتی ہے۔ بظاہر ایشیا میں نئی اقتصادی قوتیں قوی تر ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔ آئندہ ایشیا کی یہ اقتصادی قوتیں جن میں خاص طور پر شنگھائی پیکٹ کا نام لیا جاسکتا ہے، کے یورپی یونین کے ساتھ تزویراتی تعلقات کی بنیاد بھی پڑ سکتی ہے۔ خود یورپ کے اندر سے بھی ایسی آوازیں اٹھ رہی ہیں، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض یورپی ممالک یورپ کو الگ سے ایک فوجی اتحاد میں تبدیل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔

عالمی حالات پر اسرائیل کے مسائل ہمیشہ اثر انداز ہوتے رہے ہیں بلکہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ مشرق و مغرب کے مابین تعلقات میں سب سے بڑی رکاوٹ اسرائیل ہی کا وجود ہے۔ امریکہ کے نئے منصوبے کے ماتحت جسے وہ صدی کا سودا (Deal of the Century) قرار دیتا ہے، فلسطین کی سرزمین سے فلسطینیوں کو بے دخل کرکے ہمسایہ ممالک سے کچھ علاقہ مستعار لے کر بسانے کا پروگرام بنایا گیا ہے۔ اس کے خلاف فلسطین کے اندر مزاحمت جاری ہے۔ یہ مزاحمت دن بدن قوی ہوتی چلی جارہی ہے اور اسرائیل کے اندر یہودی آبادی اپنے آپ کو زیادہ غیر محفوظ سمجھنے لگی ہے۔ اس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا، لیکن مسئلے کا رخ اسی جانب ہے۔ تزویراتی لحاظ سے اسرائیل کمزور ہوتا چلا جا رہا ہے، اگرچہ بعض عرب ممالک اسے تسلیم کر رہے ہیں اور بعض تسلیم کرنے کو تیار بیٹھے ہیں، لیکن عرب اور مسلم عوام ان فیصلوں کے ساتھ نہیں ہیں۔ فلسطینیوں کی مزاحمت اور مسلسل قربانیاں یہ ظاہر کرنے کے لئے کافی ہیں کہ امریکہ نے اس مسئلے کے حل کے لئے جو منصوبہ بنایا ہے، وہ تار عنکبوت سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔ آنے والے برس میں یقینی طور پر اس مسئلے کے نئے پہلو آشکار ہوں گے۔ 2019ء بہت سی نئی توقعات اور خدشات لے کر نمودار ہو رہا ہے، لیکن ہم کہہ سکتے ہیں کہ توقعات کا پلڑا خدشات پر بھاری رہے گا۔ ان شاءاللہ ۔۔۔۔ بشکریہ اسلام ٹائمز

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  6194
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
نئے میلادی سال 2019ء کی آمد آمد ہے۔ پاکستان اور دیگر دنیا میں تبدیلیوں کی بنیادیں پڑ رہی ہیں یا تبدیلیاں دستک دیتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔ یہ تبدیلیاں کس نوعیت کی ہوں گی؟ کیا اس کے اندر نئے خطرات پرورش پا رہے ہیں یا انہیں امید افزا قرار دیا جاسکتا ہے! ویسے تو
پچھلے چالیس سال سے میں اپنے آپ کو تلاش کر رہا ہوں، کبھی لیاری کی تنگ و تاریک گلیوں میں جا کر اپنا پتا پوچھتا ہوں، کبھی فشری کی سڑکوں سے اٹھنے والی مچھلیوں کی بدبو سے اپنی ناک کو بچاتے ہوئے دور تک پھیلے ہوئے سمندر کی آخری حد
حکومتِ پاکستان نے ایک بریگیڈ فوج سعودی عرب بھجوانے کا فیصلہ کیا ہے جو ایک بہت بڑی اور غیر متوقع پیش رفت ہے ۔ خاموشی سے ہونے والی بات چیت کے بعد اس سلسلے میں باقاعدہ طور پر ایک تجویز ریاض سے موصول ہو گئی ہے۔

مزید خبریں
دنیا بھر میں بولی اور سمجھی جانی والی زبانوں میں سے اردو ہندی دنیا کی دوسری بڑی زبان بن چکی ہے، جبکہ اول نمبر پر آنے والی زبان چینی ہے اور انگریزی کا نمبر تیسرا ہے۔ روزنامہ ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے یونیورسٹی آف ڈیسلڈرف الرچ کی 15 برس کی مطالعاتی رپورٹ
ہمارے نیم حکیموں کو کون سمجھائے کہ بلکتے، سسکتےعوام کو جمہوریت سے بدہضمی ہونے کا خوف دلانا چھوڑ دیجئے حضور! 144 معالجین کے مطابق انسانی معدے کی خرابی تمام بیماریوں کی ماں ہوتی ہے اور معدے کی خرابی سے ہی بدہضمی، ہچکی، متلی، قے، ہاتھوں میں جلن کا احساس، بھوک کا نہ لگنا، پژمردگی اور چہرے پر افسردگی کے اثرات چھائے
یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ پارلیمنٹ لاجز میں ہونے والی غیر اخلاقی حرکتوں کے متعلق جمشید دستی کو کس نے ویڈیو ثبوت اور ”ناقابل تردید“ ثبوت فراہم کیے ہیں؟ یہ سوال بھی اہم ہے کہ آخر جمشید دستی نے یہ ا یشو کیوں چھیڑا ؟ اس کے نتیجے میں جو صورتحال پیش آسکتی ہے اس کے دور رس نتائج نکل سکتے ہیں۔
دہشت گردوں کی طرف سے جنگ بندی کے اعلان کے صرف 48 گھنٹے بعد ہی دارالحکومت اسلام آباد کودہشت گردی کا نشانہ بنادیا گیا۔

مقبول ترین
حکومت نے پیپلز پارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کی منظوری دے دی۔ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں بلاول
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق آرمی چیف سے زلمے خلیل زاد اور افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر کی ہونے والی ملاقات میں علاقائی سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
لیون میں یونی ورسٹی کی چھت پر دھماکے کے نتیجے میں 3 افراد زخمی ہوگئے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانس کے شہر لیون میں یونی ورسٹی کی چھت پر دھماکے کے بعد آگ لگ گئی جس نے دیکھتے دیکھتے شدت اختیار کرلی۔
چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنے اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جج کی زندگی میں ڈرکی کوئی گنجائش نہیں۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار آج ریٹائر ہورہے ہیں، ان کے اعزاز میں سپریم کورٹ میں ریفرنس

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں