Tuesday, 22 September, 2020
کربلا کی مائیں

کربلا کی مائیں
ڈاکٹر ندیم عباس

 

ماں تو ماں ہوتی ہے  رحمت،شفقت،بےغرض محبت کی علامت ماں کہلاتی ہے،جس کا کوئی نعم البدل خالق کائنات نے پیدا ہی نہیں کیا۔بچے کی چھوٹی سے تکلیف اسے رات بھر سونے نہیں دیتی ،خود کو مصیبت میں ڈال کر بچوں کو  سکھ دیتی ہے،خدا کی محبت دیکھنا ہو تو ماں کی اولاد سے محبت دیکھی جائے جس کی بنیاد کوئی لالچ نہیں ہوتا ۔ماں کی اولاد سے محبت پروردگار کو بڑی پسند ہے  یہی وجہ ہے کہ ایک ماں اپنے اسمعیلؑ کو بچانے کے لیے  سات بار صفاو مروہ کے درمیان دوڑی تھی خالق کائنات کو ماں کی یہ محبت اتنی پسند آئی کہ اس  نے فیصلہ کیا ماں بیٹا کا یہ واقعہ اس محبت کے ساتھ رہتی دنیا کے انسانوں کے لیے  زندہ رکھوں گا، اسی لیے اسے حج کا حصہ بنا دیا حیرت ہے اور  حکم دیا  ہمیں صرف سات چکر مطلوب نہیں بلکہ اسی طرح مطلوب ہیں جیسے اسمعیلؑ کی والدہ دوڑی تھی ۔

اے خالق کائنات ،اے ماؤں کو فرزندوں کی نعمت عطا کرنے والے،اے دنیا میں سلسلہ خیر کو جاری کرنے والے،اے اسمعیلؑ کی ماں کے دل مضطر کو  زم زم دے کر نعمت اطمنان سے سرفراز کرنے والے، میں کربلا میں دس محرم کی رات حیران و سرگرداں ہوں سمجھ نہیں  آ رہی وہ محبت و الفت کی پیکر مائیں ،وہ چھوٹے سے زخم کو دیکھ بے تاب ہو جانے والی مائیں،وہ خود کو خطرہ میں ڈال کر اولاد کو تحفظ دینے والی مائیں آج ان کو کیا ہو گیا ہے ؟ میدان کربلا کے  ہر خیمہ میں بیٹوں کو موت کی ترغیب دی جا رہی ہے،ہر خیمہ میں نصرت امام کا درس جاری ہے،ہر ماں کی یہ خواہش کہ سرزمین نینوا پر کل جو لہو سب سے پہلے بہایا جائے وہ اس کے لخت جگر کا ہو،سب سے پہلے جو فرزند رسول خدا پر قربان ہو وہ اس کا نور نظر ہو ۔اللہ اللہ یہ معرفت امام ،اللہ اللہ یہ معرفت دین خدا،اللہ اللہ یہ معرفت خاندان رسولﷺ۔مالک سمجھ نہیں پا رہا یہ کیا ہے ؟ اولاد کی خاطر بے تاب ہو جانے والی  آج انہیں موت میں سبقت لے جانے کی ترغیب دے رہی ہیں؟ یہ کیسے ممکن ہیں ؟ ہاں یہ ممکن ہے ہاں یہ ممکن ہے عشق خدا ایسے کام کراتا ہے عقل دنگ ہوتی ہے دانش محو حیرت چلی جاتی ہے کچھ  عقل  کے پجاری سوچ رہے تھے ابراہیمؑ غلط کر رہا ہے ایک ان دیکھے خدا کے لیے اتنی بڑی قربانی دے رہا ہے اور آگ میں کود رہا ہے تعجب خیز ہے یہ بات کہ وہ جسے آگ میں پھینکا جا رہا ہے وہ  مطمئن ہے اور جو پھینکنے والے ہیں تخت پر پریشان ہیں اسی لیے تو قبال نے  کہا 

بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق 
عقل ہے محو تماشہ لب بام ابھی

کربلا میں یہی ہو رہا ہے کربلا کی مائیں نعمت اطمنان کی تصویر بنی ہیں اور یزیدی لشکر میں اضطراب ہے اسی لیے وہاں سے لوگ ادھر آئے ادھر سے کوئی ادھر نہیں گیا ۔دس محرم کا دن چڑھتا ہےایک کے بعد ایک ماں کی گود اجڑ رہی ہے ایک کے بعد ایک کا لخت جگر تلوار سے کاٹا جا رہا ہے۔

 حضرت وہب کلبی کی نئی نئی شادی ہوئی ہے ماں نے بڑی محبت سے ان کی شادی کی ہے،یہ بیٹے کو ساتھ لیے نصرت امام کے لیے کربلا پہنچیں ہے، ایک بار پھر دلہا کی طرح اپنے بیٹے کو تیار کیا ہے اور جانب لشکر موت کے لیے روانہ کر دیا تھوڑی دیر بعد آواز بلند ہوتی ہے وہب مارا گیا، وہب قتل کر دیا گیا،  ماں تھی شدت جذبات میں بیٹے کی لاش پر آئی ہے دیکھا بیٹے کی سر کٹی لاش پڑی ہے  شمر کو پتہ چلا وہب کی ماں آئی ہے اس نے وہب کا کٹا سر وہب کی ماں کی طرف پھینک دیا   یہ دشمن خدا اس کنیز خدا کو اذیت دینا چاہتا تھا کہ جب وہب کی ماں اس کا سر  پکڑے گی تو اپنے حواس کھو بیٹے گی مگر یہ کربلا والے وہب کی ماں ہے یہ سر اٹھا کر شمر کی طرف پھینک دیتی ہے اور عمل سے بتا دیتی ہے ہم  جو چیز راہ خدا میں دے دیتے ہیں وہ واپس نہیں لیتے۔یہ بلند حوصلے،یہ معرفت کی معراج،یہ عمل صالح کی انتہاء یہ کربلا کی مائیں ہیں۔

چھ ماہ کے اصغرؑ کی ماں بھی ہے اس ماں نے عظیم جہاد کیا ہے۔ماں جوان بیٹے کی جدائی برداشت کر لیتی ہے،دل کو تسلی دے لیتی ہے مگر دودھ پیتے بچے کو خود سے الگ کرنا بہت مشکل ہوتا ہے،وہ تڑپ جاتی ہے،ہر بات ماننے پر آمادہ ہو جاتی ہے مگر ہر صورت میں یہ چاہتی ہے کہ اس کا بیٹا اس کے سینے کا تعویذ بن کر اس کےساتھ رہے یہ کربلا کی ماں ہے جو اپنی مرضی سے اپنے بیٹے کو موت کے حوالے کر رہی ہے۔کربلا کا سب سے کم سن شہید جورہتی دنیا تک یزیدپلید کی سفاکیت کی دلیل بن گیا اس کی ماں نے  بڑی جوانمردی کے ساتھ اصغر کو موت کے حوالے کر دیا ۔

حضرت عون  ؑ و محمدؑ کی ماں بھی کربلا کی ماں ہے۔خاتم الانبیاء ؑ  کی نواسی ہے یہ دو فرزند امامؑ  پر قربان کر رہی ہے۔حضرت زینبؑ   نے اپنے دونوں فرزند نواسہ نبی ؐ پر قربان کر دیے،کربلا کی یہ شیر دل ماں بیٹوں کی قربانی کے بعد کربلا سے کوفہ اور کوفہ سے شام تک عزم و حوصلہ کی علامت بنی رہی ۔مشن امام حسینؑ کو بڑے مؤثر انداز میں کوفہ و شام کے  درباروں میں پیش کیا ۔حیرت کا مقام ہے مصر کی ایک مؤرخہ نے لکھا میں حیران ہوں علیؑ کی شیر دل بیٹی پر جس کے بھائی،بیٹے مددگار قتل کر دیے گئے ہوں اور اس کے باوجود خدا کی اتنی مطیع و فرمانبردار کہ اونٹ کی پشت پر بھی کوئی نماز قضا نہیں ہونے دی۔دنیا آج خواتین کے جس معاشرتی کردار کی بات کرتی ہے حضرت زینب ؑ نے وہ کردار ادا کر کے دکھایا۔کربلا کی اس عظیم ماں کا کردار اسلام کی سربلندی اور منافقت و جہالت کے چہرے شناسا کرا گیا۔

کربلا کی ایک ماں کربلا میں موجود تو نہ تھی مگر  اس کے سارے بیٹے کربلا میں موجود تھے عباس وفادار کی ماں جنہیں زمانہ ام البنیں کے  نام سے جانتا ہے۔ان کے سارے بیٹے کربلا میں شہید کر دیے گئے۔ مدینہ میں جب ان کو پتہ چلا کہ کربلا میں ان کے بیٹے شہید کر دیے گئے ہیں  تو انہوں نے اشعار کہے تھے جن کا مفہوم یہ ہے لوگ کہتے  ہیں کسی شقی نے عباس کےسر پر گرز مارا یقینا  اس وقت  عباس کے بازو سلامت نہ ہوں گے ،کسی کی یہ جرات کہ عباس کے بازو سلامت ہوں اور وہ  عباس کے سر پر گرز مارے اور اے مدینہ والو اب مجھے ام البنیں  بیٹوں کی ماں نہ کہا کرو کیونکہ  اب وہ بیٹے  نہ رہے جن کی میں ماں تھی۔

عزم و جرات کی عظیم چٹانیں،دین مبین کی بنیادوں کو مستحکم کرنے والی ہستیاں،معاشرے میں  خواتین کے نئے کردار کا رخ متعین کرنے والی یہ مائیں انہیں زیب دیتا ہے کہ ان کے بیٹے کر بلا کے شہید ہوں یہ بیٹوں پر فخر کریں کہ وہ ضلالت و جہالت کے خلاف لڑتے ہوئے شہید ہوئے  اور بیٹے ان پر فخر کریں کہ ان کی ماؤں نے واقعہ کر بلا کے دوران  اور بعد میں وہ عظیم الشان کر دار ادا کیا کہ آج یزیدیت ایک گالی ہے اور حسینیتؑ  ایک الہی اسلامی تحریک ہے۔ایک ایسی تحریک جو انسانی شعور کو بلند کرتی ہے،جو انسانی آزادی کی علمدار ہے،جو الہی قدروں کی امین ہے،جس میں  سچ و صداقت کا بول بالا ہوتا ہے،یہ کربلا کی مائیں تھیں جن کے فرزندوں کے لہو کی بدولت مشن حسینیؑ زندہ ہے بالکل اسی طرح جیسے حضرت مسیحؑ کو صلیب دے دی گئی مگر ان کا پیغام زندہ رہا  ان کو صلیب دینے والوں کو کوئی جانتا ہی نہیں آج حسینؑ اور پیغام حسینیؑ زندہ ہےیزیدیت  ایک قبیح کردار جسے  نمرود و فرعون و ابوجہل  کا تسلسل سمجھا جاتا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھinfo@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  47234
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
علامہ محمداقبال رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا ہے کہ”ثبات ایک تغیرکو ہے زمانے میں“،گویا اس آسمان کی چھت کی نیچے کسی چیز کو قرارواستحکام نہیں۔تاریخ گواہ ہے کہ اس زمین کا جغرافیہ ایک ایک صدی میں کئی کئی مرتبہ کروٹیں بدلتارہا ہے۔سائنس کی بڑھتی ہوئی رفتار کے ساتھ جغرافیے کی تبدیلی کا عمل بھی تیزتر ہوتاجارہاہے،چنانچہ گزشتہ ایک صدی نے تین بڑی بڑی سپر طاقتوں کے ڈوبنے کا مشاہدہ کیا،
سعودی عرب کے ایک ایم بی سی چینل پر رمضان کے شروع میں ایک ڈرامہ "ام ہارون" کے نام سے نشر کیا جا رہا ہے، جس میں یہودیت کو مظلوم بنا کر پیش کیا گیا ہے۔
عالمی یوم آزادیِ صحافت کے حوالے سے خصوصی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ تیس برس میں انیس صحافی فرائض کی ادائیگی کے دوران جاں بحق ہوچکے ہیں۔ بھارتی فورسز کے مظالم اجاگر کرنے پر صحافیوں کو گرفتار کیاجاتا ہے اور تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
یکم مئی' یومِ مزدور' وہ دن جسے مزدور کے علاوہ سب مناتے ہیں' اس بار شائد وہ رنگ نہ جما سکے کہ کورونا کے دربار میں سبھی ایک ہوئے ہیں مگر متاثر صرف مزدور۔ مزدور کہ جسے دو وقت کی روٹی کے لالے پڑے ہوتے تھے اب وقت کی بے رحم موجوں کے سہارے زندگی اور موت کی جنگ سے نبرد آزما ہے۔ خیر یہ قصہ پھر سہی ابھی فی الحال ایک طائرانہ نظر اس دن کی مناسبت سے۔

مزید خبریں
کورونا وائرس پاکستان ہی نہیں ہی دنیا بھر میں اپنی پوری بدصورتی کے ساتھ متحرک ہے ، تشویشناک یہ ہےاس عالمی وباء کے نتیجے میں ہمارے ہاں اموات کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا،
کی سڑک کے کنارے ایک ہوٹل میں چائے پینے کے لیے رکا تو ایک مقامی صحافی دوست سے ملاقات ہوگئی جنہیں سب شاہ جی کہتے ہیں سلام دعا کے بعد شاہ جی سے پوچھا کہ ٹیکنالوجی کی وجہ سے پاکستان کتنا تبدیل ہوچکا ہے تو کہنے لگے کہ سوشل میڈیا کی وجہ سےعدم برداشت میں بہت اضافہ ہوا ہے۔
میرے پڑھنے والو،میں ایک عام سی،نا سمجھ ایک الہڑ سی لڑکی ہوا کرتی تھی، بات بات پہ رو دینا تو جیسے میری فطرت کا حصہ تھا، اور پھربات بے بات ہنسنا میری کمزوری، یہ لڑکی دنیا کے سامنے وہی کہتی اور وہی کرتی تھی جو یہاں کے لوگ سن اور سمجھ کر خوش ہوتے تھے
صبح سویرے اسکول جاتے وقت ہم عجیب مسابقت میں پڑے رہتے تھے پہلا مقابلہ یہ ہوتا تھا کہ کون سب سے تیز چلے گا دوسرا شوق سلام میں پہل کرنا۔ خصوصاً ساگری سے آنیوالے اساتذہ کو سلام کرنا ہم اپنے لیے ایک اعزاز تصور کرتے تھے۔

مقبول ترین
انسداد دہشت گردی عدالت نے سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس کے مجرموں رحمان بھولا اور زبیر چریا کو 264 ، 264 بار سزائے موت سنادی ہے۔ انسداد دہشت گردی عدالت میں سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس کی سماعت ہوئی جس میں رحمان بولا، زبیر چریا اور رؤف صدیقی
ایران نے کہا ہے کہ امریکا نے روایتی غنڈہ گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یک طرفہ طور پر اقوام متحدہ کی پابندیاں بحال کیں جس پر اُسے فیصلہ کن جواب دینے کا وعدہ کرتے ہیں۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر حسن روحانی نے ایران پر اقوام متحدہ کی پابندیوں
وزیراعظم نے کہا ہے کہ اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) ریاستی اداروں کو بدنام کرنے کی کوشش تھی، عدالتوں اور فوج کو بدنام نہیں ہونے دیں گے۔ پاکستان کی مسلح افواج قومی سلامتی کی ضامن ہیں۔ ن لیگ نے ایک بار پھر بھارتی ایجنڈے کو فروغ دیا۔
عسکری قیادت نے واضح کیا ہے کہ پاک فوج کا ملک میں کسی بھی سیاسی عمل سے براہ راست یا بالواسطہ تعلق نہیں ہے۔ میڈیا کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی پارلیمانی رہنماؤں سے

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں