Wednesday, 14 November, 2018
امن، ادارہ امن و تعلیم اور امن پھیلانے والے

امن، ادارہ امن و تعلیم اور امن پھیلانے والے
تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس

 

امن زندگی کی علامت ہے ،امن ہی سے قومیں ترقی کرتی ہیں اور  عروج پاتی ہیں۔سورہ قریش میں اللہ تعالی نے  اہل مکہ سے اپنی عبادت کا تقاضا ان دو باتوں کو ذکر کے بعد کیا ہے کہ وہ خدا جس نے تمہیں بھوک میں کھانا کھلایا اور جس نے  تمہیں خوف سے محفوظ رکھا کر امن جیسی نعمت سے نواز ا اس کی عبادت کرو ۔جس علاقے میں ظلم و بربریت ہو، انسان پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا ہو، وہاں انسان کا رہنا نا ممکن ہو جاتا ہے  وہاں سے ہجرت  کا حکم ہے۔ حضرت موسیؑ نے بنی اسرائیل کے ساتھ اور نبی مکرمﷺ نے صحابہ کرام کے ساتھ اسی امن کی تلاش میں  ہجرت کی   تاکہ  آپ سکون سے دینِ اسلام کا آفاقی پیغام  دنیاتک  پہنچا سکیں۔

اسلام تو امن کی تعلیم کو اتنی اہمیت دیتا ہے کہ  حکم ہوا جب مسلمان ایک دوسرے سے ملیں تو السلام علیکم کہیں دوسرا جواب میں و علیکم السلام کہے اس سے مسلمان سلامتی کے پیامبر بن کر دنیا کے سامنے آئیں گے ۔ملکی اور بین الاقوامی حالات کے پیش نظر پچھلے پنتیس سال میں  مسلکی اور مذہبی منافرت کی جو  فصل ہمارے ہاں کاشت کی گئی اس  نے  ہزاروں بہنوں سے بھائی،ہزاروں بچوں سے باپ،ہزاروں بیویوں سے شوہر اور ہزاروں والدین سے ان کے لخت جگر چھین لیے۔

نفرت کی ایسی تجارت اس ملک میں شروع ہوئی کہ الامان و الحفیظ۔ بدامنی  صرف لوگوں کو قتل نہیں کرتی یہ پورے معاشرے کو اپنی لپٹ میں لے لیتی ہے۔دہشتگردی سے سرمایہ کاری رک جاتی ہے جس بے روزگاری جنم لیتی ہے، بے روزگاری  ڈاکووں اور  چوروں کو  پیدا کرتی ہے اور  ڈاکے  راستوں کو بند کر دیتے ہیں۔قوم تقسیم در تقسیم کا شکار ہو کر مایوسی کی دلدل میں پھنس جاتی ہے، یہ بات قابل توجہ رہے مایوس قوم کا کوئی  مستقبل نہیں ہوتا  بلکہ ووہ زمین پر بوجھ ہوتی ہے۔بدقسمتی سے اس دہشتگردی میں مذہب ومسلک کو بری طرح استعمال کیا گیا جس سے صدیوں پرانی  روایات قصہ پارینہ بن گئیں۔  باہمی احترام،ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہونا،ایک دوسرے کی مدد کرنا،علاقائی بھائی چارے کا اظہار اور اس طرح کی دیگر اقدار یوں غائب ہوئیں کہ رہے رب کا نام۔بزرگوں کی ہندووں او رسکھوں کے ساتھ دوستیوں کی باتیں گپیں  سی لگنے لگی تھیں کیونکہ جب ہم دوسرے مسلمان کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتے  یہ کیسے ممکن ہے کہ گاوں میں ہندو ،سکھ اور مسلمان مل جل کر رہتے ہوں۔مساجد و مدارس جو اسلام کی پہچان ہیں ،جن کی علم و تعلیم کے حوالے سے ناقابل فراموش خدمات ہیں،جو اسلامی تہذیب و ثقافت کے محافظ ہیں اور تحریک پاکستان میں  جنہوں نے اہم کردار ادا کیا۔کچھ لوگوں نے ذاتی مفادات کے لیے انہی مقدس  جگہوں کا استعمال فرقہ واریت کے لیے کیا۔معتدل رائے رکھنے والے علما ،ان کی مساجد اور مدارس انتہا پسندوں کے حملوں کا نشانہ بنیں۔اس پوری کشمکش میں  پاکستان کو نقصان پہنچا  اور بین الاقوامی سطح پر اسلام جیسے پر امن مذہب کو دہشتگردی کے ساتھ جوڑنے کی مذموم کوششیں کی گئیں۔

ان حالات میں وطن عزیز میں بہت سے  اداروں نے امن و سلامتی کے پیغام کو عام کرنے کے لیے کوششوں  کا آغاز کیا ان میں ادارہ امن و تعلیم پاکستان ایک اہم ادارہ تھا۔جس نے مدارس میں اپنے لیے اعتماد کی فضا کو قائم کیا ۔ ہزاروں مدرسہ ٹیچرز کو  پڑھانے کے  جدید طریقے سکھائے گئے اور امن و تعلیم  کے نام سے اسلامی سکالرز سے کتاب لکھوا کر اسے مدارس کے نصاب کا حصہ بنایا گیا تاکہ طلبہ کو آغاز سے ہی امن   کا بنیادی سبق دے دیا جائے۔اسی طرح  امام مسجد کو  کمیونٹی کا ایک فعال لیڈر  مانا گیا اور  کے کردار کو تسلیم کرتے ہوئے  امن میں اس کے کردار پر ورکشاپس کی گئیں ان ورکشاپس میں بھی ہزاروں علمائے کرام کی تربیت کی گئی اس  میں خاص بات یہ ہے کہ  وہ علاقے جہاں بین المسالک یا بین المذاہب  مسائل موجود ہیں ان میں  یہ کام فوکس کر کے کیا گیا۔

ایک دلچسپ بات  یہ ہے کہ میں ادارہ امن و تعلیم کی ایک ورکشاپ میں شریک تھا جس میں پنڈت، پادری،علما اور سکالرز شریک تھےاس ورکشاپ کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا اس کے بعد کہا گیا کہ اب پنڈت صاحب گیتا سے  کچھ پڑھیں گے اس کے بعد  پادری صاحب نے  کلام مقدس سے کچھ پڑھا اور ایک سکھ نے  گرنتھ صاحب کی تلاوت کی۔مجھے بہت حیرت ہوئی کہ الفاظ مختلف تھے لیکن جو کچھ وہاں پڑھا گیا اس کا پیغام ملتا جلتا ہی تھا جس میں پیدا کرنے والےکی حمد اور شکر کی  بات  کی گئی تھی۔اس سے مجھے اس بات کا اندازہ ہوا کہ ہر مذہب کا ماننا والا خالق اور  رازق ہستی کی طرف ہی رجوع کرتا ہے۔پچھلے چند سال میں امن و تعلیم کو بطور مشن اختیار کر کے سینکڑوں لوگوں نے کام کیا ان کی بے لوث خدمات کے اعتراف میں کہ جس میں بعض لوگوں نے اپنی جان کو خطرے میں ڈالا تھا  چالیس لوگوں کو امن ایوارڈ دیا گیا ۔ اس حوالے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا جس کے مہمان خصوصی اسلامی نظریاتی کونسل کے چئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز صاحب تھے انہوں نے اپنے ہاتھوں سے ایوارڈان  بے لوث لوگوں میں تقسیم کیا اور پیغام دیا کہ وطن عزیز میں  امن  کے لیے مزید کوششوں کی ضرورت ہے۔

نفرت  کے خریدار زیادہ ہو گئے ہیں ہر طرف اسی کی تجارت ہو رہی ہے اسی کا نتیجہ ہے کہ امن جیسی نعمت سے دور جا چکے ہیں اس لیے ضروری ہے کہ امن کی بات کی جائے اس  کے لیے کوشش کی جائے اور   اس کے لیے کوشش کرنے والوں کی قدر کی جائے کیونکہ یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہو گی۔احمد ندیم قاسمی صاحب کے ان اشعار پر ختم کرنا چاہوں گا۔

خدا کرے میری ارض پاک پر اترے
وہ فصلِ گل جسے اندیشہء زوال نہ ہو
یہاں جو پھول کھلے وہ کِھلا رہے برسوں
یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو
یہاں جو سبزہ اُگے وہ ہمیشہ سبز رہے
اور ایسا سبز کہ جس کی کوئی مثال نہ ہو

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  79794
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
ہمارے سماج میں تمام مذاہب کے لوگ تقسیم سے قبل پرامن انداز میں رہاکرتےتھے۔ہمارے گاوں میں بھی کچھ ہندو گھرانے آباد تھے جوتقسیم کےبعدانڈیاچلے گئے۔ گاؤں کے بزرگوں سے جب بھی اس موضوع پہ گفتگو ہوئی تو وہ
تخلیق کائنات کے وقت اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا مگر ان میں سب سے اشرف انسان کو ٹھہرایا گیا جس کی بنیادی وجہ انسان میں دوسری مخلوقات کی نسبت زیادہ عقل و شعور، فہم و فراست، حکمت و دانائی ،صبر و شکر، تہذیب و تمدن
روس کے ساتھ تعلقات دوستانہ، خوشگوار اور پائیدار بنانے کے سلسلے میں عوامی اور سیاسی سطح پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔ یہی وہ بنیادی نکتہ ہے کہ عالمی سیاسی حلقوں اور تزویراتی موضوع پر قائم تھنک ٹینکس
دنیا بھر میں آج جوہری تجربات کیخلاف عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ دنیا بھر میں ایٹمی ہتھیاروں کا پھیلاؤ تشویشناک صورتحال اختیار کرتا جا رہا ہے۔ اس صورتحال کے خلاف عالمی سطح پر شعور بیدار کرنے کے لئے اقوام متحدہ کی

مزید خبریں
دنیا بھر میں بولی اور سمجھی جانی والی زبانوں میں سے اردو ہندی دنیا کی دوسری بڑی زبان بن چکی ہے، جبکہ اول نمبر پر آنے والی زبان چینی ہے اور انگریزی کا نمبر تیسرا ہے۔ روزنامہ ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے یونیورسٹی آف ڈیسلڈرف الرچ کی 15 برس کی مطالعاتی رپورٹ
ہمارے نیم حکیموں کو کون سمجھائے کہ بلکتے، سسکتےعوام کو جمہوریت سے بدہضمی ہونے کا خوف دلانا چھوڑ دیجئے حضور! 144 معالجین کے مطابق انسانی معدے کی خرابی تمام بیماریوں کی ماں ہوتی ہے اور معدے کی خرابی سے ہی بدہضمی، ہچکی، متلی، قے، ہاتھوں میں جلن کا احساس، بھوک کا نہ لگنا، پژمردگی اور چہرے پر افسردگی کے اثرات چھائے
یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ پارلیمنٹ لاجز میں ہونے والی غیر اخلاقی حرکتوں کے متعلق جمشید دستی کو کس نے ویڈیو ثبوت اور ”ناقابل تردید“ ثبوت فراہم کیے ہیں؟ یہ سوال بھی اہم ہے کہ آخر جمشید دستی نے یہ ا یشو کیوں چھیڑا ؟ اس کے نتیجے میں جو صورتحال پیش آسکتی ہے اس کے دور رس نتائج نکل سکتے ہیں۔
دہشت گردوں کی طرف سے جنگ بندی کے اعلان کے صرف 48 گھنٹے بعد ہی دارالحکومت اسلام آباد کودہشت گردی کا نشانہ بنادیا گیا۔

مقبول ترین
خیبر پختون خوا پولیس کے اعلیٰ افسر ایس پی طاہر داوڑ کا جسد خاکی افغانستان نے پاکستان کے حوالے کردیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شہید ایس پی طاہر داوڑ کا جسد خاکی جلال آباد میں پاکستان قونصل خانے کے اعلیٰ عہداروں کے حوالے کر دیا گیا ہے
سابق وزیراعظم نواز شریف نے العزیزیہ ریفرنس میں صفائی کا بیان قلمبند کرانا شروع کر دیا۔ پہلے روز 50 عدالتی سوالات میں سے 45 کے جواب ریکارڈ کرا دیئے۔ باقی سوالات پر وکیل خواجہ حارث سے مشاورت کے لیے وقت مانگ لیا۔
فلسطین میں قابض اسرائیلی فوج کے معاملے پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا بند کمرا اجلاس بے نتیجہ ختم ہوگیا۔ میڈیا کے مطابق غزہ میں قابض اسرائیلی فوج نے ظلم وبربریت کی انتہا کررکھی ہے، آئے دن نہتے فلسطینیوں کو فائرنگ کرکے موت کے گھاٹ
چند روز قبل اسلام آباد سے اغوا ہونے والے خیبر پختونخوا پولیس کے ایس پی طاہر خان داوڑ کو مبینہ طور پر افغانستان میں قتل کر دیا گیا۔ خیبر پختونخوا پولیس کے ایس پی طاہر خان داوڑ 27 اکتوبر کو اسلام آباد سے لاپتہ ہوئے تھے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں