Monday, 16 December, 2019
کربلا کی مائیں

کربلا کی مائیں
ڈاکٹر ندیم عباس

 

ماں تو ماں ہوتی ہے  رحمت،شفقت،بےغرض محبت کی علامت ماں کہلاتی ہے،جس کا کوئی نعم البدل خالق کائنات نے پیدا ہی نہیں کیا۔بچے کی چھوٹی سے تکلیف اسے رات بھر سونے نہیں دیتی ،خود کو مصیبت میں ڈال کر بچوں کو  سکھ دیتی ہے،خدا کی محبت دیکھنا ہو تو ماں کی اولاد سے محبت دیکھی جائے جس کی بنیاد کوئی لالچ نہیں ہوتا ۔ماں کی اولاد سے محبت پروردگار کو بڑی پسند ہے  یہی وجہ ہے کہ ایک ماں اپنے اسمعیلؑ کو بچانے کے لیے  سات بار صفاو مروہ کے درمیان دوڑی تھی خالق کائنات کو ماں کی یہ محبت اتنی پسند آئی کہ اس  نے فیصلہ کیا ماں بیٹا کا یہ واقعہ اس محبت کے ساتھ رہتی دنیا کے انسانوں کے لیے  زندہ رکھوں گا، اسی لیے اسے حج کا حصہ بنا دیا حیرت ہے اور  حکم دیا  ہمیں صرف سات چکر مطلوب نہیں بلکہ اسی طرح مطلوب ہیں جیسے اسمعیلؑ کی والدہ دوڑی تھی ۔

اے خالق کائنات ،اے ماؤں کو فرزندوں کی نعمت عطا کرنے والے،اے دنیا میں سلسلہ خیر کو جاری کرنے والے،اے اسمعیلؑ کی ماں کے دل مضطر کو  زم زم دے کر نعمت اطمنان سے سرفراز کرنے والے، میں کربلا میں دس محرم کی رات حیران و سرگرداں ہوں سمجھ نہیں  آ رہی وہ محبت و الفت کی پیکر مائیں ،وہ چھوٹے سے زخم کو دیکھ بے تاب ہو جانے والی مائیں،وہ خود کو خطرہ میں ڈال کر اولاد کو تحفظ دینے والی مائیں آج ان کو کیا ہو گیا ہے ؟ میدان کربلا کے  ہر خیمہ میں بیٹوں کو موت کی ترغیب دی جا رہی ہے،ہر خیمہ میں نصرت امام کا درس جاری ہے،ہر ماں کی یہ خواہش کہ سرزمین نینوا پر کل جو لہو سب سے پہلے بہایا جائے وہ اس کے لخت جگر کا ہو،سب سے پہلے جو فرزند رسول خدا پر قربان ہو وہ اس کا نور نظر ہو ۔اللہ اللہ یہ معرفت امام ،اللہ اللہ یہ معرفت دین خدا،اللہ اللہ یہ معرفت خاندان رسولﷺ۔مالک سمجھ نہیں پا رہا یہ کیا ہے ؟ اولاد کی خاطر بے تاب ہو جانے والی  آج انہیں موت میں سبقت لے جانے کی ترغیب دے رہی ہیں؟ یہ کیسے ممکن ہیں ؟ ہاں یہ ممکن ہے ہاں یہ ممکن ہے عشق خدا ایسے کام کراتا ہے عقل دنگ ہوتی ہے دانش محو حیرت چلی جاتی ہے کچھ  عقل  کے پجاری سوچ رہے تھے ابراہیمؑ غلط کر رہا ہے ایک ان دیکھے خدا کے لیے اتنی بڑی قربانی دے رہا ہے اور آگ میں کود رہا ہے تعجب خیز ہے یہ بات کہ وہ جسے آگ میں پھینکا جا رہا ہے وہ  مطمئن ہے اور جو پھینکنے والے ہیں تخت پر پریشان ہیں اسی لیے تو قبال نے  کہا 

بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق 
عقل ہے محو تماشہ لب بام ابھی

کربلا میں یہی ہو رہا ہے کربلا کی مائیں نعمت اطمنان کی تصویر بنی ہیں اور یزیدی لشکر میں اضطراب ہے اسی لیے وہاں سے لوگ ادھر آئے ادھر سے کوئی ادھر نہیں گیا ۔دس محرم کا دن چڑھتا ہےایک کے بعد ایک ماں کی گود اجڑ رہی ہے ایک کے بعد ایک کا لخت جگر تلوار سے کاٹا جا رہا ہے۔

 حضرت وہب کلبی کی نئی نئی شادی ہوئی ہے ماں نے بڑی محبت سے ان کی شادی کی ہے،یہ بیٹے کو ساتھ لیے نصرت امام کے لیے کربلا پہنچیں ہے، ایک بار پھر دلہا کی طرح اپنے بیٹے کو تیار کیا ہے اور جانب لشکر موت کے لیے روانہ کر دیا تھوڑی دیر بعد آواز بلند ہوتی ہے وہب مارا گیا، وہب قتل کر دیا گیا،  ماں تھی شدت جذبات میں بیٹے کی لاش پر آئی ہے دیکھا بیٹے کی سر کٹی لاش پڑی ہے  شمر کو پتہ چلا وہب کی ماں آئی ہے اس نے وہب کا کٹا سر وہب کی ماں کی طرف پھینک دیا   یہ دشمن خدا اس کنیز خدا کو اذیت دینا چاہتا تھا کہ جب وہب کی ماں اس کا سر  پکڑے گی تو اپنے حواس کھو بیٹے گی مگر یہ کربلا والے وہب کی ماں ہے یہ سر اٹھا کر شمر کی طرف پھینک دیتی ہے اور عمل سے بتا دیتی ہے ہم  جو چیز راہ خدا میں دے دیتے ہیں وہ واپس نہیں لیتے۔یہ بلند حوصلے،یہ معرفت کی معراج،یہ عمل صالح کی انتہاء یہ کربلا کی مائیں ہیں۔

چھ ماہ کے اصغرؑ کی ماں بھی ہے اس ماں نے عظیم جہاد کیا ہے۔ماں جوان بیٹے کی جدائی برداشت کر لیتی ہے،دل کو تسلی دے لیتی ہے مگر دودھ پیتے بچے کو خود سے الگ کرنا بہت مشکل ہوتا ہے،وہ تڑپ جاتی ہے،ہر بات ماننے پر آمادہ ہو جاتی ہے مگر ہر صورت میں یہ چاہتی ہے کہ اس کا بیٹا اس کے سینے کا تعویذ بن کر اس کےساتھ رہے یہ کربلا کی ماں ہے جو اپنی مرضی سے اپنے بیٹے کو موت کے حوالے کر رہی ہے۔کربلا کا سب سے کم سن شہید جورہتی دنیا تک یزیدپلید کی سفاکیت کی دلیل بن گیا اس کی ماں نے  بڑی جوانمردی کے ساتھ اصغر کو موت کے حوالے کر دیا ۔

حضرت عون  ؑ و محمدؑ کی ماں بھی کربلا کی ماں ہے۔خاتم الانبیاء ؑ  کی نواسی ہے یہ دو فرزند امامؑ  پر قربان کر رہی ہے۔حضرت زینبؑ   نے اپنے دونوں فرزند نواسہ نبی ؐ پر قربان کر دیے،کربلا کی یہ شیر دل ماں بیٹوں کی قربانی کے بعد کربلا سے کوفہ اور کوفہ سے شام تک عزم و حوصلہ کی علامت بنی رہی ۔مشن امام حسینؑ کو بڑے مؤثر انداز میں کوفہ و شام کے  درباروں میں پیش کیا ۔حیرت کا مقام ہے مصر کی ایک مؤرخہ نے لکھا میں حیران ہوں علیؑ کی شیر دل بیٹی پر جس کے بھائی،بیٹے مددگار قتل کر دیے گئے ہوں اور اس کے باوجود خدا کی اتنی مطیع و فرمانبردار کہ اونٹ کی پشت پر بھی کوئی نماز قضا نہیں ہونے دی۔دنیا آج خواتین کے جس معاشرتی کردار کی بات کرتی ہے حضرت زینب ؑ نے وہ کردار ادا کر کے دکھایا۔کربلا کی اس عظیم ماں کا کردار اسلام کی سربلندی اور منافقت و جہالت کے چہرے شناسا کرا گیا۔

کربلا کی ایک ماں کربلا میں موجود تو نہ تھی مگر  اس کے سارے بیٹے کربلا میں موجود تھے عباس وفادار کی ماں جنہیں زمانہ ام البنیں کے  نام سے جانتا ہے۔ان کے سارے بیٹے کربلا میں شہید کر دیے گئے۔ مدینہ میں جب ان کو پتہ چلا کہ کربلا میں ان کے بیٹے شہید کر دیے گئے ہیں  تو انہوں نے اشعار کہے تھے جن کا مفہوم یہ ہے لوگ کہتے  ہیں کسی شقی نے عباس کےسر پر گرز مارا یقینا  اس وقت  عباس کے بازو سلامت نہ ہوں گے ،کسی کی یہ جرات کہ عباس کے بازو سلامت ہوں اور وہ  عباس کے سر پر گرز مارے اور اے مدینہ والو اب مجھے ام البنیں  بیٹوں کی ماں نہ کہا کرو کیونکہ  اب وہ بیٹے  نہ رہے جن کی میں ماں تھی۔

عزم و جرات کی عظیم چٹانیں،دین مبین کی بنیادوں کو مستحکم کرنے والی ہستیاں،معاشرے میں  خواتین کے نئے کردار کا رخ متعین کرنے والی یہ مائیں انہیں زیب دیتا ہے کہ ان کے بیٹے کر بلا کے شہید ہوں یہ بیٹوں پر فخر کریں کہ وہ ضلالت و جہالت کے خلاف لڑتے ہوئے شہید ہوئے  اور بیٹے ان پر فخر کریں کہ ان کی ماؤں نے واقعہ کر بلا کے دوران  اور بعد میں وہ عظیم الشان کر دار ادا کیا کہ آج یزیدیت ایک گالی ہے اور حسینیتؑ  ایک الہی اسلامی تحریک ہے۔ایک ایسی تحریک جو انسانی شعور کو بلند کرتی ہے،جو انسانی آزادی کی علمدار ہے،جو الہی قدروں کی امین ہے،جس میں  سچ و صداقت کا بول بالا ہوتا ہے،یہ کربلا کی مائیں تھیں جن کے فرزندوں کے لہو کی بدولت مشن حسینیؑ زندہ ہے بالکل اسی طرح جیسے حضرت مسیحؑ کو صلیب دے دی گئی مگر ان کا پیغام زندہ رہا  ان کو صلیب دینے والوں کو کوئی جانتا ہی نہیں آج حسینؑ اور پیغام حسینیؑ زندہ ہےیزیدیت  ایک قبیح کردار جسے  نمرود و فرعون و ابوجہل  کا تسلسل سمجھا جاتا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھinfo@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  2719
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
چند روز قبل ( ن) لیگ کی ریلی جس وقت اسلام آباد سے راولپنڈی کا سفر طے کررہی تھی اس دوران چند ٹی وی چینلوں کے رپورٹروں اور کیمرہ مینوں کوریلی میں شریک لوگوں نے تشدد کا نشانہ بنایا، عام فہم زبان میں یوں
بلی تھیلے سے باہر آنے کے بعد بٹ بٹ دیکھ رہی ہے اور اپنے آقاؤں کو ڈھونڈ رہی ہے کیونکہ سابق وزیراعظم گیلانی کی بااختیار اور رعب دارپرنسپل سیکریٹری نرگس سیٹھی کے دستخط سے جاری کیا گیا خط منظر عام پر اگیا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ

مقبول ترین
معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ اگر لاڑکانہ میں بھٹو زندہ ہے تو غریب مر چکے ہیں۔ بلاول نے کرپشن سے اپنا رشتہ ابھی تک نہیں توڑا۔ پیپلز پارٹی نے بھٹو کے نظریے کو ختم کر دیا ہے۔
نریندر مودی کی اگلی جیت ہندوستانی شہریت کا ترمیمی ایکٹ ہے، جس نے آسام اور پورے ہندوستان کے مسلمانوں کے اندر بے چینی کو جنم دے دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مودی جی اور کون کون سی غلطیوں کی اصلاح کرتے ہیں۔ ناگالینڈ، ٹیپورہ، خالصتان بھی مودی کا منہ تک رہے ہیں۔ امید ہے فاتح ہندوستان جلد یا بدیر ان غلطیوں کی اصلاح کی بھی کوشش کرینگے۔ آئینی جنگ تو وہ شاید جیت جائیں، تاہم انکے ان اقدامات کے سبب وہ وقت دور نہیں کہ جب ہندوستان کی ساجھے کی ہانڈی بھرے چوراہے میں پھوٹے گی اور تاریخ ایک مرتبہ پھر ہندوستان کی تقسیم کا منظر اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کریگی۔
بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) مینگل کے سربراہ سردار اختر مینگل کا کہنا ہے کہ ہم چاہتے ہیں جنوبی پنجاب بھی برابرکا ترقی یافتہ ہو، سی پیک سے لاہور میٹروٹرین چلائی گئی لیکن بلوچستان میں کیکڑا بس بھی نہیں دی گئی۔
کوئٹہ میں ورکرز کنونشن سے خطاب میں بلاول بھٹو زرداری کا کہناتھا کہ اس وقت بلوچستان میں لوگوں کو حقوق نہیں دیےجارہے، بلوچستان میں دیگر صوبوں سے زیادہ وسائل ہیں، مگربدقسمتی سے بلوچستان کے لوگ محروم ہیں، نالائق اور نااہل

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں